نعت میں غُلو کی گنجائش نہیں، پروفیسر منظر ایوبی

257

ڈاکٹر نثار احمد نثار

رمضان المبارک میں راقم الحروف نے جسارت سنڈے میگزین کے لیے ایک نعتیہ مذاکرے کا اہتمام کیا اس موقع پر پروفیسر منظر ایوبی‘ پروفیسر انوار احمد زئی‘ ڈاکٹر عزیز احسن اور ڈاکٹر شہزاد احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

٭جسارت میگزین: پروفیسر منظر ایوبی صاحب آپ نعت نگاری کے بنیادی تقاضوں پر روشنی ڈالیے گا۔
٭ پروفیسر منظر ایوبی: غزل کی طرح نعت گوئی کی جملہ روایات بھی اردو شاعری میںعربی اور فارسی ادب سے اخذ کی گئیں۔ تاریخ نعت گوئی کا مطالعہ اس امر کا مظہر ہے کہ اردو شاعروں کی اکثریت نے شرو ع ہی سے بعض بنیادی احتیاطوں اور نزاکتوں کو پیش نظر نہیں رکھا۔ کسی بھی عہد کی نعتیں پڑھ کر دیکھ لیجیے آپ میرے اس خیال کی تائید کرنے پر مجبور ہوں گے کہ وہ نعتیں اپنے تنوع‘ موضوعات‘ تاریخی مواد‘ زبان کی مٹھاس اور بیان کی دل کشی کے باوجود کسی نہ کسی حد تک مبالغہ اور غلو سے مبرا نہیں ہیں۔ اس کے اسباب میںیقینا جہاں عربی اور فارسی نعت گوئی کا اتباع شامل ہے وہ بیشتر اردو نعت گو شعرا پر تصوف کا غلبہ بھی ہے جو اس بات میں شریعت‘ طریقت‘ عقیدت اور محبت سے متعلق بہت سی بحثوں کو جنم دیتا ہے اور گفتگو کے کئی دروازے کھولتا ہے۔
میرے نزدیک فنِ نعت گوئی جن احتیاطوں کا متقاضی ہے‘ ہر نعت گو اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دیگر اصنافِ شاعری میں بحور اور اوزان کے مختلف خانوں میں لفظوں کی دروبست سے کام چل جاتا ہے۔ نعت کے موضوع کو محور فکر بنانے کے لیے سمندروں کی گہرائی جیسے علوم و فنون کے ماہرین کا پتا بھی پانی ہو جاتا ہے۔ ہما شما یا کم علم و بے مایہ قلم کاروں کا تو ذکر ہی کیا۔دیگر اصناف سخن ہر نوع کے سقم کی متحمل ہوسکتی ہیں لیکن نعت واحد موضوع ہے جو اپنے دامن پر ذرہّ برابر دھبہ برداشت نہیں کرسکتا۔ سخنور کو تخلیق نعت کے دوران دماغ کی ساری چولیں ہلانا پڑتی ہیں اس کی ذرا سی بے احتیاطی تمام ریاض و کاوش کا خون کر دیتی ہے‘ پل بھر میں اس کی ساری تخلیقی صلاحیتیں اوندھے منہ زمین پر گر پڑتی ہیں۔ ایسے ہی مواقع پر جگر مرادآبادی (مرحوم) کا یہ مصرع ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں‘‘ نعت گو کی ڈھارس بندھاتا ہے یا پھر علامہ اقبال کا یہ شعر:

مقامِ شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

سچی بات تو یہ ہے کہ نعت کے موضوع کو مرکز فکر بنانا اتنا سہل نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔ ہزار نزاکتوں اور احتیاطوں ہی سے اردو کی نعتیہ شاعری کو ہر دور میں حسان بن ثابت خاقانی‘ فردوسی‘ سعدی‘ نظامی‘ قدسی‘ عرفی‘ جامی اور جلال الدین جیسے عظیم المرتبت نعت گو شاعروں کی تلاش رہی ہے حالانکہ اردو میں نعت گوئی کے فن کو بام عروج پر پہنچانے والوں کی کمی نہیں ہے۔ دکنی شاعری کے ابتدائی عہد سے لے کر آج تک شاذونادر ہی کسی شاعر نے اپنے مجموعۂ کلام‘ دیوان یا کلیات کا آغاز حمد و نعت سے نہ کیا ہو بلکہ یہ روایت تو اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ آج بھی جب ہم ذرائع ابلاغ کی ترویج و ترقی اور سائنس کے انکشافات و ایجادات کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد اکیسویں صدی میں سرگرم عمل ہیں‘ حمد و نعت شامل کیے بغیر کسی شعری مجموعہ کی اشاعت و طباعت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
امیر خسرو سے غالب و مومن و ذوق تک اور حالی‘ شبلی‘ اقبال‘ ظفر علی خان اور حفیظ سے لے کر محسن کاکوروی‘ بیدم وارثی اور ماہرالقادری تک ایک طویل قطار ہے جس میں اہم اور قد آور شخصیتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت و ارادت کے پھول کھلاتی اور خوشبوئیں بکھیرتی نظر آتی ہیں۔
آج بھی جب ہم گزشتہ پچیس تیس برس کا جائزہ لیتے ہیں تو نعت گو شاعروں کی خاصی بڑی تعداد اس باب خاص میں اپنی تخلیقی توانائیاں بھرپور انداز میں صرف کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان میں اکثریت ایسے نعت گو شعرا کی ہے جو اظہار جذبہ و احساس میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں اور بقول ابوالخیر کشفی ’’آج کے بہت سے نعت گو شعرا کے یہاں دل و ذہن کی ہم آہنگی نہیں ملتی۔‘‘
اس میں کلام نہیں کہ تاریخی بصیرت فنکارانہ صلاحیت‘ فنی شعور کی پختگی اور اظہار و ابلاغ پر مکمل دسترس ہے لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے والہانہ محبت اور عقیدت کے نتیجے میں جنم لینے والے جذبات اور احساسات کئی فراوانی انہیں نعت گوئی کی بعض بنیادی حدود و قیود کی پابند نہیں رہنے دیتی۔ وہ جوش بیاں میں ایسے ایسے امور ذہنیہ اور کیفیات قلبیہ کی تصاویر پیش کرتے ہیں جو نعت کے زمرے میں آنے کے بجائے خالص عاشقانہ غزل کے موضوعات معلوم ہوتے ہیں مثلاً سرکار دو عالم کی سراپا نگاری میں آپؐ کے گیسوئے پاک‘ لب و عارض‘ ابرو‘ جبین اقدس اور خدوخال وغیرہ کو کائنات کی مختلف اشیا سے اتنے بھرپور انداز میں مشابہت دی جاتی ہے کہ ایسی نعتوں پر بعض عام شعری قصائد (جو محبوب مجازی کی شان میں کہے جاتے ہیں) کا گماں گزرتا ہے۔ اس ذکر پر مجھے اپنے ایک دیرینہ رفیق کار و معروف ادیب و شاعر پروفیسر عاصی کرنالی کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے کسی نعت گو شاعر کے کلام پر اظہار خیال کرتے ہوئے ادا کیے تھے کہ ہم اپنے جذبات کو کتنا ہی پاک صاف کرلیں‘ جسمانیت محبوب کے تصور سے باہر نہیں آسکتے۔ اسی لیے توصیف زلف و رخسار اور قصیدہ چشم و لب کے دائرے سے باہر نہیں آتے۔ حُسن کے ظاہری و مجازی متعلقات ہمارے دامن گیر رہتے ہیں اور ہم سراپا نگاری تک جذباتی فریضے اور وظیفے ادا کرتے ہیں۔ جب غزل کی یہی حیثیت ہماری نعت کا مدار بنتی ہے تو ہمارے اکثر شعرا ترفع اور تقدس کی اس سطح تک نہیں پہنچتے جو ممدوح نعت سے منسوب و مخصوص ہے۔ بہت سی نعتیں ایسی نظر سے گزرتی ہیں کہ اگر ان میں آقا یا مولا یا سرکار کا لفظ نہ ہو تو وہ نری غزلیں ہی محسوس ہوتی ہیں۔
اکثر نعتوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ ’’تو‘‘ یا ’’اس‘‘ کا استعمال بری طرح کھٹکتا ہے ضرورت شعری کی بنا پر بھی اس نوع کے لفظوں کو نعتوں میں نظم نہیں کرنا چاہیے کہ یہ الفاظ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان نہیں۔ علاوہ ازیں اس قسم کی بیسیوں بدعتی نعتیہ شاعری میں مروج ہیں جن سے اب گریز لازم ہے کیوں کہ ہمارے نزدیک یہ تمام کی تمام نہ صرف تضحیک کی آئینہ دار ہیں بلکہ سراسر مبالغہ و غلو کی ذیل میں آتی ہیں۔ ہمارا یہ اظہاریہ مثالوں کا متحمل نہیں ورنہ بطور حوالہ ان گنت اشعار نذر قارئین کیے جاسکتے ہیں۔
ہمار خیال میں جدید نعتوں میں مبالغہ آرائی اور غلو کے اظہار کا ایک سبب جدید نعت گو شاعروں میں آسمان نعت کے اس خورشید عالم تاب کا اثر بھی معلوم ہوتا ہے جسے دینی حلقوں میں امام حضرت احمد رضا خان بریلوی اور تاریخ نعت گوئی میں فاضل بریلوی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فاضل بریلوی سے تجر علمی اور حب رسولؐ کے اس منصب پر فائز ہیں جس کا ہر کس و ناکس تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ان کی زبان و بیان اور اندازِ سخن آرائی کی تقلید نہ ہر نعت گو کو زیب دیتی ہے اور نہ ہر ایک شاعر کے بس کی بات ہے۔ اس ضمن میں اگر نعت گو شعرا یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ وہ جن تشبیہوں‘ استعاروں‘ اشاروں‘ کنایوں‘ علامتوں اور شعری صفتوں سے اپنی نعتوں کو مزین کرتے ہیں تخاطب کے اس عمل میں منصب و مقام کا لحاظ کیے بغیر بعض لفظوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں وہ شاعری کی دیگر اصناف کا زیور ضرور ہیں نعت کا نازک پیکر ان کا متحمل نہیں۔ توصیف محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نعت گو کو ذہن حاضر اور دل کو گرفت میں رکھنا پڑتا ہے تاکہ اس کے قلم سے طلوع ہونے والے حروف ثنا خالق کائنات کے محبوب کی مکمل بشریت بے مثال شخصیت اور لازوال شان و عظمت کے آئینہ دار ہوں۔ فی زمانہ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مغرب کی ثقافتی اور تہذیبی یلغار سے اپنے ماحول اور معاشرے کو محفوظ رکھنے اور انہیں بعض لا دینی اقدار خبیثہ سے پاک کرنے کے لیے نعت گوئی کو محض کارِ ثواب نہ سمجھیں بلکہ اسے ذریعہ بنائیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ یا آپؐ کے کردار کے مختلف پہلوئوں کو مرکز و محورِ فکر بنا کر ہمارے نعت گو شعرا نئی نسلوں اور الحاد گزیدہ افراد کی تربیت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اسی طریقے سے نعت گوئی کے بنیادی مقاصد کی تکمیل ممکن ہے اور فنِ تخلیق کا یہی رویہ ہماری نعت گوئی کو مبالغہ اور غلو سے بچا سکتا ہے۔

