موت کی یاد

108

ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اس دارِفانی میں انسان کی زندگی بہت مختصر اور اس کے مال واسباب سے لطف اندوزی محض ایک مقررہ مدت تک کے لیے ہے۔ اسے ایک نہ ایک دن موت سے دوچار ہونا، یعنی اس دنیا سے رخصت ہوناہے ۔ اللہ رب العزت نے اولین انسان حضرت آدمؑ و حضرت حوا ؑ کو زمین پر اتارتے ہی یہ اٹل حقیقت ان کے سامنے واضح کردی تھی اور گویا ان کے واسطے سے پوری بنی نوع انسان کو اس سے با خبر کر دیا تھا ۔ارشادِ الٰہی ہے : وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُّسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ۝۳۶ ( البقرۃ۲:۳۶) اور تمھارے لیے زمین میں ٹھکانا اور ( یہاں کے) متاع سے نفع اٹھانا ہے ایک خاص مدت تک کے لیے۔ صاحبِ معارف القرآن نے اس آیت کی تشریح میں یہ رقم فرمایا ہے: ’’ یعنی آدم و حوّا علیہما السلام کو یہ بھی ارشاد ہوا کہ تم کو زمین پر کچھ عرصہ ٹھیرنا ہے اور ایک میعاد معین تک کام چلانا ہے،یعنی زمین پر جاکر دوام نہ ملے گا ، کچھ مدت کے بعد یہ گھر چھوڑنا ہوگا‘‘۔۱ اس مسلّمہ حقیقت پر روزمرہ کی واقعاتی شہادتوں کے علاوہ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ موت کا آنا اس قدر یقینی ہے کہ قرآن نے اسے ’ الیقین‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ارشاد ربّانی ہے: وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ۝۹۹ۧ (الحجر۱۵:۹۹) ’’اور امر یقینی( یعنی موت ) کے آنے تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو‘‘۔ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ انسان کو روزانہ نیند کی صورت میں موت یاد دلائی جاتی ہے۔ رات میں سونے کو اس پہلو سے موت سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس حالت میں اللہ رب العزت کے حکم سے انسان کے ہوش و حواس،فہم و ادراک عارضی طور پر معطل کر دیے جاتے ہیں اور ظاہری طور پر اس پر موت طاری کردی جاتی ہے ۔ غالباً اسی وجہ سے بعض علما نے نیند کے لیے ’ وفاتِ صغریٰ‘ اور موت کے لیے ’ وفاتِ کبریٰ‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ اس باب میں سب سے اہم رہنمائی قرآن کریم سے ملتی ہے جس میں نیند اور موت کے تعلق کو اور روز انہ موت کی یادہانی کو اس طور پر بیان کیا گیا ہے : اَللہُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِہَا۝۰ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْہَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝۴۲(الزمر۳۹: ۴۲) اللہ ہی وفات دیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ہے ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں، تو جن کی موت کا فیصلہ کر چکا ہو تا ہے ا ن کو تو روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت ِ مقرر تک کے لیے رہائی دے دیتا ہے۔ بے شک اس کے اندر بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیےجو غور کرتے ہیں۔ صاحبِ تفہیم القرآن اس آیت کے قیمتی نکات کی توضیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ موت او رزیست کس طرح اس کےدستِ قدرت میں ہے۔ کوئی شخص یہ ضمانت نہیں رکھتا کہ رات کو جب وہ سوئے گا تو صبح کو لازماً زندہ ہی اٹھے گا۔کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ اس پر کیا آفت آسکتی ہے اور دوسرا لمحہ اس پر زندگی کا ہوتا ہے یاموت کا۔ہر وقت سوتے میں یا جاگتے میں،گھر بیٹھے یا کہیں چلتے پھرتے آدمی کے جسم کے اندر کوئی اندرونی خرابی یا باہر سے کوئی نامعلوم آفت یکایک وہ شکل اختیار کرسکتی ہے جو اس کے لیے پیامِ موت ثابت ہو۔ ( تفہیم القرآن،ج۴، ص۳۷۵ ) مزید برآں مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے اس آیت کی جو مختصر تشریح فرمائی ہے وہ بھی قابلِ ذکر ہے: اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ جان داروں کی اَرواح ہر حال، ہر وقت اللہ تعالیٰ کے زیرِتصرف ہیں۔وہ جب چاہے ان کو قبض کرسکتا ہے اور واپس لے سکتا ہے اور اس تصرفِ خداوندی کا ایک مظاہرہ تو ہر جان دار روزانہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے کہ نیند کے وقت اس کی روح ایک حیثیت سے قبض ہو جاتی ہے،پھر بیداری کے بعد واپس مل جاتی ہے، اور آخر کار ایک وقت ایسا بھی آئے گاکہ بالکل قبض ہوجائے گی،پھر واپس نہ ملے گی۔ (معارف القرآن،ج ۷،ص۵۶۲) حقیقت یہ کہ موت کسی کی بھی ہو وہ باعث عبرت و سبق آموز ہوتی ہے ۔ اسے یاد کرکے سب سے پہلا سبق جو ملتا ہے اور سب سے پہلی یاد دہانی جو ہوتی ہے وہ یہ ہے : موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے lموت کی یاد میں حکمت: موت کی یاد دنیوی زندگی کے عارضی و فانی ہونے کے علاوہ ایک دو نہیں، بہت سے دیگر حقائق کی یاد دہانی کا ذریعہ بنتی ہے ، بعد کے مراحل یاد دلاتی ہے اور نہایت قیمتی اسباق ساتھ لاتی ہے ۔ قرآن کریم و حدیث دونوں میں یہ حقائق انسان کی عبرت کے لیے بڑی تفصیل سے واضح کیے گئے ہیں ۔ قرآن کی نظر میں موت کو یاد کرنا کس قدر اہم ہے، اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ صرف لفظ ’ موت‘ ۵۰ سے زائد آیات میں مذکور ہے اور اس سے ماخوذ یا اس پر مبنی الفاظ (افعال و اسماء) اس کے علاوہ ہیں جو سیکڑوں بار قرآن میں آئے ہیں۔ یہاں اس نکتے کی طرف توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں موت کے ذکر کے ساتھ ا س کے بعد کے مراحل بھی یاد دلائے گئے ہیں۔ ا ن میں اہم ترین و قابلِ تذکیر یہ ہیں: بعث بعد الموت، اللہ رب العزت کے حضور حاضری، اعمال کے بارے میں باز پرس ، نتیجہ یااعمال نامہ کا ہاتھ میں آنا اور اسی کے مطابق جزا کا نصیب ہونا یا سزا سے دوچار ہونا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ’’ہر شخص کو ایک نہ ایک دن موت کا مزا چکھنا ہے‘‘۔ اس حقیقت کو قرآن مجید کی تین آیات (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵، الانبیاء۲۱:۳۵، العنکبوت۲۹: ۵۷) میں یاد دلایا گیا ہے اور ان تینوں آیات کے بعد جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر مجموعی نظر ڈالنے سے موت کے بعد کے اہم مراحل سامنے آجاتے ہیں۔ یہ آیات ملاحظہ ہو ں ۔ ارشاد ِالٰہی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ ۝۰ۭ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ ۝۰ۭ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ۝۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳ :۱۸۵) ہرشخص کو موت کا مزا چکھنا ہے اور یقین [کرلو کہ] تم سب یومِ قیامت پورا پورا اجر پائو گے، پس جوشخص جہنم کی آگ سے بچالیا گیا اورجنت میں داخل کیا گیا وہ در اصل کامیاب ہوا ۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۭ وَنَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَۃً۝۰ۭ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۝۳۵ (الانبیاء ۲۱:۳۵) ہر شخص کو موت سے دوچار ہونا ہے اور ہم تم کو برے و اچھے حالات سے آزماتے ہیں،آخر کار ہمارے ہی پاس تم سب کو لوٹ کر آنا