شریک مطالعہ “نقاط: کتاب نمبر” باذوق قارئین کے لیے تحفۂ خاص

69

نعیم الرحمن
قاسم یعقوب نے ’نقاط کتاب نمبر‘‘ کی صورت میں باذوق قارئین کو تحفۂ خاص پیش کیا ہے۔ ادبی جرائدکی تاریخ کا منفرد اور بے مثال نمبر جس میں کتاب کے متعلق عام قاری جو بھی سوچ سکتا ہے۔ وہ اس شمارے میں موجود ہے۔ فروغ مطالعہ کے لیے مدیرِ نقاط کی یہ انتہائی شاندار کاوش ہے۔ قاسم یعقوب نقاط کاایک اور بہت عمدہ ’’نظم نمبر‘‘ بھی پیش کر چکے ہیں۔ اس طرح نقاط کے سولہ شماروں میں دو بہترین اور منفرد خاص شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ فیصل آبادسے ’’الکلام‘‘، ’’آفرینش‘‘، ’’خیال‘‘ اور ’’زرنگار‘‘ جیسے عمدہ ادبی رسائل شائع ہو چکے ہیں۔ علامہ ضیا الحسن کا ’’زرنگار‘‘ غالباً اب بھی جاری ہے لیکن کراچی میں دستیاب نہیں۔ نقاط فیصل آباد سے تسلسل سے شائع ہونے والا واحد ادبی جریدہ ہے۔ 664 صفحات کے مجلد کتاب نمبر کی دو ہزار روپے قیمت قدرے زیادہ ہے لیکن اسے انتہائی خوب صورت طباعت نے صوری و معنوی حُسن سے آراستہ کر دیا ہے اور شان دار مواد کی وجہ سے یہ زیادہ قیمت گوارہ کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر اس اہم ترین شمارے کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانے کے لیے اس کا سستا ایڈیشن بھی شائع کیا جائے تو اچھا ہوگا۔
’’کتابیں اور اکیسواں خواب‘‘ کے عنوان سے اداریے میں قاسم یعقوب نے بالکل بجا کہا ہے کہ ’’کتابوں کی دوستی، ان کا ذکر اور ان کا مطالعہ جتنی اہمیت آج رکھتا ہے شاید اس پہلے کبھی نہیں تھا۔ کتاب مر رہی ہے‘ کتاب بدل رہی ہے‘ کتاب سے طلسماتی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں کتابوں کا ذکر کسی اندھیرے میں ٹمٹماتے دِیے کی لَو کو اونچا کرنے کے عمل سے کم نہیں۔ کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی، کتابوں سے پیارکرنے والے کم ہو گئے ہیں۔ انسان کا کتاب سے رشتہ کمزور نہیں ہوا، کتاب کو پہچاننے والے خال خال رہ گئے ہیں۔ کتاب نے صدیوں سے تحری رکو اپنی گود میں پرورش کی ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ہی واحد ذریعہ تھی جس نے انسان کے ثقافتی و تہذیبی اقدار کو بڑھانے اور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کتاب ختم نہیں ہوئی بلکہ کتاب سے وابستہ کلچر دم توڑ رہا ہے‘ جس نے کتاب کے الفاظ سے زیادہ اُس تہذیب کو پروان چڑھایا تھا جس سے انسان وقار‘ احترام اور توقیر پاتا رہا۔ آج کے حبس زدہ موسم میں کتابوں کو یاد کرنے کا مطلب ہے اپنی تاریخ میں جھانکنا۔ کتابوں کے ساتھ اپنی رفاقت کو یاد کرنے کا عزم کرنا۔ کتابوں کی معیت میں کچھ دیر رکیے اور مطالعے کو اپنا زادِ راہ بنایئے۔ اگر سماج کی تشکیل میں کہیں کوئی امید کی کرن پھوٹنے کا کوئی امکان آج بھی موجود ہے تو وہ کتاب کلچر ہے جہاں سے تہذیب کو نئی اقدار ملیں گی۔‘‘
شاہد اعوان صاحب کی علمی ویب سائٹ دانش کے تعاون سے یہ شمارہ زیادہ وقیع ہو گیا ہے۔ نئی نسل کیا پڑھتی ہے! اس شمارے میں چند طلبا نے اس کا اظہار کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری نئی نسل کیا پڑھ رہی ہے اور کیا پڑھنا چاہتی ہے۔ اس کتاب نمبر میں کچھ خصوصی گوشے بھی شامل ہیں۔ کتاب دوستی، ممنوعہ کتب، کتاب کا سفر، کتاب خانے، کتابیں جو میرے ساتھ رہتی ہیں، پرانی کتابیں اور بازار ، کتاب نظمیں، کتاب نامہ، کتابوں سے محبت کرنے والے، کتابوں کی دنیا اور کتاب تبصرے۔ غرض کتابوںکا ایک جہان ہے جو اس شمارے میں موجود ہے۔
