پسِ آئینہ کوئی اور ہے

264

نگہت یاسمین
اسماء دو دن سے عینی اور ایمان کے اسکول کی ورکشاپ کے بارے میں اسد کو بتا رہی تھی، مگر وقت تو پر لگا کر اڑتا ہے کہ ہفتہ کی صبح آن پہنچی۔ عین وقت پر بارش نے بھی ہنگامی صورت حال پیدا کردی۔ بھاگتے دوڑتے روانگی ہوئی۔ وہاں پہنچ کر ہال کے چاروں طرف پانی ہی پانی دیکھا تو بے ساختہ منہ سے نکلا ’’شہر کو پیرس بنانے والے تو پیرس جا بسے۔‘‘
بدقت تمام کیچڑ پونچھتے، پانی جھاڑتے استقبالیہ پر اپنا اندراج کروایا اور اپنی مخصوص نشست پر ٹک گئی۔ اردگرد کی خواتین سے کچھ معلومات کا تبادلہ ہوا۔ ہال کی آدھی نشستیں پُر ہوئیں تو پرنسپل مسز سارہ نے اپنے اسکول کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور مائیک ملٹی میڈیا مس ہالہ کے حوالے کیا۔ دھیمے مگر پُراعتماد لہجے میں تعارف کے بعد آغاز ہوا:
’’اگر ہمیں کسی جگہ فیکٹری لگانی ہو تو سب سے پہلے جگہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگر مقام صحیح ہو تو پیداوار میں خلل نہیں آتا، درست اور بروقت ہوتی ہے۔ اگر کائنات پر نظر ڈالیں تو عورت پروڈکشن سائٹ ہے۔ یعنی کمزور ہستی کے سپرد دنیا چلانے، نظام ہائے حیات سنبھالنے والوں کی تخلیق، پیدائش اور تربیت کی گئی۔
عورت نازک ہے، جذباتی ہے، مگر کائنات کے مالک نے اس کو ذمہ دار بنایا تخلیق اور تربیت کا! آسمان سے کسی مشین کو نہیں اتارا کہ بچے ڈھل کر نکلیں، یا مرد کو ماں نہیں بنایا کہ مضبوط ہے، غیر جذباتی ہے۔ جسمانی اعتبار سے ناقص عورت کو اشرف المخلوقات کی تیاری کا بے انتہا نازک اور اہم کام تفویض کیا۔‘‘
کبھی کبھار کسی ننھے منے کی آواز ہال میں ارتعاش پیدا کرتی تو شرکاء مائیں چونک جاتیں۔ سب اپنی حیثیت کے بارے میں جان کر بڑی مطمئن سی لگ رہی تھیں کہ گفتگو تلخ حقائق تک آپہنچی۔ بحث کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ مس ہالہ ٹھیر ٹھیر کر بول رہی تھیں، گویا ایک ایک لفظ تل رہا تھا:
’’سرمہ نے سرمہ پیسنے والے سے پوچھا ’’تم مجھے اتنا کیوں پیستے ہو؟‘‘ سرمہ پیسنے والے نے جواب دیا ’’تمہیں اشرف المخلوقات کے جزوِ اشرف یعنی آنکھ میں جذب ہونا ہے‘‘۔ تو اگر اشرف المخلوقات کے ایک جزو میں جذب ہونے کے لیے اتنی گھسائی، پسائی ضروری ہے تو اس کی تخلیق اور تربیت کس قدر مشقت اور صبر کی متقاضی ہے۔‘‘
’’اف…‘‘ کچھ خواتین نے اپنی نشستوں پر پہلو بدلے، کچھ اپنی گھڑیوں میں وقت دیکھنے لگیں۔ نکات ہی ایسے تھے کہ نظریں چرانے پر مجبور ہوگئیں۔ ’’اختیارات، احتساب کے بغیر نہیں عطا کیے گئے۔‘‘
