آصف زرداری، حمزہ شہباز اور الطاف حسین کی گرفتاریاں

88

جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ نواز کے پنجاب میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز، اور لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گرفتاری پر وزیراعظم عمران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ
’’اللہ تعالیٰ کو پاکستان پر رحم آ گیا ہے۔ جو لوگ پکڑے جارہے ہیں اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔‘‘
عمران خان بحیثیت وزیراعظم زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کس بات سے انہیں اور ان کی حکومت کو فائدہ ہوگا، اور کس عمل اور امر سے انہیں نقصان ہوگا۔ جبکہ قوم دس ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی واضح تبدیلی رونما نہ ہونے سے مجموعی طور پر غیر مطمئن نظر آتی ہے، اور یہ سمجھنے لگی ہے کہ عمران خان اور ان کی حکومت کے ذمے دار دونوں ہی نااہل ہیں، اس لیے ان سے جلد چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔
بہرحال جعلی بینک اکائونٹس کے مقدمے میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری سے ملک کی سیاسی صورت حال حکومت کے لیے مثبت تبدیلی سے کم نہیں تھی۔ اس تبدیل شدہ صورت حال میں لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گرفتاری سے حکومت کو مزید فائدہ ہوا۔ اپوزیشن کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ کم ہوا۔ حکومت نہ صرف بآسانی بجٹ پیش کرنے میں کامیاب ہوئی، بلکہ اب وہ اسے منظور بھی کرا سکتی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کی جانب سے ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ اس بجٹ کو منظور ہونے نہیں دے گی۔
دوسری طرف کرپشن کے خلاف جاری نیب کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود آصف علی زرداری اور دیگر بڑے سیاسی عناصر کی گرفتاریاں نہ ہونے کی وجہ سے عوام یہ سوچنے لگے تھے کہ یہ احتسابی کارروائیاں بھی سب ڈراما اور وقتی ہیں، یا پھر نوازشریف اور اُن کے خاندان تک محدود ہیں۔ لیکن آصف علی زرداری کے بعد حمزہ شہباز کی گرفتاری سے قوم کو یقین آنے لگا ہے کہ احتساب کا جاری عمل مخلصانہ اور بغیر امتیاز کے چل رہا ہے۔
آصف علی زرداری کی گرفتاری پیرکو اسلام آباد سے اُن کی رہائش گاہ زرداری ہائوس سے عمل میں لائی گئی۔ ان کی گرفتاری جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد عمل میں لائی جاسکی ۔ چونکہ آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہی کورٹ روم سے خاموشی سے باہر نکل کر زرداری ہاؤس واپس پہنچ گئے تھے، اس لیے نیب کو سہ پہر انہیں زرداری ہائوس سے گرفتار کرنا پڑا۔ آصف زرداری ریمانڈ پر نیب کی حراست میں ہیں۔ عدالت نے انہیں 21 جون تک تحقیقات کے لیے نیب کے سپرد کیا ہے۔
آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں فریال تالپور کو بھی کسی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس مقدمے میں ملوث پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور دیگر کو بھی ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی مدت ختم ہونے کے بعد کسی بھی وقت گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔
بہرحال مذکورہ رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرپشن کے خلاف جاری احتساب کا عمل اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔
اس عمل سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز واضح طور پر کرپشن کے مقدمات اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات میں گرفت میں آچکی ہیں۔ مگر ابھی الزامات ثابت ہونا باقی ہیں۔ الزامات ثابت ہونے اور سزا ہونے کے باوجود سزا معطل کیے جانے کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ حالانکہ قوم اُس دن کا انتظار کررہی ہے جب ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی۔ نیب کی اور حکومت کی اصل کامیابی بھی اُسی وقت مانی جائے گی۔
آصف زرداری اور نواز شریف کی گرفتاریوں سے بلاول زرداری اور مریم نواز کو پارٹی چلانے اور اپنی سیاسی تربیت کا بہترین موقع مل گیا ہے۔ تاہم دوسری طرف آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد متوقع بھرپور ردعمل سامنے نہ آنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے اندر اختلافات کی اطلاعات کو تقویت مل رہی ہے۔ ادھر حمزہ شہباز کی گرفتاری پر پنجاب میں بھی کوئی خاص ردعمل نہ ہونے سے یقینا پی ٹی آئی کی حکومت سے وابستہ لوگ بغلیں بجا رہے ہوں گے یا اس کی تیاری کررہے ہوں گے۔
دوسری طرف برطانیہ میں الطاف حسین کی منگل کو گرفتاری کے بعد بدھ کو ضمانت پر رہائی سے ایک بار پھر یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اب بھی الطاف حسین کی حمایت کررہی ہے حالانکہ پاکستان میں ان کی بنائی ہوئی ایم کیو ایم کی کشتی ڈوب چکی ہے۔ اب الطاف حسین کی کھل کر حمایت کرنے والوں کو بھی تلاش کرنا پڑتا ہے۔
آصف زرداری، الطاف حسین اور نوازشریف عمر کے اس حصے میں داخل ہوچکے ہیں جس میں بیماریاں گرفت میں لے لیتی ہیں۔ مگر تینوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ بیماریوں کے ساتھ تینوں قانون کی گرفت میں بھی آچکے ہیں، جس سے ایسا شبہ ہورہا ہے کہ تینوں کی سیاسی زندگی کا خاتمہ قریب ہے۔

کیا حکومت کےخلاف بھر پور تحریک چلائی جاسکے گی؟

چونکہ آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری کے بعد سے اب تک کوئی خاص ردعمل اور کارکنوں کا غصہ سامنے نہیں آرہا، اس لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے حکومت کے خلاف عید کے بعد شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک شروع ہوئے بغیر ہی ختم ہوتی نظر آرہی ہے، جو حکومت کے لیے خوش آئند بات ہے۔ گمان ہورہا ہے کہ مذکورہ دونوں جماعتوں کے کارکن بھی نیب کی کارروائیوں کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ سچ تو یہی ہے کہ سیاسی کارکن اب بہت سمجھ دار ہوچکا ہے۔ وہ بھی اپنے رہنماؤں سے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کا سلیقہ اور طریقہ سیکھ چکا ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ بار بار حکومتوں میں رہنے والی جماعتوں کے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ترجیحی بنیاد پر صرف کڑے احتساب کے سلسلے کو ختم کرنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں ماضی کی طرح ایک بار وہ سب کچھ نہیں تو کم ازکم بقا کا موقع مل سکے۔ ان دونوں جماعتوں اور ان کی حامی پارٹیوں کو ملک اور قوم کے امور سے کوئی دلچسپی کل تھی اور نہ آج ہے۔ قوم اگر انہیں منتخب کرتی بھی رہی تو یہ اس کی مجبوری سمجھی جاسکتی ہے۔

حصہ