سعید روحیں

158

مصر میں آج کل ہو رہا ہے اس میں نیا کیا ہے؟
انبیاء کی سر زمین… عزیمت کے مینار اور عالم فانی میں شہا دتوں کے ہر ایک زاویے سے منفرد و یکتا شاہکار… سب کچھ مصر کی سرزمین میں دیکھا جاسکتا ہے۔حق و باطل کی ازل تا ابد جاری رہنے والی کشمکش میں اس سرزمین نے جو روشن مثالیں قائم کیں انہیں اس دنیا کو کم ہی دیکھنا نصیب ہوا۔
اس سرزمین مصر کا ایک منظر وہ تھا جب نرینہ اولادیں تہہ تیغ ہو رہی تھیں‘ حمل گرائے جا رہے تھے ، مگر مشیت ایزدی کچھ اور کر رہی تھی۔ مصر کی سرزمین پر ایک ماں بستی والوں سے چھپ چھپا کر اپنے نوزائیدہ لخت جگر کو اوڑھنی میں لپیٹ کر دریا برد کرنے جارہی تھی، آسمان رنجیدہ‘ زمین کبیدہ خاطر اس منظر کو دیکھ رہے تھے جب ممتا اپنے جگر گوشے کو پانی کی لہروں پر محض اوپر والی ہمیشہ ہمیش قائم و باقی رہ جانے والی ذات پر بھروسہ کرکے چھوڑ چکی تھی۔
جلد منظر بدل بھی جاتا ہے وہ نوزائیدہ بچہ فرعون کے گھر میں پرورش پاتا ہوا بڑا ہو گیا۔ وقت کے انگڑائی لینے میں دیر کتنی لگتی ہے ؟ وقت بدلا ، موسیٰ باغی ہوگیا اور اپنی قوم سے جا ملا پھر وہ لمحہ بھی آیا جب موسیٰ اپنی قوم میں سے کچھ کو ساتھ لے کر دریائے نیل کے کنارے جا پہنچا۔ وقت کا فرعون طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھی کی مانند موسیٰ کو مار ڈالنے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ ان کا پیچھا کرتا ہوا ان کے سروں پر جا کھڑا ہوا۔ ایک جانب دریائے نیل بھپرا ہوا ، موسیٰ سخت پریشان کہ فرعون سے کیسے بچا جائے۔ تب ہی خدا نے اپنا معجزہ دکھایا اور دریائے نیل کے پانی کو دیوار کی صورت دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ موسیٰ اور اس کے ساتھی بچ نکلے لیکن ظلم و طاقت کا استعارہ … فرعون کا حنوط شدہ جسم اب بھی عبرت کا نشان بنا مصر کے عجائب گھر میں موجود ہے۔
چلیں چھوڑیں اللہ رب العزت کے پیغمبروں کی باتیں کہ وہ بہت عظیم المرتبت ہستیاں تھیں‘ اُن پر سختی و آزاما ئش بھی ان کے مراتب جیسی تھیں۔ آج کے فرعونوں اور آج کے موساؤں کی بات کریں تاکہ ہم عزیمت ابتلا و کشمکش کو اپنے عہد کے حساب سے پرکھ سکیں۔
اس دور کی سینکڑوں مثالوں میں سے ایک منظر دکھاتا ہوں مصر میں فرعونِ وقت کا دربار سجا ہے۔ درباری عدالت میں حاکم مصر کی عدالت میں موجود ہیں، عدالت میں سزا یافتہ نوجوانوں کو بلوایا گیا ان میں سے ایک نوجوان کو والدین سے ملوانے کے لیے آخری بار پیش کیا گیا اور ان کے اہلِ خانہ سے ملوایا گیا۔ ساتھ موجود تمام نوجوانوں کے دلوں میں اطمینان اور چہروں پر تبسم کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔
پھر یہ ہوا کہ فرعونِ وقت نے طاقت کے نشے میں چور ہوکر تختۂ دار پر لٹکا دیا۔ نوجوان اپنی مراد پا گئے۔ شہادت کے بعد ایک نوجوان کی والدہ کا عجیب خطاب بھی یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں نمازِ جنازہ کے موقع پر وہ ایک بہت بڑے مجمع سے مخاطب ہیں اور با آ واز بلند کہہ رہی ہیں:
’’میں ایک شہید کی ماں ہوں۔ خبردار کرتی ہوں کہ مجھے کوئی سوگ منانے کا نہ کہے اور نہ ہی کوئی میرے شہید بیٹے کے لیے مجھ پر ترس کھائے۔ مجھے فخر ہے میرا بیٹا قربان ہوا۔ میں اس پر خوش ہوں۔‘‘
موجودہ صدی کی تحریک اسلامی بنگلہ دیش میں ہو یا مصر و شام یا افغانستان و ترکستان میں کشمیر میں ہو یا فلسطین میں، عزیمت کی زندہ و روشن داستانیں ہر جگہ اپنی خوشبو اور روشنی سے اپنے راہ روں کو راستہ دکھا رہی ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ سرزمین مصر پر ہر دور میں فراعین کے سامنے ایک نہ ایک موسیٰ کا ہر حال میں ظہور ہوا ہے۔ تازہ فرعونوں کے مقابلے پر تازہ موسیٰ کا ظہور 1929ء میں ہو ا جب شیخ امام حسن البنا نے اخوان المسلمون (مسلم برادر ہوڈ) نام کی تنظیم قائم کی۔
اسلام کے بنیادی عقائد کے احیا اور اللہ کے نظام کو قائم و دائم کرنے کے اہداف کے ساتھ اخوان نے تیزی کے ساتھ مصر میں اپنا مقام بنایا ۔
مصر میں اسلامی تحریک کو مہمیز ملتی چلی گئی اور اس کی شاخیں دوسرے عرب ممالک میں بھی قائم ہوگئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اس کے اراکین کی تعداد بیس لاکھ کیسے تجاوز کرچکی تھی۔ اس جماعت کی روز افزوں مقبولیت وقت کے فرعون کو کیسے برداشت ہوتی۔ حق و باطل کے مابین صدیوں سے جاری کشمکش کو پھر کئی امتحان درپیش تھے۔
اسی مقبولیت کی وجہ سے نہ صرف یورپی طاقتیں بلکہ مصر کے حکومتی ادارے بھی اخوان المسلمون کے نام سے خائف تھے۔ پھر 1954 میں مصری ڈکٹیٹر جمال عبدالناصر نے الزام لگایا کہ اس کے اراکین نے جنرل ناصر کو قتل کرنے کی ناکام کوشش کی جس کے بعد یہ جماعت خلافِ قانون قرار دے دی گئی اور اس کی املاک ضبط کر لی گئیں۔ البتہ یہ الزام محض الزام ہی رہا اور کبھی ثابت نہ کیا جا سکا اور اخوان المسلمون کے امام حسن البنا ہوں یا سید قطب اور بدیع الزما ں اور ان کے لاکھوں کارکنان مصائب و آ لام کی چکی میں جھونک دیے گئے۔
