افقِ شاعری پر آفتاب کی طرح درخشاں، زاہد فتح پوری

35

محمد عامل عثمانی (مکہ مکرمہ)۔

زندگی اپنی اس طرح گزار اے زاہد
بھولنے والے بھی تا عمر تجھے یاد کریں

نقاد کہتے ہیں کہ اردو شاعری میں گل و بلبل کے افسانوں کے سوا اور ہے ہی کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو کے شاعروں نے (یہاں تک بندوں اور متشاعروں کا ذکر نہیں) گل و بلبل کے افسانوں میں، گل و بلبل کا حال شاید ہی کبھی لکھا ہو۔ انہوں نے گل و بلبل کے پردے میں ہمیشہ انسانی زندگی کا کوئی واقعہ بیان کیا ہے یا انسانی فطرت کا کوئی راز کھولا ہے۔ صرف گل و بلبل کے ان دو لفظوں سے شاعروں نے جو چیزیں (اور جو معنی) مراد لئے ہیں صرف ان کی تفصیل کے لئے ایک دفتر چاہئے۔ چہ جائے کہ اسی طرح کی دوسری بے شمار تمثیلیں اور پیکر تراشیاں۔ دراصل شاعر کا مفہوم شعر میں استعمال کئے گئے لفظوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اُسی طرح کے شعرا ء ے کرام میں پاکستان کے ممتاز شاعر جناب زاہدؔ فتحپوری ،یو پی (کرّارحسین ) کا نام بھی افقِ شاعری پر آفتاب و ماہتاب کی طرح درخشاں ہے ۔شائستہ اور مخصوص ترنم سے اشعار پڑھنے والوں میں زاہد ؔ فتحپوری ،(یو پی )جیسے بہت کم لوگ دیکھے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے نام کے ساتھ ان کے بے مثال ترنم کی یادیں سماعتوںمیں رس گھول دیتی اور خیال آفرینی سے محفل کو گرما دیتے تھے۔زاہد صاحب ۲۴ اپریل ۱۹۱۶؁ء ( ہنسوا ، فتح پور ) میں پیدا ہوئے۔ان کے والد نے ان کا نام سید کرار حسین رکھا۔ ۱۹۳۴؁ء میں جب جماعت دہم (میٹرک) ہی کے طالب علم تھے تب ہی انہوں نے پہلی غزل کہی تھی ۔ زاہد فتحپوری کے یہاں فکری پائیداری،جذبہ کی آب وتاب اور شعرمیں نغمگی کی کیفیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔سہل ممتنع میں اشعار کہنے والے یہ شاعربے شمار اصناف سخن مثلاً نعت،رباعی،سلام،مرثیہ،منقبت پر عبور رکھتے تھے۔ وہ حضرت جگر مُرادآباد کے پیروکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے 1950 ء میں پاکستان ہجرت کی اور زاہد ؔ فتحپوری کو پہلی مرتبہ جگر مراد آبادی ہی نے ڈاؤ میڈیکل کالج،کراچی کے مشاعرے میں روشناس کرایا۔ جگر صاحب نے ان سے اپنی ہی ایک غزل بھی پڑھوائی تھی۔ زاہد ؔ فتحپوری کہا کرتے تھے کہ بعد کے برسوں میں شاعری کی طرف میرے اضافی رغبت کی وجہ استاد جگر مراد آبادی ہی کی حوصلہ افزائی کا بڑا ہاتھ تھا۔ زاہد ؔ فتحپوری کا شائستہ ترنم ‘ محبت بھری گفتگو اور ایک اچھے معلم کی شفقت آمیز نگاہیں ہمارے ذہن کے گو شوںمیں ہمیشہ ہی رچی بسی رہے گی۔ اُن کے مداحوں کو وہ مشاعرے بھی یقینا یاد ہونگے جہاں وہ اُستاد قمر جلالوی،حضرتِ ماھر القادری، بہزاد لکھنوی،تابش دہلوی اور رئیس امروہوی جیسے نابغہ روز گار اسا تذہ فن کے ہمراہ شریک ہوا کرتے تھے۔
ان کا مجموعہ کلام ’’ میکدۂ خیال‘‘ ان کے فرزنداور میرے دوست سید انوار حسین نے حال ہی میں شا ئع کرایا ہے۔ اس میں ان کی 130غزلیں اور 35قطعات شامل ہیں ۔اس سے پہلے اُن کی نعتوں کا مجموعہ ’’نقشِ اولیںِ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس میں سرکار رسالت مآبؐ سے اُن کی بے پناہ عقیدت و محبت کا اظہار ہمیں جا بجا نظر آتا ہے۔ میکدۂ خیال میں بر جستگی ،گہرائی اور دلکش پیرائے میں ایسا اظہار خیال نظر آتا ہے جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ اپنا تعارف یوںکراتے ہیں۔

