مطالعے کے بغیر اچھا لکھنا مشکل ہے

142

بچوں کی نامور مصنفہ راحت عائشہ سے جسارت سنڈے میگزین کی گفتگو

فائزہ مشتاق

ادب اور زندگی کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے زندگی اور سانس کا۔ سانس ٹوٹے تو زندگی کی ڈور بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ ادب کو زندگی سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ادب سوچ میں انقلاب لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اچھا ادب معاشرے کی حالت سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہ ایک اچھے اور وسیع سوچ رکھنے والے ادیب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے بہت سے ادیب ہیں جن کی تحریروں نے نہ صرف ہمارے سماج پر بلکہ انفرادی طور پر بھی خاطر خواہ اثرات مرتب کیے۔ خواتین مصنفات بھی اپنے قلم کے ذریعے اس کام میں بخوبی اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ بچوں کی نامور مصنفہ راحت عائشہ کا شمار بھی انہی میں ہوتا ہے جو اپنے منفرد اندازِِ تحریر کی بدولت بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں اور مختلف رسائل کی ضرورت بن چکی ہیں۔ آج کل ’’بچوں کی دنیا‘‘ رسالے کی ایڈیٹر ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے اُن سے گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔
…٭…
جسارت میگزین: سب سے پہلے تو ایوارڈ کی تفصیل بتایئے۔
راحت عائشہ: ہر سال وفاقی مذہبی امور کی جانب سے 12 ربیع الاوّل کی تقریب جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوتی ہے جس میں مذہبی و دینی رہنما اور علما مدعو ہوتے ہیں۔ یہ دو روزہ تقریب 11 اور 12 ربیع الاوّل کو ہوتی ہے، اس میں ہر سال ایوارڈ دیے جاتے ہیں، جس میں سیرت النبیؐ کے حوالے سے مختلف عنوانات پر کتابیں اور مقالات لکھوائے جاتے ہیں۔ میں نے بھی بچوں کے ادب میں ’’گم شدہ چابی‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی جس میں روزمرہ کے حوالے سے ’’سنت و احادیث‘‘ کو کہانیوں کی شکل میں مرتب کیا تھا اور اوّل انعام کی حق دار قرار پائی۔
جسارت میگزین: آپ کے دو نام ہیں، اس کی وجہ؟
راحت عائشہ: (ہنستے ہوئے) راحت اصل میں لڑکوںکا نام بھی ہوتا ہے۔ بچپن میں بچے میرا مذاق اڑاتے، بس اسی کوشش میں رہتی کہ نام تبدیل کروں۔ مختلف نام آزمائے، آخرکار ’’راحت عائشہ‘‘ فائنل ہوا۔
جسارت میگزین: پہلی تحریر کب اور کس عمر میں لکھی؟
راحت عائشہ: میری پہلی کہانی چھ یا سات سال کی عمر میں شائع ہوئی، جسے دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں تھی۔
جسارت میگزین: بچپن کیسا گزرا؟ اس کے بارے میں بتایئے۔
راحت عائشہ: میں پڑھنے کی شوقین تھی اور کچھ شرارتی بھی تھی۔ میرے بیگ میں ہر وقت اشتیاق احمد کے ناول رکھے ہوتے۔ ساتھی، نونہال… غرض بچوں کی کہانیوں کے لیے ہر طرح کے ناول اور رسالوں سے لگائو تھا۔ اکثر رسالے پیسے جمع کرکے خریدے۔
جسارت میگزین: تعلیمی سلسلہ کہاں سے شروع کیا؟ کہاں تک تعلیم حاصل کی؟
راحت عائشہ: میں نے ابتدا میں حفظ القرآن کیا۔ اس کے بعد ایک اسکول میں آٹھویں جماعت میں داخلہ لیا۔ میٹرک کے بعد سرسید کالج سے انٹر اور پھر جامعہ کراچی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا۔
جسارت میگزین: کم و بیش اب تک کتنی تحریریں شائع ہوچکی ہیں؟
راحت عائشہ: تحریروں کی تعداد تو یاد نہیں، شاید ڈیڑھ، دو سو کہانیاں مختلف موضوعات پر شائع ہوچکی ہیں۔
جسارت میگزین: اب تک کتنی کتابیں لکھ چکی ہیں؟
راحت عائشہ: تین کتابیں اور ناول آچکے ہیں۔
جسارت میگزین: آپ نے ہمیشہ بچوں کے لیے ہی لکھا، اس کی کوئی خاص وجہ؟
راحت عائشہ: شروع سے ہی بچوںکی کتابوں اور ناول کا مطالعہ رہا، پھر ابتدا بھی بچوں کے لیے لکھ کر کی۔ آہستہ آہستہ لکھنے میں پختگی آتی گئی اور بچوں کے لیے لکھنے میں مزا بھی آنے لگا، اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔
جسارت میگزین: کن کن ادیبوں کو پڑھا اور کس سے متاثر ہوئیں؟