کسی کا یہ تجزیہ درست ہے کہ ’’اخوان کے مقابلے پر خائف مصر کی سیکولر سوچ رکھنے والی ایلیٹ رُولنگ کلاس اور اخوان المسلمین کے ان اختلافات کی جوبنیاد پڑی آج‘ یعنی تنظیم کے قیام کے 90 سال کے بعد بھی جاری ہیں۔‘‘
آج مصر کے منتخب جمہوری صدر کو پابند سلاسل کر کے جس طرح شہید کیا گیا ہے یہ فرعونیت کی تاریخ میں کوئی نئی مثال نہیں ہے۔ ہر دور میں کہیں اس سے کم‘ کہیں اس سے بہت زیادہ ظلم و جبر روا رکھا گیا۔
جس طرح کسی بھی معاشرے میں قدرت اپنے موسیٰ تیار کرتی ہے بالکل اسی طرح شیطانیت اپنے فراعین کو تشکیل دیتے ہیں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ محمد مرسی کے دست راست مرسی کے مقابل آکر اس طرح مظالم کا بازار گرم کرے گا؟
فرعون کی چالیں اپنا کام کرتی ہیں اور مشیت الٰہی اپنا کام ! یہ سلسلہ ازل سے ابد تک جاری رہنے والا ہے۔ نام تبدیل ہوتے رہیں گے ، کردار بدل جائیں گے لیکن رب کی منشا و سنت میں کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے اس لیے کہ اس نے کہہ دیا ہے کہ ’’ہم تمہیں آزمائیں گے۔‘‘
لہٰذا آز ما ئش کی چکّی میں سب نے آنا ہے، پھر فیصلہ ہوگا کہ کون موسیٰ کے گروہ سے ہوگا اور کون فرعون کے ساتھ۔
زمانے کی رفتار بہت تیز ہے، مرسی کے مقابلے پر ’’جنرل سیسی‘‘ تیار ہو رہا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ 1951 میں مراکش کے ایک یہودی خاندان نے اسرائیل ہجرت کی اور یوں یہ خاندان اسرائیل میں آباد ہوا۔ اس خاندان کی خاتون ’’ملیکہ تیتانی‘‘ کو اسرائیل سے بطور خاص مصر بھیجا گیا۔ منصوبہ سازوں نے اس کی شادی 1953میں سعد حسن خلل سے کروا دی اور 1954 میںسعد حسن خلل ایک بیٹے کا باپ بن گیا۔ ملیکہ کو مراکش کی شہریت کے ساتھ 1958 میں مصری شہریت بھی دی گئی اور وہ یہاں سعاد کے نام سے پکاری جانے لگی۔ تاہم 1973 میں اپنے بیٹے کو مصری فوج میں بھرتی کرنے کے لیے اسے مراکشی شہریت سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ ملیکہ کا سگا ماموں ’’عوری صباغ‘‘ اسرائیل کے قیام کے بعد 1951 سے 1968 تک وہاں وزیر تعلیم و تربیت سمیت کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ ادھر مصر میں اس کا بھانجا فوج میں ترقی پاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ بعد میں جنرل کے عہدے تک پہنچ گیا۔ لیکن بظاہر مسلمان اور کافی دین دار‘ یہاں تک کہ اس جنرل کی بیوی کی کوئی تصویر بھی کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ بس اسی ظاہری دین داری سے مصر کی نو منتخب اسلام پسند حکومت دھوکا کھا گئی اور سادہ لوح صدر مرسی نے 12 اگست 2012 کو صدارتی حکم نامہ جاری کرکے اس جنرل کو آرمی چیف اور وزیر دفاع کے عہدے پر فائز کیا۔ جانتے ہیں یہ جنرل کون تھا؟ وہی سیسی جس نے مرسی کا تختہ الٹ کر اخوان المسلمون کا قتل عام کیا اور آئین میں ایسی ترمیم کی کہ اسلام پسند آئندہ کبھی الیکشن میں حصہ لے ہی نہیں سکیں، حکومت میں آنا تو دور کی بات ہے۔ یوں ساٹھ سال پہلے بنایا گیا یہ منصوبہ نہایت کامیاب رہا اور اسرائیل مصر کی جانب سے مستقبل بعید میں بھی ہر قسم کے خطرات سے مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اس لیے اسرائیلی جنرل سیسی کو اپنا نیشنل ہیرو کہتے ہیں۔ مرسی پر بڑے عجیب الزامات لگائے گئے، جیسے ان کے دور میں جن مظاہرین پر تشدد ہوا تھا، اس کا ذمے دار انہیں قرار دیا گیا۔
( یہ کہا نی سی این این نے یکم جولائی 2014 میں رپورٹ کی جسے بیشتر عربی و انگریزی جرائد نے نمایاں کرکے شائع کیا‘ ملکہ تیتانی کا 80 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اگر جنرل سیسی اس کی موت کو خفیہ اور تمام رسومات کو پردہ اخفا میں رکھنے کا سختی سے حکم نہ دیتا تو شاید ذرائع ابلاغ بھی کھوج میں نہ پڑتے۔
ایک فرعون نما کردار ’’جنرل سیسی‘‘ تیار ہوچکا تھا… زمانے کا موسیٰ بھی موجود تھا‘ محمد مرسی شہید رح کی صورت‘ جسے فرعونِ وقت نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سلو پائزن دے کر اور دل کے امراض کی ادویات فراہم نہ کرکے موت کے گھا ٹ اتار دیا۔ شہید مرسی کے آخری الفاظ دیکھیں‘ جو کمرۂ عدالت میں اُن کی زبان سے نکلے۔
’’جج صاحب! مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیں، مجھے قتل کیا جا رہا ہے، میری صحت بہت خراب ہے، ایک ہفتے کے دوران میں دو دفعہ بے ہوش ہوا، لیکن مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جایا گیا۔ میرے سینے میں راز ہیں، جنہیں اگر ظاہر کر دوں تو میں جیل سے تو چھوٹ جائوں گا لیکن میرے وطن میں ایک طوفان آئے گا، ملک کو نقصان سے بچانے کے لیے میں ان رازوں سے پردہ نہیں ہٹا رہا۔ میرے وکیل کو مقدمے کے بارے میں کچھ پتا نہیں اور نہ مجھے پتا ہے کہ عدالت میں کیا چل رہا ہے۔‘‘
اس گفتگو کے بعد شہید مرسیؒ سیدنا حسن بن علیؒ کے پڑپوتے الشریف کا یہ مشہور زمانہ شعر پڑھا اور بے ہوش ہوکر گر گئے۔
بلادی و جارت علی عزیزۃ
وان ضنوا علی کرام
بے شک سعید روحیں اپنے رب سے ایسے ہی ملاقات کرتی ہیں۔

