شہپر رسول کی غزل اور اس کی گہری ساخت

140

پروفیسر عتیق اللہ
تقریباً تین برس پہلے غالب اکیڈمی نے شہپر رسول کی ایک نظم کے تجزیے کے لیے مجھے مدعو کیا تھا۔ مجھے تھوڑا تامل بھی ہوا کہ میں انہیں محض غزل کا شاعر سمجھتا ہوں اور اتفاق سے رسائل میں ان کی غزلیں ہی دیکھنے میں آتی رہی ہیں۔ اکا دکا کوئی نظم شائع بھی ہوئی ہوگی تو شاید اسے سرسری طور پر ہی دیکھا یا پڑھا ہوگا۔ بہر حال میرے ذہن میں ان کی غزل کے تاثر کا نقش ہی گہرا تھا۔ میرے علاوہ زیادہ تر حضرات کی نظر میں وہ اب بھی ایک غزل گو شاعر کی حیثیت ہی سے پہچانے جاتے ہیں، لیکن جو نظم مجھے دی گئی تھی اسے بغور پڑھا اور میں نے محسوس کیا کہ شہپر کی گرفت نظم پر بھی اچھی خاصی ہے اور ایک اچھی نظم لکھنا ایک اس شاعر کے لیے بے حد مشکل آزمائش ہے، جس کے معمول میں غزل ہے۔ شہپر کے معمول میں غزل ہے اور غزل جیسی سخت گیر اور صبر آزما صنف میں اپنی آواز بنانا، نظم سے زیادہ مشکل کا م ہے۔ مجھے یاد آتا ہے جب بانی اپنا دوسرا مجموعہ ترتیب دے رہے تھے اس میں انہوں نے چند نظمیں بھی آخر میں رکھی تھیں، میں ان کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھا۔ یہی ہوا ان کی غزلوں کے سامنے نظمیں ہوا ہوگئیں۔ کسی نے ان نظموں کا ذکر بھی نہیں کیا اور ان کی شناخت ایک اہم اور قابلِ ذکر غزل گو کی حیثیت ہی سے قائم ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان )بانی(کی نظمیں غزلوں کے مقابلے میں کوئی ایسا تاثر قائم کرنے کی اہل نہیں تھیں جو دیر پا ثابت ہو۔ غزل کو انہوں نے اور غزل نے انہیں انگیز کرلیا تھا، جو ان کی نظم نہیں کرسکی۔ بانی کی نظموں کی تعداد بھی بے حد کم ہے اور وہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ نظم کا تقاضہ کیا ہے۔ اب بات نکلی ہے تو میں ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی تخلیقی فن پارے میں ہمارے تخیل کا عمل ہی کارفرما نہیں ہوتا، زبان کا بھی اپنا وسیع تر تخیل ہوتا ہے اور یہ تخیل غیر محسوس طور پر ہمارے تخیل کے عمل سے دست و گریباں بھی ہوتا رہتا ہے کبھی زبان کا تخیل ہمارے تخیل پر سبقت لے جاتا ہے اور کبھی ہمارا تخیل، زبان کے تخیل کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر لفظ دوسرے لفظ کی پیش روی کرتا ہے، لیکن غزل ایک ایسی یکتا صنف ہے جس میں نظم کے برعکس قافیہ ہی نہیں ردیف کا لسانی زمزہ بھی شعر کی ساخت میں پس روی کرتا ہے اور ایسے ایسے تجربات کے دہانے ہم پر کھول دیتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں نہیں ہوتے۔ غزل میں ہر شعر دوسرے شعر سے مختلف تجربہ و خیال کا تاثر اسی لیے مہیا کرتا ہے کہ ان کی کلید قافیہ و ردیف کی ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جس کی پس روی کا عمل تجربات و محسوسات کی ایک ایسی دنیا خلق کردیتا ہے جو مانوس ہونے کے باوجود انکشاف کے احساس کو زیادہ برانگیخت کرتی ہے۔ شہپر بھی غزل کے اس گہرے نکتے سے آگاہ ہیں۔ ایک شعر میں انہوں نے غالباً لاشعوری طور پر زبان کے کم و بیش اسی عمل کی طرف ایک ہلکا پھلکاسا اشارہ کیا ہے:

زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے
میں اس کو آپ پکاروں وہ تو سمجھتا ہے

