قرض

190

سیدہ عنبرین عالم
زینب بیگم نے سُکھ کا سانس لیا۔ ان کی کمیٹی نکل آئی تھی یکمشت تین لاکھ روپے، عین بیٹی کی شادی سے ایک ماہ پہلے۔ یہ تائیدِایزدی نہیں تو اور کیا تھی! ابھی کمیٹی کی 12 قسطیں باقی تھیں، وہ نمرہ کی شادی کے بعد جیسے تیسے ادا ہوتی ہی رہتیں، فی الحال تو کام ہوگیا تھا۔ زینب بیگم کی چار بیٹیاں تھیں جن میں نمرہ سب سے بڑی تھی۔ تین مہینے پہلے 24 سال کی ہوگئی تھی، ماشاء اللہ پڑھائی بھی مکمل ہوگئی تھی، دو سال کا کھانا پکانے کا کورس بھی کرچکی تھی، جہاں بھر کے کھانے پکا لیتی تھی، دو مہینے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی ملازم رہ چکی تھی، وہیں کے ایک ملازم لڑکے کا رشتہ آگیا۔ نمرہ کے ابا خود بھی ایک ہوٹل میں شیف تھے، مگر چار بیٹیاں، اولادِ نرینہ کوئی نہیں… انہوں نے بس یہ دیکھا کہ شریف لڑکا ہے اور گزارے لائق کما لیتا ہے، فوراً ہاں کردی۔ شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ نمرہ کے ابا اسحاق صاحب کی آمدن محدود تھی، جو کمایا، ساری عمر جمع کرتے رہے کہ اپنا گھر ہوجائے۔ گھر تو خرید لیا، مگر چار بیٹیوں کا جہیز جمع کرنا بھی ایک سر درد تھا، بہرحال زینب بیگم کی کمیٹی نکلنے سے مشکل آسان ہوگئی تھی۔
زینب بیگم کی ایک ہی بہن تھیں، اُن سے تین سال چھوٹی، جو ایک مفلوک الحال آبادی میں رہائش پذیر تھیں۔ اسماء نام تھا ان کا۔ اسماء کے شوہر ندیم صاحب شادی کے وقت تو اچھا خاصا کماتے تھے، پھر مختلف عوامل کی وجہ سے حالات خراب ہوتے گئے، اب یہ حال تھا کہ کبھی کام چل پڑتا تو آمدنی، ورنہ فاقے اور قرضے۔ تھے بھی بدمزاج، اس لیے خاندان والے کم ہی اسماء کے گھر جاتے۔ ماشاء اللہ اسماء کے چھ بیٹے تھے، سب سے بڑا انٹر میں تھا اور کالج کے بعد چاٹ کی ریڑھی بھی لگاتا تھا۔ زینب نے سوچا خوشی کا موقع ہے، کیوں ناں اپنی اکلوتی بہن کو بھی شامل کرلوں، تیاریوں میں ہاتھ بھی بٹ جائے گا۔ ان کے گھر پہنچیں تو حیران رہ گئیں۔ بل نہ دینے کی وجہ سے بجلی اور گیس کٹ چکی تھی، بچے پھٹے پرانے میلے کپڑوں میں گھوم رہے تھے، خود اسماء کے دوپٹے میں بہت بڑا چھید تھا۔ ’’اسماء! کیا حالت بنا رکھی ہے! ایسی بھی کیا تنگی آگئی؟‘‘ زینب بیگم نے گلوگیر آواز میں پوچھا۔
