مختصر پُراثر

222

ایک شعر

ایک دفعہ مامون (833۔813ء) محل سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک شخص دیوارِ محل پر کوئلے سے کچھ لکھ رہا ہے۔ پاس جاکر دیکھا تو ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ تھا:
’’اے محل! تیرے مکین نہایت بے مروت، بے فیض اور بے رحم ہیں، اللہ کرے کہ تُو برباد ہوجائے اور تیرے طاقچوں میں اُلّو آباد ہوں۔‘‘
مامون نے پوچھا ’’تمہیں اس ہجو پہ کس چیز نے مجبور کیا؟‘‘ کہا ’’اے امیرالمومنین! یہ تسلیم کہ یہ محلات زر و جواہر اور سامانِ تعیش سے لبریز ہیں، لیکن ان میں میرے لیے ایک پیسہ تک نہیں، میں چار روز سے بھوکا ہوں، ان محلات کے مسلسل چکر کاٹ رہا ہوں لیکن مجھے کسی نے ایک روٹی تک نہیں دی۔ اگر یہ محل اجڑ جائیں تو غریبوں کا فائدہ ہوگا، ہم لوگ ان کے بالے ہی بیچ کر پیٹ پال لیںگے۔‘‘
یہ سن کر مامون کانپ اٹھا، اس کا وظیفہ باندھ دیا اور تمام عمال کو ہدایت کی کہ قلمرو میں کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔

ناقابلِ شکست قوت

جن دنوں صلاح الدین ایوبی (1193۔1169ء) صلیبیوں کے خلاف لڑ رہا تھا، ایک چور رات کو ایک صلیبی خیمے میں جا گھسا اور ایک ماںسے اس کا شیر خوار بچہ چھین کر غائب ہوگیا۔ ماں روتی پیٹتی رچرڈ شیردل (1199۔1189ء) کے پاس گئی، اس نے کہا کہ میں بے بس ہوں، تم صلاح الدین کے پاس جائو۔ چنانچہ وہ اسلامی خیموں سے گزر کر صلاح الدین کے ہاں پہنچی۔ صلاح الدین ایوبی نے اسے عزت سے بٹھایا، توجہ سے بات سنی اور پھر تیز رفتار سواروں سے کہا کہ جائو چور کو تلاش کرو۔ وہ سب سوار سب سے پہلے بازار میں گئے، انہیں معلوم ہوا کہ فلاں آدمی نے کسی ناواقف سے ایک بچہ خریدا ہے۔ یہ اس بچے کو لے کر واپس ایوبی کے پاس پہنچے، ماں دیکھتے ہی بچے کی طرف لپکی اور چمٹ گئی۔ ایوبی نے خریدار کو دگنی رقم دے کر وہ بچہ خرید لیا۔ اس خاتون کو گھوڑے پہ سوار کرکے بحفاظت اس کے خیمے میں پہنچا دیا۔
جب یہ کہانی رچرڈ تک پہنچی تو اس نے فوجی سرداروں سے کہا ’’جن لوگوں کے پاس اخلاق کی یہ قوت موجود ہو اُن سے لڑنا خودکشی ہے۔‘‘

حصہ