خطوط بنام: غازی علم الدین کسی مخزن سے کم نہیں

144

ندیم صدیقی
خط بظاہر ادب کی کوئی صنف نہیں مگر لکھنے والا قلم کا دَھنی ہے تو وہ خط کو بھی ادب بنا دے گا جس کی بنیاد مرزا غالب کے مکتوب ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ مرزا نوشہ نے خط کو ایک بلند تر مقام پر پہنچایا ہی نہیں بلکہ مکالمے کی ایک طرح بھی ڈال دی ،ان کے بعد ہماری زبان میں ابوالکلام آزادؔ، صفیہؔ کے خطوط جاں نثار اختر کے نام ، مولانا انجم فوقی بدایونی وغیرہ کے مکتوب بھی ایک روشن مثال ہیں۔ اِن کےعلاوہ دورِ جدید میں بھی کئی اہلِ علم کے خطوط باقاعدہ کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ کے وجود نے ہمیں بہت آسانیاں اورسہولتیں دی ہیں مگر جو چیزیں ان کی قیمت پر ہم سےچھین لی گئی ہیں ان میں ایک خط بھی ہے اور نجانے کیا کیا ابھی چِھننا باقی ہے ۔ ایسے مایوس کن حالات میں 492 صفحات پرمشتمل غازی علم الدین کے نام مشاہیرِ ادب کےخطوط کے مجموعے کی(پاکستان سے) اشاعت ایک خوش کن واقعہ ہے۔ اس مجموعے کےاکثر خط علم وادب سے مملو ہیں، جن کےلکھنے والوں میں فی زمانہ’ مشہور‘ لوگ نہیں بلکہ اکثر اہل ِ علم حضرات ہیں اور ان خطوط میں جو مسائل زیر بحث آئےہیں ان میں کثیر تعداد میں زبان وادب اور دیگر علمی موضوعات کے حامل ہیں۔غازی علم الدین اُستاد تو ہیں ہی مگر انھیں جس طرح لسانی مسائل سے شغف ہے ، دورِ حاضر میں اس موضوع سے دِل چسپی رکھنے والے اُستاد کم کم ملیں گے۔ چند برس قبل تک لاہور سے ماہنامہ سیارہ(ڈائجسٹ نہیں) نعیم صدیقی اور حفیظ الرحمان احسن کی ادارت میں شائع ہوتاتھا،انہی حفیظ الرحمان احسن نے ان خطوط کو مرتب کیا ہے جس کے لکھنے والوں میں ڈاکٹر یونس جاوید، پروفیسرعبدالرزاق مغل، ڈاکٹر اصغر ندیم،ڈاکٹر مظہر محمودشیرانی، تسلیم الٰہی زلفی،ڈاکٹر سعادت سعید،ڈاکٹر رشید امجد،ڈاکٹر معین الدین عقیل، پروفیسر خیال آفاقی، احمد صغیر صدیقی ، پروفیسر ظفر حجازی،پروفیسرسید نصرت بخاری،غالب عرفان، ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش ، پروفیسرسیف اللہ خالد،ڈاکٹر خورشید رضوی، شاہد شیدائی، سید معراج جامی، پروفیسر شاہد کمال، محترمہ سلمیٰ صدیقی(بنت پروفیسر افتخار احمد صدیقی) ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی جیسے اورکئی ممتاز اشخاص ہیں جبکہ ہندوستان سے، ڈاکٹرسید یحییٰ نشیط،نذیر فتح پوری،ڈاکٹر رؤف خیر،ڈاکٹرمشتاق اعظمی،
ڈاکٹرعبد الستار دلوی، ڈاکٹر معین الدین جینابڑے ، رشید افروز، محمد عَالِم نقوی اورڈاکٹر الطاف انجم کے خطوط بھی اس کتاب کی رونق بنے ہوئے ہیں جبکہ اس مجموعےکے مرتب حفیظ الرحمان احسن( بعنوان :پیش گفتار)،پروفیسرمظہر محمود شیرانی ( بعنوان :پیش لفظ)،پروفیسرعبدالستار دلوی ( بعنوان :مقدمہ ) اور پروفیسر ڈاکٹررؤف پاریکھ( بعنوان :حرف ِچند) کے مضامین بھی اس کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ اس سلسلے کا ایک مجموعہ ’’ اہلِ قلم کے مکتوبات بنام غازی علم الدین‘‘ پہلے ہی زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکا ہے،جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ پیشِ نگاہ مجموعے میں بیشتر خطوط علم و ادب کے کسی نہ کسی ایسے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہیں جس سے قاری کا ذہن بھی مُجلا ہوتا ہے، غازی علم الدین سے ہمارا تعارف ہی ’ زبان‘ جیسے موضوع ہی کی سبب ہوا تھا اُن کی کتاب ’ لسانی مطالعے‘ اُردو دُنیا میں نہ صرف مشہور ہوئی بلکہ اس سے اُردو کے ایک عاشق نے اپنے نام کا بھی چراغ روشن کر لیا۔
ہماری اکثرجامعات میں ہونے والے ریسرچ ورک کی جو حالت ہے وہ سب پر عیاں ہے مگر پاکستان میں بھی اس ضمن میں یہاں سے کم خراب حالت نہیں ہے۔ راشد شیخ(کراچی) کے ایک خط(23 صفحات) کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
۔۔۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ تحقیقی مقالے اور خصوصاًPh,D کےلیےلکھے گئے مقالے کسی تحقیقی خدمت کی خاطر نہیں بلکہ پی ایچ ڈی الاؤنس حاصل کرنے کی خاطر لکھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری یو نیورسٹیوں میں تحقیق جس پست سطح تک پہنچ چکی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ماضی قریب میں برِ صغیر پاک و ہند کے دو ناموَر محقق یعنی مشفق خواجہ اور رشید حسن خان اس قسم کی تحقیق کے سخت مخالف تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں نے تحقیق کے بلند مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود Ph,D کی سند حاصل نہیں کی۔ اس بارے میں مشفق خواجہ کے ادبی کالموں میں بعض دلچسپ جملے ملتے ہیں جن میں سے دو جملے قارئین کے ضیافتِ ذوق کی خاطر لکھتا ہوں:
(1)’ مہذب ملکوں میں جن کاموں پر سزا دِی جاتی ہےہمارے ہاں انہی کاموں پر Ph,D کی ڈِگری دی جاتی ہے۔‘۔۔
(2)’ آئندہ انہی اساتذہ کو ترقی دی جائے جو پی ایچ ڈی کی تہمت سے محفوظ ہوں۔‘ اسی خط میں راشد شیخ نے ایک اور صداقت بیان کی ہے، اے کاش اُردو والے اس پر کان دھریں:’’ تمام علمی دُنیا میں ایک طے شدہ اصول ہے کہ Ph,D کو تحقیقی سفر کا پہلا قدم قرار دیا جاتا ہے، دوسرے الفاظ میںPh,D کے دوران طالب علم تحقیق کرنے کےگُر اور طریقے سیکھتا ہے، اس کا اصل کام تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔‘‘
تحقیقی عمل کے سلسلے میں ایک واقعہ خطوط کے اس مجموعے سے نقل کیا جاتا ہے جس سے ’تحقیق کسے کہتے ہیں‘ اور محقق واقعتاً ’’محقق‘‘ کے منصب پر کیونکر فائز ہوتا ہے ،یہ بھی واضح ہوتا ہے۔۔۔۔’’ معیاری (تحقیقی) مقالے کے لیے کس طرح ہندوستان کی لائبریریوں اور متعلقہ افراد سے مطلوبہ مواد حاصل کیا جاتا ہے اس کی عمدہ مثال ڈاکٹر تحسین فراقی کا مقالہ’ عبدالماجد دریابادی۔ احوال و آثار‘ ہے۔ اس مقالے کی تکمیل کی خاطر فراقی صاحب لاہور سے لکھنؤ گئے تھے اور مولانا ماجد دریا بادی کے متعلقین(خصوصاً ان کے بھتیجے اور جانشین حکیم عبد القوی دریا بادی) اور دار العلوم ندوۃ العلما(لکھنؤ) میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے ملاقات کی تھی، تب کہیں جاکر معیاری مقالہ لکھ پائے تھے۔‘‘