اداریے کے آخر میں قاسم یعقوب نے لکھا ہے کہ ’’اس شمارے کا مقصدکتاب سے وابستہ اُس تہذیب کا احیا کرنا ہے جو ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے رفتہ رفتہ مر رہی ہے۔ تخلیقی ادب اور سماجی علوم صرف ریڈنگ نہیں مانگتے بلکہ مطالعے کی پوری تہذیب مانگتے ہیں جو صرف کتاب سے ممکن ہے۔‘‘
قاسم یعقوب نے اداریہ غلام محمد قاصرکے اس خوب صورت اور بر محل شعر پر ختم کیا ہے:

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

کتاب نمبرکی پہلی مختصر اور پُر اثر تحریر محمد سلیم الرحمن کی ’’کتاب سازی سے کتاب سوزی تک‘‘ ہے جس کا ایک اقتباس ’’تحریر سے ہر حکومت خوف زدہ رہتی ہے۔ آمرانہ یا نظریاتی حکومتوں کا بس چلے تو کتابوں، رسالوں اور اخباروں پر پابندی لگا دیں۔ ایسا کرنے سے عالمی سطح پر امیج بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لیے یہ حکومتیں صرف وہی تحریریں چھپنے دیتی ہیں جو اپنے حق میں ہوں ۔ قصیدے تو اب لکھے نہیں جاتے نثری قصائد ہی سہی۔ ایک بات روزِ اوّل سے حکمراں طبقوںکو سمجھ میں آ گئی تھی کہ اگرعوام پڑھے لکھے ہوں تو ان پر حکومت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم عام کرنے کی جوحوصلہ شکنی کی جاتی ہے وہ بلاوجہ نہیں۔ حکمرانوں کو پتا ہے کہ لوگ پڑھیں گے تو سر پر چڑھیں گے۔‘‘
کتاب نمبرکے پہلے باب کا عنوان ’’سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن‘‘ کے جس میں 28 مصنفین کے 32 مضامین شامل ہیں۔ سلیم الرحمن نے ’’کتاب سازی سے کتاب سوزی تک‘‘ کے نام سے عمدہ مضمون لکھا ہے۔ صاحب کا، علم کی راہ دانستہ اپنے مفاد میں روکی جاتی ہے۔ کتابوں کے بارے میں سب سے اندوہناک سانحہ وہ ہے جس میں ہسپانوی مہم بازوں نے سولہویں صدی میں وسطی امریکا کی ایزٹک اور مایا تہذیبوں کی تمام کتابیں جلا دیں اور آنِ واحد میں ان مظلوموں کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو ملیا میٹ کر ڈالا۔ حکومتیں ہوں یا عوام، کتابوں کے بارے میں اُن کی روش معاندانہ ہوتی ہے۔ کتابوں کے بڑے بڑے ذخیرے پڑے پڑے تباہ ہو جاتے ہیں۔ کہاں تک ماتم کریں؟
ڈاکٹر وزیر آغا کے دو مضامین ’’کتابوں کی معیت میں‘‘ اور ’’کتاب، خوشبو کا ایک لطیف جھونکا‘‘ بھی بہت اہم اور دل چسپ ہیں۔ مدیر نے ان کے مضمون کے بارے میں کیا خوب لکھا ہے کہ ’’کتاب زندگی کا اوّل بھی اور آخر بھی! کتاب ہی وہ صدر دروازہ ہے جس سے گزر کر آپ زندگی کے رموز اور مراحل سے آشنا ہو سکتے ہیں اور یہی قطب نما ہے جو آپ کو صحیح سمت میں چلنے کے قابل بناتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے گورنمنٹ کالج سرگودھا کے خطاب میں کیا خوب کہا کہ ’’قرآن حکیم نے تحریر کا احساس ان الفاظ میں دلایا ’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کیا (کائنات کو) انسان کو تخلیق کیا جمے ہوئے خون سے، پڑھیے کہ آپ کا رب صاحبِ تکریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم عطا کیا، جس نے انسان کو وہ علم دیا جس سے وہ بے بہرہ تھا۔‘‘
