قلعی گر کا لڑکا

47

آخری قسط

یہ شک اسے اس وقت سے ہوا جب شاہی طبیب نے اس کی بیماری کا حل گھوڑے کے بچے کے دل کا گوشت ہی قرار دیا تھا۔ گھوڑے اور شہزادے کے غائب ہوجانے کے بعد اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کو کچھ بھی نہ ہوا بلکہ وہ اور بھی ہٹی کٹی نظر آنے لگی تھی۔ جب طبیب سے اس نے اپنی بیوی کی صحتیابی کا سبب دریافت کیا تو اس نے بس اتنا ہی کہا کہ رب کی مرضی کے آگے کوئی کیا بول سکتا ہے۔ اس کے جواب سے بادشاہ مطمئن تو نہیں ہو سکا لیکن اس نے کسی شک کا اظہار بھی نہیں کیا۔
ایک دن اسے اپنے بیٹے کی یاد بہت ستانے لگی تو وہ دربار میں جانے کی بجائے اپنے محل میں ہی اِدھر اْدھر ٹہلنے لگا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسے اپنے تہہ خانے کا خیال آیا جہاں اس کی پہلی بیوی اور بیٹے کی بہت ساری یاد گار چیزیں رکھی تھیں۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ آج ان اشیا کو دیکھ دیکھ کر ہی جی بہلایا جائے۔ وہ اپنی بیوی کے کمرے کی جانب چل پڑا۔ تہہ خانے میں جانے کا خفیہ راستہ وہیں سے جاتا تھا۔ جب وہ بیوی کے کمرے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ وہ موجود نہیں تھی۔ سارے محل میں بھی اس نے اپنی بیوی کو نہیں دیکھا تھا۔ تو پھر وہ کہاں ہے۔ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اسے تہہ خانے کا راستہ کھلا نظر آیا۔ وہ آہستہ آہستہ تہہ جانے میں اترتا چلا گیا۔ وہ اتنی آہستگی کے ساتھ اس میں اترا کہ اس کی دوسری بیوی کو آہٹ تک سنائی نہ دے سکی۔ باد شاہ اور بھی زیادہ محتاط اس وقت ہوگیا جب اس نے اپنی بیوی کی کنیز خاص کو ایک کرسی میں جکڑا ہوا پایا۔ اس کی بیوی اس پر جھکی ہوئی تھی اور دونوں کا رخ اس کی جانب نہیں تھا۔ بادشاہ نے بہت حیرانی کے ساتھ یہ منظر دیکھا اور جلدی سے ایک بڑی ساری الماری کی اوٹ میں چلاگیا۔ اسے اپنی بیوی اور کنیز خاص کی آوازیں صاف سنائی دے رہیں تھیں۔
ملکہ عالیہ آخر میرا قصور کیا ہے جو آپ مجھے ہلاک کرنے کے ارادے سے تہہ خانے میں اتری ہیں۔
قتل کا ارادہ؟، یہ سن کر بادشاہ کے کان کھڑے ہو گئے۔ اس نے احتیاط سے جھانکا تو اسے ملکہ کے ہاتھ میں کھلا ہوا خنجر نظر آیا۔ ملکہ نے کہا کہ تیرا قتل کیا جانا اس لئے ضروری ہے کہ تو میری رازدار ہے۔ اگر تو بادشاہ کے ہاتھ لگ گئی تو محل میں ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا اور میری گردن ماری جائے گی۔
کنیز کہنے لگی کہ میں ہی آپ کی وفاداری میں دو تین بار شہزادے کو زہر دینے کیلئے راضی ہوئی۔ میں نے ہی یہ راز کھولا کہ جو گھوڑی کا بچہ شہزادے نے خریدا تھا وہ کوئی پری دزاد تھا اور شہزادے سے انسانوں کی طرح باتیں کیا کرتا تھا۔ میں نے ہی زیر دینے کی ناکامی کے بعد گھوڑے کو ذبح کرنے کی ترکیب آپ کو بتائی تھی اور یہ بھی بتایا تھا کہ شہزادہ اپنے باپ کو کوئی اذیت نہیں پہنچانا چاہتا اور جانتا ہے کہ وہ آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ آپ سے محبت کرنے کی وجہ سے شہزادہ جانتا تھا کہ وہ اس کی کسی بھی بات کا یقین نہیں کریں گے اس لئے جب شہزادے سے کہا جائے گا کہ وہ گھوڑی کے بچے کو اس لئے ذبح کر رہے ہیں تاکہ آپ کی جان بچائی جا سکے تو وہ اس پر راضی ہو جائے گا اس لئے کہ اسے اپنے باپ کی ہر خوشی قبول تھی۔ اب مجھے کیا معلوم کہ وہ پری زاد گھوڑی کا بچہ اسے کہاں لے گیا ہے۔ خدا کیلئے میری جان بخشیں، میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ مرتے مرجاؤں گی لیکن آپ کا کوئی راز نہیں کھولوں گی۔