اسماء نے ٹھنڈی آہ بھری ’’صبح سے اٹھ کر آلو چھولے اُبالتے ہیں، چٹنیاں بناتے ہیں، ہرا مسالہ، پیاز وغیرہ کاٹتے ہیں، دو بجے میرا بڑا بیٹا جاوید آجاتا ہے کالج سے، پھر ندیم اور جاوید رات تک ریڑھی پر چاٹ بیچتے ہیں، صبح سے ندیم میرے ساتھ کام کراتے ہیں اور رات تک جاوید کے ساتھ کام کرتے ہیں، پھر بھی جو کماتے ہیں اس میں سے پولیس والوں اور کے ایم سی والوں کا حصہ نکالو، سیاسی جماعتوں کو بھتہ دو، گھر کا کرایہ… جاوید اور اس سے چھوٹے والے احمد کو پڑھا رہی ہوں، ان دونوں کی پڑھائی کا خرچا… پانی نہیں آتا ٹینکر ڈلوائو، راشن اور دس خرچے… مہنگائی بھی تو بڑھتی جارہی ہے، احمد آلو کے چپس بنا کر بیچتا ہے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ مل کر۔ کوشش تو کرتے ہیں، حالت بہتر نہیں ہوتی‘‘۔ وہ آبدیدہ سی ہوگئیں۔
’’اگر کچھ پیسے مل جائیں تو کیا کچھ بہتری ہوسکتی ہے؟ ندیم بھائی سے پوچھ کر بتائو‘‘۔ زینب بیگم نے پیشکش کی۔
’’ہاں وہ کہہ تو رہے تھے کہ ایک دکان خالی ہوئی ہے صدر میں، تین لاکھ پیشگی دینا ہے، بیس ہزار ماہانہ کرایہ ہے۔ دکان ہوگئی تو پولیس اور کے ایم سی کو رشوت دینے سے جان چھوٹ جائے گی، پھر دکان ہو تو آٹھ دس کرسیاں آس پاس ڈال دیں گے، گاہک عزت سے بیٹھ کر کھائیں تو چاٹ کی قیمت بھی بڑھا سکتے ہیں‘‘۔ اسماء نے بتایا۔
زینب بیگم پہلے تو کچھ دیر بیٹھ کر سوچتی رہیں، پھر جو نظر بہن کے چھید والے آنچل پر گئی تو گویا دل پر خنجر چل گیا، آئو دیکھا نہ تائو، رکشا کرکے گئیں، فٹافٹ تین لاکھ روپے لاکر بہن کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
’’اسماء! یہ قرض ہے، اپنی بچی کی زندگی دائو پر لگا کر تمہیں دے رہی ہوں، جتنی جلدی ہوسکے واپس کردینا‘‘۔ انہوں نے کہا۔
اسماء کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ’’ہاں آپا! قسم اللہ پاک کی، میں یہ رقم واپس کروں گی‘‘۔ انہوں نے کہا۔
شام کو اسحاق صاحب آئے۔ ’’بیگم! تعلقات کی بنا پر کیٹرنگ کا تو سستے میں انتظام ہوگیا ہے، مایوں تو گھر میں بیس، تیس عورتیں بلا کر کرلینا، میلاد کرا لینا، شادی گلی میں شامیانہ لگا کر کرلیں گے، مایوں کا کھانا تم خود بچیوں کو ساتھ لگاکر گھر میں بنا لینا، میرے بڑے بھائی نے کہا ہے کہ فرنیچر وہ دیں گے، دوست احباب نے شادی کا سنا تو کچھ مدد کردی، کراکری پتیلے وغیرہ اُس رقم سے لے آئو، اب رہ گئے کپڑے اور زیور، وہ جو تمہاری کمیٹی کھلی ہے اس سے تم یہ سب لے آنا، بس اللہ نے عزت رکھ لی۔ ویسے لالچی نہیں ہے میرا داماد‘‘۔ وہ مسکرا کر اطمینان سے بولے۔