یہ تو اس طویل تر خط کی چند سطریں آپ تک پہنچی ہیں جبکہ اسی خط میں مکتوبِ الیہ پر تنقید بھی کی گئی ہے، جو غازی علم الدین کی شریف النفسی ہی نہیں بلکہ ان کی علم و ادب دوستی کی بھی مظہر ہے، جبکہ ہمارے ہاں اب علم وادب سے زیادہ ’شخصی حرمت‘ مقدم رکھی جاتی ہے۔ کوئی دوسرا ہوتا تومرتب کو اس خط کی ہَوا بھی نہ لگنے دیتا ۔( واضح رہے کہ اس قبیل کا ایک خط نہیں بلکہ دیگر خطوط میں بھی غازی تنقید کاہدف بنے ہیں)سچ یہی ہے کہ جو لوگ علم و ادب کے ساتھ کردار کی حرمت پر بھی مائل ہوتے ہیں وہی زندگی کے مظہر بن جاتے ہیں، ہمارے نزدیک غازی علم الدین اسی قبیل کے ایک زندہ ٔ جاوید شخص ہیں۔
شعرا میں عجب عجب مزاج اور’ضدِ باوقوف‘ کے حامل اشخاص بھی ملتے ہیں، دہلی میں ہم نے ایک پستہ قد حضرت کو دیکھا ہے، روایتی انداز کے صاف صاف شعر کہتے تھے، مگر اپنی وضع قطع سے پورے شہر کے شعرا میں یوں منفرد تھے کہ شیروانی کے ساتھ اُن کی ٹوپی عجیب و غریب انداز کی ہوتی تھی کہ پوری دِلّی میں ویسی ٹوپی کسی کے سَر پر اُن کے بعد بھی نہیں دِکھائی دِی ، ایک بار بشیر بدر کے ساتھ ہم مٹیا محل( دہلی) سے گزر رہے تھے۔ اسے اتفاق کہیے کہ وہ حضرت بھی رکشے پر سوار سامنے سے گزرے تو ہم نے بشیربدر سے کہا کہ دیکھا آپ نے حضرت کو ؟
بشیر بدر کاجواب تھا:’’ وہ تو نظر نہیں آئے البتہ ان کی ٹوپی ضرور دکھائی دے رہی تھی بلکہ یاد بھی رہیگی، موصوف شعر میں تو کوئی انفرادیت پیدا کرنے میں معذور ہیں لہٰذا وہ کمی اپنی اس ٹوپی سے پوری کر رہے ہیں۔ ‘‘
موصوف کا ایک شعر اور اس کا وزن یہاں نقل ہے
یہ وہ بستی ہے جہاں میرے خدایا
مجھ کو جینا تھا مگر مَیں مَر گیا ہوں
(فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن)
یہ مسئلہ اصل میں ایک طرح کی نفسیات کا غماز ہے ، بیشک یہ دُنیا ہے سب کو اپنے اپنے طور پر جینے کا حق ہے ہم نے یہ تذکرہ اس وجہ سے کیا ہے کہ اگر یہ طریق مستحسن ہوتو دیگرعرـوض داں شعرا اُن کے اس عمل کو فروغ دیں۔ اسی طرح اس کتاب میں ایک ہندوستانی مکتوب نگار غازی علم الدین سے فرماتے ہیں کہ
’’۔۔۔یہ کیا؟ ایک مضمون میں آپ نے ہندی لفظ’آشِرواد‘ کا استعمال کیا ہے۔‘‘
ہمیں اس پر حیرت ہرگز نہیں ہوئی بلکہ اس میں ایک قدیم تعصب کی بٗو کا احساس ہوگیا مسلمانوں کے ایک طبقے میں ہندوؤں ہی سے نہیں بلکہ ہندی سے بھی ایک ’کد‘ جو اندرون میں ہے،وہ بھی جھلک رہی ہے۔ کوئی پندرہ برس قبل کاایک واقعہ یہ بھی یاد آگیا،روزنامہ انقلاب(ممبئی) میں کسی نا مسلم شاعرکے انتقال کی خبر ہم نے بنائی تھی، چند روز بعد ضلع ناسک کے ایک سینئر صحافی سے فون پر بات ہوئی تو موصوف نے ہمیں ٹوکا کہ
’’ندیم میاں! آپ ہندوؤں کے مرنے کی خبر میں بھی ۔۔۔’انتقال ہو گیا‘۔۔۔
لکھتے ہیں۔‘‘۔۔۔
ہم نے ہنستے ہوئے پوچھا: حضرت!آپ تو لفظِ انتقال کے معنی جانتے ہی ہیں، تو کیا مسلمان مرنے کے بعد یہاں سے وہاں منتقل ہوتا ہے اور نامسلم جب فوت ہوتا ہے تو وہ منتقل نہیں کچھ اور ہوتا ہے۔؟
موصوف نے ایک زور دارقہقہہ لگا کر اپنی خفت مٹائی یا ہماری ہنسی اُڑائی یہ تو وہی جانیں۔!!
