فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّ بٰنِ

132

افروز عنایت
اُف صبح سے ہی سر بھاری بھاری ہے، طبیعت بڑی بوجھل، سر میں درد، گھبراہٹ۔ کہیں کچھ غلط تو نہیں کھا لیا…! یہ سوچ کر میں سارے کام چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ سامنے ماسی بڑی بے دلی سے الٹے سیدھے ہاتھ مار کر صفائی کررہی تھی لیکن مجھ میں ہمت نہ تھی کہ میں اُسے کچھ کہتی۔ اس نے موقع غنیمت سمجھا اور آدھے گھنٹے میں سارا کام نمٹا کر بولی ’’باجی! کام ختم ہوگیا، میں جائوں؟ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ناں؟‘‘
’’ہاں… ہاں… ٹھیک ہوں، تم جائو، اور ہاں دروازہ اچھی طرح بند کرکے جانا…‘‘ میں نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ اُس نے دروازہ اچھی طرح بند کیا تھا۔ سوچا اس طرح بیٹھنے سے بہتر ہے کچھ کام ہی نمٹا لوں۔ یاد آیا کل مسالے لے کر آئی تھی، انہیں جار (بوتلوں) میں نکالنے کے لیے رکھنا تھا، لہٰذا مسالوں کے شاپر سے سرخ مرچ پائوڈر کا پیکٹ نکال کر جار میں انڈیلا… مرچوں کی خوشبو ناک میں پہنچی تو دھڑا دھڑ چھینکیں شروع ہوگئیں۔ دس بارہ چھینکوں سے ہی میری طبیعت میں نمایاں فرق آگیا۔ تھوڑی دیر پہلے جو سر چکرا رہا تھا، طبیعت میں بے چینی تھی سب رفو چکر ہوچکی تھیں۔ فوراً میری زبان سے نکلا ’’الحمدللہ… سبحان اللہ…‘‘ جی ہاں میری یہ عادت رہی ہے کہ روزانہ صبح سات آٹھ چھینکیں آجاتی ہیں اور دماغ کھل کر روشن ہوجاتا ہے۔ آج صبح چھینکیں نہیں آئی تھیں جس کی وجہ سے یہ ساری تکلیفیں تھیں۔
سورۃ رحمن کی آیت کانوں میں گونج رہی تھی ’’اور تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔‘‘ یہ حقیقت ہے کہ رب العزت نے بندے کو اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، اس کا زیادہ احساس اسی وقت ہوتا ہے جب ہمیں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ چھینکوں کا آنا، نزلہ بہنا، یہ بھی اللہ کی نعمت ہے، سبحان اللہ۔ اسی لیے چھینکنے کے بعد ہم بے اختیار ’’الحمدللہ‘‘ کہتے ہیں۔
دماغ کو سکون ملا تو میں پھر باورچی خانے کی طرف آگئی۔ دوپہر کے لیے مکس سبزیوں کا سالن اور رات کے لیے چکن کا سالن بنا لیا۔ بڑی بہو شائستہ نیچے اتری تو مجھے باورچی خانے میں دیکھ کر پوچھنے لگی ’’امی! دوپہر میں کیا بنانا ہے؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’بیٹا میں دوپہر اور رات کے لیے سالن تو بنا چکی ہوں، بس آپ ایک کام کردیں، تھوڑی پیاز باریک کاٹ دیں، کل دوپہر کے کھانے میں مہمان آرہے ہیں تو ابھی سے ہم لوگ ایک آدھ سالن بنالیں…‘‘
غرض کہ مزید ایک گھنٹے میں میرے تین سالن تیار تھے۔ ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔ یہ عدینہ کے اسکول سے آنے کا وقت تھا۔ دروازہ کھولا تو عدینہ نے زور سے سلام کیا اور اندر کمرے میں جانے لگی۔
’’دادا آگئے نماز پڑھ کر…؟‘‘
’’نہیں آپ کے دادا ابھی واپس نہیں آئے، آپ پہلے کپڑے تبدیل کرکے آئیں، پھر دادا کو سلام کرنے آیئے گا۔‘‘ عدینہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ مجھے اس پر بڑا پیار آیا اور رب کا شکر ادا کرنے لگی… الحمدللہ۔
