موت کی یاد

145

ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی
تیسری صدی ہجری کے مشہوربزرگ و صوفی حاتم اصمّ بلخی ؒ (م: ۲۳۷ھ؍ ۸۵۱ء) کے بقول موت واعظ ہونے کے لیے کافی ہے۔۵ بلا شبہہ انسان کو غفلت سے بیدار کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا اور یاد دلانا ایک نہایت مجرّب و نفع بخش نسخہ ہے ۔موت کی یاد میں اس لحاظ سے بھی انسان کے لیے بڑی قیمتی و کارگر نصیحت ہے کہ یہ اس کے اندرون میں اپنے حالات کو سدھارنے کی فکر پیدا کرتی ہے اور آخرت میں نفع دینے والے اعمال کی انجام دہی، یعنی شب و روز گزارتے ہوئے نیکیوں کا خزانہ جمع کرنے پر ابھارتی ہے ۔ lجنازہ وتدفین میں شرکت کی تاکید: موت کو یاد کرنے کے علاوہ وفات پانے والوں کے اولین مسکن ( قبر) پر حاضری اور ان کے ذکر ِ خیر میں بھی بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ کسی کی وفات پر جنازہ و تدفین میں شرکت کے علاوہ عام حالات میں بھی قبروں کی زیارت یا قبرستان میں حاضری کے فضائل و برکات احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں حضرت براء ابن عازبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا ہے۔ جن سات کاموں کا حکم دیا گیا ان میں دوسرا حکم ہے: جنازہ کے ساتھ پیچھے پیچھے جانا۔اَمَرَنَا النَّبِیُّ بِسَبْعٍ وَنَھَانَا عَنْ سَبْعٍ۔ اَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ وَعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ وَ اِجَابَۃِ الدَّاعِیْ وَ نَصْرِ الْمَظْلُوْمِ وَ اِبْرَارِ الْقَسَمِ وَ رَدّ السَّلَامِ وَ تَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ ۶ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ایک حدیث میں بھی کسی مسلم کے جنازہ کے پیچھے چلنے اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی بڑی فضیلت و برکت بیان کی گئی ہے۔۷ اس میں شبہہ نہیں کہ جنازہ میں شرکت ، قبرستان میں حاضری اور وفات پانے والوں کے لیے دعاے مغفرت اہلِ ایمان کے باہمی حقوق میں شامل ہے اور باہمی اخوت و قرابت اور انسانی رشتوں کی پاس داری کے تقاضوں میں سے بھی ہے ۔ یہ اعمالِ حسنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں سے تھے، بلکہ یہاں تک روایت ہے کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے آپؐ کو ایک شخص کی وفات کی اطلاع نہیں دی گئی، بعد میں لوگوں سے ان کا حال معلوم کرنے پر جب ان کی وفات کی خبر ملی تو آپؐ نے ان کی قبر دریافت کی، وہاں تشریف لے گئے اور نماز جنازہ ادا کی۔۸ اس کے علاوہ متعدد احادیث میں جنازہ و تدفین میں شرکت کی ترغیب دی گئی ہے۔ lزیارتِ قبور اور تذکیر موت: ان سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس شرکت کے فرضِ کفایہ ہونے کے باوجود اس عمل کی بڑی برکت و فضیلت ہے۔ جنازہ کے علاوہ عام حالات میں بھی قبروں کی زیارت مطلوب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل دونوں سے اس کی تعلیم دی ہے۔ ارشادِ نبوی ؐہے : کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَـارَۃِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَاِنَّہَا تُزَہِّدُ فِی الدُّنْیَا وَتُذَکِّـرُ الآخِرَۃَ ۹ میں نے تمھیں ( پہلے) قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا،پس (اب) قبروں کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا میں زہد کی صفت پیدا کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ وقتاً فوقتاً قبروں کی زیارت آپؐ کا معمول رہاہے۔اس موقعے پر خاص طور آپؐ یہ دعا پڑھتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ ، اَنْتُمْ سَلَفَنَا وَنَحْنُ بِالْاثَرِ ۱۰ اے اہلِ قبور آپ سب پر سلامتی ہو، اللہ ہماری اور آپ سب کی مغفرت فرمائے، آپ لوگ [ ہم سے ]پہلے جا چکے اور ہم بس آپ کے پیچھے ہیں ۔ مزید یہ کہ آپؐ صحابہ کرامؓ کو قبرستان میں داخل ہونے کی دعائیں بھی سکھاتے تھے۔ ان میں یہ دُعا بہت معروف ہے: اَلسَّلَامُ عَلٰی اَھْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَ اِنَّـا اِنْ شَاءَ اللہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ ، نَسْئَلُ اللہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ ۱۱ اے مومنوں و مسلمانوں کی بستی والو! تم پر سلام ہو اور ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، ہم اللہ سے اپنی اور تم سب کی عافیت طلب کرتے ہیں۔ سونے اور بیدار ہونے، سواری پر بیٹھنے ، قبر ستان میں داخل ہونے، نمازِ جنازہ ادا کرنے اور قبر میں مٹّی ڈالنے کے وقت کی جو دعائیں مسنون ہیں ان سب کے الفاظ پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ ان سب سے کسی نہ کسی صورت میں موت کی تذکیر بھی مقصودہوتی ہے۔ حقیقت یہ کہ قبرستان میں حاضری ، کچھ دیر قبروں کے پاس کھڑے رہنے اور اہلِ قبور کو یاد کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے کہ اس سے ذاتی تذکیر ہوتی ہے ۔ قبرستان میں حاضری اور قبروں کی زیارت اس لحاظ سے بھی باعثِ عبرت ہے کہ قبر آخرت کی منازل میں سے پہلی منزل ہے۔ قرآن کریم کے مطابق انسان اپنی اِس منزل کی جانب رواں دواں ہے یہاں تک کہ وہ ایک روز اللہ رب العالمین کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔ارشادِ الٰہی ہے: يٰٓاَيُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْہِ۝۶ۚ (الانشقاق ۸۴:۶) اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے( ایک مقررہ وقت پر) ملنے والاہے۔ آخرت کے سفر میں اس پہلی منزل ( قبر) کی اہمیت اُس حدیث سے بخوبی واضح ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک صحابیؓ نے حضرت عثمانؓ کو قبر کے پاس کھڑے ہوکر زار و قطار روتے دیکھا تو دریافت کیا کہ آپ جنت و دوزخ کے تذکرے پر اس قدر نہیں روتے جس قدر کی قبر کی زیارت پر۔ انھوں نے جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا کہ : اِنَّ الْقَبْرَ اَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَۃِ فَاِنْ نَجَا مِنْہُ فَمَا بَعْدَہٗ اَیْسَرُ مِنْہُ وَ اِنْ لَّمْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہٗ اَشَدُّ مِنْہُ ۱۲قبر آخرت کے منازل میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر کوئی اس سے [ کامیابی کے ساتھ] نجات پا گیا تو بعد کی منازل طے کرنا اس کے لیے نہایت آسان ہوگا اور اگر اس سے نجات نہ پاسکا تو اس کے بعد [ کے مراحل میں]جو کچھ ہے وہ اس سے بہت سخت ہے۔ اُس حدیث سے مرحلۂ قبر کی عبرتیں و نصیحتیں مزید واضح ہو تی ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ قبر یہ آواز نہ دیتی ہو: اَنَا بَیْتُ الْغُرْبَۃِ ۔اَنَـا بَیْتُ الْوَحْدَۃِ ،اَنَـا بَیْتُ التُّرَابِ ،اَنَا بَیْتُ الدُّوْدِ ۱۳ میں اجنبیت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹّی کا گھر ہوں، میں کیڑے مکوڑے کا گھر ہوں۔ حضرت عبد اللہ ابن عبیدؓ کے بیان کے مطابق جب میت کے ساتھ آنے والے واپس چلے جا تے ہیں تو سب سے پہلے قبر ان سے مخاطب ہو کر پوچھتی ہے:’’ اے ابن آدم! کیا تو نے میرے حالات نہ سنے تھے؟ کیا تو میری تنگی، بدبو،ہول ناکی اور کیڑوں سے نہ ڈرایا گیا تھا؟ اگر ایسا تھا تو پھر تو نے کیا تیاری کی؟۱۴ ان روایات کے پس منظر میں اُس حدیث کی اہمیت و معنویت مزید بڑھ جا تی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک دفعہ قبرستان میں کھڑے ہوکر ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بھائیو! اس( قبر) کی تیاری کرو ‘‘۔ ۱۵ اس گھر کی تیاری سے مقصود اس کی پختہ تعمیر اورتزئین نہیں، بلکہ دنیوی زندگی کی تعمیر و اصلاح یا اعمالِ صالحہ سے اس کی آراستگی ہے جو اس گھر میں سکونت کو آرام د ہ و خوش گوار بنائے گی۔ یہ نکتہ اس حدیث کی روشنی میں اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قبر میں داخل ہونے والا ایمان و عمل صالح سے مزین ہے تو اس کے لیے قبر وسیع ہوجاتی ہے اور وہ بہترین آرام گاہ بن جاتی ہے۔۱۶ اس میں شبہہ نہیں کہ جنازہ میں شرکت اور قبروں کی زیارت اسی پہلی منزل کے لیے تیاری کی یاد دلاتی ہے۔ اس سے نہ صرف اپنی موت یاد آتی ہے،بلکہ موت کے بعد نصیب ہونے والے مسکن (قبر) کا منظر بھی نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے اور یہ احساس قوی ہو جا تا ہے کہ چاہے انسان کتنے عالی شان مکان یا کوٹھی،بنگلہ یا محل کا مکین ہو،آخر کار اسے اسی ٹوٹے پھوٹے، تاریک، کیڑے مکوڑوں والے مٹی کے گھر میں رہنا ہے۔