ہے۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۣ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۝۵۷ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝۰ۭ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۝۵۸ۤۖ (العنکبوت ۲۹:۵۷-۵۸) ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف لوٹائے جائو گے، اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم جنت کی بلند و بالا عمارت میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی، اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔کیا ہی عمدہ اجر ہے [نیک] عمل کرنے والوں کے لیے ۔ اسی ضمن میں یہ آیت بھی پیشِ نظر رہے: قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِيْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۸ۧ (الجمعۃ۶۲:۸) ان سے کہہ دو! جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمھارے پاس آکر رہے گی،پھر تم اس (اللہ) کی طرف پلٹائے جائو گے جو پوشیدہ و ظاہر سب کچھ جاننے والا ہے، پس وہ تمھیں بتائے گا [اس چیز کے بارے میں] جو کچھ [دنیا میں] کرتے رہے ہو ۔ یہ اور اس نوع کی دوسری آیات ( بالخصوص آخری پارہ کی سورتوں میں مذکور آیات) پر غور وفکر سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کو بار بار صرف موت نہیں یاد دلائی گئی ہے، بلکہ یہ نکات بھی ذہن نشیں کرائے گئے ہیں کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ ہر لمحہ امتحان سے گزر رہا ہے، اسے ہرحال میں موت سے دوچار ہونا ہے، اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر کے اللہ رب العزت کے سامنے حاضر کیا جائے گا اور اسی کے مطابق اس کی کامیابی و ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔ پہلی صورت میں اسے سکون و آرام بھرا گھر(جنت) نصیب ہوگا اور دوسری صورت میں اس کا ٹھکانا ( جہنّم) نہایت تکلیف دہ اور بُرا ہوگا۔ اسی ضمن میں یہ ذکر بھی اہمیت سے خالی نہ ہوگا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے مضامین کے اعتبار سے قرآن کے اساسی علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ان میں سے ایک کو ’علم تذکیر بالموت و ما بعد الموت‘ کے نام سے موسوم کیاہے ۔ شاہ ولی اللہ کی یہ وضاحت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ قرآن مجید کے نزول کا مقصد در اصل یہی علومِ پنجگانہ ہے۔ اب یہ واعظین و مذکّرین کا فریضہ ہے کہ وہ ان کی تفصیلات کو محفوظ رکھیں اور متعلقہ احادیث و آثار کے حوالے سے ان سے لوگوں کے لیے استفادہ کو آسان بنائیں۔۲ موت ا ور متعلقہ امور کے بارے میں وارد قرآنی آیات کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مو ت اور بعد کے احوال ( اللہ رب العزت کے سامنے حاضر ی ،حساب و کتاب سے گزرنا اور عقیدہ واعمال کے مطابق جزا یا سزا کے قانونِ الٰہی کا جاری ہونا) کی یاد تازہ کرنے سے اصلاً مقصود یہ ہے کہ یقینی طور پر پیش آنے والے ان واقعات کو یاد کر تے ہوئے لوگوں کے قلوب خشیت و انابت الی اللہ کی کیفیت سے معمور ہوجائیں، انھیں اصلاحِ احوال کی فکر دامن گیر ہوجائے، وہ اللہ ربّ العزّت کی عبادت ا و ر نیک اعمال میں اپنے کو سرگرم رکھیں ، گناہوں کی طرف بڑھتے ہوئے ان کے قدم رک جائیں اور وہ نیکیوں کی طرف تیز قدم بڑھانے والے بن جا ئیں ، یعنی خوش گوار، پُر سکون اور نعمتوں سے معمور مستقر و مسکن کی طلب میں وہ سرگرداں رہیں ۔ یہاں اس جانب توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موت اور بعد کے مراحل کو بار بار (اور بعض مقامات پر نہایت تفصیل سے) ذکر کرکے قرآن در اصل انسانوں کے ذہن میں یہ قیمتی نکتہ ( جس کی طرف عام طور پر انسان کا ذہن بہت کم جاتا ہے ) نقش کرنا چاہتا ہے کہ ’ موت ‘ زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ دنیوی زندگی کا خاتمہ ہے اور اسی کے ساتھ ایک دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے یعنی جسے فنا نہیں ہے ۔ ممتاز اسلامی مفکر و نامور شاعر علامہ اقبال (جن کی شاعری میں جا بجا قرآنی افکار و تعلیمات کی ترجمانی ملتی ہے) کے اس شعر میں اس حقیقت کی ترجمانی نہایت موثر انداز میں ملتی ہے: موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی ہے یہ شامِ زندگی صبحِ دوام زندگی lموت کو کثرت سے یاد کرو: اس میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں کہ موت کی یاد انسان کو غفلت سے بیدار کرتی ہے اور آخرت کی تیاری کی زبردست تحریک پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد انسان کو فخر و مباہات، تکبر و غرور اور عیش و عشرت سے بھری زندگی سے دور رکھتی ہے اور اس کے اندر یہ احساس بیدار کرتی ہے کہ آخر کار اس دارِ فانی سے کوچ کرتے ہوئے سب کچھ ( آل و اولاد، مال و دولت، ساز وسامان، عہدہ و منصب) چھوڑ کر جانا ہے تو ان فانی چیزوں پر فخر و غرور اور اترانے کے کیا معنی؟ دنیا کے لوگوں اور دنیا کے ساز وسامان پر بھروسا کس کام کا ہے؟ موت کی یاد کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محض یاد کرنے کی نہیں،بلکہ کثرت سے یاد کرنے کی ہدایت دی ہے اور اسے دنیا کی لذّات کو ختم کرنے والی، یعنی ان کے غلط اثرات سے انسان کو محفوظ رکھنے والی شے سے تعبیر کیا ہے۔ ارشادِ نبویؐ ہے: اَکْثِرُوْا ذِکْرَھَا ذِمِ اللذَّاتِ یَعْنِی الْمَوْتِ ۳ لذتوں کو ختم کرنے والی، یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔ بلا شبہہ ہر انسان کو موت کا اتنا ہی یقین ہے، جتنا اپنی زندگی کا یقین ہے، یہ اور بات ہے کہ بعض مرتبہ( بلکہ اکثر وبیش تر) حرص و ہوس، نفسانی خواہشات، دنیا کی رنگ رلیوں، معاشی و سیاسی زندگی کی مصروفیات میں رہتے ہوئے وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے یا اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور وہ ذکر الٰہی، عبادتِ الٰہی اور دوسرے نیک اعمال سے بے پروا ، یعنی آخرت کی تیاری سے غافل ہوجاتا ہے اور ایسا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے جیسے اسے موت آنی ہی نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشادِ گرامی ( موت کو کثرت سے یاد کرو) کس قدر معنویت و افادیت سے بھر پور ہے۔ اسی ضمن میں اس حدیث کا نقل کرنا بہت برمحل معلوم ہوتا ہے جس میں حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک انصار ی صحابی حاضرِ خدمت ہوئے اور سلام کرنے کے بعد انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَفْضَلُ قَالَ اَحْسَنُہُمْ خُلُقاً ،قَالَ اَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَکْیَسُ قَالَ اکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْراً وَ اَحَسنُہُمْ لِمَا بَعْدَہٗ اِسْتِعْدَادًا ،اُولٰئِکَ الْاَکْیَاسُ ۴ مومنین میں کون افضل ہے؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا کہ جو اخلاق میں سے سب سے اچھا ہے۔ پھر انھوں نے معلوم کیا کہ اہلِ ایمان میں سب سے عقل مند کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو۔ یہی لوگ دراصل عقل مند ہیں۔ (جاری ہے)۔

حصہ