بچے معصوم ہوتے ہیں

156

زاہد عباس
’’امی جان! اب چاچو ہمارے گھر کیوں نہیں آتے؟ پچھلی عید پر بھی نہیں آئے تھے، کیا اِس مرتبہ بھی نہیں آئیں گے؟‘‘
’’بیٹا ضرور آئیں گے، لیکن تمہیں اِس وقت اپنے چاچو کی یاد کیسے آگئی؟‘‘
’’امی جان عید آرہی ہے ناں، چاچو نے پچھلی دفعہ بھی عیدی نہیں دی تھی، میں نے سوچااِس مرتبہ آئیں گے تو اُن سے پچھلی عیدی بھی لوں گی۔ چاچو بہت اچھے ہیں، بہت یاد آتے ہیں، روز کہانیاں بھی سناتے تھے۔‘‘
’’اچھا تو یہ بات ہے! عیدی لینے کے لیے چاچو کی یاد آگئی۔ بیٹا اِس عید پر تمہارے چاچو آئیں گے بھی اور میرے بچے کو عیدی بھی دیں گے۔‘‘
’’امی! چچی جان اور شیراز بھی آئیں گے؟‘‘
’’ہاں ہاں سب ہی آئیں گے۔‘‘
’’اچھا تو پھر بہت مزا آئے گا، ہم پہلے کی طرح خوب کھیلیں گے، اچھی طرح سے عید منائیں گے، بازار جاکر مزے مزے کی چیزیں کھائیں گے۔ امی عید پر جو اونٹ والا آتا ہے میں اُس اونٹ کی سواری اکیلے ہی کروں گی۔ بھئی شیراز کو اس پر نہیں بیٹھنے دوں گی، وہ ابھی چھوٹا ہے، ڈر جائے گا اور وہ جو…‘‘
’’ٹھیرو ٹھیرو دادی اماں۔ شیراز چھوٹا ہے اور تم؟ میری بچی اتنی باتیں نہیں کرتے، نظر لگ جاتی ہے۔‘‘
’’امی جان میں بڑی ہوگئی ہوں، دوسری کلاس میں جاکر تو بڑے ہوجاتے ہیں۔ شیراز تو ابھی پریپ ون میں ہے، اس سے تو بڑی ہوں۔‘‘
’’باتوں سے تو تم واقعی بڑی بوڑھی ہو، تمہارے بابا جان آتے ہیں تو بتاتی ہوں کہ ہماری گڑیا اب بڑی ہوگئی ہے، اب گھر کا سارا کام کیا کرے گی… ابو کو ناشتا بناکر دیا کرے گی، سارا کچن سنبھالے گی۔ چلو اس طرح ہمیں بھی کچھ آرام کرنے کا موقع مل جائے گا۔‘‘
’’نہیں نہیں امی جان میں اتنی بڑی تھوڑی ہوئی ہوں۔‘‘
’’ہا ہا ہا ہا ہا… اچھا اب سو جاؤ، نیند خراب ہوجائے گی، سحری میں بھی اٹھنا ہے۔‘‘
’’امی جان اسکول کی چھٹیاں ہیں، ابھی تو باباجان بھی نہیں آئے، بس تھوڑی دیر اور پلیز۔‘‘
’’اچھا اچھا ٹھیک ہے بھئی! لو ابھی یاد ہی کیا تھا، آگئے تمہارے بابا جان بھی۔‘‘
’’السلام علیکم… ابھی تک جاگ رہے ہو، کیا سحری میں نہیں اٹھنا؟‘‘
’’تمہاری لاڈلی نے جگا رکھا ہے، بھئی بہت دماغ کھاتی ہے، جانے کہاں کہاں کے قصے لے کر بیٹھ جاتی ہے۔‘‘
’’عقل مند باپ کی بیٹی ہے، باپ پر ہی جائے گی۔‘‘
’’اوہو یہ خوش فہمیاں…! ماں تو جیسے بے وقوف ٹھیری۔‘‘
’’میں نے یہ کب کہا! اب اگر تم اپنے بارے میں ایسی رائے رکھتی ہو تو اس میں میرا کیا قصور!‘‘
’’اچھا اب زیادہ اسمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے، فریش ہوکر آجائیں، میں کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’بھوک نہیں ہے، بس ایک کپ چائے بنا لاؤ۔‘‘
’’ٹھیک ہے ابھی لاتی ہوں۔ چلو گڑیا تم اپنے کمرے میں جاکر سوجاؤ۔‘‘
’’شب بخیر امی جان۔‘‘
’’شب بخیر بیٹا۔‘‘
…………
’’چائے ہے کہ پائے؟ اب لے بھی آؤ۔‘‘
’’ابھی آئی، ذرا صبر تو کریں! توبہ ہے چائے بنانے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہے لیکن آپ کو تو بس آوازیں لگانے کی پڑ جاتی ہے، یہ لیجیے۔‘‘
’’اچھا محترمہ ناراض نہ ہو، آپ نے بجا فرمایا۔‘‘
’’زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں ہے، چائے پئیں۔ ہاں ناراضی سے یاد آیا آج آپ کی لاڈلی اپنے چاچو کو یاد کررہی تھی۔‘‘