ایک دو سال نہیں ،بلکہ برسہا برس، جب تک قیامت نہ برپا ہوجائے جس کے وقت ِمقررہ کا علم صرف عالم الغیب و الشہادۃ کو ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں افسوس صد افسوس کہ اس عبرت و نصیحت کے مقام(قبرستان) میں بھی بہت سے لوگ گپ شپ، حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ اور سیاست و حکومت کے مسائل پر اظہار ِ خیال میں وقت گزار دیتے ہیں۔ کاش! قبرستان میں ہوتے ہوئے ہم ذکرِ الٰہی اور فکرِ آخرت میں غرق ہوجائیں۔ یہاں یہ واضح رہے کہ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوگی جب پورے آداب و احترام،حضورِ قلب، انتہائی سنجید گی اور رضاے الٰہی کی طلب کے ساتھ اس مقام پر جایا جائے یا قبروں پر حاضری دی جائے اور اس موقعے کی مسنون دعائیں پڑھی جائیں۔ حقیقت یہ کہ ان مقامات پر اگر کوئی سچی طلب اور سنجیدگی کے ساتھ حاضری دے تو اسے غفلت سے بیداری نصیب ہوگی اور اس پر خشیتِ الٰہی و رجوع الی اللہ کی کیفیت طاری ہوئے بغیر نہ رہے گی۔ خلاصہ یہ کہ قبروں کی زیارت سے موت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ، آخرت کی تیاری کی فکر بڑھ جاتی ہے، اور اکتسابِ خیر کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ lیکہ و تنہا سفر: واقعہ یہ کہ اس منظر کو یاد کرنے میں بھی بڑی عبرت ہے کہ دنیا میں انسان کے آل واولاد اور مال و اسباب ہوتے ہیں،مکانات ، کھیت و باغات ہوتے ہیں اور اصحابِ ثروت کے یہاں تجوریاں یا بنک لاکر سیم و زر اور زیورات سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن اس عارضی مستقر سے رخصت ہوتے ہوئے وہ سب کچھ پیچھے چھوڑ کر یکا و تنہا راہیِ ملکِ عدم ہوتا ہے ، قبر میں خالی ہاتھ پہنچتا ہے اور اللہ رب العزت کے حضور یکّا و تنہا حاضر ہوگا ۔ قرآن نے اس حقیقت سے بھی صاف طور پر انسان کو باخبر کردیا ہے۔ ارشادِ ربّانی ہے: وَكُلُّہُمْ اٰتِيْہِ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فَرْدًا۝۹۵ (مریم۱۹: ۹۵) اور سب کے سب روزِ قیامت یکّا و تنہا اس کے سامنے آئیں گے۔ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَـمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ( الانعام۶: ۹۴) لو! اب تم ویسے ہی تنِ تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ( اکیلا) پیدا کیا تھا۔ گھر سے قبر ستان تک کے سفر میں کون سی چیزیں میّت کے ساتھ جائیں گی، اور کون واپس آجائیں گی، اور کون اس کے ساتھ قبر میں باقی رہ جائیں گی؟ اس کی بہترین منظر کشی ایک مختصر، لیکن نہایت سبق آموز حدیث میں ملتی ہے ۔اس کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ فَیَرْجِعُ اثْنَانِ وَیَبْقَی مَعَہُ وَاحِدٌ یَتْبَعُہُ أَھْلُہُ وَمَا لُہُ وَعَمَلُہُ فَیَرْجِعُ أَھْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ ۱۷تین چیزیں میّت کے پیچھے جاتی ہیں، اس کے گھروالے،اس کا مال [ملکیت کی چیزیں؍ نوکر چاکر، اور اس کا عمل۔ پس دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک [اس کے ساتھ ] باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے گھر والے اور اس کے مال واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عطاء ابن یسارؒ سے روایت ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو سب سے پہلے اس کا عمل اسے حرکت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرا عمل ہوں۔ میت پوچھتی ہے کہ میرے اہل و عیال کہاں ہیں؟ اور میری نعمتیں کہاں ہیں؟ عمل جواب دیتا ہے کہ یہ سب تیرے پیچھے رہ گئے اور میرے سوا اور تیری قبر میں کوئی نہ آیا۔۱۸ l اللہ کے ہاں جواب دہی کا احساس: بلا شبہہ قبر کی یا بعد کی منازل میں متوفی کے لیے آ خرت میں نفع دینے والے محض اس کے نیک اعمال ، حسنات یا نیکیوںکے خزانے ہو ں گے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں الباقیات الصالحات کہلاتے ہیں۔ قرآن کریم میں بار بار اہلِ ایمان کو انھی باقیاتِ صالحات، یعنی باقی ر ہ کر اُخروی زندگی میں کام آنے والی نیکیوں کا خزانہ جمع کرنے، اسے بڑھانے اور اس راہ میں اللہ کی عطا کردہ جملہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ (البقرۃ۲: ۲۵،۸۲،۲۷۷؛ النساء۴: ۱۲۴، الانعام۶:۱۶۰، ھود۱۱:۱۱۴، طٰہٰ۲۰: ۷۵، النمل۲۷: ۸۹، القصص۲۸:۷۴، البیّنۃ ۹۸:۷) قرآن کریم میں انسان کو موت کی یاد دہانی کے ساتھ اس کے بعد قبر میں جانے اور ایک مقررہ مدت کے بعد اس سے اٹھائے جانے کو بھی یاد دلایا گیا ہے (جاری ہے)۔

حصہ