باد شاہ کنیز اور اپنی دوسری بیوی کے درمیان ہونے والی ایک ایک بات پر حیران ہوتا رہا۔ ساری کہانی اس کے سمجھ میں آنے لگی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا محل ہی سازشوں کا گڑھ ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی دوسری بیوی کنیز کا گلا کاٹتی، وہ بجلی کی سی سرعت کے ساتھ الماری کی اوٹ سے نکلا اور ملکہ کا لہراتا ہوا ہاتھ پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیا جس سے خنجر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگرا۔ ملکہ نے خوف زدہ ہوکر مڑ کر جب یہ دیکھا کہ وہ بادشاہ سلامت ہیں تو وہ مارے دہشت کے بے ہوش ہوگئی۔
بادشاہ کو ساری سازش کا علم ہو چکا تھا۔ ملکہ کو ایک الگ کال کوٹھڑی میں بند کردیا گیا اور کنیز کو تہہ خانے سے نکال کر پہلے تو اس سے سارے راز اگل وائے پھر اس کو بھی ایک الگ کال کوٹھڑی میں بند کردیا۔ دونوں کا جرم کیونکہ ایک جیسا تھا اس لئے مناسب وقت پر ان دونوں کی سزاؤں کا اعلان کیا جانا تھا۔
ادھر بادشاہ کو اب اپنے بیٹے کی تلاش کی فکر ہوئی۔ اس نے ملک کے اندر اور آس پاس کے دیگر ممالک میں اپنے ہرکارے دوڑائے اور اطلاع دینے والوں کیلئے بھاری انعامات کا اعلان کیا۔ کافی عرصے بعد ایک بہت بڑے پڑوسی ملک سے آنے والے کسی تاجر نے بادشاہ سے ملنے کی اجازت طلب کی۔ بادشاہ نے اس سے تنہائی میں ملاقات کی۔ اس نے بتایا کہ جب وہ اپنے ملک میں تھا تو اس نے ایک عجیب و غریب شادی دیکھی۔ شادی بادشاہ کی بیٹیوں کی تھی۔ اس ملک کے رواج کے مطابق سارے شہر کے جوانوں کو شہزادیوں کے قریب سے گرنا ہوتا تھا اور جو شہزادی جس کا ہاتھ تھام لیتی یا اشارہ کردیتی اس کی شادی اسی سے کردی جاتی تھی۔ سب سے چھوٹی شہزادی نے ہمیشہ ایک ایسے نوجوان کو منتخب کیا جو ایک قلعی گر کے گھر ملازم تھا اور اسی کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ قلعی گر شاہی قلعی گر تھا۔ اس لونڈے کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ شاہی محل قلعی کئے ہوئے برتن لے بھی جائے اور جن کو قلعی کرنا ہو وہ لے بھی آئے۔ نو عمر ہونے کی وجہ سے قلعی گر کے لونڈے کو شاہی محل کے اندر تک جانے کی اجازت تھی۔ شاید وہ خوبصورت بھی ہو لیکن اپنا بھیس بدلنے کیلئے ہر وقت اپنے منھ پر کالک مل کر رکھتا تھا۔ شہزادی نے دو مرتبہ اسی کا ہاتھ پکڑا لیکن بادشاہ نے خلاف رواج دونوں مرتبہ اسے شہزادی کی بھول قرار دے کر اگلے دن پھر سے سب کو جمع ہونے کیلئے کہا لیکن تیسری مرتبہ بھی شہزادی نے نہ جانے کیوں اسے قلعی گر کے لونڈے ہی کو پسند کیا۔ شاہی محل میں آنے جانے کی وجہ سے ممکن ہے کہ شہزادی اسے پسند کرنے لگی ہو لیکن ایسا کسی نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ میرا خیال یہی ہے کہ شاید وہ آپ ہی کا بیٹا ہو اور بھیس بدل کر وہاں رہتا ہو اور شہزادی اس کی حقیقت سے آگاہ ہو گئی ہو۔ بادشاہ اور اس کے شاہی خاندان کو اپنی بیٹی کی یہ بات سخت نا پسند ہوئی۔ حقیقت کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن شادی کی اگلی صبح ہی بادشاہ نے دونوں کو ایک ایسے جنگل میں پھینک دیا جو خطرناک درندوں اور موزیوں کی آماجگاہ ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا کسی کو کوئی علم نہیں۔ میں تو آپ کے ملک میں تجارت کی غرض سے آیا ہوا ہوں۔ مجھے اس بات کا کوئی علم ہی نہیں تھا کہ آپ کا شہزادہ کہیں غائب ہے اگر اس بات کا علم ہوتا تو میں اپنے شک کا اظہار آپ سے ضرور کرتا۔
