۔”خرچ کرو اللہ کی راہ میں۔۔۔۔”۔

102

قدسیہ ملک
یہ لبرٹی کے مشہور و معروف اختر صاحب کا سچا واقعہ ہے۔ اختر نے بڑے مشکل حالات میں ملازمت کے 25 سال گزارے۔ جگہ جگہ تبادلے ہوتے رہے، ان کو رزق حلال کمانے کی دنیاوی سزائیں دی گئیں، اور پھر کسی دوست نے مشورہ دیا کہ تم اس معاشرے کے پرزے نہیں بن سکتے تو خود کو ان سے علیحدہ کرلو۔ تم پورے معاشرے کو نہیں بدل سکتے تو ریٹائرمنٹ لے کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلو۔
یہ مشورہ معقول لگا تو اختر نے ازخود ریٹائرمنٹ لے لی۔ بعض لوگوں نے انہیں بے وقوف کہا کہ کسٹم کی نوکری چھوڑ دی! یہاں پر ملازم ہونے کے لیے لوگ لاکھوں روپے کی رشوت دیتے ہیں۔ لیکن قدرت نے اختر کو صبرواستقامت کا صلہ دیا۔ انہوں نے اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔
اختر کے اخلاق اور مناسب ریٹ کی بدولت بہت جلد کاروبار ترقی کر گیا۔ وہ اچھرہ سے لبرٹی تک پہنچ گئے، وہ لبرٹی مارکیٹ جہاں پر ہر شے دوگنا نفع میں فروخت ہوتی ہے۔ لیکن اختر نے اپنا اصول نہ بدلا۔ اچھرہ میں رہتے ہوئے بھی وہ غریبوں کو ہر ماہ مفت راشن خود دے کر خاموشی سے لوٹ آتے، اور لبرٹی میں آنے کے بعد بھی یہ طرزعمل جاری رکھا۔ غریب لوگوں کی مددکرنا اختر کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا۔ اختر نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور اس کی شادی ایک مڈل کلاس گھرانے میں کردی۔ وہ آج پُرسکون اور خوش حال زندگی گزار رہی ہے۔
اختر نے اتنی بڑی مارکیٹ میں وسیع کاروبار کا مالک ہونے کے باوجود اچھرہ کے کرایہ کے مکان میں سادہ سی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ اپنا مکان تو بنا لو، مگر اختر کا مؤقف یہ ہے کہ اس عارضی زندگی میں پختہ مکان بنانے کی کیا ضرورت ہے! موت تو ہر وقت پیچھے لگی رہتی ہے۔
قرآن میں ہے کہ ’’اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں، اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو، اور نیکی کرو، بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں‘‘۔ اس کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے مال میں سے صدقات وخیرات نہیں کرتے وہ لوگ دراصل خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مال خرچ کرنے سے بڑھتا اور روک رکھنے یا صرف اپنے اوپر خرچ کرتے رہنے سے گھٹتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے: ’’ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے، پھر بعضے تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ خود اپنے سے بخل کرتا ہے، اور اللہ توبے نیاز ہے (یعنی کسی کا متحاج نہیں) اور تم سب محتاج ہو، اور اگر تم (بخل کرکے اس کے حکم سے) روگردانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوموں کو پیدا فرمادے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔‘‘
کنجوسی اور بخل اللہ کو سخت ناپسند ہیں۔ اللہ نے لوگوں کو جو مال دیا ہے اسی میں سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جتنا ہے، جیسا ہے بس خرچ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے امیر یا صاحبِ حیثیت ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ نے پورے قرآن میں کہیں یہ شرط نہیں لگائی کہ آپ پہلے مال جمع کرلیں پھر خرچ کریں۔ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ جتنا رزق انہیں دیا اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے، پھر وہ اس کے لیے اسے کئی گنا بڑھا دے گا، اور اللہ ہی (تمہارے رزق میں) تنگی اور کشادگی کرتا ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔‘‘
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے اپنے خرچے ہی پورے نہیں ہوتے، ہم کسی کی کیا اور کیسے کفالت کریں! تو اس کا جواب یہ ہے کہ اپنا حلال مال انفاق میں خرچ کرنے سے مزید بڑھتا چلا جاتا ہے ’’اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب (اور امین) بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا اُن کے لیے بہت بڑا اَجر ہے۔‘‘
لیکن صرف اپنی ضروریاتِ زندگی، اپنے کھانے پینے، اپنے لائف اسٹائل کو بہتر بنانے، اپنے دنیاوی جاہ وحشم میں اضافہ کرنے سے ضروریات ایک سرکش گھوڑے کی طرح بے لگام ہوکر انسان کو صرف اپنی ہی زندگی تک محدود کردیتی ہیں۔ یہ کوئی اور نہیں قرآن میں ارشاد ربانی ہے ’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے، یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِعمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے۔ پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔‘‘ (سورہ التکاثر)