مجاہد محمد مرسی شہید

نعیم الدین نعیم

لشکر حق کا تھا سالار مجاہد مرسی
کفر سے برسر پیکار مجاہد مرسی
جان دی حق پہ مگر آنچ نہیں آنے دی
کر کے طاغوت کا انکار مجاہد مرسی
زندگی جہد مسلسل سے عبارت اس کی
با عمل صاحب کردار مجاہد مرسی
مرسی غازی تھا پراسرار تھا بندہ رب کا
عشق احمد سے تھا سرشار مجاہد مرسی
صبح روشن کا وہ سودائی تمنائی تھا
ظلمت شب سے تھا بیزار مجاہد مرسی
اپنے کردار سے یہ کر دیا ثابت اس نے
ایک عظمت کا تھا مینار مجاہد مرسی
روزِ محشر تجھے آقاؐ کی شفاعت ہو نصیب
فخر تجھ پہ کریں سرکارؐ مجاہد مرسی
دہر ظلمت میں کی مرسی نے صدا حق کی بلند
استقامت کا تھا مینار مجاہد مرسی
تیری تربت پہ سدا رحمت باری برسے
قبر بھی ہو گل و گلزار مجاہد مرسی
قید خانہ تھی نعیم اس کے لیے یہ دنیا
باغ جنت کا طلب گار مجاہد مرسی

حصہ