اِدھر زینب بیگم کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں، اگر شوہر کو بتاتی ہیں تو کہیں گے کہ اتنے بدتمیز شخص کو تین لاکھ روپے دے آئیں جو کبھی سلام نہیں کرتا، مریں جئیں، خبر نہیں لیتا… اور نہ بتائیں تو رقم کہاں سے لائیں! آخر نمرہ کو کہا کہ تم گھر میں ہی شادی والے دن دلہن بن جانا۔ نمرہ نے لاکھ احتجاج کیا مگر ڈانٹ ڈپٹ کر چپ کرا دیا، جو رقم بچی اس سے نقلی زیور، سونے والے پانی کے لے آئیں۔ اب رہ گیا کپڑوں کا مسئلہ، تو جس گھر شادی کا کارڈ دینے جاتیں، قریبی رشتے داروں سے التجا کرتیں کہ سلامی نہ دینا، جوڑا دے دو، یا جو دینا ہے شادی سے پہلے دے دو۔ یوں 18 جوڑے اور چھوٹا موٹا الیکٹرانکس کا سامان بھی جمع ہوگیا۔ اس ساری کارروائی سے اسحاق صاحب اور بچیاں بے خبر ہی رہے۔ اللہ کا کرم، خیر و عافیت سے شادی ہوگئی۔
…٭…
زینب بیگم نے دل سے اللہ کی رضا کی خاطر قرض دیا، لہٰذا ان پیسوں میں ایسی برکت پڑی کہ ندیم صاحب نے دو سال میں ہی خوب کاروبار جما لیا، برابر والی دکان بھی لے لی، شام کے بعد 60 سے 70 کرسیاں لگا لیتے۔ چاٹ تو زمانے بھر میں مشہور ہو ہی گئی تھی، دور دور سے لوگ کھانے آتے، ساتھ میں بن کباب، کچوری، گول گپے، سموسے، کولڈ ڈرنک اور چائے وغیرہ بھی رکھ لی۔ بیٹوں نے بھی پڑھائی چھوڑ چھاڑ کام کو ہی زندگی بنا لیا۔ چھ بیٹوں کے ہاتھ لگے تو کسی ملازم کی بھی ضرورت نہ رہی، یعنی نرا منافع ہی منافع۔ زینب بیگم بدلے ہوئے حالات دیکھ رہی تھیں۔ گھر میں ایک کمرہ سہی، مگر فریج، ائر کنڈیشنر سے لے کر قالین تک آگیا۔ اب زینب بیگم انتظار میں کہ کب قرض واپس ہوگا۔ مروت میں کہتی نہ تھیں۔ اب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ نمرہ کے زیور پر سے سونے کا پانی اترنے اور نیچے سے اسٹیل ظاہر ہونے لگا، اس کی تیز طرار ساس سارا معاملہ بھانپ گئیں، نمرہ کا شوہر تو شریف آدمی تھا، سوچا کہ ساس سسر کی مجبوری رہی ہوگی، اللہ دے گا تو اپنی بیوی کو میں سونے میں لاد دوں گا… مگر نمرہ کی ساس نے تو نمرہ کا خون ہی چوس ڈالا۔ دن رات طعنے اور بے عزتی۔ اس کے والدین کو دن رات اس کے سامنے گالیاں دیتیں۔ تنگ آکر نمرہ نے ماں کو ساری صورت حال بتائی اور کہا: آپ کو سنار نے دھوکا دے دیا۔ اب زینب بیگم نے خود ہی بیٹی کو دھوکا دیا تھا، کیا کہتیں! اوپر سے نمرہ سے چھوٹی والی سعدیہ کی شادی سر پر آگئی تھی۔ وہی ہاتھ کی تنگی۔ پچھلی کمیٹی کی قسطیں بڑے جان جوکھم سے بھری تھیں، نئی کمیٹی ڈالی ہی نہیں۔ آخر سب لاج مروت کنارے رکھ کر پہنچیں اسماء کے گھر، کہ قرض کی واپسی کا مطالبہ کریں۔