نعت فکر انسانی کی حدودِ رسا کا پیمانہ ہے، پروفیسر انوار احمد زئی

جسارت میگزین: پروفیسر انوار احمد زئی صاحب تفہیم نعت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
٭ پروفیسر انوار احمد زئی: شاعری قدرت کی بے کراں نعمتوں کا استحسان ہے تو نعت بجائے خود شعری نعمت کا استحسان۔ گویا نعت فکر انسانی کی حدِ رسا کا پیمانہ ہے اور یوں نعت استعارہ ہے تفہیم ِ کائنات کے مقدور بھر میزانیے کا جس طرح مقاصد اور با مراد شاعری زندگی کو مربوط‘ مضبوط‘ منظم‘ آراستہ‘ مرصع‘ شائستہ اور مہذب بنانے کا وسیلہ اور واسطہ ہے‘ اسی طرح اس کی مقصدیت میں تخلیق ِ کائنات اور وجۂ تخلیقِ کائنات کے آداب و اندا زکی آدرش و آگہی نعت کے توسل و توسط کے بغیر ممکن نہیں اس لیے نعت‘ جو اب باقاعدہ صنف سخن کی صورت ادب عالیہ میں اپنا درجۂ شایانِ شان رکھتی ہے‘ متقاضی ہے خود اپنی تفہیم کی۔ بظاہر یہ منزل اسرار و رموز اور تشریح و تفسیر کا تقاضا کرتی ہے مگر جن کے دلوں میں سرور کے ساتھ سرودسرمدی نے فضائے عطر و عنبر بیز سجا لی ہو ان کے لیے یہ سمجھنا کہاں مشکل ہے کہ زندگی کی ظاہری ظہوری‘ زیبائش‘ سجاوٹ‘ شاعری سے ہے اور اندرون کی جلا‘ بقا اور منور و روشن فضا نعت سے مشروط ہے۔ سو نعت گدازِ ذات کا اشارہ ہے اور مدحتِ ختمی مرتبت کا حوالہ ہے۔
بات حوالے کی آئی ہے تو اس اصطلاح کی شانِ نزول اور اس صنف کا ورد و ظہور‘ سرمدی سفر ہی کی طرف گامزن لگتا ہے۔ ن۔ع۔ت عربی زبان کا مادّہ ہے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں ’’اچھی اور قابل تعریف صفات کا کسی شخص میں پایا جانا اور ان صفات کا بیان کرنا۔‘‘ لغت کے اعتبار سے جب اس لفظ کو استعمال کیا جاتا تو کہا جاتا ہے ’’نعت الرجل‘‘ یعنی اس آدمی میں اخلاق و طبیعت کی بہترین خصلتیں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص دوسروں سے ممیز و ممتاز ہوتا تو کہا جاتا ’’ہو نعتہ‘‘ یعنی وہ خوبی میں بہترین ہے۔ عربی زبان میں تعریف و توصیف کے لیے اور بھی بہت سے مصادرمستعمل ہیں مثلاً حمد‘ ثنا‘ مدح وغیرہ لیکن جب سے اہلِ نظر نے حمد کو خداوند قدوس کی تعریف اور نعت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کیا ہے یہ دونوں اصطلاحات مدح سے الگ اور قصیدے سے جدا ہو گئیں اور اب نعت‘ نسبتِ حضورِ والا سے متصف ہو کر کاملتاً آپؐ ہی کے پیکرِ جماِل اور اوصافِ جمیل مملو ہے۔ نعت کی تفہیم کے لیے یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اس کے لیے صرف شعری پیمانہ لازم نہیں آتا عشاقانِ رسول ختمی مرتبتؐ نے نثر میں بھی نعت کی قندلیں روشن کی ہیں اور وہ بھی اس جذب و ایقان کے ساتھ کہ معمورۂ فکر و نظر رشکِ ماہتاب و آفتاب ہو گیا۔ علامہ شبلی نعمانی کی ظہور قدسی اور سید سلیمان ندوی کے خطبات‘ نثری نعت کے عرفانی اور غیر فانی حوالے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مدحتِ رسول اشارے کنایے‘ استعارے یا اظہاریے میں بھی ہو تو نعت ہی کہلائے گی۔ اسی طرح شعری نعت گوئی کے لیے بھی واضح پیمانے اور غیر مبہم اصول موجود ہیں۔ صنفِ نعت کے پاریکھوں اور شارحین کے نزدیک وہ شعر جس میں ثنائے رسول‘ صفتِ پیمبر‘ وصف نبی اور مدحتِ افضل البشر موجود ہے‘ وہ شعر‘ مجرد نعت ہے اس میں حضور کا حلیہ‘ چہرہ‘ بشریٰ‘ قدوقامت‘ نشست و برخواست‘ آدابِ گفتگو‘ اندازِِ تکلم‘ پرتو تبسم‘ رفتار و تجمل‘ ارشادات و ہدایت‘ پسند و توجہ‘ افکار و نصائح‘ قیادت و رسالت‘ امامت و امانت‘ دیانت و صداقت‘ شجاعت و قناعت گویا جملہ اوصافِ حمیدہ اور کردار طیبہ کے آئینے خانے‘ بہ توفیقِ بیان و اظہار سامنے آئیں یا آتے رہیں تو نعت ہوتی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا ہے کہ نعت کے سرنامے کے تحت اگر درج بالا انداز ہائے عاشقانہ کے ساتھ خود اپنے جذبات بہ طرز مجنونانہ اور وارفتگانہ آجائیں تو انہیں اشعارِ نعت خفی ہی سمجھیے۔ نعت جلی اور خفی میں شیفتگی کی کمی نہیں بلکہ موضوع کی امتیازی صوت و صورت ہے مثلاً ’’مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ‘‘ اس مصرعے میں کیفیت کا ذکر ہے جسے نعت سے نسبت تو ہے مگر یہ مجرد نعت نہیں جب کہ ’’توئی سلطانِ عالم یا محمد‘‘ نعت اور سراسر نعت ہے‘ زینتِ یاسیں توئی و زیبائش طہٰ توئی… نعت کی تعریف کے شارح ہیں اسی طرح ’’کوئی مثل مصطفی کبھی تھا‘ نہ ہے نہ ہوگا‘‘ از کراں تا کراں نعت ہے۔ گویا مجرد و نعتِ جلی اور کیفیات و حکایات و مناجات و واردات کے اشعار کو نعت کے سرنامے کے تحت نعت خفی کے اشارے سمجھیے۔
اس حوالے کو اور گہرائی اور گیرائی میں دیکھنے‘ سمجھنے اور روح میں اتارنے کی تمنا یا خواہش ہو تو نزول و تنزیل کے اعتبار سے قرآن مجید کی پہلی سورہ کی پہلی آیت مبارک کے پہلے لفظ ’’اقرا‘‘ کی جانب آئیں تو تفہیم ذاتِ احد کے ساتھ تفہیمِ نعت کے بھی بے شمار در کھلتے محسوس ہوتے ہیں۔ اقرا کا مطلب ہے لکھا ہوا پڑھنا اور ایسا کرنے والے کو قاری کہتے ہیں۔ گویا قاری کے لیے متن کا ہونا ضروری ہے مقرر کا متن نہیں ہوتا‘ مقرر کی تقریر متن بن جاتی ہے اس لیے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپؐ سے اقرا کی ادائی چاہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امین و صادق ہونے کے عظیم ترین منصب پر متمکن ہوتے ہوئے اقرا کی ادائی میں تردد فرمایا‘ سبب یہ کہ اس ارضِ عارضی پر آپؐ نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا تھا اور ایسا ہوتا بھی کیسے؟ استاد کادرجہ بڑا ہوتا ہے اور آپؐ کا مقام بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ہے۔ مگر پھر کیا ہوا آپؐ نے اقرا پڑھ دیا نا… گویا یہ اسرارِ سرمدی سے پردہ اٹھائے جانے کی پہلی دلیل ہے کہ جو آپؐ معلم انسانیت بنا کر بھیجے گئے وہ یہاں کسی سے نہیں پڑھے تھے مگر خداوند قدوس نے انہیں اس وصف سے خود بہرہ مند فرمایا تھا۔ یہی شانِ نزول ہے کہ آپؐ کی اس وصف کے اظہار ہی سے کلام الٰہی شروع ہوتا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ اقرا کا لفظ بجائے خود حضورؐ کے ایک وصف کا اعلان ہے اور اس نسبت سے یہ لفظ نعت ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا حکم دینے والا ربِ کائنات ہے… نعت کا جب یہ منصب و مقام ہو تو پھر اس کے تقاضے بھی سوا ہو جاتے ہیں۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو موزوں طبع ہو اور شعر گوئی کی نعت سے بہرہ مند ہو‘ وہ کتنا ہی بڑا سخن ور اور سخن داں ہو جائے مگر نعت کہنے کا متحمل تب ہی ہوگا جب وہ اپنے اس وصف کے اظہار سے قبل منزلِ عشق و سرمستی سے گزر جائے۔ عقیدت‘ محبت‘ مطالعہ اور پھر وارفتگی کے ساتھ بساطِ علم و آگہی پر وجد و بے قراری غالب نہ آئے تو حقِ نعت گوئی ادا نہیں ہوسکتا اس لیے نعت کی صنف دیگر اصنافِ سخن سے بڑی ہے سو اس کا مطالبہ بھی بڑا ہے‘ نازک ہے اور حسب توفیق عطا مقامِ رسا کا آئینہ دار ہے۔ نعت فہمی کی اس پوری کیفیت کا مطالعہ کرنے کے بعد گرہِ فہم و ادراک کھل جائے تو نعت کے نئے معنی اور نادر مقامات کا پتا چلتا ہے اس لیے اس سوال کے جواب میں کہ نعت کیاہے‘ جویانِ ادب کے سامنے دفتر کے دفتر ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں اور سرگوشی کر رہے ہوتے ہیں کہ نعت فرد اور یکتائی میں بھی کہی جاسکتی ہے اس لیے سنو‘ سنو‘ نعت کیا ہے؟ نعت ہے آبِ مدحت کے کٹوروں کی تلاش‘ آیتوں کی ایک صدائے بازگشت‘ آپؐ کے در پر قلم کی حاضری‘ اک تہی دامن کا سامانِ سفر‘ ایک اللہ کی عبادت کاشعور‘ نورِ احمد مجتبیٰ کا ظہور‘ گنبد خضریٰ کے دامن کی ہوا‘ تختی ٔ دل پر سخن کی روشنی‘ طاقِ ایماں پر چراغِ آگہی۔ اسی طرح چلتے چلے جب منزلِ تحیر و تسکینِ قلب و نظر آجائے تو خودبخود یہ خیال آتا ہے کہ:

کتنا خوش قسمت وہ قلم ہے جس کی آنکھ سے ٹپکتے ہیں
حمدِ خدائے پاک کے گوہر نعتِ رسول پاکؐ کے موتی

نعت میں رسول اکرم ؐ کا حسنِ صوری اور جمال منعکس ہوتا ہے، ڈاکٹر عزیز احسن

٭جسارت میگزین: ڈاکٹر عزیز احسن صاحب آپ نعت کے Text اور نعت نگاری کی اسلوب کے بارے میں کچھ فرمائیں۔
ڈاکٹر عزیز احسن: نعت‘ مدحت نعت‘ مدیح یا مدح کے عنوان سے جو شاعری کی کی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی زاویے سے کائنات کی سب سے بڑی اور اہم ہستی یعنی مقصودِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے ذیل میں آتی ہے۔ نعت میں آپؐ کی ذاتِ اقدس کا حسنِ صوری اور جمال معنوی منعکس ہوتا ہے۔ شاعر کے اندازِ بیان سے یا تو براہِ راست نعت تخلیق ہوتی ہے یا بالواسطہ۔ براہِ راست نعت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمالِ صوی و معنوی شعری متن بنتا ہے اور بالواسطہ نعت میں آپؐ سے متعلق اماکن و مدائن یا اشیاء و اشخاص کا ذکر ہوتا ہے۔ مثلاً بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر (مختصر بات یہ ہے کہ یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے بعد آپؐ کی ذات بزرگ ہے اور بس) یہ براہِ راست نعت ہے اور بالواسطہ نعت میں مدینہ‘ گنبد خصریٰ‘ آپؐ کے اصحابِ کرام اور یا ازواج مطہرات و اقربا رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کا ذکر کرکے آپ کی عظمتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جیسے:

حرا سے سبز گنبد تک مسلسل
سفر اندر سفر ہے میں ہوں
مرے اشکوں میں تصویرِ بلالیؓ
محبت کا ہنر ہے اور میں ہوں
٭
غبارِ راہِ طیبہ غازۂ روئے کواکب ہے
فروغ جلوۂ حُسن مہہِ کامل مدینہ ہے