بے شک نیک اولاد اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھے۔ میز پر ٹھنڈا پانی، سلاد، مکس سبزیوں کا سالن اور گرم گرم روٹیاں دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہوئی۔
الحمدللہ… سبحان اللہ… بے شک میرے رب کی نعمتیں ہم سب کو نصیب ہے، شکر الحمدللہ جس نے انواع و اقسام کے کھانے اور ٹھنڈا پانی نصیب کیا، اس گرمی میں یہ پانی مثلِ آبِ حیات ہے… سبحان اللہ… اللہ، تیری کن کن نعمتوں کو جھٹلائیں! ہم ہر گھڑی تو تیری نعمتوں سے فیض حاصل کررہے ہیں۔
…٭…
ایک چھت تلے بچوں کے ساتھ کھانا تناول کیا۔ سبحان اللہ، یہ لمحے ہر ایک کو تو نصیب نہیں۔ بے شک اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائیں! کھانے سے فارغ ہوکر میں اپنے کمرے میں آگئی۔ کشادہ ہوا دار کمرہ، آرام دہ بستر… میں اپنا رائٹنگ پیڈ (کالم لکھنے کا رجسٹر) لے کر بیڈ پر تکیے سے ٹیک لگا کر لکھنے میں مگن ہوگئی۔ آدھے گھنٹے میں ہی آنکھیں نیند سے بوجھل ہوگئیں… رجسٹر بندکرکے میں آنکھیں موند کے لیٹ گئی۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر، کل کی دعوت کے لیے بھی آدھے سے زیادہ کھانا تیار ہے… صبح میری طبیعت کتنی بوجھل تھی لیکن اس کے بعد اللہ تیرا کرم کہ تُو نے اس عمر میں اتنی طاقت و ہمت دی کہ باورچی خانے میں گرمی کے باوجود میں چار، پانچ ڈشیں بنانے کے قابل ہوئی۔ الحمدللہ! اے اللہ یہ صحت، یہ ہمت اور طاقت تُو نے ہی دی جس کی بہ دولت میں سب کر پائی… پھر اپنا کالم یاد آگیا… میں مسکرائی۔ یارب العزت خوبی بھی تو تُو نے ہی دی ہے… شکر الحمدللہ۔ میرے مولا! تُو نے اپنے ہر بندے کو خوبیوں اور انعامات سے نوازا ہے، مجھے بھی ان انعامات سے محروم نہیں رکھا… شکر الحمدللہ… اللہ کا شکر ’’اور تیری کن کن نعمتوں کو جھٹلائیں…‘‘ کا ورد زبان پر جاری تھا کہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ ایک گھنٹے کی پُرسکون نیند سے دن بھر کی تھکن دور ہوگئی تھی۔ یاد آیا آج جمعرات ہے، درود اور درس کی کلاس ہے، لہٰذا جلدی سے باتھ لے کر تیار ہوکر نمازِ عصر ادا کی۔ رب العزت تیرا شکر، تُو نے ہر نعمت سے نوازا ہے۔ کراچی میں جگہ جگہ اس گرمی میں پانی کی کمی کی وجہ سے پریشانی ہے، اللہ تُو نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے… روز نہانے کے لیے، پاکیزگی کے لیے پانی میسر ہے۔ محفلِ درود اور درس میں بیس، پچیس خواتین تھیں۔ یہاں ہمیں استاذہ کنیز کی رہنمائی میں بہت کچھ (دینی علم) سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر میں نے رب کا شکر ادا کیا کہ گھر سے دو قدم کے فاصلے پر اللہ نے مجھے یہ سہولت عطا کی ہے کہ میں بآسانی یہاں آکر کچھ ’’حاصل‘‘ کرتی ہوں… الحمدللہ۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی محفل کا اختتام ہوا اور خواتین نماز کے لیے کھڑی ہوگئیں۔ اس وقت یہاں تقریباً پچیس خواتین موجود تھیں جن میں اکثریت کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہی تھی۔ الحمدللہ، میں نے رب کا شکر ادا کیا کہ رب العزت تُو نے مجھے اس قابل کیا ہے کہ کم از کم نماز کے لیے تو فرش پر بیٹھ سکتی ہوں اور تیرے حضور ماتھا ٹکا کر سرگوشیاں کرسکتی ہوں… یہ تیرے مجھ گناہ گار پر کتنے احسانات ہیں۔ گھر واپس آئی تو دونوں بیٹے آفس سے آگئے تھے… دونوں نے ایک محبت کی نظر مجھ پر ڈالی اور احترام سے سلام کے بعد سوال کیا کہ آپ نے دیر کیوں کی آنے میں؟ میں نے ہنس کر کہا ’’ہمیشہ اسی وقت تو آتی ہوں۔‘‘ بچوں کی سعادت دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا کہ یااللہ تُو نے اولاد جیسی خوب صورت نعمت سے نوازا جو نیک اور صالح بھی ہیں۔
