فضائی آلودگی

133

قدسیہ ملک
دنیا بھر میں ہر سال 55 لاکھ افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے وقت سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ایک نئی تحقیق کے مطابق، فضائی آلودگی سے ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں چین اور انڈیا جیسی ترقی پزیر معیشتوں میں ہو رہی ہیں۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق، ہلاکتوں کی بنیادی وجہ توانائی پلانٹس، فیکٹریوں، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور کوئلہ اور لکڑی جلنے سے خارج ہونے والے چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں۔’گلوبل برڈن آف ڈیزیز پراجیکٹ’ میں شامل سائنس دانوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ کچھ ملکوں کو اپنے شہریوں کیلئے فضا میں سانس لینے کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کتنی تیزی اور کہاں تک سفر کرنا ہو گا۔امریکا کے ہیلتھ ایفکٹس انسٹیٹیوٹ کے ڈین گرین بام نے بتایا ‘بیجنگ اور دہلی میں فضائی آلودگی کے حوالے سے ایک خراب دن میں پی ایم 2.5 نامی چھوٹے ذرات 300 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے اوپر چلے جاتے ہیں، جبکہ ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد 25 سے 35 مائیکرو گرام تک ہونی چاہیے’۔فضا میں موجود چھوٹے مائع یا ٹھوس ذرات میں سانس لینے سے امراضِ قلب، فالج، سانس کی تکالیف حتی کہ کینسر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ملکوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے گزشتہ کچھ دہائیوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ترقی پزیر ملکوں میں خراب فضائی معیار سے ہونے والی اموات میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔تحقیق کے مطابق، غذائی قلت، موٹاپا، شراب نوشی اور منشیات سے کہیں زیادہ اموات کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔’گلوبل برڈن آف ڈیزیز پراجیکٹ’ نے ہائی بلڈ پریشر، ڈائیٹری اور تمباکو نوشی کے بعد فضائی آلودگی کو چوتھا بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
دنیا نیوز کے مطابق ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتے ہوئے ٹریفک، صنعتوں سے خارج ہونے والے ایندھن اور کچرے، فصلوں کی باقیات جلانے سے فضائی آلودگی میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث ہر سال 5 برس سے کم عمر 10 لاکھ بچے مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2007 ء سے 2011 ء کے دوران پاکستان میں ہوا میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ڈبلیو ایچ او کی دی گئی گائیڈ لائن سے زیادہ پائی گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی مسائل میں فضائی آلودگی، پانی کی قلت و آلودگی اور نکاسی کے معاملات سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی اموات میں ڈائریا سرفہرست ہے اور ملک میں بچوں کی سالانہ اموات میں ڈائریا سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی شرح 40 فیصد ہے۔ ڈائریا گندے پانی کے استعمال اور ہاتھ نہ دھونے کے باعث پھیلتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتا ہوا ٹریفک فضائی آلودگی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ملک میں سال 1991 ء سے سال 2012 ء تک وہیکلز کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ سے زائد کی سطح پر پہنچ گئی، اس دوران موٹر سائیکلوں کی تعداد میں 450 فیصد، جب کہ گاڑیوں کی تعداد میں بھی 450 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستاں میں یومیہ 55 ہزار ٹن سے زائد کچرا بنتا ہے، جس میں سے زیادہ تر جلا دیا جاتا ہے جو کہ فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک میں فضلے کی باقیات اور کچرا جلانے کے عمل سے آنکھوں، سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جب کہ صنعتی فضلہ بھی بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی ایجنسی کی ایک تحقیق کے مطابق اکثر اوقات گھروں کے اندر آلودگی باہر کے برعکس دو سے پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایئر لیبز میں چیف سائنس آفیسر میتھیو ایس جونسن کہتے ہیں گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کہ باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔
خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔
1۔ ہوا کی کی نکاسی کے راستے
گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں۔اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔
2۔گھر کے اندر پودے رکھیں
اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔ آر سریش کے مطابق بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں۔ اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔
٭منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
٭ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
٭سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت نہیں خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔
آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔اور خدارا درختوں کو کاٹنے سے بچائیں بقول شاعر
گاؤں کے بوڑھے شجر کا اس نے سودا کر دیا
اک ستمگر نے میرا ماحول سونا کردیا
3۔ ماحول دوست طریقے سے بو کا خاتمہ
تعمیراتی سامان میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں جانتے ہیں اور مصنوعی خوشبو سے جب بھی اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مزید کیمیلز کا اخراج ہوتا ہے۔یعنی کہ ہوا کے حساب سے اپنا ردعمل دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر خطرناک کاٹ ٹیل بناتے ہیں۔مثال کے طور پر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والا ایسا سامان یا آلات جو ماحول دوست نہیں ہوتے اور ان کے استعمال سے فارمل ڈی ہائیڈ کیمیکل کا اخراج کر سکتے ہیں جس کا تعلق کینسر جیسے مرض سے ہوتا ہے۔آپ کیا کر سکتے ہیں؟
تو آپ کو کرنا یہ ہے کہ کپڑوں کی دھلائی کے لیے ایسی مصنوعات کا استعمال کریں جن میں خوشبو نہیں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ پریشر سے نکلنے والے سپرے کا استعمال ترک کر دیں جس میں قالین کو صاف کرنے اور ہوا سے بو ختم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اسپرے بھی شامل ہیں۔اگر بات کچن کی جائے تو آر سریش کے خیال میں بوس کو ختم کرنے کے لیے لیموں کے ٹکڑے اور بیکنگ سوڈے کا استعمال کیا جائے۔
4۔گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب
سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
5۔ الرجی سے نجات حاصل کریں
پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پھیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔
ہم عالمی حالات بدلنے سے قاصر ہیں۔ بہتر ہو گا کہ اپنے گھر پر توجہ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن سے یہ ابتر صورتِ حال بہتر ہو سکے۔ اس کے لیے کچھ فوری نوعیت کے اور کچھ طویل المدت منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔جیساکہ ہم نے کچھ تجاویز آپ کے ساتھ شیئر کیں۔امید ہے یہ آسان تراکیب ہم سب کے لئے کارآمد، قابل استعمال اور فضائی آلودگی میں ہمارا کچھ حصہ ڈالنے میں ممد معاون ثابت ہوںگے۔
حوالہ جات:
https://www.bbc.com/urdu/science
http://urdu.dunyanews.tv/
www//:urduvoa.com
www.nawaiwaqt.com.pk
http://urdu.arynews.tv

حصہ