علم کی اہمیت

30

انعم مزمل
علم کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہ ہر انسان کا حق ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ علم کی وجہ سے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ ملا۔ دنیا کے تمام مذاہب میں علم کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسلام میں بھی علم کو خاص اہمیت دی گئی ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو اور خدائے واحد کو پہچان سکے۔
اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو تمام تخلیقات پر فوقیت دی اور تمام چیزوں کو اس کے ماتحت کیا، کیوں کہ وہ علم کی وجہ سے ہی ان سب سے اعلیٰ ہے۔ قرآن مجید کی سورہ مجادلہ میں اللہ رب العزت نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عزت و مرتبہ عطا فرمائے گا جو ایمان رکھتے ہیں، اور جس نے ان کو علم عطا کیا۔‘‘
ایک جگہ شیخ سعدیؒ نے فرمایا ’’بچہ جو تعلیم و تربیت ابتدائی چند برسوں میں حاصل کرتا ہے، وہی اس کی زندگی کا قیمتی اثاثہ ہے‘‘۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل ہی علم کی اہمیت جان کر فرمایا تھا کہ ’’اگر علم حاصل کرنے کے لیے تمہیں چین (دور دراز ملک اُس زمانے میں) بھی جانا پڑے تو جائو۔‘‘ تعلیم کا مطلب صرف نصابی تعلیم نہیں، بلکہ کردار اور اخلاق کی تربیت کرنا بھی ہے۔ تعلیم معاشرے کو بہترین اور باشعور شہری دیتی ہے۔ تعلیم ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے، جو قوم کو معاشی و معاشرتی استحکام اور سیاسی قابلیت دیتی ہے۔ تعلیم کا اوّلین مقصد ہمیشہ سے انسان کی ذہنی اور معاشی نشوونما کرنا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد صرف اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ تہذیب سیکھنا بھی ہے، تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقدار کا پاس رکھ سکے۔ یہ انسان کے کردار کو سنوارتی ہے۔ یہ ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی ہے۔ تعلیم ایک شخص کو ہی نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک معاشرے کو بہتر سانچے میں ڈھالتی ہے۔
ملک کی ترقی تعلیم یافتہ انسانوں کی ذہانت اور سوچ پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ فرد جتنا پڑھا لکھا ہوگا وہ اتنے ہی اچھے طریقے سے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرتے ہوئے بہتر سے بہتر ذرائع کو استعمال میں لائے گا۔ کسی بھی ملک کا طبقہ جتنا زیادہ پڑھا لکھا ہوگا، ملک کی ترقی کے لیے اتنا ہی زیادہ کام کرے گا۔ ہر ملک اپنے تعلیم یافتہ افراد کو آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کو استعمال میں لاتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ مغرب کی کامیابی تعلیم کی بدولت ہے اور مشرق کے زوال کی وجہ تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جن کی معیشت تباہ ہوگئی ہے اور وہ جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں، ان کا بجٹ دوسرے شعبوں میں تو اربوںکا ہے لیکن تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے غریب عوام کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ جب تک یہ ممالک تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، مغرب کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
اگر ہمیں اپنے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تو اس کے لیے اساتذہ کا مکمل تربیت یافتہ ہونا بھی بہت ضروری ہے، جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرسکیں، اور اس کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی مخفی صلاحیتوں کو بھی بیدار کریں اور انہیں علم و آگہی، نیز فکر و نظر کی دولت سے بھی آگاہ کریں۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمے داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا، اُن کے شاگرد آخری سانس تک اُن کے احسان مند رہے ہیں۔ اگر اس تناظر میں آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ تدریس کے پیشے کو بھی آلودہ کردیا گیا، جس کی وجہ سے اس عظیم پیشے کی کوئی اہمیت اور قدروقیمت نہیں رہی۔
حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے ایسے مواقع فراہم کرے کہ غریب بھی تعلیم سے استفادہ کرسکیں۔ جب تک تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہوگا اُس وقت تک معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم کی اہمیت جانے بغیر انسان پستی میں ہی رہے گا۔

حصہ