بادشاہ نے ساری کہانی بہت غور سے سنی اور اس تاجر سے کہا کہ میں آپ کو اپنی حفاظت میں لیتا ہوں اور جب تک میں اپنے بیٹے کو نہیں پالونگا یا مجھے یہ معلوم نہیں ہوجائے گا کہ میرا بیٹا زندہ ہے یا وہ مرچکا ہے اس وقت تک آپ میرے خاص مہمان رہیں گے۔ اب آپ کا عام مقامات پر دیکھا جانا شاید آپ کی جان خطرے میں ڈال دے کیونکہ آپ ایک بہت بڑے راز سے واقف ہیں۔ آپ ہمارے بہت بڑے انعام کے مستحق بھی ہیں اسی لئے ہمارے لئے آپ کی حفاظت فرض ہو چکی ہے۔ تاجر کو بھلا اس پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا اس لئے اس نے بادشاہ کا مہمان بن کر رہنا اپنے لئے ایک اعزاز سمجھا اور اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا۔
اگلے ہی دن بادشاہ نے کئی معتبر جاسوسوں کو حقیقت حال جاننے پر مامورکیا کہ وہ یہ معلوم کرکے بتائیں کہ قلعی گر کا لونڈا حقیقت میں کیا تھا اور اب وہ کس حال میں ہے۔ کئی دنوں کے بعد اس کے جاسوسوں نے اطلاع دی کہ قلعی گر کا لونڈا جس ملک میں قلعی گر کے پاس کام کرتا تھا، اس ملک کارہائشی نہیں تھا۔ قلعی گرنے بھی یہی بتایا کہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ وہ آخر کہاں رہتا تھا۔ وہ ایک محنتی اور بہت ذہین لڑکا تھا۔ وہ محل کے اندر آتا جاتا تھا اور بادشاہ کی سب سے چھوٹی بیٹی اسے پسند کرنے لگی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ منھ پر کالک مل کر آنے کی بجائے نہادھوکر اور بہت اچھے لباس میں آیا کرے۔ اسی لئے وہ اسے سونے کی دواشرفیاں بھی دیتی تھی تاکہ اسے اچھا لباس خریدنے میں کوئی دقت نہ ہو لیکن وہ ہمیشہ اسی حلیہ میں ہی محل میں آتا جاتا تھا۔ رواج کے مطابق شہزادی نے اسی تیسری بار بھی پسند کیا تو بادشاہ نے اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی تو کردی لیکن اسے جنگل میں پھینک دیا جس کے بعد کیا ہوا یہ اسے خبر نہیں۔
بادشاہ کو جب یہ ساری معلومات مل گئیں تو اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ حملے کیلئے تیار ہوجائے۔
ادھر جس ملک میں شہزادہ رہ رہا تھا، اس کو اور شہزادی کو بھی ایک بڑے حملے کی اطلاع مل چکی تھی۔ شہزادی کو کیا معلوم تھا کہ حملہ آور فوج خود اس کے شوہر کے ملک کے بادشاہ کی ہے۔ وہ بہت پریشان رہنیلگی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ حملہ آور فوج اور اْس ملک کا بادشاہ بہت ہی طاقتور ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے والد کا تخت و تاج چھن جائے۔ اپنی پریشانی کا اظہار اس نے قلعی گر کے لونڈے (شہزادے) سے کیا۔ شہزادے نے کہا کہ میں ایک اکیلا کیا کر سکتا ہوں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر مرتبہ کوئی سبیل نکالی ہے، اب بھی کوئی نہ کوئی سبیل نکل ہی آئے گی۔ شہزادی نے کہا کہ بادشاہ سے مل کر اپنی شرکت کا یقین تو دلایا ہی جاسکتا ہے۔ یہ سن کر شہزادے نے کہا وہ مایوس نہ ہو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔
شہزادے کو معلوم تھا کہ جو ملک حملہ آور ہونے والا ہے وہ خود اس ملک کے بادشاہ کا بیٹا ہے۔ اس نے سوچا کہ بادشاہ کو اپنے محل میں ہونے والی سازشوں کا یقیناً علم ہوگیا ہوگا۔ اسے کسی نہ کسی طور یہ بھی پتہ چل گیا ہوگا کہ میں یعنی قلعی گر کا لونڈا، کون ہوں اور کہاں ہوں۔ شاید اب یہی وقت ہے جب مجھے اپنی حقیقت بادشاہ کے سامنے کھول دینی چاہیے۔ اسی عالم میں اسے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اسے نیند کی حالت میں ماں نے حکم دیا کہ جب تمہارا باپ لڑنے کیلئے صف بندی کررہا ہو تو تم اس کی قدم بوسی کرنا۔ ساری حقیقت بیان مت کرنا اور یہاں کے بادشاہ کی مہربانیاں ہی گنوانا تاکہ بڑے پیمانے پر خونریزی سے دونوں ممالک بچ جائیں۔ باقی باتیں تم پر چھوڑی جاتیں ہیں تاکہ موقع کی مناسبت سے جو فیصلہ ہو وہ کر سکو۔
اگلی صبح جب شہزادے اور شہزادی کی آنکھ کھلی تو ہرجانب ایک ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ اطلاع ملی کہ فوجیں آمنے سامنے صف بند ہو چکی ہیں۔ اور کسی وقت بھی گھمسان کا رن پڑ سکتا ہے۔ شہزادے نے جلدی سے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور غار کے اندر لیجاکر اسے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کہ میں اپنی حقیقت تم پر کھولوں۔ بس تم مجھ سے کوئی سوال نہیں کرنا اور جو بھی کہتا جاؤں اور کرتا جاؤں اس پر عمل کرتی رہنا۔ یہ کہہ کر اس نے پری زاد گھوڑے کا بال غار کے ایک پتھر پر رگڑا۔ جونہی وہ حاضر ہوا تو اس نے حکم دیا کہ مردانہ اور زنانہ شاہی لباس کا انتظام کیا جائے۔ ایک نہایت مضبوط، طاقتور اور برق رفتار اڑنے والے گھوڑا مہیا کیا جائے اور بال سے باریک اور نہایت تیز دھار والی تلوار بھی دی جائے۔ یہ ساری اشیا پلک جھپکنے سے بھی پہلے حاضر کردی گئیں۔ شہزادی حیرت کی تصویر بنے یہ سب دیکھتی رہی۔ تیاری کے فواً بعد شہزادہ اپنے گھوڑے پر بیٹھا اور اپنے پیچھے شہزادی کو بٹھا کر جونہی گھوڑے کو ایڑ لگائی، گھوڑا چشم زدن میں محاز جنگ کے اوپر پرواز کرنے لگا۔
اِدھر حملہ ہوچکا تھا اور جس ملک کی شہزادی تھی اس ملک کے بادشاہ کی فوجوں کے قدم میدان سے اکھڑ چکے تھے۔ شہزادی نے دیکھا کہ تینوں بہنوں کے بہنوئی میدان چھوڑ اپنے اپنے فوجی دستوں کے ساتھ راہ فرار اختیار کرچکے ہیں اور خود اس کا باپ اور اس کے وفادار فوجی مخالف فوجوں کے نرغے میں گھرے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اچانک دونوں فوجوں اور دونوں بادشاہوں کی نگاہیں آسمان پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھ رہی تھیں۔ اڑن گھوڑے پر سوار کوئی بہت خوبصورت شہزادہ اور ایک شہزادی میدان جنگ کے چکر لگا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر دونوں جانب کی فوجیں لڑنا بھول کر اس منظر کو دیکھنے میں مصروف ہو گئے۔ جس ملک کی شہزادی تھی اس نے تو ایسا منظر پہلے بھی دیکھا تھا لیکن گھوڑے پر صرف شہزادہ ہی دکھائی دیا تھا جس کو وہ پہچان نہیں سکا تھا۔ اسی کی وجہ سے اس کے ملک کو فتح نصیب ہوئی تھی ورنہ تو اس وقت بھی شکست کا ہی سامنا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ آج بھی اللہ نے کوئی مدد اس کیلئے بھیجی گئی ہے۔ اچانک اس نے دیکھا کہ وہ اڑنے والا گھوڑا اعلان کرتا پھر رہا ہے کہ جنگ بند کی جائے ورنہ انجام بہت ہی خطرناک ہوگا۔ اعلان سنتے ہی جنگ روک دی گئی۔ دونوں افواج اپنی اپنی صفوں میں واپس چلی گئیں۔