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’پوچھ رہی تھی کہ چاچو ہمارے گھر کیوں نہیں آتے۔‘‘
’’تم نے کیا کہا؟‘‘
’’کہہ دیا جو کہنا تھا۔ باتیں کرتے وقت اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اظہر پیار بھی تو بہت کرتا تھا، ہر ضد پوری کرتا تھا، مجال ہے کبھی کوئی بات ٹالی ہو۔ خاصا سر چڑھا رکھا تھا اُس نے اپنی گڑیا کو، تبھی تو چاچو چاچو کرتی رہتی ہے۔ ویسے ایک بات کہوں میں؟‘‘
’’ہاں ہاں بولو۔‘‘
’’گھر چھوڑ کے جانے کا فیصلہ اظہر کا نہیں تھا، وہ تو…‘‘
’’مجھے معلوم ہے۔‘‘
’’اگر جانتے ہیں تو ناراضی کیسی! ویسے بھی ایک نہ ایک دن سب کو الگ ہونا ہی ہوتا ہے، یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے تو بات چیت بند کردینے سے کیا حاصل! اور پھر بھائیوں کے درمیان کیسی ناراضی! تالاب میں لاٹھی مارنے سے پانی دو ٹکڑے نہیں ہوتا۔ میں تو کہتی ہوں اپنی گڑیا کی ہی خاطر اظہر کو منالیں۔‘‘
’’میں کون سا ناراض ہوں اس کی حرکت پر! البتہ بغیر بتائے مکان کا بندوبست کرکے چلے جانا اچھی بات ہے کیا؟‘‘
’’ایسا تو نہ کہیں، اُس نے آپ سے مشورہ کیا تھا، یہ الگ بات کہ آپ نے اُس کی باتوں پر کوئی دھیان نہ دیا۔ اچھا جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب لکیر پیٹنے سے کیا حاصل۔ اور پھر اس سارے معاملے میں بچوں کا کیا قصور! ان میں کیوں دوریاں بڑھائی جارہی ہیں! شیراز کو آپ کی اور گڑیا کو اظہر کی شفقت سے کیوں محروم کیا جارہا ہے! میں تو کہتی ہوں جو بھی ہوا معاف کرکے آگے بڑھیں۔ ویسے بھی ماہِ رمضان کا آخری عشرہ ہے، عید سے پہلے بھائی کو منالیں، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں، یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے شاید ہماری گڑیا کو دوریاں ختم کروانے کا ذریعہ بنایا ہے، تبھی تو وہ اپنے چاچو کی باتیں لے بیٹھی۔ وعدہ کریں کہ کل اظہر کی طرف ضرور جائیں گے۔‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو کہ خدا نے ہماری بچی کو ہم دونوں بھائیوں کے درمیان ہونے والی نااتفاقی کے خاتمے کا ذریعہ بنایا۔ بے شک انسان خطاکار ہے، عقل رکھنے کے باوجود اپنے نفس کی ہی تابع داری کرتا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے باوجود میں اپنے بھائی کی طرف سے اپنا دل صاف نہ کرسکا۔ اللہتعالیٰ معاف فرمائے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ کل ہی اپنے بھائی کو مناکر اپنے ساتھ لاؤں گا، گڑیا کی محبت نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔‘‘
یوں گڑیا کی باتوں سے متاثر ہوکر اس کے باباجان نے عید آنے سے قبل ہی اپنے چھوٹے بھائی سے صلح کرلی، اور پیدا ہونے والی تمام غلط فہمیاں بھی دور ہوگئیں۔‘‘
…………
مسلمانوں کا آپس میں مل بیٹھنا، نفرتوں، عصبیتوں اور کدورتوں کو مٹا کر محبتوں کی خوشبوؤں کو قلب و نظر میں بسانا… روح کی لطافت، قلب کے تزکیہ، بدن و لباس کی طہارت اور مجموعی شخصیت کی نفاست کے ساتھ انتہائی عجز و انکسار اور خشوع و خضوع کے ساتھ اسلامی اتحاد و اخوت کے جذبے سے سرشار ہوکر خداوند کریم کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لانے کا نام ہی عید ہے۔ اس سال ماہِ صیام اور ہماری زندگی میں آنے والی ایک اورعید گزر گئی، اب پھر ہماری زندگی معمول کے مطابق گزرے گی۔ اس سے پہلے کہ ہم دوبارہ دنیا کی دوڑ میں شامل ہوجائیں ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ ہم عید کی وہ اصل خوشیاں سمیٹ سکے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے؟