اسماء سن کر دل ہی دل میں کھول رہی تھی ’’ہوں، آخر یہ سب باتیں عورتوں کو کیوں سنائی جاتی ہیں؟ مرد حضرات نے بڑے آرام سے خود کو معاش تک محدود کرلیا ہے۔ بچوں کو ببل گم، چپس کے پیکٹ پکڑائے، گالوں پر پیار کیا اور دوسری نوکری کے بہانے گھر سے نو دو گیارہ! گویا گھر نہیں پکنک اسپاٹ ہے۔ تو عورت کا سخت احتساب کیوں کر ہوسکتا ہے؟‘‘ ملٹی میڈیا بند کرتے ہوئے مس ہالہ نے اختتامی کلمات کہے: ’’مگر دعا اثر رکھتی ہے۔ دعا معجزہ کرتی ہے۔ ماں کی دعا اولاد کے لیے۔‘‘
سوال و جواب کا سیشن نہ ہونے پر مسز سارہ نے معذرت کی، کیونکہ ورک شاپ تو صرف دو گھنٹے کی تھی مگر ناگہانی بارش کے باعث دیر سے شروع ہوئی، اور مرد حضرات جو اس دوران بچوں کو سنبھال رہے تھے، اب ہال کے باہر لینے آچکے تھے۔
’’واہ کیا بات ہے!! ماں تو سارا دن دیکھ بھال کرے لیکن آفس کے باہر کھڑی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ماں چوبیس گھنٹوں میں تھکن کا اشارہ بھی کردے تو تان کوالٹی ٹائم پر آ ٹوٹتی ہے۔ آہ، معاشرے کے کرتا دھرتا عورت کو اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے! ماں کی چوبیس گھنٹے کی کارکردگی کو کوالٹی ٹائم کے اسکیل پر کیوں جانچا جاتا ہے؟‘‘ اسماء دانت پر دانت جماکر بڑبڑائی تو آگے پیچھے خواتین مڑ کر دیکھنے لگیں۔
ان سوچوں کو ایک طرف کرتے ہوئے اسماء نے جلدی سے رکشا لیا اور گھر کی طرف رواں دواں ہوگئی۔ اترتے ہی ٹیپو، عینی اور ایمان نے گھیرے میں لے لیا۔ تجسس آنکھوں سے عیاں تھا۔ ’’امی کیا ہوا تھا؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں میرے بچو!‘‘ اسماء نے انہیں لپٹا لیا۔ ان معصوموں کا معاشرے میں عورت اور مرد کے درمیان چھڑی حقوق اور فرائض کی بحث سے کیا واسطہ! بچے تو قدرت کا تحفہ، کائنات کا حسن ہیں۔ مرد و زن اپنی اَنا کی خاطر اس بیش قیمت تحفے کی ناقدری کررہے ہیں۔‘‘
اگلے دن صبح سویرے عینی کی کلاس فیلو کی والدہ نصرت کا فون آگیا ’’آپ چلیں ناں تقریب آپ کی ہے، آپ کی نوکری! آپ جیسی قابل خاتون گھر نشین ہوجائے تو…‘‘رکے بغیر بولے چلی گئیں۔
گزشتہ ذہنی مشق کا اثر تھا کہ اس نے شام تک کا وقت سوچنے کے لیے لیا ’’بس آپ اسی وقت ہاں کردیں۔ اب تو چھوٹا بچہ بھی اسکول جانے والا ہے۔ چند دن تو ہیں سیشن شروع ہونے میں…‘‘ نصرت کا اصرار بتارہا تھا کہ ہوم ورک خوب کیا ہے، چنانچہ اسے اسد سے مشورہ کیے بغیر ہاں کرتے ہی بنی۔
شام میں اسماء نے کھانے کے ساتھ میٹھا بھی تیار کرلیا کہ سب شوق سے کھاتے تھے۔ رات کھانے کی میز پر اسد کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے اس نے کہا ’’سوشل ورکر مسز احسان کی سیکریٹری کی جگہ خالی تھی۔ وہ میرے پیچھے لگی ہوئی تھیں۔ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت ہے۔ دو چار دن ٹیپو کو ساتھ لے جائوں گی۔ پھر اس کا اسکول شروع ہے۔ بچے بڑے ہورہے ہیں۔ اخراجات بھی بڑھیں گے۔‘‘ یوں اطلاع کا مرحلہ طے ہوا۔
