اپنی بات:باسی عید اور ڈیزائنر سوٹ

113

باسی عید کا بھی اپنا ہی مزا ہے۔ جب عید کے سارے تکلفات اور اہتمام اختتام کو پہنچ چکے ہوتے ہیں ایسے میں جب ساتھی، سہیلیاں اور عزیز و اقارب کی طرف سے پیغام ملتا ہے کہ ہم عید کی ملاقات کے لیے آنا چاہ رہے ہیں، کیا آپ لوگ گھر پر موجود ہوںگے؟
پھر ایسے میں سب سے پہلے فریج کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ خاطرداری کے لیے کچھ موجود ہے یا نہیں… باورچی خانے کی الماریاں دیکھی جاتی ہیں، اور آخر میں جس کو بھی بازار بھیجا جا سکتا ہے، اُسے بھیج کر سامان منگوایا جاتا ہے… کبھی کبھی تو خود بھی بازار کا چکر لگانا پڑ جاتا ہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود ملاقات کی خوشی حاوی رہتی ہے۔ جاتی جاتی عید کی خوشی کو مہمان اور میزبان دونوں مل کر بانٹتے ہیں۔ اب یہ نہ سمجھیے گا کہ بانٹنے سے مراد عیدی ہے۔ اگرچہ عیدی بھی اگر باسی مل جائے تو سونے پر سہاگہ محسوس ہوتی ہے، کیوںکہ سب اپنی اپنی عیدی کا حساب کتاب لگا کر بٹوے اور پرس بند کرچکے ہیں، لہٰذا کچھ بھی اضافہ سب کو بڑا خوش گوار لگتا ہے۔ کچھ ایسی ہی خوش فہمی ہمیں بھی ہے کہ ہماری باسی عید مبارک ہمارے قارئین کو اضافی خوشی دے گی، لہٰذا ہماری طرف سے سب کو عید مبارک… اللہ ہمیشہ ہمارے ہم وطنوں کو اپنے حفظ و امان اور خوشیوں کے ہالہ میں رکھے، آمین۔
آج کل گرمی اور مہنگائی دونوں نے مل کر سب کے لیے مشکل حالات پیدا کردیے ہیں۔ لیکن ایک بات بڑی حیران کن ہے کہ گرمی کا زور توڑنے کے لیے لان کے جوڑوں کی خریداری عروج پر ہے، اور اس معاملے میں مہنگائی کا خیال بھی نہیں کیا جارہا۔ خواتین برانڈ کی لان کی خریداری ہر صورت کرنے پر ڈٹی ہیں۔ یقین نہ آئے تو ڈیزائنر لان کی لانچ کے مواقع پر خواتین میں کھینچا تانی اور گتھم گتھا ہونے کے مناظر یاد کرلیں۔ بازاروں میں رش اور دکانوں پر تُو تُو مَیں مَیں، کسی ایک ڈیزائن کے لیے لڑائیاں… یہ جیسے معمول کی بات ہوگئی ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ڈیزائنر لان پہلے پہننے کے چکر میں گاڑی کی ڈگی میں پانی سے بھری بالٹی رکھی جاتی ہے کہ اِدھر لیں اور اُدھر شلنگ کریں، اور درزی کو پہنچا سکیں… لیکن پھر بھی اگر کوئی پہلے اس ڈیزائن کو پہن لے تو موڈ آف ہوجاتا ہے۔
ابھی کل کی بات ہے، ایک خاتون نے اپنی سلی سلائی قمیص اس لیے ماسی کو دے ڈالی کہ اُن کی کولیگ نے اُن سے پہلے اس رنگ اور ڈیزائن کی کرتی پہن لی تھی۔ یعنی ڈیزائنر کا لان کا سوٹ جنون بن کر خواتین کو چمٹ گیا ہے یا چمٹایا گیاہے، تاکہ کاروباریوں کا کاروبار چلے… جی ہاں، انسانی نفسیات کو یہ بات جتائی جارہی ہے کہ ’’ہر خاص چیز میرے لیے ہو‘‘، کیوں کہ وہ خاص چیز پہن کر تم بڑے ہی خاص لگو گے۔
خریداری کے شوق کو بڑھاوا دینے کے لیے تو ایک ڈیزائنر خواتین کو مشورہ دے رہی تھیں کہ ’’لان کے بہترین ڈیزائن خریدنے کے لیے خواتین کو فروری کے مہینے سے ہی کمر کس لینی چاہیے، کیوں کہ اسی مہینے میں ہر برانڈ اپنی نئی لان کی لانچ شروع کرتا ہے۔‘‘
معاملہ یہ ہے کہ سال کے کسی بھی مہینے میں کسیں، لیکن ایک تو اپنے بجٹ کو مدنظر رکھیں، اور دوسرے اُن لوگوں کا اپنے بجٹ میں لازمی حصہ رکھیں جو سرے سے ہر سال لان کا سوٹ خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔
غزالہ عزیز… انچارج صفحہ خواتین

حصہ