تحفظ پاکستان

44

میمونہ ابوبکر شیخ

افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

تحفظ پاکستان کا مطلب اپنے وطن سے محبت کرنا۔ انسان جس سے محبت کرے اسے وہ اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا سمجھے‘ وطن سے پیار کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ضرورت پڑے تو اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہ کرے۔ نبیؐ کا ارشاد ہے کہ ’’حب وطن میرا جزو ایمان ہے۔‘‘
پاکستان ہمارا پیارا وطن ہے‘ مدینے کی ریاست کے بعد یہ پہلا ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے‘ ہمارے آباواجداد نے یہ وطن بڑی مصیبتیں برداشت کرکے حاصل کیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دیں اور اس کے دشمنوں کو صحفۂ ہستی سے مٹا دیں اور جو بھی آنکھ برے ارادوںسے اس کی طرف دیکھے اُسے پھوڑ ڈالیں۔
ہمیں اس کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے پہلے اس کا دفاع اپنے محلے سے کرنا ہوگا‘ آپس کے اختلافات بھلا کر اپنے محلے کی گندگی کو خود صاف کرنا ہوگا‘ ضروریات زندگی کو مل جل کر حل کرنا ہوگا‘ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو سمجھنا ہوگا‘ فحاشی‘ بے حیائی کا خاتمہ کرنا ہوگا‘ اسی طرح ہر محلے اور ہر شہر والوں کو مل کر اپنے ملک کا دفاع کرنا ہوگا‘ فرقہ بندی ختم کرنی ہوگی اور سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر دشمنوں کو بتانا ہوگا کہ ہم مسلمان کمزور نہیں ہیں‘ یہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا ہے اس کی حفاظت کرنا ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ملک کا دفاع کرنا صرف فوج کا ہی کام نہیں ہے اس کے لیے پہلے ہمیں اپنی اندرونی کمزوریاں ختم کرنا ہوگی۔ مغربی لبادہ اتارنا ہوگا‘ اس کے لیے میڈیا کو اپنے پروگراموں میں تبدیلیاں لانی ہوگی‘ مارننگ شو اصلاحی پروگرام دکھانے ہوں گے‘ مغربی تقلید کو ختم کرنا ہوگا‘ ہماری ڈریسنگ ایسی دکھانی چاہیے کہ لگے کہ ہم کسی اسلامی ملک کی خواتین ہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی تب ہی ہمیں اللہ کی مدد ملے گی کیوں کہ اس وقت ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ ہم سے ناراض ہے اور کیوں ناراض ہے یہ بھی ہم سب جانتے ہیں اور جان بوجھ کر اللہ کے عذاب کو للکار رہے ہیں۔
زندہ اور آزاد قوموں کا یہی شیوہ ہے کہ سب پاکستانی آپس میں اتفاق سے رہیں کیونکہ اتفاق میں برکت ہے آپس میں لڑنے جھگڑنے سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں گے‘ ہمارے ملک کی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے اور وہ ملک کا دفاع کرنا بہت اچھی طرح جانتی ہیں۔ اگر عام شہری بھی ان کا ساتھ دیں تو ہماری دفاعی قوتوں میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے اور وطن کی محبت سے ایسی مثال قائم ہوگی کہ ہماری آنے والی نسلیں اس پر فخر کریں گی۔

حصہ