وطن کا قرض

181

عروبہ عثمانی
’’بھئی میری تو بس ہو گئی… گریجویشن کے بعد گھر میں آرام سے رہوں گی، گھوموں پھروں گی… ڈاکٹر کی ڈگری مل جائے گی بس، اور کیا چاہیے! جاب کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ارمین نے غرور سے گردن اکڑائی۔
’’میں تو اپنے ماموں کے پاس چلی جائوں گی امریکا، وہیں رہائش، جاب، خوب پیسہ، شہرت اور کسی ہینڈسم سے امریکی سے شادی کرکے وہیں سیٹ ہوجائوں گی۔‘‘ شانزے تو جیسے بیٹھے بیٹھے امریکا گھوم رہی تھی۔
’’اور مس ٹاپر آپ کا کیا ارادہ ہے؟‘‘ ماوریٰ نے عزیمہ سے پوچھا۔
’’تمہیں تو اسکالر شپ کی آفر بھی آگئی ہے، تم بھی شانزے کی طرح وہیں سیٹل ہوجانا۔’’ماوریٰ نے عزیمہ کو مفت مشورہ دیتے ہوئے حسرت سے کہا۔
’’میں Residency کے بعد واپس پاکستان آجائوں گی، یہاں Organ Transplant کے ایک فلاحی اسپتال میں بطور سرجن جاب کرنا ہے مجھے۔‘‘ سب ہی کو گویا سانپ سونگھ گیا، اور پھر سب کے قہقہے بلند ہوئے جس میں اس کی پھیکی پڑتی مسکراہٹ کسی نے نہ دیکھی۔
’’کم آن مس، اتنے سال اپنی محنت، پیسہ لگا کر اور جوانی برباد کرکے بیرونِ ملک جاکر تم واپس آئو گی؟ یہ کہنے کی بات ہے، جب وہاں شہرت اور پیسہ ہاتھ آئے گا تو تمام جذبات، حب الوطنی ٹھنڈی پڑجائے گی۔‘‘ شانزے نے طنز کیا۔
’’خود سوچو یہاں کیا رکھا ہے! یونیورسٹی کی ٹاپر جس کا مستقبل اتنا برائٹ ہے وہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں چند روپوں کے عوض خوار ہوگی؟ یہ تو بے وقوفی ہے۔‘‘
ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کی عنقریب گریجویٹ ہوجانے والی امیر والدین کی وہ اولادیں مستقبل کے پلان آپس میں شیئر کررہی تھیں۔ عزیمہ خاموشی سے اپنی سہیلیوںکی لعنت ملامت سن رہی تھی جس کا عزم وہی تھا، بس دل ٹوٹ سا گیا تھا اور یہ ابھی شروعات تھی۔
…٭…
’’اوہ ہنی! مسز ہاشمی کے بیٹے کو دیکھو، وہ لوگ ہماری طرح welloff بھی نہیں تھے، ابھی بھی کسی طرح وہ چائنا پڑھنے چلا گیا اور اب جرمنی Move کر گیا Settle ہونے کے لیے، اور تم Don’t be so ingrate‘‘ مسز حمدانی ماں ہوتے ہوئے بھی اس کے جذبات نہ سمجھ سکیں۔
’’یہ میں کیا سن رہا ہوں عزیمہ؟ تم نے لندن کے BMI اسپتال سے ملنے والی جاب آفر ٹھکرا دی؟ UK کا وہ اسپتال جو دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر آتا ہے۔ ہوش میں ہو تم؟‘‘ ہمدانی صاحب فون پر دھاڑ رہے تھے۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون سے نکل کر عزیمہ کا دماغ درست کردیں۔
’’سوچا تھا کہ مبین کے بیٹے سے شادی کراکے تمہیں وہیں Settle کرائوں… مبین سے میرے تعلقات اور بزنس کے معاملات اچھے ہوجاتے، مگر تم نے سب پر پانی پھیر دیا۔‘‘
اس نے سوچا تھا کہ چار سال کی انتھک محنت کے بعد فیلڈ میں اسپیشلائزیشن کرکے وہ گولڈ میڈلسٹ جب وطن واپس آئے گی تو کم از کم اس کے ماں باپ خوش ہوں گے۔ لیکن یہ ابھی کی بات نہ تھی، گریجویشن کے بعد آکسفورڈ میں پڑھنے تک اس نے اپنے رشتے داروں اور فیلوز کے کئی طنز، تحقیر اور افسوس آمیز جملے سنے تھے۔ لیکن اس میں اُس کی کیا غلطی اگر وہ اُس کے اندر پنپتے محب وطن کو نہ سلا سکے تھے، جو اب اور توانا ہوگیا تھا!
