سوشل میڈیا کی ابلاغی طاقت سے کون خوف زدہ؟۔

112

گذشتہ عشرہ کوپاکستان میں سماجی میڈیا کے لیے ایک اور اہم عشرہ کہہ سکتے ہیں۔جیسا کہ سماجی میڈیا نے اس ہفتہ ایک بار پھر حکومتی اصلاح کا پرچم بلند کر دکھایا۔ آئی ایم ایف کی غلامانہ شرائط پر تیار کردہ مہنگائی بجٹ سے متاثرہ عوام کو جب سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ ایوان صدر میں طوطوں کے پنجرے کیلیے تقریباً 20لاکھ روپے کا ٹینڈر (اشتہار)جاری کیے جا رہے ہیں تو ’ ہم سب ایک ہیں‘ کے مصداق سب چِلّا اُٹھے ۔ اس میں کیا پٹواری ، کیا یوتھیے ، کیا جیالے ، کیاعوام سب نے اپنے ضمیر کے مطابق تبصرے کرتے ر ہے کیونکہ اتنے بڑے دعوؤں والی حکومت کے اس اقدام کی صفائی میں کوئی ٹھوس دلیل کسی کے پاس نہیں تھی ۔ نتیجتاً وہ ٹینڈر جو پہلے ہی کئی قومی اخبارات میں شائع ہو چکا تھا مگر جس پر کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا ۔ٹوئٹر کی ایک پوسٹ کے نتیجے میں بری طرح ’جاںبحق‘ ہو گیا ۔بے چارے ’مکاؤ طوطوں ‘کے نئے گھر کی تمنائیں ، عوامی غیض و غضب کا شکار ہوگئیں۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہو سکی۔ عزت و ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے نا ۔اس لیے دو دن میں مزید کئی ٹینڈر وں کا پوسٹ مارٹم ہو گیا۔ایوان صدر کے فیول خرچ کی مد میں رقم بھی سماجی میڈیا پر پھیل گئی۔گملوں اور مور کے پنکھ ، اسپیکر اسمبلی کے گھر کی تزئین و آرائش۔آئیے سماجی میڈیا پردلچسپ عوامی رد عمل دیکھتے ہیں ۔’’ایوان صدر میں طوطے کیلئے 20 لاکھ کا پنجرہ اور غریب مزدور کے ماچس کی ڈبیہ پر بھی ٹیکس۔لعنت ہو تیری اس تبدیلی پر‘‘۔ ایک اور ٹوئیٹ میں ’’پی ایم ہاؤس ، ایوان صدر نے دو کروڑ 96لاکھ کا فیول اڑا دیا۔سادگی کی ایسی مثال آپکو دنیا میں نہیں ملے گی ۔نئے پاکستان کی کفایت شعاری۔‘‘حکومت کی جانب سے 50لاکھ گھروں کے وعدے کے تناظر میں ایک ٹوئیٹ یہ بھی مقبول رہی ’’50لاکھ گھروں میں سے پہلا گھر ایوان صدر کے طوطے کو 19 لاکھ میں بنا کر دیا جا رہاہے ۔‘‘’’وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں بیچ کر ایوانِ صدر کے لیے طوطے اور پنجرے خرید لیے۔یہ ہوتا ہے ویژن۔‘‘اسی طرح دبے لفظوں میں حکومتی حامی یوں کہتے نظر آئے ’’پھر کہتے ہو کہ تعریف نہیں کرتے ،کس چیز کی تعریف کریں ، ہماری آپ سے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں ہے بس آپ سبز باغ نہ دکھاتے تو ہمیں بھی کچرا نظر نہ آتا۔‘‘سوشل میڈیا پر جب دیگر ٹینڈر و خبریں پھیلنا شروع ہوئی تو تبصرے بھی اسی طرح ڈھل گئے ۔’’عوام کو بچت کا منجن بیچ کر ہمارے صدر عارف علوی طوطے پالنے کا شوق پورا کررہے ہیں، ایوان صدر کیلئے 30 لاکھ روپے کے پودے اور گملے بھی خریدے جارہے ہیں اور تو اور قومی اسمبلی کو اِن آرڈر نہ کرسکنے والے اسدقیصر 20 لاکھ کے فرنیچر سے اپنا سرکاری ہاؤس ان آرڈر کررہے ہیں ۔صرف طوطوں کے نہیں چوہوں کے پنجروں اور ایوان صدر کی تزئین و آرائش کیلئے دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد کے چار اشتہار دئیے جبکہ سپیکر اسد قیصر کی سرکاری رہائش گاہ پر 20 لاکھ کے فرنیچر کا بھی ٹینڈر ہے۔‘‘بہر حال طوطوں والا ٹینڈر تو منسوخ ہو گیا ، ساتھ ہی یہ دلیل بھی انہی وضاحتوں کے بیچ سامنے آئی کہ اگر بجٹ میں شامل رقم سال کے اختتام تک خرچ نہ کی جائے تو وہ فنڈ اگلی بار ختم کر دیا جاتا ہے ۔