…٭…
رات کھانے کی میز پر سب جمع تھے۔ بہو، بچے، شوہر… سب نے مل کر کھانا تناول کیا۔ اس دوران مختلف ضروری گفتگو بھی جاری رہی۔ عبداللہ نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ کا فون آیا تھا، ہمارا عمرے کا ویزا لگ گیا ہے اور الحمدللہ ہماری منشا پر حدودِ حرم میں قیام کے لیے ہوٹل کا بندوبست بھی ہوگیا… اس سے پہلے ٹریول ایجنٹ نے بالکل معذرت کی تھی کہ شعبان کا آخری عشرہ ہے اس لیے حرم کے نزدیک کسی بھی ہوٹل میں انتظام نہیں ہو پارہا۔ گرمی، ساتھ میں بچے بھی تھے اور دور سے ہر نماز کے لیے چل کر حرم میں آنا میرے لیے تکلیف کا باعث تھا… اور اب جو میں نے یہ سنا تو ایک مرتبہ پھر اللہ کا شکر ادا کیا کہ جس نے مجھے اتنی آسانیاں فراہم کی ہیں اور اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ کھانے کی میز پر ہی واصف نے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ اس نے دوسری ملازمت کے لیے جو انٹرویو اور ٹیسٹ دیا تھا اس میں اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے… الحمدللہ۔ اللہ اپنے بندوں کو بے حساب نوازتا ہے۔
…٭…
رات کو سونے کے لیے لیٹی تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑیں۔ یہ صرف ایک دن کی مختصر روداد ہے جو میں نے ان سطور کے توسط سے آپ قارئین سے شیئر کی، کہ کس طرح رب کریم ہم بندوں کو بے حساب نعمتوں سے نوازتا ہے… ہم تو اس کے محتاج ہیں، ایک پتّا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا، ہم تو اپنی مرضی سے آنکھیں بھی نہیں جھپکا سکتے۔ ہر قدم پر اللہ کی بے شمار نعمتیں ہمیں میسر ہیں … صرف اپنے جسم پر ایک نگاہ ڈالیں اور جائزہ لیں تو ہزاروں بلکہ اس سے بھی زیادہ، رب العزت کے کرشمے نظر آتے ہیں۔
کل ہی کی بات ہے، بیٹی نے فون کیا: حمزہ کو دو دن سے بے چینی اور پیٹ میں درد تھا، جس کی وجہ سے نہ صحیح طرح سے کھا رہا تھا نہ سو پا رہا تھا۔ اسے گرائپ واٹر دیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت کی بے چینی ختم ہوئی ہے۔ یعنی انسانی جسم کا نظام ہی رب العزت کا بڑا کرشمہ ہے… سبحان اللہ۔ ہم تمام دن اس کی نعمتوں کی گنتی کریں اور شکرانے ادا کریں پھر بھی کم ہے… وہی تو ہے جو رات کے بعد دن، اور دن کے بعد رات لاتا ہے۔ رات کی نیند (جو وقتی موت ہے) کے بعد دوبارہ جگاتا (زندہ کرتا) ہے۔ اس کے حکم اور اشارے سے اِس دنیا کا سارا نظام جاری و ساری ہے۔ سبحان اللہ۔ بے شک انسان اپنے چاروں طرف پھیلی اللہ کی ان بے شمار نعمتوں کو کیسے جھٹلا سکتا ہے!
’’پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔‘‘ ان نعمتوں کو یاد کرتے ہی بندے کا سر رب کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے… سبحان اللہ۔

حصہ