نعت شاعر اپنے اشعار اس ہستی کی جناب میں نذر کرتا ہے جس کو ’’افصح العربؐ‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہے اس لیے شاعر کو شعر کہتے ہوئے جس زبان میں وہ شاعری کے بہترین لہجے‘ زبان و بیان‘ عروض اور محاسنِ کلام کی طرف متوجہ رہنا لازمی ہے ورنہ نعت‘ نعت نہیں ہوگی بلکہ کچھ اور ہی شے بن جائے گی۔ مثالیں لاتعداد ہیں لیکن میں صرف ایک دو شعری متون کی تفہیم کے لیے چند نکات پیش کر دیتا ہوں۔ کسی معروف قوال نے یہ کلام پڑھا‘ جو لحن اور موسیقی کی دلآویزی اور ہندوپاک کے عوام کے سکر آمیز بے عملی کے میلان کے باعث انتہائی مقبول ہوگیا:

بھر دو جھولی مری یا محمدؐ لوٹ کر میں نہ جائوں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو‘ در پہ آیا ہوں بن کر سوالی

ذرا غور فرمایئے بھر دو اپنے جیسے اور اپنے سے چھوٹے کے لیے حکمیہ جملہ ہو سکتا ہے یہاں واحد حاضر کا صیغہ ’’تم‘‘ مخفی ہے۔ عام طور پر کہتے ہیں ’’تم یہ گلاس بھر دو‘ یا تم یہ تھیلا بھر دو۔‘‘ اور اپنے سے بڑے اور کسی بزرگ سے کہتے ہیں ’’آپ یہ جھولی بھردیجیے۔‘‘ یہاں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اسمِ گرامی لے کر کہا جارہا ہے ’’یا محمدؐ جھولی بھر دو…‘‘ دیہاتی زبان میں ’’آپ بھر دو‘‘ بھی کہہ لیتے ہیں لیکن نہ تو یہ زبان فصیح ہے اور نہ ہی بے عیب۔ اس جملے میں شتر گربہ کا عیب ہے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تخاطب ہونے کے باعث توہین آمیز بن جاتا ہے۔
سورۂ حجرات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔‘‘ (کنزالایمان)
اس شعر میں شاعر نے خود کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر پایا ہے جہاں سے خالی ہاتھ لوٹ جانا اسے گوارا نہیں ہے۔ پھر نواسوں کا صدقہ طلب کیا ہے۔ یہ کسی حدیث وغیرہ سے ثابت نہیں ہے کہ آپؐ نے کسی امتی کو اپنے نواسوں کا صدقہ کھلایا ہو۔مزید برآن یہاں جھولی بھرنے اور صدقہ لینے کا سوال کیا گیا ہے جو سراسر مادی اشیا‘ مال و دولت اور دنیاوی اسباب کا سوال ہے۔ کسی روحانی فیضان یا تقویٰ کے حصول کا زکر نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ قرآنِ کریم میں خالی دنیا طلبی پر آخرت برباد ہو جانے کی وعید ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیںدنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔‘‘ (البقرہ‘ آیت 200‘ ترجمہ کنزالایمان) ’’لوٹ کر میں نہ جائوں گا خالی‘‘ میں ضد کا سا انداز ہے جو بہت بڑی جسارت ہے۔ یہ شعر اگر کسی مجذوب کا ہے تو ٹھیک (مجذوب پر شریعت کا اطلاق نہیں ہوتا) لیکن اس کو پڑھنے‘ سن کر جھومنے اور کی تشہیر کرنے والے ہر صاحبِ عقل و ہوش انسان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔ اتنے عیب ہونے کے باوجود اس کلام پر لوگ جھومتے ہیں اور نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔ آج کل نعت خواں بھی یہ کلام پڑھنے لگے ہیں۔
بہت سے شعرا قبر‘ حشر اور قیامت کے احوال پر مبنی متن تخلقیق کر دیتے ہیں جو سراسر خیال مضمون ہوتا ہے اور ظاہر ہے نرا جھوٹ ہے۔ جیسے پروفیسر اقبال عظیم نے کہا:

کیا خبر کیا سزا مجھ کو ملتی میرے آقاؐ نے عزت بچا لی
فردِ عصیاں مری مجھ سے لے کر کالی کملی میں اپنی چھپا لی

یاد رہے کہ فرد عصیاں دنیا میں کسی کے ہاتھ نہیں لگتی۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور ہر انسان کا معاملہ یہ ہے کہ لٹکا دی ہے ہم نے اس کی تقدیر اس کی گردن میں اور نکالیں گے ہم اس کو دکھانے کے لیے روزِ قیامت ایک نوشتہ‘ پائے گا وہ جسے کھلی کتاب کی مانند۔ پڑھ اپنا اعمال نامہ۔ کافی ہے تو خود ہی آج اپنا حساب لگانے کے لیے۔‘‘
ان آیاتِ قرآنی کی موجودگی میں قیاس پر مبنی کوئی بھی ڈرامائی انداز کا بیان‘ کسی بھی صورت مستحسن نہیں ہو سکتا۔ شاعر کا خیال الفاظ کی بندش اور شعر کی مجموعی فضا کے حوالے سے منصۂ شہود پر آتا ہے‘ یہاں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ایک واقعے کی صورت میں مرئی (Visual) بنایا گیا ہے۔ عوامی سطح پر تو اقبال عظیم کا یہ شعر بہت مقبولیت پا چکا ہے لیکن اہلِ علم کے نزدیک اس میں سقم ہے۔
علامہ اقبال جیسے زیرک اور بیدار مغز شاعر نے بھی پہلے پہل ایسے نعتیہ اشعار کہے تھے جو بعد میں انہیں خود ہی حذف کرنے پڑے۔ ان کی حیاتِ دنیوی میں وہ اشعار کسی کتاب میں شامل نہیں کیے گئے بعد میں محققین نے ان اشعار کی تحفیظ کا فریضہ انجام دیا:

اس نے پہچانا نہ تیری ذاتِ پر انوار کو
جو نہ سمجھا احمدِ بے میم کے اسرار کو
٭
قاب قوسین بھی‘ دعویٰ بھی عبودیت کا
کبھی چلمن کو اٹھانا‘ کبھی پنہاں ہونا
٭
نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے پردۂ میم کو اٹھا کر
وہ بزم یثرب میں آ کے بیٹھیں ہزار منہ کو چھپا چھپا کہ
٭
ہم جانتے ہیں میم کے پردے میں کون ہے
ہاں بھید یوں منہ نہ چھپایا کرے کوئی

ان تما اشعار میں ’’احمد‘‘ کے ’’میم‘‘ کو ہٹا کر حضور اکرمؐ کی ذاتِ والا صفات کو ’’احد‘‘ کے درجے پر فائز دیکھنے کی خواہش ہے جو معرفت کی زبان میں ’’حقیقتِ محمدؐ‘‘ کے ظہور کا نقطہ ہے‘ لیکن اس کی غلط تفہیم کے باعث ہماری شاعری میں اس طرح کے خیالات گردش کرتے رہے ہیں مثلاً محسن کاکوری نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا لکھا ہے:

حقا کہ وہ جسم سر سے تا پا
ہے شاہدِ غیب کا سراپا
دیکھا ہے خدا نے اپنا عالم
آئینہ بنا کے قدِ آدم
کھینچی بکمال حسنِ تدبیر
نقاشِ ازل نے اپنی تصویر

یا آسی غازی پوری کا بڑا مشہور ہے:

وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

تاہم اقبال نے اپنے وہ اشعار حذف کرکے اپنے تنقیدی شعور کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ بعد میں ان کی شاعری میں باقاعدہ نعت تو شامل نہیں ہوسکی لیکن مجموعی طور پر ان کی شاعری کے پس منظر میں یا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رہا یا تعلیمات محمدیہ علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ السلام کا ظہور ہوا۔ مثالوں کی یہاں گنجائش نہیں ورنہ تفصیل سے بتاتا کہ اقبال نے نعتیہ شاعری کو کن کن زاویوں سے مالا مال کیا ہے۔
نعت ایک بہت ہی نازک صنفِ شعر ہے‘ اس کا متن بھی قابل قبول ہونا چاہیے اور اسلوب بھی۔ سخنِ نعت میں ادبی اور شرعی معیارات کی کمی کی وجہ سے ادبی اور دینی و علمی حلقوں میں نعتیہ ادب کی پزیرائی کے امکانات ہمیشہ بہت کم رہے ہیں۔ اب فضا بدل رہی ہے تو نقدِ نعت کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ آج کل بعض نعت خواں حضرات بھی نعت گوئی کی طرف مائل ہو رہے ہیں حالانکہ (بعض مستثنیٰ Exceptions صورتوں کے علاوہ) انہیں نہ تو نعتیہ شاعری کی شرعی نزاکت کا علم ہوتا ہے اور نہ ادبی لحاظ سے ان کا مطالعہ‘ مشاہدہ اور مشقِ سخن ایسی ہوتی ہے کہ وہ ایک بھی ڈھنگ کا شعر کہہ سکیں۔ لیکن نعتیہ محافل میں ان کی آواز کا جادو چل جاتا ہے۔ مجھے حیرت اس وقت ہوتی ہے جب بعض علما بھی ان کی نیم پختہ اور بے وزن شاعری پر یا تو سر دھنتے ہیں یا خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ کاش علما اور نعت کے عمومی Audience میں کلام کے حُسن و قبح کو سمجھ کر اچھے کلام کی تحسین کرنے اور کمزور کلام کی اصلاح کے خیال سے نعت خواں کو ٹوکنے کا داعیہ پیدا ہوجائے۔ نعتیہ محافل کی Commercialization کے ماحول نے نعت کے حُسن و قبح کو مخلوط کر دیا ہے۔ اللہ خیر فرمائے‘ آمین۔ نعتیہ کتب پر انعامات کے سلسلے نے بھی بعض شہرت طلب شعرا کو عجلت میں کتابیں چھاپنے اور انعامات حاصل کرنے لیے دوڑ دھوپ کرنے میں مصروف کر دیا ہے۔ انعامات کے لیے کتب کی جانچ کی غرض سے ایسے منصفین کی تلاش رہتی ہے جو شعرا کے لیے دلوں میں نرم گوشہ رکھتے ہوں۔