اسی ہفتہ پہلے خبر پھر دو دن بعدویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک شاد ی کی تقریب میں بول نیوز کے اینکرسمیع ابراہیم جو اتفاق سے حکومت وقت کے سخت ناقد بھی ہیں ،اُن کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھ اٹھانے(تھپڑ) کی نوبت آ گئی۔اس ’تھپڑ کی گونج‘ سوشل میڈیا پر خوب گونجتی رہی۔ سب نے ہاتھ صاف کیے بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔فواد چوہدری کا اس واقعہ کے بعد جارحانہ موقف برقرار رہا ،ہر قسم کی معذرت سے انکار کر دیا ۔ معروف گلوکار اور برابری پارٹی کے سربراہ جواد احمد نے ٹوئیٹ میں کہاکہ ’’فواد چوہدری کاصحافی سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارنا اور عمران خان کا SCO Summit میں معززین کے لئے کھڑا نہ ہونے کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔PTI زیادہ تر سیاسی موقع پرستوں کی جماعت ہے جومتانت کی بجائے بدتمیزی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں ناکام ہو جائیں تو وہ فسطائی بن جاتی ہیں۔‘‘سینئر صحافی وسیم عباسی ٹوئیٹ میں دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’تھپڑ تک نوبت نہیں آنا چاہیے تھی مگر فواد چوہدری کارکن صحافیوں کے ہمیشہ ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ سمیع ابراہم کی جمہوریت یا صحافت کے لیے آج تک کوئی جدوجہد نہیں دیکھی۔‘‘ خود فواد چوہدری نے ایک غصہ بھری ٹوئیٹ کاجواب دیتے ہوئے کہا ’’آپ کو غصہ صرف امیراینکرز کیلئے کیوں آتا ہے ؟جب عابد راہی جیسے سیلف میڈ غریب صحافیوں کو سمیع ابراہیم جیسے مافیاز تنخواہیں نہیں دیتے اس وقت آپ کی صحافت خطرے میں کیوں نہیں آتی؟دراصل صحافت کو خطرہ زرد صحافیوں سے ہے اور زرد صحافت کیخلاف مہم چلانا ہو گی۔‘‘
کرکٹ کا جوش ہمیشہ کی طرح پاکستان بلکہ ان دنوں جاری عالمی کپ کی وجہ سے دنیا بھرمیں زوروں پر ہے۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کی بدترین کارکردگی کو شروع میں تو اتفاق سے ورلڈ کپ1992سے بالکل مماثل قرار دیا جاتا رہا ۔پھر اس ہفتہ پاک بھارت ٹاکرا بھی روایتی انجام کو پہنچا۔ شکست کی مستقل ترتیب پر پاکستانی ٹیم نے استقامت دکھائی اور کسی طور بھی کھیل کا مقابلہ جیتنے کی سنجیدگی نہیں دکھاسکے۔ ایسے میں کپتان سرفراز احمد کی جمائی لیتی تصویر نے پھر گذشتہ شب لندن کے مختلف بار میںبیوی بچوں کے ساتھ ’شیشہ گری‘کی ویڈیو نے خوب دھمال مچایا۔#سرفراز کو گھر بھیجوکا ہیش ٹیگ ٹرینڈ لسٹ میں میچ کی رات ہی نازل ہو گیا۔ سب نے غصہ کپتان سے نکالنا شروع کیاپھر بقیہ کھلاڑی، کوچ ، پی سی بی ، حکومت تک گیا۔ ایسی ایسی میمز بنائی گئیں کہ مجھے تو بے چارے کپتان پربہت رحم آیا۔کم از کم تین دنوں تک ٹوئیٹر پر ٹرینڈ جاری رہا ۔اس کے باوجود سرفراز احمد پر عزم بیانات دیتے نظر آئے جس کے بعدپھر لوگوں نے ہمت پکڑی اور سمجھ آیا کہ ہم اپنے ہی ملک کے ساتھ بے کار کے غصہ میں یہ کیا کر ر ہے ہیں #IstandwithSarfaraz اور#Bouncebackchampionsیا #Supportteamgreenکا نعرہ بلند کیا۔