آنکھ حیران دل پریشان

83

ابنِ عباس
ہر بار کی طرح اِس بار بھی ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی روایت برقرار رہی، اور پاکستان 89 رنز سے ہار گیا۔ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گرائونڈ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو بھارت کی جانب سے روہت شرما اور کے ایل راہول نے اننگز کا آغاز کیا۔ دونوں بلے بازوں نے ابتدا میں محتاط انداز اپنایا اور 5 اوورز کے بعد کھل کر کھیلنا شروع کیا۔ یوں بھارتی ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 336 رنز بنائے، روہت شرما 140، ویرات کوہلی 77 اور کے ایل راہول 57 رنز بناکرنمایاں رہے۔
گرین شرٹس کی جانب سے محمد عامر نے 3، وہاب ریاض اور حسن علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ حسن علی مہنگے ترین بولر ثابت ہوئے جنہوں نے 9 اوورز میں 84 رنز دیے۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز امام الحق اور فخر زمان نے کیا، تاہم اوپنرز ٹیم کو اچھا آغاز فراہم نہ کرسکے۔ صرف 13 کے مجموعی اسکور پر امام الحق 7 رنز بناکر شنکر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ دوسری وکٹ پر فخر زمان اور بابر اعظم نے 100 سے زائد رنز کی شراکت داری قائم کی اور ٹیم کا اسکور 117 تک پہنچادیا، تاہم اس موقع پر بابراعظم 48 رنز بناکر کلدیپ یادیو کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ اس کے بعد 126 کے مجموعی اسکور پر کریز پر سیٹ ہوجانے والے بیٹسمین فخر زمان بھی کلدیپ یادیو کا شکار بن گئے، انہوں نے 75 گیندوں پر 62 رنز بنائے۔ اس کے بعد تجربہ کار بیٹسمین محمد حفیظ کریز پر آئے، لیکن 129 کے مجموعی اسکور پر محمد حفیظ 9 رنز بناکر پانڈیا کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد شعیب ملک آئے اور بغیر کوئی رن بنائے بولڈ ہوکر پویلین لوٹ گئے۔ عماد وسیم اور کپتان سرفراز احمد نے دبائو کا شکار ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی کوشش کی، کپتان سرفراز احمد اس موقع پر شدید دبائو میں نظر آئے اور 30 گیندوں پر صرف 12 رنز بناکر آئوہوگئے۔ اس طرح ہر چار سال بعد آنے والے کرکٹ ورلڈ کپ کی جنگ میں اب تک جیت صرف بھارت کی ہوئی ہے، دونوں ٹیمیں اب تک 6 بار آمنے سامنے آئیں اور ہر بار پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ میں جاری کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم اب تک 5 میچز کھیل چکی ہے جس میں اُسے 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
قومی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر 3 پوائنٹس کے ساتھ 9 ویں نمبر پر موجود ہے۔
بھارت کے ہاتھوں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست نے کرکٹ کے دیوانوں کو انتہائی مایوس کردیا، اس ہار کی وجہ سے عوام نہ صرف دکھی ہیں بلکہ انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے بھی نظر آئے۔ عوام کو سرفراز احمد کی جانب سے بیٹنگ وکٹ پر پانچ بولر رکھنے کے باوجود ٹاس جیت کر انڈیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دینے کی منطق اب تک سمجھ میں نہیں آئی۔ کون نہیں جانتا کہ سیدھی وکٹوں پر ٹاس جیتنا ادھا میچ جیتنے کے مترادف ہوتا ہے، اور پھر یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن بڑے ہدف کے تعاقب میں ہمیشہ ہی ناکام رہی ہے۔ ایسی صورت میں سرفراز احمد اور ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے کیا جانے والا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ٹیم کو بدترین شکست ہوچکی، کھلاڑیوں کی کارکردگی سب کے سامنے آچکی، ہر آنے والے دن کے ساتھ ہمارے ملک کی کرکٹ تباہی کی جانب بڑھتی جارہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہر مرتبہ کی طرح اِس بار بھی شکست کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل دیے جائیں گے، سب اپنی اپنی نوکریاں پکی کریں گے اور نتیجہ صفر ہی ہوگا۔ یہ سازش ہے یا غلطی، وقت کے ساتھ سامنے آجائے گا۔ لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آخر کب تک ہم اپنی نااہلی پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ ٹیم میں کب تک چاچا ،ماما کی بنیاد پر سلیکشن کی جاتی رہے گی؟ کھلاڑی قدرتی ہوا کرتا ہے، ٹیلنٹ خدا کی دین ہے۔ قدرتی صلاحیت اور محنت کی وجہ سے ہی کوئی کھلاڑی بڑا کھلاڑی بنتا ہے۔ پرچی کی بنیاد پر ٹیم میں سلیکشن تو ہوجاتا ہے مگر میدان میں جاکر اچھی کارکردگی دکھانا ممکن نہیں ہوتا۔ بڑے ممالک کے مہنگے ترین کوچ رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ لمبی چوڑی سلیکشن کمیٹی بنانا، ٹیم مینجمنٹ کے نام پر لاکھوں روپے ماہانہ کے درجنوں ارکان کی بھرتیاں کرنا عیاشی اور پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود کوئی کسی کو بلّا پکڑ کر کرکٹ نہیں سکھا سکتا۔ جس میں صلاحیت ہوگی وہی پاکستان کا نام روشن کرے گا۔ کھلاڑی میں ٹیلنٹ نظر آتا ہے۔ جو گلی محلوں سے ابھر کر سامنے آتا ہے اْس کے لیے کسی اکیڈمی کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی کسی بڑے کوچ کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ ماضی میں محمد برادران، ماجد خان، جاوید میاں داد، یونس خان، محمد یوسف، مصباح الحق، مشتاق احمد، عبدالقادر، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، ثقلین مشتاق جیسے بیشمار کھلاڑی گلی ، محلوں سے یا ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر سامنے آئے جنہوں نے پاکستانی جھنڈا دنیا بھر کے میدانوں میں بلند کیا، لیکن آج ایسے ہی ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور ڈومیسٹک کرکٹ کی تباہی پر بات کرتے ہوئے عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے لیے کوچ کی خدمات حاصل کرنا پیسے کا زیاں ہے، کرکٹ میں کوچ کی کوئی ضرورت نہیں۔ کپتان لیڈر ہوتا ہے اور ٹیم کو متحرک رکھنے میں اس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر ٹیم خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرے تو اسے ذمے دار ٹھیرایا جاتا ہے۔ جب کبھی ہم کوئی سیریز یا ٹورنامنٹ ہارتے ہیں تو کپتان اور کوچ ایک دوسرے کو ذمے دار ٹھیراتے ہیں، اس عمل کے خاتمے کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ ٹیم کی کارکردگی کا ذمے دار کپتان کو ٹھیرایا جائے، کپتان کو ٹیم منتخب کرنے کا اختیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کوچ کی تقرری سے پاکستان کرکٹ کے مسائل حل نہیں ہوئے اور نہ ہی ہوں گے، کیونکہ ایک بہترین پیشہ ور کھلاڑی بننے کا مکمل اختیار ایک کھلاڑی کے پاس ہوتا ہے، اور وہ یہ مقام عزم اور بھرپور لگن سے حاصل کرتا ہے۔ عبدالقادر نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں کپتان کی اپنی سیٹ پکی نہیں ہوتی اور اْسے یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی سیریز میں وہ کپتان ہوگا یا نہیں، ایسی صورت میں کھلاڑی من مانی پر اتر آتے ہیں اور کپتان کی افادیت زائل ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں آج بھی وہ گیندیں استعمال ہورہی ہیں جن کا انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی وجود نہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے نوجوان فاسٹ بولرز اور اسپنرز کو انٹرنیشنل کرکٹ میں ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلے بازوں کی تکنیک کا مسئلہ تو مسلمہ ہے اور تمام سابق کرکٹرز اس مسئلے کو کرکٹ کی تباہی کی جڑ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو خاصے وسائل میسر ہیں مگر وہ بورڈ حکام کے اللوں تللوں میں ضائع ہوجاتے ہیں اور اس کے فوائد نچلی سطح پر کبھی نہیں پہنچتے۔ کوئی بھی کرکٹ نیشن اس تباہ حالی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اس کی واضح مثال ہیں، جنہوں نے کرکٹ کے معیار کی ابتری کو فوری محسوس کرکے انقلابی تبدیلیاں کیں اور اپنی کرکٹ کو پھر عروج پر پہنچا دیا۔ بنگلہ دیش جسے کرکٹ بے بی کا نام دیا جاتا تھا، آج اسے ہوم گرائونڈ پر ہرانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بورڈ حکام خوابِ غفلت سے جاگیں اور ڈومیسٹک سرکٹ کی مضبوطی کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
اور تو اور پاکستانی نڑاد برطانوی باکسر عامر خان بھی اس شکست پر مایوس نظر آئے۔ عامر خان نے اس شکست پر ردعمل دیتے ہوئے کچھ یوں کہا:
’’پاکستان کرکٹ ٹیم کی مدد کرنا چاہوں گا، کھلاڑیوں کو فٹ اور مضبوط رہنے کے لیے مشورہ دینا چاہوں گا، اور انہیں یہ بھی بتائوں گا کہ فوڈ، ڈائٹ اور ٹریننگ میں ڈسپلن کیسے رکھا جاتا ہے۔‘‘
عامر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں ٹیلنٹ ہے مگر کھلاڑیوں کو اسٹیمنا اور کنڈیشن پر توجہ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فکر کی بات نہیں، پاکستانی ٹیم کی شکست کا بدلہ میں لوں گا، بارہ جولائی کو بھارتی باکسر کو ہراکر حساب چکادوں گا۔
ساری دنیا میں بسنے والے پاکستانی ہماری کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے پریشان دکھائی دیتے ہیں لیکن کوچ، ذاتی دوستوں کو شامل کرکے بنائی جانے والی ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہیں۔ ان کے نزدیک سب اچھا ہے۔ ظاہر ہے جن کے اکائونٹ میں ہر ماہ لاکھوں روپے آتے ہوں اُن کے لیے سب اچھا ہی ہوتا ہے۔
خیر، کامیاب قومیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا کرتی ہیں، ہمیں بھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جو 1992ء ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان بھی تھے، خصوصی طور پر کرکٹ کی تباہی پر توجہ دینی ہوگی۔ پی سی بی میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی، ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی سمیت ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے فارمیٹ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ سلیکشن کمیٹی میں سابق کرکٹرز کو تعینات کرنے اور اہلیت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی سلیکشن سے ہی ملک میں تباہ حال کرکٹ کو بچایا جا سکتا ہے۔

حصہ