محمد مرسی۔۔۔ عاشق رسول

152

عرفان اللہ اسماعیل
’’بھائی!!‘‘ اس نے مجھے سوالیہ انداز سے مخاطب کیا۔
’’جی کہوکیا کہنا ہے؟‘‘
’’ بھائی! یہ محمد مرسی کیسے بناجاتا ہے۔‘‘ اُس نے معصومیت سے بھرپور مگر بہت گہرا سوال داغا۔
’’ محمد مرسی…‘‘میں نے سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر کہا ’’عاشق رسول بن کر محمد مرسی بنا جاتا ہے۔‘‘
’’ہیں… عاشقِ رسول…؟‘‘ دوبارہ وہی سوالیہ انداز۔
’’لیکن اس نے تو کسی گستاخِ رسول کو نہیں مارا کہ اتنے بڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق بن گئے۔وہ تو صرف ایک سیاست دان اور ایک اسلامی ملک کے مسلمان صدر تھے۔‘‘
’’ اچھا اچھا… میں بتاتا ہوں۔ تھوڑا سکون سے، آرام سے سنو۔ کیا عاشقِ رسول صرف وہی ہے جو آقا صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کردے؟‘‘
’’ نہیں میرے بھائی! محمد مرسی سچے عاشق رسول تھے اسی لیے اس نے اتنا بڑا درجہ پایا۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے عشق کی وجہ سے وہ آپؐ کی سیرت پر عمل پیرا تھے۔ وہ ہمارے جیسے میلادی عاشقِ رسول نہیں تھے اور نہ ہی ہماری طرح ظاہری طور پر فضول خرچیاں کر کے اور لائٹنگ کرکے اس کا اظہار کرتے تھے بلکہ وہ رسولؐ سے عشق کا مظاہرہ آپؐ کی سیرت پر چل کر، ان کو اپنا آئیڈیل مان کر اور ان کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کر کے کیا کرتے تھے۔
محمد مرسی مصر کے پہلے نو منتخب صدر تھے اور انھوں نے منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اقوام متحدہ کو للکار کر کہا کہ ’’جو میرے آقاؐ کی عزت کرے گا تو میں اس کی عزت کروں گا اور جو میرے آقا کی عزت نہیں کرے گا وہ میرا دشمن ہے۔‘‘ اور محمد مرسی کی یہی تقریر تھی کہ جس کی وجہ سے ان کا تخت الٹا دیا گیا۔‘‘
محمد مرسی اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا قائد ہے۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم ہمارے راہنما ہیں۔ قرآن ہمارا دستور ہے۔ جہاد ہمارا راستہ ہے اور شہادت ہماری آرزو ہے۔ محمد مرسی ایک انقلابی لیڈر تھے۔نڈر بے باک اور دلیر تھے۔‘‘
وہ پوری طرح میری طرف متوجہ ہوکر مجھے سن رہا تھا کہ اچانک وہ بول پڑا ’’بھائی! محمد مرسی چھ سال قیدِ تنہائی میں رہے اور اتنی مصیبتیں کاٹیں لیکن پھر بھی ثابت قدم رہے… یہ کس طرح؟ انہیں اس اندھیرے پنجرے جیسی کوٹھڑی میں خوف نہیں آتا تھا؟‘‘
’’ بالکل نہیں میرے بھائی! انسان جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے رستے پہ چل کر دین اسلام کی سر بلندی کے لیے کام کرتا ہے تو اُس کے سامنے بڑی بڑی اذیتیں، تکالیف ڈھیر ہوجاتی ہیں۔ اس کے حوصلے اور ایمانی قوت کے سامنے تمام مشکلات ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی انسان کو اپنے دین کی خدمت کے لیے چنتا ہے تو اُسے چٹان جتنا مضبوط، ہمالیہ جیسا بلند حوصلہ عطا کرتاہے۔