شہپر نے اپنی ایک مختصر نظم میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ شعر کا عمل کس قدر ناقابلِ فہم اور جادو انگیز ہوتا ہے، جس ذہن سے نمو پاتا ہے، اسی کے لیے اجنبی ہوجاتا ہے۔ نظم کا عنوان “پیش خیمہ” ہے:
مجھے کچھ کہنا ہے شاید…..کہیں بھی کچھ نہیں ہوتا۔ )پیش خیمہ)
شہپر کی غزل کا تاثر اگر اپنے عہد کے حاوی رجحان سے مختلف ہونے کا احساس دلاتا ہے تو اس کی کچھ وجوہ بھی ہیں۔ سب سے پہلا تاثر تو یہی ہے کہ وہ کبھی اونچی آواز میں ہم سے کلام نہیں کرتی اور پہلی قرأت پر ہی ہم سے رسم و راہ پیدا کرلیتی ہے۔ دوسری، تیسری قرأت پر اس کے معنی کی اور گرہیں کھلتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ہمیں جتنا شریک بناتی ہے اتنی ہی اجنبی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اجنبیت یا نامانوس کاری ہی فن کی معراج ہے۔ بہت زیادہ اونچی آواز کے معنی وہ ہمیں تاکیداً اپنی طرف متوجہ کرنے کے درپے ہے۔ شہپر اپنے جذبوں اور تجربوں کے اظہار میں کبھی عجلت نہیں دکھاتے اور نہ فوری ردِ عمل کے اظہار کے قائل ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے فوری اور شدید جذبات و تاثرات کو کچھ وقتوں کے لیے موقوف رکھتے اور تادیر سہارتے ہیں۔ بعد ازاں پھر کسی لمحہ تخلیق کے درود کے ساتھ ان کا ظہور ہوتا ہے:

سحر کے تیز اجالے میں ذکرِ شب آیا
رہِ خیال میں کوئی دیا چمکنے لگا
نواحِ چشم میں خوشبو نے رنگ اوڑھ لیے
نظر کی حد پہ کوئی خواب سا چمکنے لگا
نطق و لب، لمس و نظر جیسے چمک اٹھتے ہیں
بات ہوتی ہے جو اک لمحۂ تابندہ کی
ایک طرف صحرائے دنیا، ایک طرف بے دنیا میں
ایک ہدف سے بچ جاتا ہوں، ایک ہدف سے گزرتا ہوں
بہ لفظِ خامشی سارے کھنڈر آپس میں محوِ گفتگو ہیں، اور
سیہ موسم زبانِ سنگ میں کہتا ہے، دیکھو عالم ہو، ہے
سحرِ بیاں سے، لفظِ دعا سے، رنگِ لمس سے پوچھو
حرف و زباں یا چشم و لب یا ماتھا چمکا ہوگا
کیا عجب دن تھے مسرت میں بھی رو لیتے تھے
اب یہ عالم ہے کہ آنسو نہیں آتا کوئی
آہٹ تو کوئی پاس کہاں آئے گی میرے
اب دور سے آوازِ سگاں تک نہیں آتی
فراق و وصل کے معنی بدل کے رکھ دے گا
ترے خیال کا ہونا، مرے خیال کے پاس

اسی طرح کے شعروں کا ایک سلسلہ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاعر کو اپنے تجربۂ ذات کے اظہار سے مطلب ہے۔ ان دنوں بعض شعرا تصنع آمیز کلمہ بندی کی روش پر کاربند ہیں۔ نئے نئے مرکبات اور لسانی زمرے خلق کرتے ہیں، بندشِ الفاظ بھی چست و درست ہوتی ہے لیکن خوبصورت لفظوں کو ایک خاص وضع کے ساتھ مرتب کرنے کا نام شاعری نہیں ہے۔ الفاظ کے پیچھے بھی خلق کی ہوئی ایک دنیا ہوتی ہے، وہ اتنی اوجھل نہیں ہونا چاہئے کہ اس کی کوئی رمق ہی دکھائی نہ دے۔ شاعری لفظوں کے چاک سے جھلک دکھانے کا نام ہے۔ یوں بھی غزل اپنی فطرت میں چاک چاک ہوتی ہے۔ اس میں متبادل وقفے alternative gaps اور محذوفات ایک کے بعد ایک واقع ہوتے رہتے ہیں۔ شہپر کے یہاں بھی غزل محض چاک چاک ہی نہیں ہے وہ اپنی آواز میں کلام کرتی ہے اور نہ پوری آواز میں کھل کر بات کرتی ہے۔ شہپر غزل کی فطرت ہی نہیں شعری زبان کی فطرت کا بھی علم رکھتے ہیں کہ ایک سطح پر پہنچ کر مکمل اظہار اور مکمل ابلاغ محض ایک بھرم ثابت ہوتا ہے۔ شہپر کی غزل میں نامکمل اظہار کے معنی نارسائی کے نہیں ہیں اور نہ یہ کہ انہیں اظہار پر قدرت نہیں ہے بلکہ شعری زبان کا یہ بنیادی تقاضہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے شعر دلیل قائم کرنے کی کوشش سے باز رہے۔ دلیل، شاعر اور قاری کو اس دھوکے میں بھی رکھتی ہے کہ اسباب کی فہم کے بغیر ہم دنیا کی فہم سے نابلد ہوتے ہیں، جب کہ ہم محض سوالوں میں گھری ہوئی مخلوق ہیں اور ان سوالوں کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ شعری زبان کے تقاضے اور جبر کے باعث شہپر پوری آواز میں کھل کر بات کرتے ہیں، نہ دلیل قائم کرنے کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نہ ان کا مقصد مکمل ابلاغ ہوتا ہے اور اسی معنی میں نہ مکمل اظہار۔ ایک جگہ خود وہ کہتے ہیں:

لفظ جیسے عاجز ہوں اپنی بات کہنے سے
بھر گئی کتابِ جاں، حاشیہ نہیں ملتا
دکھ کی داستاں ہے یہ اور اس کا دکھ یہ ہے
ایک لفظ بھی اس میں دکھ بھرا نہیں ملتا

اب ذرا دیکھیں شہپر کس طرح “گنجائش” چھوڑتے ہیں اور زیرلب سوال قائم کرتے ہیںـ:

شور صحرا کا سنا، شور سمندر کا سنا
شور کا نام ہی تھا، شور کہاں شہر میں تھا

ہم سبھی بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کا استعارہ میر سے ہوتا ہوا جدید شاعری تک معنی کے کئی مراحل سے گذر کر آرہا ہے۔ شہر کا لفظ ایک ایسی گھنی بستی کے تصور سے وابستہ ہے جو مختلف النوع رسوم و روایت سے جڑے ہوئے انسانوں کا جنگل ہوتا ہے۔ جسے گرِے نے اپنی الیجی Elegy Written in a Country Churchyard میںپاگل انسانوں کے ہجوم سے تعبیر کیا ہے جو بظاہر بے حد مرتب و منظم معلوم ہوتا ہے لیکن اپنے باطن میں کسی بھی وحدت سے عاری۔ شہر اپنے رقبے کے لحاظ سے بھی چاروں طرف دور دور تک پھیلا ہوا ہوتا ہے اور اس کے پھیلاؤ کا عمل بھی ایک مسلسل اور غیر مختم عمل ہے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اتنے بڑے رقبہ پر پھیلا ہوا شہر شور سے جب عاری ہو تو محض اس کا تصور ہی کتنا ڈراؤنا ہوسکتا ہے۔ شاعر نے “کہاں” کہہ کر ہمارے ذہنوں میں ایک ساتھ کئی طرح کے قیاسات کے لیے زمین تیار کردی۔ دراصل شہر میں سناٹے کی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی بہت بڑی واردات ہونے والی ہو یا کوئی ہولناک واردات رونما ہوچکی ہو۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس قسم کی واردات؟ ممکن ہے یہ کسی سیاسی سازش کا نتیجہ ہو اور جس سے ہمیں آئے دن سابقہ پڑتا ہے۔ ہم صرف قیاس کرسکتے ہیں ، کیوں کہ شعر دلیل سے عاری ہے اور جس کے تحت المتن میں کئی سوالات مضمر ہیں اور جو “ان کہا” ہے وہی ہمارے ذہنوں کو بھی مبنی بر قیاس تصورات پر مہمیز کرتا ہے۔ درج ذیل اشعار کا تحت المتن بھی ہم سے بغور مطالعے کا تقاضہ کرتا ہے:

آتش و قتل نہیں، شور نہیں، چیخ نہیں
صرف اور صرف دھواں، صرف دھواں شہر میں تھا

دھواں، پر تاکید کئی مدلولات signifieds کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پھر آسمان کی طرف اڑتے ہوئے دھواں سے ایک بصری پیکر بھی تشکیل پارہا ہے۔ دھویں کی زیادتی دھانس اور گھٹن بھی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے یہ پیکر بصری بھی ہے اور شامی بھی۔ غالباً دھواں کہہ کر شاعر نے بیک وقت کئی سوالات و قیاسیات کے لیے ہمارے ذہن کو برانگیخت کرنے کی کوشش کی ہے:

یہ کیا ساعت ہے صفحوں سے ہراک تحریر غائب ہے
یہ کس بے نام لمحے میں محبت کا سوال اٹھا
ہر تیر اسی کا ہے، ہر اک زخم اسی کا
ہر زخم پہ انگشت بدنداں بھی وہی ہے
پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے
ہم بھی ہیں وہی، مسئلۂ جاں بھی وہی ہے
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کردیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے، قدم سفر کی طرف
دور تک دھند، دھواں ہے سب کچھ
وہ جو سب کچھ تھا، کہاں ہے سب کچھ
میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
اس نے کہا کیا بات ہے، میں نے کہا کچھ بھی نہیں
یہ کس ہنر سے لکھی، سرگذشتِ جاں اس نے
ورق تو خشک تھا سارا ہی حاشیہ تر تھا
اجالے اس قدر سفاک کیسے ہوگئے ہیں
اندھیروں کو اجالوں سے چھپانا پڑ گیا ہے
ہم بھی خوش ہیں کہ سبھی دیکھ کے خوش ہیں ہم کو
درد وہ ہے جسے خود سے بھی چھپایا ہوا ہے