اسد نے تھوڑی رد و کد کے بعد ماسی کے بغیر گھر چلنے کی شرط پر بات مان لی۔ ’’میں گھر اور باہر اپنی کارکردگی ثابت کروںگی۔‘‘ اسماء نے اپنا عزم دل میں دہرایا۔
دن مہینوں میں بدل گئے۔ اس نے اپنی ذہانت اور قابلیت سے بہت جلد اپنی جگہ بنا لی۔ مسز احسان کا سوشل ورک تھا کہ شیطان کی آنت! لاتعداد خواتین اپنے مسائل کے ساتھ ان کے دروازے پر جمع رہتیں۔ اتنے پیچیدہ معاملات ہوتے کہ سلجھنے میں نہ آتے۔ ایک عورت کے لیے چھت اور روزگار کا بندوبست ہوتا تو مزید تین خواتین قطار میں آکھڑی ہوتیں۔ دو سوکنوں کا معاملہ تو ناقابلِ یقین سا تھا جنہوں نے مل کر شوہر کو قتل کردیا تھا اور بہناپے کے طور پر الزام اپنے سر لے لیا تھا۔ گو کہ سزا تو دونوں کاٹ رہی تھیں مگر اب تعلقات معمول پر تھے۔ واقعی عورت کیا نہیں کرسکتی!
گھر اور بچے ایک دوسرے کے حوالے ہوئے تو دونوں کا جغرافیہ بدلنے لگا۔ زندگی سے بھرپور تین جیتے جاگتے بچے!! ننھا ٹیپو چیزوںکو سہولت کے لیے اپنے ہاتھ کے فاصلے پر رکھتا۔ ٹوتھ پیسٹ کتابوں کے شیلف پر، اور موزے کھلونوں کی ٹوکری سے برآمد ہوتے۔ اسد زیر لب بڑبڑاتے، کبھی جھنجھلاتے۔ اسماء تھکی ہاری گھر میں داخل ہوتی تو اپنی دانست میں جلدی جلدی کام نبٹاتی کہ کچھ وقت آرام کا مل جائے، مگر اس کی سمجھ میں نہ آتا کہ اس کے محض چھ گھنٹے باہر رہنے سے گھر کو بھونچال کا سامنا کیوں تھا؟ گھر کی آمدنی میں معقول اضافہ بھی تو ہوا تھا، ساتھ ہی نئی سہولیات بھی۔
کبھی وہ ستم رسیدہ بے گھر عورتوں کی حالتِ زار یاد کرتی تو دوسرے لمحے اپنی قابلِ رحم حالت پر کڑھتی، مگر خود کو ثابت کرنا اتنا آسان تو نہ تھا۔ بچوں کو اسکول کا کام کروانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اب سر پکڑے، جمائیاں لیتے، عورتوں کے مسائل اور ان کے حل سوچتے ہوتا تھا۔ گھر کسی مددگار کے بغیر کب تک چلتا؟ بالآخر ایک جزوقتی ملازمہ رکھنی پڑی۔ اس کی تنخواہ کے علاوہ روز فرمائشی پروگرام پر اسماء جزبز ہوتی۔ بچوں کی خراب ہوتی کارکردگی کا حل اس کی نظر میں ایک اچھے استاد کے سوا کچھ نہ تھا۔ مگر پھر اچھے مشاہرے کا سوچ کر دانتوں تلے پسینہ آجاتا۔