’’خبردار واپس آکر اگر تم نے میرے گھر میں قدم رکھا تو۔‘‘ انگریز غلامی کی پٹی نے ہمدانی صاحب کو یہ بھی نہ دیکھنے دیا کہ سامنے ان کی سگی اولاد تھی۔ سب کو اپنی فکر تھی، کسی نے یہ نہ سوچا کہ وہ کیا چاہتی تھی۔ وہ پاکستان میں اپنی خالہ کے پاس رہنے لگی۔ سیدھی راہ پر چلنے والوں کو راستے کے پتھر لہولہان تو کرسکتے ہیں مگر روک نہیں سکتے۔ اس کا حوصلہ بلند تھا۔
…٭…
’’پاکستان کے چندگنے چنے معروف سرجنز میں سے ایک ڈاکٹر عزیمہ اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی بدولت ایسے مریض زندگی کی جانب واپس لوٹے ہیں جن کا علاج پاکستان میں اب تک ممکن نہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب مستحق مریضوں کو مفت علاج بھی فراہم کرتی ہیں۔ آیئے Pride of Nation کی اس Award Ceremony کی نامزد ڈاکٹر عزیمہ سے آپ کو ملواتے ہیں۔‘‘
شو کے میزبان نے ہمدانی صاحب کو ٹی وی کی جانب متوجہ کیا۔
’’بچپن میں ہمارے والدین ہمیں یاد کرواتے ہیں کہ ’’یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے… اور یہ کہ وطن کی عزت ہم کو اپنی جان سے پیاری ہے… وغیرہ وغیرہ۔ پھر جوان ہوکر ہم وطن کے ساتھ کیے گئے ان وعدوں کو نبھانے لگتے ہیں تو قابلِ تحقیر بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسے ملک سے سب حاصل کرکے آخر میں ثمر ہم غیر ممالک کو دینے چلے جاتے ہیں۔ پانی کے گلاس سے لے کر ڈورمیٹ تک برانڈڈ استعمال کرنے والے ہم لوگ چلاتے ہیں کہ مہنگے ڈالر کے سامنے روپے کی اہمیت نہیں۔ غیر ملکی ادارے ہمارے ہی ملک کے ہونہار جوانوں کو اپنے پاس نوکری کے لیے بلاتے ہیں، جب کہ خود دنیا میں بادشاہ بنے بیٹھے ہیں، اور اس نسل کے بقول یہ ان کا Bright Future اور Prestige میں اضافہ ہے۔
ہماری نسل میں سے کوئی عافیہ صدیقی ہوتی ہے، نیورو سرجن اور ملک کے ایٹمی ادارے سے منسلک، جو ناکردہ جرم کی بدولت غیر ملکی قید میں آزادی کی راہ تک رہی ہے۔ یا تو کوئی ملالہ بن جاتی ہے جو تاعمر پاکستانی دہشت گردی کی سروائیور اور غیر ملکی پرامنی کا سمبل بن کر نوبیل پرائز حاصل کرتی رہے گی۔ یہاں کے ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں اور ہم اپنے ہی ملک میں ایک سرجری کے لیے بھارت اور امریکا کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ تعمیرات کے ناقص انفرا اسٹرکچر اور سودی سرمائے کا بوجھ اٹھائے چلتے ہیں۔ اتنے بڑے ملک میں چند ایک ہی ملٹی نیشنل فارموسیوٹیکل کمپنیاں ہیں، جب کہ دنیا بھر میں موجود فارما کمپنیوں کا کُل ساٹھ فیصد منافع بھی صرف امریکا کو جاتا ہے۔ ملک کی لوکل فارما کمپنیز غیر ملک میں اپنے سیٹ اَپ نہیں لگا سکتیں، کیوں کہ FDA کے مطابق they are not established quality providers enough….
نئی انڈین فلم کے ریلیز ہوتے ہی ہمارے سنیما گھروں میں ہائوس فل ہوجاتے ہیں، اور پھر انڈیا جیسے ممالک بھی اپنی گیدڑ بھپکیوں کے ساتھ ہمارے منہ کو آنے لگتے ہیں، اور پھر ہم کہتے ہیں کہ تبدیلی کب آئے گی اور ملک کو استحکام کیسے حاصل ہوگا؟‘‘
ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات ڈاکٹر عزیمہ کو دَم سادھے سن رہی تھیں اور ٹی وی اسکرین کے اس پار موجود مسٹر و مسز ہمدانی پچھتا رہے تھے جنہوں نے اپنے ہی ہیرے کو کنکر کی طرح ٹھوکر ماری تھی۔

حصہ