نعت نگاری میں تنقید کی روایت قرنِ اوّل سے ملتی ہے، ڈاکٹر شہزاد احمد

جسارت سنڈے میگزین: ڈاکٹر شہزاد احمد صاحب یہ بتایئے کیا نعت نگاری میں تنقید کی گنجائش نکلتی ہے؟
ڈاکٹر شہزاد احمد: اسلامی فکر کے مطابق ایک سچا مسلمان ہونے کے لیے خدا پر ایمان لانے کے ساتھ رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار بھی لازمی ہے اسی تناظر میں شعرائے کرام نے شعر و سخن کے گلشن سجائے ہیں چنانچہ نعت کا اطلاق ایسے کلام پر کیا گیا جس میں آخری پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہو اور ان سے والہانہ محبت کا اظہار کیا گیا ہو‘ نعت کے لیے صنفِ شعر کی کسی ہیئت کی پابندی نہیں یہ شاعر کا اپنا مزاج ہے کہ وہ اپنے جذبات و احساسات کو اصنافِ سخن کے کس قالب میں سموتا ہے۔ نعت گوئی کی مستقل روایت عربی اور فارسی سے اردو زبان میں آئی ہے۔ اردو نعت کا باقاعدہ آغاز گیارہویں صدی ہجری میں ہوا‘ اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شعر سلطان محمد قلی قطب شاہی نے نعت کی مستقل حیثیت کو متعارف کرایا‘ ان کی کلیات میں نعت کے نادر نمونے شامل ہیں۔ نعت گوئی کا جدید دور 1857ء کی جنگ آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے اس دور میں نعت نگاری کے نئے نئے امکانات سامنے آئے نعت میں نیا طرزِ احساس‘ اجتماعی شعور اور تازہ لَے سنائی دینے لگی۔ قیام پاکستان کے بعد ہمارے یہاں بھی نعت نے مسرت افزا ترقی کی۔ راقم الحروف کے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شہزاد نے کہا کہ لفظ محمدؐ کے منتخب ہوتے ہی نعت کا آغاز ہو چکا تھا کیوں کہ لفظ محمدؐ کے معنی ہیں ’’بہت تعریف کیا گیا۔‘‘ نعت کہتے وقت یہ خیال بھی رکھنا ضروری ہے کہ کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ نعت گو شاعر اور تنقید نگار کو شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فکری رجحانات کو پیش کرنا چاہیے۔ نعت نگاری میں تنقید نگار اپنی طرف سے مفروضے قائم نہیں کرے گا۔ نعت نگاری میں تنقید کی روایت قرنِ اوّل سے ملتی ہے اس کے مظاہر و شواہد مختلف صدیوں میں ملتے ہیں نعت تنقید کی گنجائش اب بھی ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی رہے گی۔ پاکستان میں تخلیق ہونے والا نعتیہ ادب پوری دنیا میں قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے۔ اب نعت کے متفرق موضوعات پر تحریکی انداز میں روز و شب کام ہو رہا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام نعتیہ ادب کے کاموں کو ایک مرکز پر لایا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس کے اثرات و برکات سے مستفید ہوتی رہیں۔ پاکستانی نعت گو شعرا کے حوالے سے پاکستان میں سب سے پہلی کتاب ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ ہے۔ 1974ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کے تخلیق کار پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری ہیں تاہم جنوری 1974ء میں انڈیا کے ڈاکٹر طلحہ رضوی کی نعتیہ شاعری کو ہم انڈیا میں نعت کی پہلی کتاب کہہ سکتے ہیں۔ 1976 میں ڈاکٹر سید رفیع الدین اشفاق کا ڈاکٹریت کا مقالہ اردو میں نعتیہ شاعری کراچی سے شائع ہوا تھا اس پر فاضل مقالہ نگار کو 1955 میں ناگپور (بھارت) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل چکی تھی۔ نعتیہ تذکرہ نگاری کے حوالے سے سب سے پہلا تذکرہ ’’اردو میں نعتیہ شاعری کے سات سو سال‘‘ جو حمایت علی شاعر کا تحریر کردہ ہے جس کو سندھ یونیورسٹی جام شورو نے 1978 میں شائع کیا تھا‘ میں یہاں یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر قیامت تک انتہائی شان و شوکت سے منظوم ہوتا رہے گا کیوں کہ اس کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ اپنے نبیؐ کا ذکر بلند کرتا رہے گا۔ جو لوگ نعت کے فروغ میں مصروف عمل ہیں وہ قابل مبارک باد ہیں کہ نعت نگاری باعث ثواب اور عین عبادت ہے۔

حصہ