وہاں گئیں تو سامان ٹرکوں میں بھر کر روانہ ہورہا تھا۔ قصہ پوچھا تو معلوم ہوا اسماء نے نیا گھر گلشن اقبال میں خرید لیا ہے۔ ’’آپ کے گھر سے بھی بڑا ہے میرا نیا گھر، ماشاء اللہ چار کمرے نیچے کی منزل پر، چار کمرے اوپر کی منزل پر، آپ کا گھر تو کچھ نہیں ہے میرے گھر کے آگے‘‘۔ اسماء نے اترا کر بتایا۔ انتہائی قیمتی کپڑے، منہ پر خوراکوں اور بیوٹی پارلر کی رونق، گلے میں سونے کی زنجیر، تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔
زینب بیگم کی آنکھوں میں بہن کی بے رخی دیکھ کر آنسو آگئے، کڑے دل سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا، اپنی مجبوری بتائی۔ اسماء نے انہیں ایسے دیکھا جیسے زینب بیگم قرض کی اپنی رقم نہیں بلکہ بھیک مانگ رہی ہوں۔
’’آپا! تمہیں تو لالچ نے اندھا کردیا، دیکھ بھی رہی ہو ساری رقم نیا گھر خریدنے میں لگ گئی، بجائے کچھ مدد کرنے کے الٹا ہاتھ پھیلانے آگئیں! کبھی ہوں گے پیسے تو دے دیں گے، میرے نئے گھر ضرور آنا، ہم غریب رشتے داروں سے منہ پھیرنے والوں میں سے نہیں ہیں، اپنی بیٹیوں کو بھی لانا‘‘۔ اسماء نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
زینب بیگم کو غصہ آگیا۔ ’’تم تو بیاہ کر بھی ایک کمرے کے گھر میں گئی تھیں، دستر خوان بچھایا تو ڈائننگ روم، بستر بچھایا تو بیڈ روم، کوئی مہمان کی اطلاع ہو تو چاندیاں بچھا کر ڈرائنگ روم۔ کچھ غلط بھی نہیں ہے، سنت بھی یہی ہے۔ نبی کریمؐ کی ہر بیوی کا ایک ہی کمرہ ہوتا تھا، چٹائی بچھی ہوتی تھی، سارے عرب کی قسمتوں کے فیصلے اسی چٹائی پر ہوتے تھے۔ یہ ہر کام کے لیے الگ کمرے کا رواج تو شیطانی ہے۔ کتنی زرخیز زمینیں یہ ہائوسنگ سوسائٹیوں نے نگل لیں، میری مانو تو اتنا بڑا گھر نہ لو، تم عادی نہیں ہو، اپنی اوقات میں رہو، تمہاری شکل پہ جچتا بھی نہیں ہے اتنا بڑا گھر، نہ تم میں اتنا ظرف ہے‘‘۔ انہوں نے کھری کھری سنا دی۔
اسماء کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی ’’اپنے اپنے اعمال کی بات ہے آپا، میرے رب نے مجھے چھ بیٹے دیے میری نیکیاں دیکھ کر، اب تمہارا کوئی بیٹا ہوتا تو تمہیں پتا لگتا کہ بیٹے والوں کا ایک کمرے میں گزارا نہیں ہوتا، سارے بیٹوں کو بیویوں سمیت ایک کمرے میں تو نہیں رکھ سکتی، ہاں یہ ہے کہ تمہارا فائدہ ہے، ساری بیٹیاں شادی ہوکر چلی جائیں گی پورا گھر خالی ہوجائے گا۔ تم لوگ ایسا کرنا اولڈ ہوم میں چلے جانا، ورنہ اکیلے سسک سسک کر مر جائو گے، کوئی پانی پلانے والا بھی نہ ہوگا‘‘۔ اس نے کہا اور تن پھن کرتی جاکر بیٹوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی… پھر یہ جا وہ جا۔