مشہور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن گھر سے مسجد کی طرف تشریف لانے لگے۔ راستے میں آپؐ نے کچھ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ بچوں نے سلام عرض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا، اس کے بعد آپؐ نے آگے جاکر ایک بچے کو خاموشی کے ساتھ اداس بیٹھا دیکھا۔ آپؐ اس کے قریب رک گئے اور اس بچے سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ تم اداس اور پریشان نظر آرہے ہو؟ اس نے رو کر کہا: اے اللہ کے محبوبؐ میں یتیم ہوں، میرے سر پر باپ کا سایہ نہیں ہے جو میرے کپڑے لادیتا، میری ماں مجھے نہلا کر نئے کپڑے پہنا دیتی، اس لیے میں یہاں اداس بیٹھا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم میرے ساتھ آؤ۔ آپؐ اسے لے کر واپس اپنے گھر تشریف لائے اور سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: حمیرا۔ انہوں نے عرض کیا: لبیک یارسول اللہ! اے اللہ کے رسولؐ! میں حاضر ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: تم اس بچے کو نہلا دو۔ چنانچہ اسے نہلا دیاگیا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کے دو ٹکڑے کردیے، کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دیا گیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیا گیا۔ پھر اس کے سر پر تیل لگا کر کنگھی کی گئی، حتیٰ کہ جب وہ بچہ تیار ہوگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے کو فرمایا: آج تُو پیدل چل کر مسجد نہیں جائے گا بلکہ میرے کندھوں پر سوار ہوکر جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یتیم بچے کو اپنے کندھوں پر سوار کرلیا اور اسی حالت میں اسی گلی میں تشریف لائے جس میں بچے کھیل رہے تھے۔ جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو وہ روکر کہنے لگے کہ کاش! ہم بھی یتیم ہوتے اور آج ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف نصیب ہوجاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لائے اور آپؐ منبر پر بیٹھ گئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کرکے فرمایا کہ تم آج زمین پر نہیں بیٹھو گے بلکہ میرے ساتھ منبر پر بیٹھو گے۔ چنانچہ آپؐ نے اس بچے کو اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت و شفقت کی وجہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں اتنی نیکیاں لکھ دے گا۔
سوچیے کہ ہم نے کتنے ضرورت مندوں کی مدد کی، کتنے یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھا، حاجت مندوں کی حاجت پوری کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے، خدا کی طرف سے دیے گئے مال میں سے کتنے ضرورت مندوں کی ضروریاتِ زندگی پوری کیں، کتنے مسلمان گھرانوں کے درمیان صلح کروائی۔ اگر آپ کی جانب سے کیے گئے کام حکمِ خداوندی کے عین مطابق ہوئے تو آپ کا ضمیر مطمئن ہوگا، بصورتِ دیگر یہ عید بھی آپ کی زندگی کی ایک اور روایتی عید ہی کہلائے گی۔

حصہ