جونہی جنگ بند ہوئی تو دیکھنے والوں نے ایک اور منظر بھی دیکھا کہ وہ اڑن گھوڑا اڑتے اڑتے حملہ آور بادشاہ کے قریب جاکر اتر گیا۔ گھوڑے پر بیٹھا ہوا شہزادہ جلدی سے اترا اور بادشاہ کے قدموں میں جاگرا۔ اس سے پہلے کہ بادشاہ صورت حال کو سمجھ پاتا اس نے بادشاہ کے باقائدہ قدم چومنے شروع کردیئے۔ بادشاہ نے حیرانگی کے ساتھ قدموں میں گرکر رونے والے شہزادے کو اٹھایا تو اس کے منھ سے بھی اس زور کی چیخ نکلی کہ دونوں لشکر حیران رہ گئے۔ یہ ایک حیرت اور خوشی بھری چیخ تھی۔ بادشاہ اپنے بیٹے کو پہچان چکا تھا۔ دونوں مل کر خوشی کے آنسو بہا رہے تھے، شہزادی ہی کیا دونوں لشکر حیرت کی تصویر بنے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ شہزادے نے اپنی بیوی (شہزادی) کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا اور بتایا کہ یہ میرے والد ہیں اور بادشاہ سے کہا یہ اس کی بیوی اور جس ملک پر آپ نے حملہ کیا ہے اس ملک کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔
دونوں بادشاہ اور اس کی فوجیں قریب آگئیں۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی اور داماد کو پہچان لیا اور پریشان ہو گیا کہ اب کیا ہوگا۔ شہزادے نے آگے بڑھ کر اس کی بھی قدم بوسی کی اور کہا جو کچھ بھی ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ میں مجبور تھا اور اپنی حقیقت آپ کو نہیں بتا سکتا تھا۔
جنگ ختم ہوگئی۔ فوجوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو شہزادے نے شہزادی کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ لیجانا چاہا۔ شہزادے کے باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اس ملک کی شہزادی کو وہ ساتھ نہیں لے جاسکتا۔ شہزادہ بہت پریشان ہوگیا۔ شہزادی کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور شہزادی کا باپ بھی افسردہ ہوگیا۔ ابھی یہ سب حیران و پریشان کھڑے تھے کہ شہزادے کے باپ نے اعلان کیا کہ شادیاں اور رخصتیاں اور وہ بھی بادشاہوں کے بیٹوں اور بیٹیوں کی ایسے نہیں ہوا کرتیں۔ ہم اگلے ہفتے بڑی شان و شوکت کے ساتھ برات لیکر آئیں گے اور پھر شہزادی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ اپنی پیاری سی بیٹی کو بڑے شاہانہ انداز میں دھوم دھام کے ساتھ رخصت کرا کر لے کر جائیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی دونوں جانب کی فوجوں نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو کسی نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
دونوں ملکوں میں ایک ہفتے تک شادی کے شادیانے بجتے رہے۔ رخصتی کے وقت شہزادی کے والد نے کہا کہ کنتا خوشی کا موقع ہے۔ دو سلطنتیں ایک رشتے میں بندھ رہی ہیں۔ ایسے موقع پر میں آپ کے سامنے ایک تجویز رکھ رہا ہوں۔ میں بھی بوڑھا ہوچکا ہوں اور آپ بھی ضعیف ہیں۔ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں اور میری بھی ایک یہی اولاد ہے۔ میرے بعد تو میرا بیٹا سلطنت کا وارث ہوجائے گا لیکن آپ کے بعد ملک ممکن ہے انتشار کا شکار ہوجائے۔ کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ ہم دونوں ہی اپنی زندگی میں دونوں ملکوں کو ضم کرکے اپنے سامنے شہزادے کو دونوں ملکوں کا بادشاہ بنادیں۔ بادشاہ کی تجویز سن کر ایسا لگا کہ اس ملک کا بادشاہ شاید ایسا ہی سوچ رہا تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ اسی وقت انضمام کا اعلان بھی ہوا اور شہزادے کی تاج پوشی بھی عمل میں آگئی۔ زمین و آسمان نے ایک کہانی کا انجام اتنا حسین بنادیا کہ پوری تاریخ انسانی حیران رہ گئی اور یوں دونوں ملک ایک بن کر دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت بن گئے۔

حصہ