معروف اسپورٹس جرنلسٹ کہتے ہیں کہ ’’ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ بالکل ٹھیک بات ہے،آپ کھلاڑیوں پر تنقید کریں، مگر کسی کی جماہی پر اشتہارات بنانا،فیملی پر جملے کسنا یا جسمانی ساخت و لہجہ کا مذاق اڑانا ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس حد تک اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں ۔‘‘اسی طرح انضمام اور سرفراز کی تصویر کے ساتھ ایک طنزیہ میم مقبول رہی جس میں انضمام کہہ رہے ہیں کہ ’’سرفراز کو بغیر منہ کھولے جماہی لینا سکھا رہا ہوں۔‘‘ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہمت بڑھانے کے لیے بھارت کو بھی ریمائنڈ کیاکہ ’’ آپ وکٹ گرا لیں ۔ پر جہاز ہم گرائیں گے ۔‘‘ اسی طرح ’’ ہم وکٹیں نہیں گراتے ، ہم کیچ بھی نہیں پکڑتے ۔ہم صرف ابھی نندن اور کلبھوشن پکڑتے ہیں۔‘‘مونس اِلٰہی کی ٹوئیٹ بھی اسی تناظر میں رہی کہ ’’کرکٹ میں جیت کو جنگ میں جیت سے تشبیہ دے کر بھارت اپنی قوم کو الو بنا رہا ہے۔ اگر بھارتی قوم کو سمجھ نہیں آرہا تو اپنے پائلٹ ابھی نندن سے پوچھ لے۔ کھیل اور جنگ میں جیت کا فرق خود ہی سمجھ آجائے گا۔‘‘ویسے ابھی نندن کا ذکر اس لیے بھی آگیا تھا کہ مانچسٹر گراؤنڈ میں کئی من چلے پاکستانی ، ’’ابھی نندن‘‘ کے مشہور جملے “The Tea was Fantastic” پر مبنی پوسٹرز لے کر آئے جس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ایک جانب اس پر بھارتی شائقین کو مرچیں لگیں تو انہوں نے سرفراز کی جمائی کو اور ہمیشہ کی شکست کو موضوع بنایا۔
اب چلتے ہیں ایک اور سنجیدہ موضوع کی جانب جو کہ دار الحکومت اسلام آباد کا ایک اور افسوس ناک واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔جس سے زباں بندی کا پیغام دیا گیا ۔ اس سے قبل ایسے اور اس سے کم شدت کے واقعات معرو ف صحافی حضرات کے ساتھ ہوتے رہے ہیں ۔سوشل میڈیا دائرے میں یہ پہلا بڑا سانحہ ہے جو سماجی میڈیا کی ابلاغی قوت کی اہمیت کو بھی ظاہر کر رہاہے۔ معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ، یعنی سماجی میڈیا پر اظہار رائے کرنے میں انتہائی فعال ، اسلامک یونیورسٹی کے طالب علم محمد بلال خان کے بہیمانہ قتل کے افسوس ناک ، شرمناک سانحہ پر۔طارق حبیب لاہور سے ایف آئی آر کی کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’محمد بلال خان کے سینے پر خنجر کے 17 وار کئے گئے۔ دل پر ہونے والا وار فوری موت کا سبب بنا۔موت تو شاید چند واروں سے ہی ہوجاتی۔مگر پے در پے 17 وار۔ ناموس رسالت اور ناموس صحابہ سے بھرے دل پہ خنجر کے وار۔ مقصد یہ بھی کہ رسول و صحابہ کی محبت اگر جیتے جی نہیں نکالی جاسکتی تو دل چیر کے نکال دو۔‘‘ اب آپ اندازہ کریں کہ 2013میں اس نے یعنی محض 6سال قبل ہی سوشل میڈیا پر کام کاآغاز کیا ۔ اس دوران کوئی 21ہزار2سو ٹوئیٹس اس نے کیے ، گویا روزانہ اوسطاً وہ کوئی دس یاگیارہ جملے پوسٹ کرتاتھا۔کوئی 19ہزار6سو اس کے چاہنے والے ( فالورز) تھے ۔لیکن وہ بھی کسی کو کتنے بھاری لگے کہ اس نے انسان جان لے لی وہ بھی اتنے بہیمانہ انداز سے ۔