اس میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ پڑھنے کے عمل کو بذریعہ قلم آگے بڑھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ لفظ سے قلم تک کا یہ سفر انقلابی نوعیت کا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ تحریر کی ایک اپنی فعال کائنات ہے یا شاید یہ کہ کائنات بجائے خود ایک تحریر ہے، اسی لیے بار بار اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ کائنات پر غور کرو۔ اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ کائنات کو کتاب کی صورت میں دیکھنا اتنا بڑا انکشاف تھا جو نہ صرف یہ کہ دیگر ادیان نے اسلام سے پہلے پیش نہیں کیا تھا بلکہ جس کی توثیق اب بیسویں صدی کی طبیعیات نے بھی کر دی ہے۔‘‘
عابد میرکے دو خوب صورت مضامین سے بلوچستان کے لوگوں کی کتاب سے محبت اور مشکلات کا ذکر دل چسپ ہے۔ لکھتے ہیں ’’کہتے ہیں پانی کی قدر پیاسے سے پوچھیے۔ سو اس قاعدے سے کتاب کی قدر کتاب کو ترسے ہوئے بلوچستان سے پوچھیے۔ چٹیل میدانوں اور خشک پہاڑوں والا، چرواہوں اور خانہ بدوشوں کا دیس جہاں تحریری علم کی عمر ابھی ایک صدی کی نہ ہو، جہاں باضابطہ کتابوں کی اشاعت کو ابھی سو سال بھی نہ ہوئے ہوں، وہاں کتاب گویا کسی خزانے سے کم نہیں اور ہم اس خزانے کے کیسے متلاشی رہے۔ باوجود ہماری تنگ دستی کے، ہمارے خطے میں کتاب دوستی کی چاہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بلوچستان پہلا پریس 30 کی دہائی میں عبدالصمد اچکزئی نے لگایا جہاں سے وہ اپنا اخبار ’’استقلال‘‘ چھاپتے رہے۔ البتہ کتابوں کی اشاعت و ترسیل کو لگایا جانے لگا پہلا پریس بھی اِسی دہائی کے اواخر میں پنجاب سے یہاں منتقل ہونے والے زمرد حسین نے لگایا۔ ’’قلات پبلشر‘‘ کے نام سے پہلے مستونگ اور پھر کوئٹہ منتقل ہونے والا یہ پریس 40 سے لے کر 60 کی دہائی تک ہمارے خطے کے مقامی لکھاریوں کی کتابوں کی اشاعت و ترسیل کا واحد ذریعہ رہا۔ 60 کی دہائی کے وسط میں عابد بخاری نے ’’گوشۂ ادب‘‘ کے نام سے ایک مطبع لگایا، اس روایت کو منصور بخاری آگے لے کر چلے جو آج بھی بلوچستان میں کتاب دوستی کا نمایاں نام ہے۔‘‘
دوسرے مضمون ’’بلوچستان میں کتابوں پر چھاپے، روشنی سے ڈرتے ہو!‘‘ میں عابد میر نے ڈگری کالج تربت کے ہاسٹل پر چھاپہ مار کر طلبا کو گرفتار کرنے کی روداد بیان کی ہے جہاں سے برآمد ہونے والی کتابوں کو ریاست مخالف مواد کے طور پر پیش کیا گیا۔ وہ بالکل درست لکھتے ہیں۔ ’’بلوچ نوجوانوںکو اور ان کی مائوں کو بدھائی ہو کہ مدہوش کر دینے والی جوانی میں اُن کے کمروں سے نہ چرس برآمد ہوئی ، نہ افیون، نہ تاش کے پتے نکلے نہ شراب کی بولتیں، نہ تصویر بُتاں نہ حسینوںکے خطوط۔ نکلی بھی توکتابیں نکلیں۔ کتابیں‘ جو علم کا ماخذ ہیں، جو شعور کی سیڑھی ہیں، جو آگہی کا راستہ ہیں۔ کتابیں جو معاشرے کو انسانوں کے رہنے کے قابل بناتی ہیں۔ کتابیں، جو خیر لاتی ہیں، نیکی سکھاتی ہیں، روشنی پھیلاتی ہیں اور روشنی سے سوائے تاریکی کے بھلا اور کون ڈرتا ہے۔‘‘ کتاب میں ڈاکٹر نصیر دشتی کا ایک کمال جملہ ہے ’’جس ملک کو دو کتابوں سے ٹوٹنے کا خطرہ ہو، اُسے دنیا کی کوئی طاقت متحد نہیں رکھ سکتی۔‘‘