گزشتہ ہفتے ایک تقریب میں اپنے بچوں کو کھانے کی قابوں اور کولڈ ڈرنک پر چھینا جھپٹی کرتے دیکھ کر اسماء پر گھڑوں پانی پھر گیا۔ ’’چیزوں کی کثرت کے باوجود یہ رویہ؟ بس میڈیا کا اثر ہے۔ سارے بچے ایسا کررہے ہیں۔‘‘ اس نے خود کو تسلی دی۔ حالانکہ اس کی ساری بچت گھر سے باہر کھانا کھانے، بچوں کے نئے نئے شوق پورے کرنے میں صرف ہوجاتی، مگر بچوں کی عدالت سے باعزت بری ہونے کا اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ دہری ذمے داریوں کا بوجھ اٹھائے خود زعمی اور خود ترحمی کے مابین ڈولتی اسماء کی زندگی میں بالآخر وہ لمحہ آن پہنچا جس کی تڑپ نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔
مسز احسان نے ہنگامی نشست میں اعلان کیا ’’صدارتی تمغا برائے حُسن کارکردگی کے لیے اسماء اسد کی نامزدگی ہماری تنظیم کے لیے باعثِ فخر ہے‘‘ تو اسماء کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ اپنی ساتھیوں کی ستائشی نظروں کی زد میں تھی۔
’’کاش امی زندہ ہوتیں! میری ساری کامیابیاں اُن کے دیے ہوئے اعتماد کی مرہونِ منت ہیں۔‘‘ اس کے سوا بولا نہ گیا۔ ’’مگر کیا وہ خوش ہوتیں مجھے اس حال میں دیکھ کر؟‘‘ کسی نے جیسے اس کے دل میں چٹکی سی لی، اور واقعی اس کی امی، نانی، پرنانی اور سگھڑ نانی تک تمغوں، شناخت سے محروم گھروں میں بند بیٹی، بہن، بیوی اور ماںکی زندگی گزار گئیں۔
کل شہر کے پنج ستارہ ہوٹل کے پُرتکلف ہال میں منعقدہ تقریب کے لیے پورے ملک سے خواتین مدعو ہیں۔ اسماء گھنٹوں کے مساج اور فیشل کے بعد ملائم چہرہ اور کھلی کھلی رنگت لیے گھر میں داخل ہوئی ہے۔ بچے اور اسد اس کا روپ دیکھ کر متاثر ہیں۔ ’’مجھے تمہارے پوشیدہ جوہر کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ اسد کی آنکھیں اعتراف کررہی تھیں۔
تیاری کے مراحل میں اسماء ادھوری تقریر چھوڑ کر بوتیک کے کپڑوں میں سے کل پہننے کا جوڑا چننے دوسرے کمرے میں گئی تو عینی نے کاغذ اٹھاکر بلند آواز سے پڑھنا شروع کردیا ’’بلاشبہ آج کی عورت وہ سب کچھ کرسکتی ہے جو مرد کرتا ہے۔ میری پہچان میری کارکردگی ہے جو کسی طرح ایک مرد سے کم نہیں۔‘‘ گولڈن رنگ کا سوٹ پہن کر اسماء آئینے کے مقابل کھڑی ہوئی تو وہ خود کو پہچان نہ سکی، مگر اس کا عکس کچھ کہہ رہا تھا، اس کے پسندیدہ شاعر فلسفی خلیل جبران کا قول
“The personality of the other persan lies not in what he reveals to you,but what he cannot reveal to you, therefore if you understand him , listen not to what he says but rather what he does not say”
نامۂ اعمال لکھنے والے فرشتے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ قدیم فکر کے حامل فلسفی کی یاد کو اسماء کے حق میں اچھا شگون خیال کیا اور نتیجے کا اعلان آنے والے وقتوں کے لیے اٹھا کر رکھ دیا۔

حصہ