اس طرح کے معاملات ہوں یا اس کتاب میں’آشِرواد‘ کا معاملہ بہرحال یہ رویے اسی کی چغلی کھارہے ہیں، ہمارے لوگ شاید نہیں جانتےکہ اُردو کے ہندو شعرا نےاسلام کی ایسی ایسی اصطلاحیں اور ترکیبیں اپنے ہاں استعمال کی ہیں کہ اش اش(عش عش) کرتے رہیے۔ ایک مثال ملاحظہ کریں:
’’(دورِ قدیم میں) پٹنہ کے لالہ بختاور سنگھ کا تخلص ہی مسلمان ؔتھا اسی طرح ہمیں شیو نارائن چودھری بھی ملتے ہیں جو عارفؔ جیسے تخلص کے حامل تھے۔انہی (شیو نارائن چودھری) عارفؔ کایہ شعر اہل ِایمان سنیں اور اپنے قلب کی طہارت کی خبر لیں:
مَیں روکے اشکو ں سے خود اپنے ،ہو گیا طاہر
حریم ِدل میں تیر ی یاد بے وضو نہ گئی
اسی طرح مسلم شعرا نے بھی ہندوؤں کی اصطلاحوں اوردیو مالائی کرداروں کا استعمال کیا ہے، جگر مراد آبادی کی زمین
(پھول کھلے ہیں گلشن گلشن) میں ندیمِ ندیم شمیم طارق کایہ شعر اس کی ایک عمدہ مثال ہے:
اتنے رام کہاں سے لاؤں ÷ دَردَر لنکا ، گھر گھر راوَن
اور ایک عمدہ نظیر تو علامہ اقبال کی ہے کہ انہوں نے تو’ رام ہی پر نظم لکھی ہےاور ہمیں تو اس وقت اقبال ؔکی مشہور نظم’ نیا شوا لہ‘ بھی یاد آرہی ہے جس کے آخری دو مصرعے جن میں اقبالؔ نے شدھ ہندی کے شبد برتے ہیں بلکہ ان لفظوں سے جو معنویت پیدا کی ہے وہ خود اپنے آپ میں ایک مثال ہے اوریہ شعر اکثر اہلِ ادب کو ازبر بھی ہے:
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دَھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
ان اشعار نے ہمیں یہ بھی یاد دِلادیا کہ خطوط کے اس مجموعے میں جو اشعار مذکور ہیں وہ بھی ہمیں داد دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ فارغ بخاری کا صرف ایک شعر قاری کے تفنن ِطبع کی خاطر نقل کیا جاتا ہے:
کس قدر مصلحت انگیز ہیں اس شہر کے لوگ
چھتریاں تان کے بارش کی دُعا کرتے ہیں
اس کتاب کے آخری صفحات ’ضمائم‘ کے عنوان سے نوادر کے نمونے ہیں جن میں رشید حسن خان، پروفیسر مسعود حسین خان، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اور خود غازی علم الدین کے وہ مکتوبات ہیں جوغیر مطبوعہ تھے، ان میں کئی خط پروفیسر عبدالستار دلوی کے نام ہیں(ظاہر ہے یہ مکتوبات انہی نے فراہم کیے ہیں۔) اس کے علاوہ چند اہلِ علم کے خطوط کے عکس بھی ہماری بصارت و بصیرت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