…٭…
اب ہوا یہ کہ سعدیہ سے چھوٹی والی عائشہ کا بھی بہت اچھا رشتہ آگیا۔ اگر دیر کرتے ہیں تو رشتہ ہاتھ سے نکلتا ہے، آخر سوچ بچار کے بعد یہی حل نکلا کہ گھر بیچ دیا جائے۔ بڑے ارمانوں سے گھر بنایا تھا، جس دن گھر بکا اسحاق صاحب کی اسی دن کمر ٹوٹ گئی، اچانک بوڑھے نظر آنے لگے۔ ایک تو چہیتی بیٹیوں کے جانے سے دل ویران ہوگیا، اوپر سے گھر بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ دو بوڑھے میاں بیوی اور ایک بچی رہ گئی تھی، ایک پسماندہ سے علاقے میں دو کمرے کے کرائے کے گھر میں منتقل ہوگئے۔ سعدیہ اور عائشہ کے ساتھ زینب بیگم نے چپکے سے نمرہ کو بھی نیا زیور بنا کر دیا، پھرنمرہ کی ساس کے منہ کو تالا لگا، ورنہ تونمرہ کا جینا حرام کرکے رکھا ہوا تھا۔ نمرہ کے شوہر نے بھی زینب بیگم کو خاموشی سے کچھ رقم دی کہ زیور بنا لیں۔ بس اللہ اللہ کرکے دونوں بیٹیاں عزت سے اپنے اپنے گھر کو رخصت ہوئیں۔ زینب بیگم نے تو اسماء کو شادی پر بھی نہ بلایا، بہانہ کیا کہ اس کا شوہر بدتمیز ہے، مگر اسماء دنیا دکھاوے کو آئیں، سعدیہ اور عائشہ کو ایک ایک مائیکرو ویو اوون اور دو دو جوڑے دے کر گئیں، قرض کی واپسی کا کچھ تذکرہ اب بھی نہ کیا۔
اسحاق صاحب خاصے بیمار رہنے لگے تھے، کام کاج کے بھی لائق نہیں رہے تھے۔ آخر نمرہ کے شوہر کے توسط سے اسحاق صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی حمنہ کو پانچ ستارہ ہوٹل میں نوکری مل گئی اور زندگی کا پہیہ پھر سے چلنے لگا۔ اسحاق صاحب کو ایک اور غم لگ گیا کہ بیٹی کی کمائی کھا رہا ہوں۔ بیٹی بھی ایسی جاں نثار کہ کہتی تھی ساری عمر شادی نہ کروں گی، ماں باپ کی خدمت کروں گی، بیٹا بن کر دکھائوں گی۔
اسماء کے ہاں خوش حالی تو آگئی تھی، دو بیٹوں کی شادیاں بھی کردیں۔ بہو کہاں بیٹی کی طرح ہوتی ہے! دونوں بہوئیں بات بھی نہ کرتیں۔ جو اسماء بیگم سگی بہن کا احسان نہ مانیں، طعنے دیے، اُن کا بہوئوں سے کیا سلوک ہوگا! ظاہر ہے بہوئیں فاصلہ رکھتی تھیں۔ بس ٹائم پر کھانا اسماء بیگم کے کمرے میں پہنچا دیتیں، صفائی کردیتیں، کپڑے دھلے ہوئے تیار مل جاتے۔ مگر اسماء بیگم بات کرنے کو ترستی تھیں۔ اب بیٹے کہاں ہاتھ لگتے!