نامور براڈ کاسٹر اور منفرد مصنف رضا علی عابدی نے بی بی سی ’’کتب خانہ‘‘ اور ’’کتابیں اپنے آبا کی‘‘ میں کتابوں اور کتب خانوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے درجن سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ عابدی صاحب کتابوں کے عاشق کے بارے میں لکھتے ہیں ’’تصورکیجیے ایک شخص کے ذاتی کتب خانے میں پچیس ہزار نادر کتابیں موجود ہیں لیکن ایک کتاب کے آخری دو یا تین صفحات نہیں ہیں۔ یہ دو یا تین صفحات پانے کے لیے وہ دنیا بھر کے کتب خانوں کو کھنگال رہا ہے مگر ابھی تک ناکام ہے۔ کسی جستجوسے لگاؤ ہو تو ایسا ہو۔‘‘ عابدی صاحب نے ذاتی کتب خانوں کے مالکان کے بعد حشرکی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’میں تو اتنا جانتا ہوں کہ خود میں نے کتابوں کا ذاتی ذخیرہ بہاول پور کی ایک درس گاہ کو پیش کر دیا اور خود جا کر دیکھ لیا کہ میری کتابیں وہاں آرام سے رکھی ہیں چنانچہ اب میں بھی چین سے ہوں۔‘‘
’’کتاب دوستی‘‘ کے زیرِ عنوان فکاہیہ اور انشائی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ اس حصے میں اے حمید، ڈاکٹر سلیم اختر،کنہیا لال کپور، عظیم بیگ چغتائی، اسعد گیلانی، محمد منور، ارشد میر اور شیما صدیقی کی دل چسپ تحریروں کو جگہ دی گئی ہے۔ ان فکاہیہ مضامین کی دل چسپی کا اندازہ مصنفین کے نام سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ شیما صدیقی کے مضمون کا عنوان ہی کیا دل چسپ ہے ’’کیا آپ اتنے نکمے ہیں کہ آج تک کوئی کتاب نہیں چرائی!‘‘ مضمون کا آغاز کچھ یوں ہے کہ ’’مشتاق یوسفی کے بقول جس نے آپ کو کتاب دی، اس کی بے وقوفی اور جس نے کتاب واپس کردی وہ سے بھی بڑا بے وقوف۔ جہاں کسی صاحبِ علم کو دیکھیے، ایک ہی رونا روتا ہے کہ صاحب معاشرے کے زوال کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں نے کتاب سے ناتا توڑ لیا ہے، لائبریریاں سنسان پڑی ہیں اور کتابیں اپنے پڑھنے والوں کا نشان ڈھونڈتی ہے۔ لیکن نہیں، یہ توسراسر الزام ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو دو چار اعلیٰ درجے کی کتابیں خرید لیجیے اور چند ہی روز میں وہ چوری نہ ہوجائیں توکہیے۔‘‘
ممنوع کتب میں ڈاکٹر ارشد معراج نے ’’مشہورِ زمانہ ممنوع کتب‘‘ پر قلم اٹھایا ہے۔ ستار سید نے ’’فحاشی کے الزام میں ضبط شدہ کتاب ’’آفت کا ٹکڑا‘‘ کے خالق سے انٹرویو کیا ہے۔ ’’آفت کا ٹکڑا‘‘ کے خلاف مصنف کی اپیل کا فیصلہ بھی اس حصے میں شامل ہے۔ ممتاز ادیب، دانشور اور سیاستدان محمد حنیف رامے کی ’آفت کا ٹکڑا‘ پر مختصر تحریر میں اِس ناول کو ایک لذیذ المیہ قرار دیا ہے جب کہ اعجاز حسین بٹالوی کے مطابق ’’آفت کا ٹکڑا‘‘ ایک ادبی رپورتاژ کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
کتاب کا سفر خصوصی مطالعہ میں ارشد محمود ناشاد کا تحریر کردہ ’’مخطوطہ اور مخطونہ نویسی کا فن، آغاز و ارتقا‘‘ بہت دل چسپ اور معلوماتی مضمون ہے۔ جب کہ رفعت گل نے ’’کتابوں کی جلد سازی کا فن‘‘ کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