جب اللہ کے حضور جواب طلبی ہوگی اُس وقت انسان کہے گا کہ کاش میں دنیا میں واپس بھیج دیا جائوں تاکہ صدقہ کرکے متقین میں شامل ہوجاؤں۔ لیکن اُس وقت سوائے کفِ افسوس مَلنے کے کچھ بھی نہ ہوگا۔ اس لیے اپنے ہاتھ کو سخاوت کے لیے کشادہ کریں، گھریلو عورتیں یہ کام سب سے اچھا کرسکتی ہیں۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’خرچ کرو اور گن کر نہ دو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن کر دے گا، اور ہاتھ نہ روکو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے اپنا ہاتھ روک لے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ ہر انسان کی جواب طلبی اسی وقت سے شروع ہوجائے گی جب اس کا انتقال ہوگا، اور ہم میں سے کوئی اپنی موت کے وقت کو نہیں جانتا۔ کب، کیسے، کس وقت موت کا اژدھا ہمیں آکر دبوچ لے، ہم نہیں جانتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بہت پسند ہے کہ تین راتیں مجھ پر اس حال میں نہ گزریں کہ اس مال میں سے کچھ بھی میرے پاس موجود ہو (یعنی سب کچھ بانٹ دوں) مگر صرف اتنا باقی رکھ لوں جس سے (اپنے ذمے واجب الادا) قرض ادا کرسکوں‘‘ (حدیث متفق علیہ)۔ اسی لیے ہمیں آج سے ان صدقات کا اہتمام کرنا ہے۔
سورۃ الحدید میں ارشادِ ربانی ہے: ’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری ملکیت اللہ ہی کی ہے۔‘‘
لوگوں کی مالی پریشانیوں کو اپنے ذمے لے لیجیے۔ پھر دیکھیے میرا رب آپ کو کیسے نوازتا ہے۔ مال کی محبت انسانی فطرت ہے، انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو میری محنت کی کمائی ہے، میں اسے دوسروں پر کیوں خرچ کروں! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’تُو میری راہ میں مال خرچ کر، میں تجھے مال دوں گا‘‘۔ اور فرمایا کہ ’’اللہ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں، رات دن خرچ کرنے سے بھی خالی نہیں ہوتے‘‘۔ فرمایا کہ ’’کیا تم نہیں دیکھتے جب سے آسمان اور زمین کی پیدائش ہوئی، اُس وقت سے کتنا اُس نے لوگوں کو دیا، لیکن اُس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آئی، اور اُس وقت اُس کا عرش پانی پر تھا اور اُسی کے ہاتھ میں میزان ہے جو پست (یعنی جس کا ایک پلڑا پست) اور (ایک پلڑا) بلند ہوتا ہے‘‘ (متفق علیہ)۔ آپ کی زندگی، آپ کی کمائی، آپ کی قابلیت، آپ کی محنت، آپ کا اپنا رزق سب اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کی فطرت میں بخل اور کنجوسی ودیعت کردی گئی ہے، لیکن اللہ کے وہی بندے دونوں جہانوں میں کامیاب ہیں جنھیں اپنے مالوں کی کمی کا خوف نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا: ’’اے نبیؐ ان سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل)
انفاق کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس سے پہلے انسان میں کچھ خصوصیات پیدا ہوتی ہیں جو سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات میں نظر آتی ہیں، جس میں پہلی صفت متقی ہوتا، دوسری صفت غیب پر ایمان، تیسری نماز قائم کرنا، پھر چوتھی صفت انفاق ہے۔ اگر مومن بندے میں یہ تمام ابتدائی خصوصیات ہوں تبھی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرسکتا ہے۔ ورنہ ہم بھی آئے روز غریبوں کے ساتھ تصویریں بناتے امیروں کو دیکھتے ہیں جو صرف ظاہری ٹیپ ٹاپ اور دکھاوا ہوتا ہے، جس کو خدا نے اپنی کتاب میں چٹیل میدان سے تشبیہ دی ہے۔ جب کہ صدقات، فطرات کو لہلہاتی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اللہ ہم سب کو دکھاوے سے دور رکھے۔ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، اُس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو اور زوردار بارش اس پر برسے، اور وہ اپنا پھل دگنا لائے، اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے، اور اللہ تمہارے ہر کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ (البقرہ)
رشتے دار مستحق اور زیرِ دست ہے تو وہ آپ کے حُسنِ سلوک اور انفاق کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے بعد رشتے داروں کے حقوق رکھے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے افراد بہت انفاق کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں بہت خرچ کرتے ہیں، لیکن اس موقع پر رشتے داروں کا حق سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
حضرت سلمان بن عامرؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مسکین پر صدقہ کرنا ایک اجر ہے، اور رشتے دار کو صدقہ دینا دُہرے اجر کا سبب بنتا ہے، ایک صدقے کا ثواب اور دوسرا صلۂ رحمی کا‘‘ (مسند احمد۔ ترمذی۔ دارمی۔ نسائی۔ ابن ماجہ)۔ اللہ ہم سب کو دُہرے اجر کی توفیق عطا فرمائے۔ لوگوں سے حُسنِ سلوک سے پیش آنا ایک الگ بات ہے، رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرنا دُہرے اجر کا موجب ہے۔
بقول شاعر

بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد
مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد

(فراغ روہوی)
اللہ ہمیں مال کی محبت میں مبتلا ہونے سے بچائے اور اپنے بہترین بندوں میں شامل فرمالے، آمین۔

حصہ