محمد مرسی جانتے تھے کہ یہ چند دن کا عذاب ہے اور پھر اس کے بعد دائمی جنت ہے۔ یہی امید تھی کہ جس کی وجہ سے وہ باطل کے سامنے زیر نہیں ہوئے اور محمد مرسی کو اتنا بڑا حوصلہ بھی اس لیے ملا تھا کیوں کہ انہیں معلوم تھاکہ میں حق پر ہوں‘ انصاف کا بول بالا کرنے اور حق کی پرچار کرنے کی وجہ سے آج میں اس حالت میں ہوں اور اس حال میں مجھے اگرموت آ بھی جاتی ہے تو یہ میرے لیے فخر کا مقام ہے۔‘‘
’’ بھائی! محمد مرسی شہید ہوئے ناں؟ کیا اخوان المسلمون کے اتنے سارے لوگ جو شہید کردیے گئے ان کا خون ضائع ہوگیا اور کیا ان کا کوئی بدلہ بھی نہیں لیا جائے گا۔‘‘ وہ بہت ہی اچھے انداز میں پوچھ رہا تھا اور اس کے اس انداز سے محمد مرسی بننے کا شوق مکمل طور پر واضح ہورہا تھا۔
’’ہاںبھیا! محمد مرسی حق کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہوگئے کیوں کہ جو حق کے راستے میں مارا جائے وہ شہادت کا رتبہ پاتا ہے۔ تم نے سنا تو ہوگا کہ ’’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔‘‘ میرے پیارے بھائی! اگر کسی قوم کا ایک بھی شخص شہید ہوجاتا ہے تو قوم کے دوسرے لوگوں کو زندگی ملتی ہے اور ان کا بدلہ اس وقت لیا جائے گا کہ جب وہ دوبارہ غالب ہوجائیں گے۔‘‘
’’ بھائی پھر محمد مرسی بننے کے لیے ابھی مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘ وہی معصوم لہجہ،اشتیاق بھرا اندازاور چہرے سے جوش و جذبہ جھلک رہا تھا۔
’’بھیا! تمہیں سب سے پہلے محمد مرسی کی طرح سچا عاشق ِ رسول بننا ہوگا‘ ایسا عاشقِ رسول کہ جو نبیؐ کی سیرت کو اپنایا ہوا ہو۔ اس کے لیے تم ابھی سے سیرت رسول کا مطالعہ کرواور اللہ کے نبیؐ کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرواور جب تم یہ سب کروگے تو تب ہمیں ایک اور محمد مرسی دیکھنے کو ملے گا… ہاں تو پھر کیا خیال ہے؟‘‘
’’ ان شاء اللہ بھائی۔ میں آ پ کو محمد مرسی بن کے دکھائوں گا۔‘‘ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کے مجھ سے عہد کرتا بلندی کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔
میں اس کو جاتا دیکھتا رہااورپھر میں بھی باہر کی طرف جانے لگا کیوں کہ ابھی اور بہت سارے محمد مرسی تیار کرنے تھے۔ جیسے ہی میں جانے لگا تب ہی میرے ذہن میں اچانک ایک مصرع گونجا ’’ہر گھر سے مرسی نکلے گا‘ تم کتنے مرسی ماروگے ؟‘‘

مرسی! کاوش تری کامیاب ہو گئی

عظیم عامر

آج خوشیاں مناؤ کہ اک نیک روح
اپنے رب کے حضور فتحیاب ہو گئی
ظلم اور جبر کی اس سیاہ رات میں
دین حق کی شمع آفتاب ہو گئی
آج غم کی نہیں جشن کی رات ہے
آج سید کی کھیتی سیراب ہو گئی
حق کو آنا ہے باطل کو مٹ جانا ہے
یہ حقیقت بھی اب بے نقاب ہو گئی
اور بھی تیز ہو راہ حق کا سفر
منزلوں کی مہک بے حساب ہو گئی
آج باطل پہ لرزہ ہے انجام کا
ساری امت ہی پابہ رکاب ہو گئی
آج فردوس بھی منتظر ہے تری
مرسی کاوش تری کامیاب ہو گئی

حصہ