کتابیں اور کتب خانے کے عنوان سے 16 مضامین میں کتب خانوں کے بارے میں بھرپور معلومات ملتی ہیں۔ ڈاکٹر انیس ناگی نے ’’لاہور کے کتب خانے‘‘ پر لکھا ہے۔ سعود خان روہیلہ نے ’’رضاخان لائبریری رام پور‘‘ اور حبیب الرحمن چغتائی نے مشہور زمانہ ’’خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری‘‘ کے بارے میں قارئین کے علم میں اضافہ کیا ہے۔ پروفیسر وقار عظیم کا مضمون ’’میرا کتب خانہ‘‘ قند مکرر کی حیثیت رکھتا ہے۔ عبدالجبار شاکر ’’مسلمانوں کا ذوقِ کتب اور ان کے کتب خانے‘‘ پر قلم اٹھایا ہے۔ الیاس جاوید چوہدری نے ’’لیاقت نیشنل لائبریری‘‘ پر عمدگی سے لکھا ہے۔ رضا علی عابدی جہاں برصغیر کی کتابیں دیکھ کر حیران ہوئے اور علامہ اقبال کے مشہور مصرعے پر مبنی ’’کتابیں اپنے آبا‘‘ کی لکھی۔ اسی ’’انڈیا آفس لائبریری لندن‘‘ کے بارے میں سلیم الدین قریشی نے معلومات فراہم کی ہیں۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل نے ’میرا کتب خانہ، نوعیت، انفرادیت اور مستقبل‘ پر شاندار مضمون لکھا ہے۔ غرض اس پورے حصے میں دنیا بھر کے کتب خانوں پر شاندار تحریریں یکجا کی گئی ہیں۔
’’کتابیں جو میرے ساتھ رہتی ہیں‘‘ کے عنوان سے 16 ادیب، شاعر اور دانش وروں نے اپنی پسندیدہ کتب کے بارے میں قارئین کوآگاہ کیا ہے۔ اس حصے کی خاص تحریروں میں آصف فرخی کا ’’پیتل کا شہر‘‘، مشہور ناول، افسانہ اور سفر نامہ نگار سلمیٰ اعوان کا ’’مطالعہ کتابیں اور میری سرگزشت‘‘ بیگم صالحہ عابد حسین کا ’’کتابیں میری زندگی‘‘، قائد ملت بہادر یارجنگ کا ’’میں مطالعہ کس طرح کرتا تھا‘‘ اور مصنف، دانشور اور کالم نگار وجاہت مسعود کا ’’نثر میں میری پسندیدہ کتابیں‘‘ بہت دل چسپ اور قابل مطالعہ ہیں۔ وجاہت مسعود نے تو اپنی پسندیدہ 75 کتابوں کی فہرست دے دی ہے جو تمام ذوق مطالعہ کومہمیز دیتی ہیں۔
شاہد اعوان صاحب نے اپنے ادارے ایمل پبلشر کی ایک بہترین کتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ سے پانچ اہم مضامین کا انتخاب کیا ہے۔ ’’میرامطالعہ‘‘ ایک شاندار کتاب ہے اس کے انتخاب نے قند مکررکے طور لطف اندوزکیا ہے۔
’’پرانی کتابیں اور بازار‘‘ میں کراچی، لاہور، فیصل آباد کے پرانی کتب کے بازاروں کی دل چسپ تفصیلات دی گئی ہیں۔ راشد اشرف صاحب تو ان پرانی کتابوں کے بازاروں پر ایک عمدہ کتاب لکھ چکے ہیں۔ ان بازاروں میں کیسی کیسی نایاب کتاب مل جاتی ہے یہاں جانا کتاب کے عاشقوں کے لیے زندگی کا معمول ہے۔
کتاب نظمیں میں افتخار عارف، جون ایلیا، شہرام سرمدی، عزیز حامد مدنی اور قاسم یعقوب کی کتابوں پر نظمیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ایک اہم عنوان ’’کتابوں سے محبت کرنے والے‘‘ کتاب دوست مولانا غلام رسول مہر، کشور ناہید، رئوف کلاسرا اور قاسم یعقوب کے مضامین ہیں۔ ’’کتابوں کی دنیا‘‘ میں ادارہ نقاط نے کتابوں کے بارے میں مضامین کا انتخاب بھی بہت اچھا کیا ہے۔ کتاب تبصرے میں 34 کتابوں پر تبصروہ کیا گیا ہے۔
غرض نقاط کا ’’کتاب نمبر‘‘ ایک شاندارنمبر ہے جس میں کتاب سے محبت کرنے والوں کے لیے کم و بیش ہر چیز شامل ہے۔ اس عمدہ اور بھرپور نمبرکی اشاعت کے لیے قاسم یعقوب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ امیدہے نقاط کی باقاعدہ اشاعت جاری رہے گی اور ادارہ ایسے مزید نمبر بھی پیش کرتا رہے گا۔

حصہ