راحت عائشہ: میرا خیال ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعہ بہت ضروری ہے، پڑھے بغیر اچھا لکھنا مشکل کام ہے۔ فرداً فرداً تذکرہ کرنا ناممکن ہے۔ اشتیاق احمد، شفیق الرحمن کی تحریریں اور قدرت اللہ شہاب کا ’’شہاب نامہ‘‘ بہت پسند ہے۔ ویسے مجھے مزاح پڑھنا اچھا لگتا ہے۔
جسارت میگزین: تدریس سے کتنے عرصے سے وابستہ ہیں؟
راحت عائشہ: میں گزشتہ تین سال سے ایک نجی اسکول میں تدریس سے وابستہ ہوں جہاں میں مختلف جماعتوں کو اردو پڑھاتی ہوں۔
جسارت میگزین: کون سے موضوعات آپ کی تحریروں میں زیر گفتگو رہے؟
راحت عائشہ: میں نے مختلف، الگ الگ کہانیاں لکھیں۔ ہر کہانی کا موضوع ایک نہیں ہوتا اور نہ ہی انداز ایک ہوتا ہے، کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو اچھے الفاظ دوں۔ جاسوسی، سائنسی، مذہبی، فوجی زندگی کی کہانیاں… غرض مختلف موضوعات میری تحریروں میں رہے۔
جسارت میگزین: اب تک کن کن رسائل میں لکھ چکی ہیں؟
راحت عائشہ: میں نے بچپن میں نونہال میں لکھا، اس کے بعد اردو ڈائجسٹ، بچوں کا گلستان، ساتھی، پیغام، بزم منزل، بزمِ قرآن، شوق، تعلیم الاطفال وغیرہ وغیرہ۔ میں نے ملک کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے رسائل میں لکھا۔ بھارت کے کچھ رسائل میں بھی لکھتی ہوں۔
جسارت میگزین: کس کو اپنا Mentor مانتی ہیں، کس نے آپ کی صلاحیتوں کو ابھارا؟
راحت عائشہ: سب سے پہلے تو میرے سرسید کالج کے اساتذہ ہیں جنہوں نے میری صلاحیتوں کو ابھارا۔ وہاں کے اساتذہ میرے لیے ابتدائی اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ادبی دنیا میں لمبی فہرست ہے۔ سرفہرست امجد فرید علوی، ڈاکٹر افتخار کھوکھر، کلیم چغتائی اور فہیم عالم صاحب ہیں۔ ان لوگوں نے قدم بہ قدم میری رہنمائی کی۔
جسارت میگزین: جب سے لکھنا شروع کیا تب سے اب تک تحریروں میں کیا فرق آیا؟
راحت عائشہ: جی بالکل بہت فرق آیا، مجھے لگتا ہے کہ اب میری تحریروں میں میچیورٹی (سنجیدگی) آگئی ہے۔ بہتری لانے کی کوشش میں رہتی ہوں۔
جسارت میگزین: نمائندہ تحریروں کو بہتر بنانے کے گُر بتایئے؟
راحت عائشہ: سب سے پہلے مطالعہ بہت مضبوط ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے لکھتے وقت اس بات کا تعین بہت ضروری ہے کہ آپ کس عمر کے بچوں کے لیے لکھ رہے ہیں، پھر اسی عمر کے بچوںکی دلچسپی کو پیش نظر رکھ کر لکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک تحریر میں نصیحتوں کے انبار نہ لگائیں۔ ایک تحریر میں ایک پیغام کافی ہوتا ہے۔
جسارت میگزین: آج کل بچے کتابوں سے دور ہیں، اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دیں گی؟
راحت عائشہ: واقعی بچے کتابوں سے دور ہوتے جارہے ہیں، کتابوں کی جگہ موبائل نے لے لی ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹ ہر بچے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اب جب ان کے ہاتھوں میں موبائل دے دیا ہے تو والدین اور اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ اس کے ذریعے ہی پڑھنے کے لیے کچھ نہ کچھ دیتے رہیں اور کتابوں کا شوق پیدا کریں۔
جسارت میگزین: کون سے سماجی رویّے ہیں جن سے پریشانی ہوجاتی ہیں؟
راحت عائشہ: عدم برداشت بہت بڑا مسئلہ ہے۔ چونکہ بڑوں میں برداشت نہیں، تو بچے بھی ظاہر ہے ان ہی کے پیچھے چلیں گے۔ دوسرا، ادب کی کمی نظر آتی ہے۔ نہ ہی بچوں کو بڑوں کا ادب ہے اور نہ ہی بڑوں کی نظر میں بچوں کے لیے ادب ہے۔
جسارت میگزین: جو لوگ اس فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں ان کو کیا پیغام دیں گی؟
راحت عائشہ: نئے لکھنے والوں کو یہی پیغام دوں گی کہ ابتدا میں اپنی روزمرہ کی ڈائری لکھیں، پھر چھوٹے چھوٹے مضامین کی طرف آئیں اور دوسری تحریروں سے موازنہ کرکے اس کا تنقیدی جائزہ لیں۔ اصلاح کی ضرورت تو ہر وقت رہتی ہے۔ سب سے اہم مطالعے کی عادت ڈالیں۔
جسارت میگزین: آپ کے وقت کا بہت بہت شکریہ۔

حصہ