میں نے اس سے قبل تصنع آمیز کلمہ بندی کی بات کہی تھی۔ ہمارے بہت سے شعرا نے اس روش کو اختیار کیا ہوا ہے۔ خصوصاً پاکستانی غزل میں اس قسم کی تلفیظ )ڈِکشن( بہت نمایاں ہے، عرفان صدیقی کہنہ مشق تھے انہوں نے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ اسے اخذ کیا اور اپنی انفرادیت قائم کی اور اب بعض معاصر شعرا جن میں جوان العمر اور ان میں کچھ عمر رسیدہ بھی ہیں ایک قسم کی ناسخیت کو دوبارہ زندہ کرنے کے درپے ہیں، ناسخ کے یہاں جتنے صاف ستھرے توجہ خیز تکلفات سے عاری اور یاد رکھنے والے اشعار ملتے ہیں ان پر ہم نے غور کرنے کی کم زحمت کی ہے۔اس کے علاوہ ناسخ جیسا فنی رموز اور نظامِ شعر کی باریکیوں کا علم اور دستگاہی رکھنے والے شاعر کا اب محض تصور ہی کرسکتے ہیں، اس طرح کے لسانی پس منظر کا موجودہ ماحول میں احیا بھی تقریباً ناممکن ہے۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ شہپر رسول کی شاعری ہر قسم کے تکلف و تصنع سے پاک اور محض تجربۂ ذات کے ساتھ مشروط ہے۔ وہ شاعری کے اس گہرے نکتے سے آگاہ ہیں کہ لسانیاتِ شعری میں استعارہ کا عمل مقدر کی حیثیت رکھتا ہے اور استعارہ زبان کا جوہر ہے جو از خود شعر میںرچ بس کے ظہور میں آتا ہے۔ جہاں محض صناعی کا کمال دکھانا مقصود ہوتا ہے وہاں شاعری بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ شہپر رسول محض زبان کے جوہر سے کام لیتے ہیں جو شعر کو چیزے دیگر بنا دیتا ہے، شہپر کا شعر بظاہر کتنا ہی اپنے مانوس ہونے کا تاثر فراہم کرے اپنے باطن میں وہ کسی حد تک ناموس ہی ہوتا ہے کیوں کہ استعارے کا خود کار عمل اس کے رگ و پے میں سرایت پذیر ہوتا ہے جس کا ر خ حقیقت سے زیادہ پسِ حقیقت میں واقع اس دنیا کی طرف ہوتا ہے جو انوکھی، اجنبی اور اسرار آگیں ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی احساس دلاتی ہے جیسے ہم پر وہ دنیا پہلی بار منکشف ہوئی ہے گویا شعرمیں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی گہری ساخت میں ہوتا ہے۔ شہپر کے یہ اشعار اسی معنی میں آپ سے بغور مطالعے، بغور قرأت کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ان میں وہ اشعار بھی ہیں جن کی اساس چمک اور روشنی کے استعارے پر ہے اور جو شہپر کو بہت مرغوب ہیں۔ دوسرے ماحولیاتی تباہی کی طرف اشارہ کررہے ہیں اور تیسرے اخلاقی قدروں کی پائمالی اور چوتھے ناسٹلجیا سے ناراست سروکار رکھتے ہیں:

سخن کیا جو خموشی نے، سادگی جاگی
چراغ لفظوں کے جل اٹھے روشنی جاگی
کیسی دید تھی چھین لی جس نے بینائی کی دنیا
آگ کے پیچھے کس شعلے کا چہرا چمکا ہوگا
گھر کے باہر سناٹے میں وحشت چمکی ہوگی
گھر کے اندر آوازوں میں صحرا چمکا ہوگا
شعلۂ غم دل میں، آنکھوں میں نمی بنتا گیا
درد کا بے نام جگنو، روشنی بنتا گیا
شجر بھر میں جو اک پتہ ہرا سا دیکھتا ہے وہ
تو اس دنیا کے چہرے کو دوبارہ دیکھتا ہے وہ
دور تک دھند، دھواں ہے سب کچھ
وہ جو سب کچھ تھا کہاں ہے سب کچھ
روایت صاف گوئی کی ہمیں بھی یاد ہے لیکن
نہ چہرہ دیکھتا ہے وہ نہ رشتہ دیکھتا ہے وہ
جو سوچتا ہوں تو اک دھند سے گذرتا ہوں
وہاں پہ کوئی گلی تھی، وہاں کوئی گھر تھا

حصہ