یہ بچہ کس کا ہے؟۔

58

عبدالواحدہاشم سینہڑو
بچپن سے ہی‘ جب ہمارے گھر میں ریڈیو اطلاعات کے لیے اہتمام سے سنا جاتا تھا، ایک پروگرام اب تک میرے کانوں میں گونجتاہے ’’ یہ بچہ کس کا ہے ؟‘‘
اب جیسا کہ میں کراچی میں شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوں تو یوں محسوس کرتا ہوں کہ معاشرے کا ہربچہ زبان حال سے اپنے بارے میں یہی سوال کررہا ہے کہ یہ بچہ کس کا ہے ؟
تعلیم انسان کی ضرورت ہے اور تعلیم کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے اور بے مقصد ہے لیکن اگر تعلیم صرف اور صرف ڈگری کے حصول یا معاش کی دوڑ کے لیے گھوڑے کی تیاری ہو تو اس طرح کی تعلیم انسانی معاشرے اور انسانیت کے لیے قاتل بن جاتی ہے۔
میں نے آپ کے سامنے جو تمہید باندھی ہے اس کی تفصیلات سے آپ ضرور متفق ہوں گے۔ صبح جاگنے سے لے کر رات کو سونے تک جب ہم بچے کی معمولات کا جائزہ لیں تو وہ اس طرح ہوتا ہے کہ بچہ اُس وقت جاگتا ہے یا اٹھایا جاتا ہے جب لوگ فجر کی نماز کے لیے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت بچے کوفارمی مرغی کی طرح وین میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ وہ وین کے رحم و کرم پر جب آنکھ کھول کر دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اسکول میں پاتا ہے جہاں کچھ مرد اور زیادہ خواتین ہیں جو کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے لباس اور شخصیت کی نمائش کرتے ہیں۔ جنہں سر یا مس کہا جاتا ہے، وہ کلاس میں آتے ہیں کچھ رٹواتے ہیں، کچھ لکھواتے ہیں… یوں چھٹی کا وقت ہو تا ہے پھر مرغوں کی طرح لڑتے ہوئے وین کے ذریعے گھر پہنچتے ہیں۔ امی نے کھانا تیار کیا ہوتا ہے لباس تبدیل کرکے کھانا کھا کر مدرسے جاتا ہے وہاں بھی روایتی انداز میں جھوم جھوم کر کچھ الفاظ پڑھ کر گھر آتا ہے۔ پھر ٹیوشن کی تیاری ہوتی ہے ٹیوشن سے واپس آتا ہے تو اس وقت عشاء ہوچکی ہوتی ہے اور بچہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور مختلف اقسام کے ڈرامے فلمیں اور کارٹون دیکھتا ہے اور سوجاتا ہے۔ یوں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچے نے پڑھا کیا؟ سیکھا کیا؟ اس کا ذہن سوچے گا کیا؟
معاشرے کی معاشی دوڑ کا مزید نقشہ پھیلاتے ہیں تو وین والا کم از کم معیار میں زیادہ سواریاں بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور گنجائش سے زیادہ بچے سوار کرتا ہے جس کے منفی اثرات بچہ بھی محسوس کرتا ہے عموماً ڈرائیور حضرات گالم گلوچ کرتے ہیں، گانے چلاتے ہیں یہ بھی ایک منفی پہلو ہے۔
اسکول کھولنے کا عمومی مقصد پیسہ کمانا ہے، کمائی کی اس دوڑ میں بچہ بطور چارہ استعمال ہوتا ہے‘ اسکول میں بچے کے معیار سے زیادہ اس کے پیسے کا معیار دیکھا جاتا ہے، یونیفارم، کتابیں ، کاپیاں، اسٹیشنری نئے ناموں سے دن منانا سب کے سب کمائی کے ذرائع ہیں۔ اساتذہ کا معیار کم تنخواہ اور ظاہر چرب زبانی اور خوب صورتی دیکھی جاتی ہے کتاب کا معیار یہ ہے کہ کمیشن کتنا ملے گا۔
قرآن مجید پڑھانے اور پڑھنے کا عمومی رجحان بھی ایسا ہے کہ پڑھنے اور پڑھانے والا اپنا وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔
ٹیوشن بنیادی طور پر ایک ایسی سرگرمی ہے جو والدین نے بچوں پر مسلط کر رکھی ہے۔ تعلیم والدین کی ذمے داری ہے لیکن آج کے والدین اولاد سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے ادارے میں ایک خاتون اپنے بچے کو داخل کروانے کے لیے آئیں ان کا مؤقف تھا کہ میں اپنے بچے کو شام تک کسی جگہ بٹھانا چاہتی ہوں… کس لیے؟ جب ان سے سوال کیا گیا تو اُن کا جواب تھا کہ یہ گھر میں بہت تنگ کرتا ہے۔
یہ ہمارے معاشرے کے والدین کا عمومی رجحان ہے کہ ہم خواہشات کے پیچھے اپنی اور بچوں کی دنیا اور آخرت خراب کررہے ہیں اور ہم معاشی دوڑ میں اتنے مصروف ہیں کہ بچوں کے لیے وقت نہیں نکالتے جب کہ معاش کے پورا نہ ہونے کا بہانہ بھی یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کررہے ہیں۔
محترم قارئین کرام اگر آج بچے کے اوپر ہم نے توجہ نہیں دی تواللہ کے ہاں توجواب دہی ہے ہی لیکن کہیں دنیا میں ہی ہمیں کسی اولڈ ہاؤس کامنہ نہ دیکھنا پڑ جائے۔

حصہ