پیش ِنظر مجموعے میں لسانی مسائل پر خاصا کلام کیا گیا ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ کئی خطوط میں تحریرِغازی پر تنقیدی نظر سے کام لیا گیا ہے ، اسی انداز کا(از: ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان) ایک خط ہم نے جب پڑھا تو ان سطروں پر پہنچ کر احساس ہوا کہ اس کے مخاطَب تو ہم بھی ہیں:
’’۔۔۔ آپ کی تحریر صاف، اُلجھنوں سے پاک اور جامعیت واختصار سے سرمایہ دار ہے البتہ آپ ’نقطۂ نظر‘ کو جس مفہوم میں استعمال کر رہے ہیںاُس مفہوم کا اطلاق’زاویۂ نظر پر ہوتا ہے اس لیے کہ ہر کسی کا اپنا مشاہدہ اپنے ’زاویۂ نظر‘ کا مرہون ہوتاہے،نقطۂ نظر مسلمہ ہوتا ہے۔۔۔‘‘
اسی کتاب کے ایک خط(از:پروفیسر ظفر حجازی) میں علامہ اقبالؔ کے اُستاد پروفیسرآرنلڈ کے بارے میں جو کچھ ہم نے پڑھا اس نے ایک عجب کیفیت طاری کی، یہ عبارت آپ بھی پڑھیں :’’۔۔۔ صرف لاہور ہی میں نہیں انگلستان اور جرمنی میں بھی اقبال کےلیے ،اقبال کی ترقی کی خاطر آسانی پیدا کی گئیں۔ لاہور میں بھی اقبالؔ کی ملازمت کے مواقع پیدا کیے اور لندن میں اقبال کےلیے مالی سہولت پیدا کرنے کی خاطرآرنلڈ نے اپنی جگہ کام کرنے کا موقع فراہم کیا یعنی خود چھٹّی لے لی اور اپنی جگہ اقبالؔ کا (عارضی) تقرر کرادیا تاکہ اقبال بارایٹ لا کا مرحلہ آسانی سے طے کرلیں۔‘‘۔۔۔
اقبال نے پروفیسر آرنلڈ کی رِحلت پر جس طرح ان کے پسماندگان کو پُرسہ دیا تھا وہ بھی تاریخ بن گیا ہے۔:
’’۔۔۔میرے لیے یہ زیاں ایک ذاتی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ انہی (آرنلڈ)کا اثر ہےجس نے میری روح کی تربیت کی اور اسے جادۂ علم پر گامزن کیا۔‘‘
اس کالم میں مذکورہ مجموعے کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسےصحیح معنوں میں تعارف بھی نہیں کہا جاسکتا ، یوں جانیے کہ ایک خبر ہے جو اس طرح قارئین تک پہنچ رہی ہے، ہمیں یقین ہے کہ باذوق اور حقیقی طالبعلم کے ہاں اس مجموعے کی طلب جاگے گی مگر اس کتاب کا ہند میں حصول یوں مشکل ہے کہ کتاب کی قیمت تو صرف آٹھ سو روپے ہے مگر پاکستان سے اس کی دو جِلدیں ہم تک پہنچانے کےلیے پاکستانی محکمۂ ڈاک نے تقریباً ڈیڑھ ہزار روپے وصول کیے ہیں ۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ غازی علم الدین اپنی کتابوں کی Pdf فائل بنواکر نیٹ پر ڈلوادیں تو یہ دٗور تک عام استفادے کا ذریعہ بن جائیں گی۔

عجب ہنر ہے کہ دانش وری کے پیکر میں
کسی کا ذہن کسی کی زباں لیے پھریے

ڈاکٹر پیر زادہ قاسم

حصہ