یو ٹیوب پر اس کی 215ویڈیوز کے 54ہزار سبسکرائبر ہیں ،اور مجموعی ویڈیوز کے ویوز چالیس لاکھ کے قریب تھے جس میں سب سے مقبول ویڈیو ملعونہ آسیہ کے وکیل سے کی گئی گفتگو کی تھی جس کے کوئی دس لاکھ ویوز ہیں۔اب آپ اندازہ کریں بلال کے مجموعی بیانیے کا ،اس کی اثر پذیری و مقبولیت کا جس سے گھبرا کر ، خوف کھا کر کوئی اس کی جان لینے پر مجبور ہو گیا۔ان کی آخری ویڈیو وہی ناموس صحابہ ؓ کے بل والی تھی ، اس سے پچھلی ویڈیو میں وزیر اعظم عمران خان کی بجٹ کے بعد قوم سے خطاب میں ’صحابہ کرام‘ کی مبینہ توہین آمیز گفتگو پر سخت تنقید کی تھی۔اس بہیمانہ قتل کے بعد کراچی میں بھی ان کے سماجی میڈیا احباب نے ’غائبانہ نماز جنازہ ‘ ادا کر کے بتایا کہ اگر سوشل میڈیا پر دو لوگ مختلف ملکوں اور زبانوں کے باوجود تعلق قائم کر کے شادی کر سکتے ہیںتو کیا ایک دوسرے سے تعلق پر نماز جنازہ ( دعائے مغفرت )نہیں ادا کر سکتے ؟۔ایک دوست لکھتے ہیں کہ’’کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں مارنے والے کون ہوسکتے ہیں اور انہیں موت کے ذریعہ خاموش کرانے سے کیا قاتلوں کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے لیکن ایک نوجوان اور کم عمر لڑکے کو اسی طرح بے دردی سے مارنا ہمارے ملک کے لئے نقصان دہ اور پریشان کن ہے۔‘‘’’تیری زندگی بہت طویل رہے گی ، تو جن جن موضوعات پر لکھتا رہا اس کی قیمت دنیا میں ادا نہیں ہوسکتی ، تو ناموس رسول صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کا سپاہی تھا تو شان صحابہ رضوان اللّٰہ اجمعین کا سپہ سالار تھا ، ملحدین و لادین کے لیے دلیل کی تلوار تیرا ہتھیار تھی۔‘‘ٹوئٹر پر بلال کی شہادت والے دن صبح7بجے کی گئی پوسٹ بھی خاصی بے باک تھی ’’پاکستان کے نامور حاضر سروس سیاستدان جنرل فیض حمید نئے ڈی جی آئی ایس آئی مقرر۔موصوف کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحتیوں سے نوازا ہے، دل اْن کا فوجی، دماغ سیاسی ہے، بیک وقت سیکیولرز اور مذہب پسندوں کو “اْٹھانا” اور “بٹھانا” جانتے ہیں، تقریباً امیرالمؤمنین بننے کی صلاحیت ہے۔‘‘
اسی طرح مصر میں اخوان المسلمون کے ایک اورعظیم رہنما ، منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حالت اسیری میں موت کا واقعہ بھی دنیا بھر میں موضوع بنا۔اخوان المسلمون نے اسے قتل قرار دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ترکی نے ایک بار پھر بیانات سے آگے بڑھ کر اقدام کیے۔اخوان المسلمون پر آزمائشوں کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے ۔6سالہ اسیری میں بدترین تشدد ،آمریت و ظلم کے آگے استقامت کی طرح کھڑے رہنے پراعلیٰ تعلیم یافتہ اور جمہوری منتخب صدرکو سماجی میڈیا پر بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا ۔اس سلسلے میں سید شاہد ہاشمی کی ایک ٹوئیٹ پیش ہے ’’چارمسلم ملک ایسے ہیں کہ اگر وہ دین و ملت کی بنیادوں پریک جہت و ہم آہنگ ہوجائیںتومسلم دنیا،ایک تاریخ ساز و جہاں ساز موڑ مْڑ جائیگی اور بساطِ عالَم پر، امت کی بے وزنی و بے توقیری کاسلسلہ،تَھم جائیگا:پاکستان۔ترکی۔مصر۔سعودی عرب!چند سال قبل۔۔تاریخِ عالم کا وہ موڑ آگیاتھا۔‘‘

حصہ