شوہر سدا کے بدمزاج، کئی کئی دن بغیر ایک لفظ بولے گزر جاتے۔ اب بہن یاد آتی کہ تعلقات اچھے ہوتے تو کچھ دکھ سُکھ تو کر آتی۔ اب روز شوہر اور بیٹوں سے پیسے مانگتیں کہ تین لاکھ دے دو، زینب آپا کا قرضہ واپس کر آئوں۔ بیٹے تو کمائو پوت ہوکر باپ کے کنٹرول سے بھی نکل گئے تھے، ماں کو کہاں سے تین لاکھ دیتے! ہاں بیوی بچوں کو خوب عیش کراتے۔ کئی دفعہ اسماء بیگم تحفے تحائف لے کر زینب بیگم کے گھر پہنچیں، مگر زینب بیگم کا دل صاف نہ ہوا۔ اسماء نے اپنے بیٹے کا رشتہ بھی حمنہ کے لیے دیا جسے زینب بیگم نے منظور نہ کیا۔
اسماء بیمار بھی رہنے لگی تھیں، بیٹے ڈاکٹر کے پاس بھی نہ لے جاتے۔ اُدھر زینب بیگم کی ایک بیٹی روز آتی۔ کسی دن کوئی بیٹی، کسی دن کوئی بیٹی کھانا پکا کر لے آتی۔ ماں باپ کو ڈاکٹروں کے ہاں لانا، لے جانا۔ داماد بھی اللہ کے کرم سے بیٹے ثابت ہوئے، سودا لا دیتے، یہاں تک کہ اسحاق صاحب کو روز نہلانے کا ذمہ بھی عائشہ کے شوہر نے اٹھا رکھا تھا، کوئی کسر خدمت میں نہ چھوڑی۔ اسماء کو خبر ملتی رہتی تھی، اب اللہ سے شکوہ کرتیں کہ ایک بیٹی تو دیتا، جو دل کا حال سنتی، خدمت کرتی۔ خیر جب اسماء کی حالت زیادہ بگڑی تو ڈاکٹر کو دکھایا، معلوم چلا کہ کینسر ہوگیا ہے۔ بس تڑپ تڑپ کر تین لاکھ روپے مانگتیں کہ بہن کو مرنے سے پہلے دے دوں۔ لیکن بیٹے تو علاج کے خرچے سے ہی بے زار تھے، تین لاکھ کہاں دیتے! ماں کو زور سے جھڑک دیتے۔ آخر ایک دن طبیعت زیادہ بگڑی اور اسماء بیگم راہِ عدم کو چل پڑیں۔
اسماء کا جنازہ تیار رکھا تھا، ایک صاحب نے آواز لگائی کہ کوئی حساب کتاب ہے کسی کا مرحومہ سے تو معاف کردے، وہ تو جان سے گزر گئیں… زینب بیگم کی آنکھوں کے سامنے نمرہ کا چہرہ گھوم گیا، جب اس کی ساس کی پانچ انگلیاں نمرہ کے گال پر پیوست تھیں۔ حالانکہ اسماء وصیت کرکے گئی تھیں کہ میرا سارا زیور میری بہن کو دینا، مگر بہوئوں نے سارا زیور جنازہ اٹھنے سے پہلے ہی آپس میں بانٹ لیا۔ زینب بیگم کافی دیر سوچتی رہیں، پھر دل ہی دل میں کہا ’’میں نے معاف نہیں کیا، میں قیامت کے دن اللہ کے حضور اپنا مقدمہ پیش کروں گی اور انصاف لوں گی‘‘۔ وہ ڈٹ گئیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اسماء کے جنازے کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمودار ہوگئے، ان کے لیے جو قبر کھودی جا رہی تھی وہ کچھ اور گرم ہوگئی۔ جانے اللہ نے کیا سوچا تھا، ان کے لیے تو کوئی مغفرت کی دعا مانگنے والا بھی نہ تھا۔ بہوئیں اور بیٹے خوش تھے کہ دن رات کی چخ چخ سے جان چھوٹی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابیؓ نے پوچھا کہ کیا اللہ تبارک وتعالیٰ شرک کے سوا سارے گناہ معاف کردے گا؟ تو اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ہاں، لیکن اگر کسی کے ذمے کسی کا قرض ہے تو وہ معاف نہ ہوگا جب تک قرض خواہ وہ قرض نہ معاف کردے… لہٰذا روایت پڑی کہ جنازے کو دفنانے سے پہلے قرض دار قرض کا مطالبہ کرتے، یا تو معاف کردیا جاتا، یا جنازے کے لواحقین ادا کردیتے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر لواحقین ادا نہ کریں تو؟ ہم کو مومن کی حیثیت سے قرض کا بار اپنے اوپر نہیں رکھنا چاہیے، اللہ کے سہولت دیتے ہی ادا کردیں، موت زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ اللہ ہمیں ہدایت دے، آمین۔

حصہ