ظاہر میں ہوں زاہدؔ،لیکن ہے پاس دلِ رندانہ بھی
صہبائے محبت کا یہ اثر، ہشیار بھی ہوں دیوانہ بھی
اک آگ سی دل میں روشن ہے اُس آگ میں جلتا رہتا ہوں
اے چشمِ بصیرت دیکھ مجھے میں شمع بھی ہوں پروانہ بھی
٭
زندگی ہم نے بہ ہر رنگ گزاری زاہدؔ
کبھی شاداں تو کبھی اشک بداماں ہو کر

میکدۂ خیال ایک ایسا میکدہ ہے جس میں ساقی سے جام پر جام لنڈھانے کی خواہش کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے شعری تہذیب کی قدرومنزلت ان کے ہاں بدرجہ اتم موجود ہے۔ اُن کے دیوان پر امجد اسلام امجد،ڈاکٹر جمیل جالبی، حضرت تابش دہلوی، ڈاکٹر فرمان فتحپوری اور پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم جیسے جَید اہلِ قلم کی تفریظ ہے۔جناب افتخار عارف بھی ان کو ایک اچھے بزرگ شاعر کی حیثیت سے مانتے ہیں۔ ان کے قطعات ندرتِ خیال کے پرتو ہیں اور ایک عجیب مسحورکُن کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔

عالم کیف جُھوم اٹھا، حُسن کا وہ اثر کہ بس
دامن ہوش چُھٹ گیا، ایسی ملی نظر کہ بس
اُن سے ملے تو تھے کہیں، یاد سی ایک رہ گئی
اُف وہ سُرورِ زندگی، اتنا تھا مختصر کہ بس

بزرگ شاعر تابش دہلوی نے زاہد فتحپوری کی شاعری کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کی شاعری نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کی اس طویل عمر میں تمام اصناف سخن میں اپنی طبع کے جوہر دکھا ئے ہیں خاص طور سے حمد ونعت‘ غزل اور رسائی ادب میں لیکن بنیادی طور پر یہ غزل کے شاعر ہیں۔
بقول ڈاکٹر پیرزادہ قاسم‘ زاہدؔ فتح پوری مرحوم کا حمدیہ و نعتیہ مجموعۂ کلام ’’ نقشِ اوّلیںِ‘‘ ان کی طویل شعری ریاضتوں کا ایک تابناک حصہ ہے۔ کوئی پنتالیس برس پہلے کی ایک مجلس میں جب حضرت زاہدؔفتح پوری کا نام پکارا گیا تو سماعتیں نعتِ رسولؐ سے منوّر ہو گئیں۔ وہ پڑھتے گئے اور ان کا ہر شعر دل پر نقش ہوتا گیا‘‘۔ امجد اسلام امجد ان کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ ‘‘ زاہدؔ فتح پوری اردو غزل کی روایت کے اُس دَور سے تعلق رکھتے ہیں جس کے نمائندوں میں جگر مراد آبادی، حسرتؔ موہانی، فانیؔ بدا یونی، اصغرؔ گونڈوی اور یگانہؔ چنگیزی جیسے درخشاں نام شامل ہیں۔ زاہدؔ فتح پوری قبیلۂ جگرؔ مراد آبادی سے رشستہ آرا ء دکھائی دیتے ہیں۔ وہی تغزل، وہی نغمگی، وہی مضمون آفرینی، وہی سادگی اور وہی سہولت ! لیکن ان سب متشابہات سے قطع نظران کا مخصوص رنگ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے ‘‘۔جناب زاہد فتحپوری کے بارے میں ممتاز ادیب و دانشور ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں کہ زاہد فتحپوری کے چہرے سے شرافت اور خاندانی وجاہت ٹپکتی تھی اور جب وہ کسی محفل میں غزل پڑھا کرتے تھے تو لہجے میں بڑی نرمی اور اپنائیت ہوا کرتی تھی۔ان کی شاعری میں انکا رویہ صاف نظر آتا ہے وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ :

ورثے میں شرافت کی جاگیر نہیں ملتی
بے علم کو دنیا میں توقیر نہیں ملتی
٭
بصد احترام اے دل کہیں جامِ غم نہ چھلکے
رہِ شوق میں چلو بھی تو چلو سنبھل سنبھل کے

تدریس کے ز مانہ میں مرحوم راقم کے استاد خاص بھی رہ چکے ہیں ان کی شفقت آمیز انداز اور نصیحتیں اکثر یاد آتی رہتی ہیں ۔استاد کی غزلیں اردو شاعری میں اہم مقام رکھتی ہیں وہاں اُنکی دلفریب نظمیں اورگیت بھی بھلا یے نہیں جاسکتے ہیں ، چند اشعار ملاخطہ فرمائیں اور فیصلہ خود کریں ۔

حالِ دل سُن کے مرا غیر بھی روئے زاہدؔ
اُسکے دل پہ بھی اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
اشک آتے ہیں تو پی جاتا ہوں
مجھ کو ڈر ہے تری رسوائی کا
٭
اس نے بھی پھیر لیں جو نگاہیں تو کیا ہوا
کوئی نہ ہو زمانے میں اپنا خدا تو ہے
کیا بار بار ہوگی قیامت جہان میں
دنیائے آرزو میں قیامت بپا تو ہے
٭
نہ قدم قدم پہ منزل نہ نظر نظر میں جلوے
وہ عجیب زندگی تھی غمِ عاشقی سے پہلے
اُسے زندگی کہوں کیوں وہ جمودِ مستقل تھا
جو گزر گیا زمانہ تری دوستی سے پہلے
٭
دُکھ درد سہہ رہے کہتے نہیں کسی سے
بیزار ہوگئے ہیں اب ایسی زندگی سے
اللہ آج تیری دنیا کے بسنے والے
محصورِ رنج و غم ہیں محروم ہیں خوشی سے
٭
زاہدؔ کی دعا ہے اب یا ربّ تنظیم کی قوت بھی دے دے
ہو دل میں یقینِ مُحکم بھی آپس میں محبت بھی دے دے

فتحپوری کے بڑے صاحبزادے انور حسین کہتے ہیں کہ ہم نے بزم زاہد کے تحت ایک ویب سائٹwww.bazmezahid.com ترتیب دی ہے۔ جس میں زاہد فتحپوری کے نعتیہ مجموعہ کلام ’’نقشِ اوّلیںِ‘‘ اور غزلوں کا مجموعہ ’’میکدۂ خیال‘‘ اور دیگر کلام بھی بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں اس کے علاوہ بزم زاہد کے تحت ہونے والی دو محافل میلاد ؐ اور دیگر پروگرام بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

غزلیں

سحر انصاری

وہ زندگی کہ جس میں اذیت نہیں کوئی
اِک خواب ہے کہ جس کی حقیقت نہیں کوئی
میری وفا کو زلف و لب چشم سے نہ دیکھ
کارِ خلوص ذات کی اجرت نہیں کوئی
تسلیم تیرے ربط و خلوص و وفا کے نام
خوش ہوں کہ اس میں لفظ محبت نہیں کوئی
خلوت میں گر وجود پہ اصرار ہو تو ہو
بازار میں تو ذات کی قیمت نہیں کوئی
ہم برزخِ وفا کے جزا یافتوں کے پاس
اِک جسم ہے سو جسم کی جنت نہیں کوئی
ہر فیصلے کو روزِ قیامت پہ چھوڑ دیں
اس جبر سے تو بڑھ کے قیامت نہیں کوئی
یہ شہر قتل گاہ نہیں پھر بھی اے سحرؔ
کیا قہر ہے کہ جسم سلامت نہیں کوئی

خالد معین

میں اپنے آپ سے اب جو کلام کرتا ہوں
تو آئنے کے مقابل قیام کرتا ہوں
ہے میری آب و ہوا ہی مری گواہی بھی
کب اپنے دشت سے باہر خرام کرتا ہوں
دِیے جلاتے ہوئے انگلیاں بھی جلتی ہیں
مگر میں روز یہی اہتمام کرتا ہوں
کبھی کبھی تو یہ شمشیر مانگتی ہے خراج
کبھی کبھی میں اسے بے نیام کرتا ہوں
یہ اور بات کھٹکتا ہوں کچھ نگاہوں میں
وگرنہ میں تو فقط اپنا کام کرتا ہوں
کہیں جواب بھی دینے کو دل نہیں کرتا
کہیں سلام سے پہلے سلام کرتا ہوں

عبدالرحمن مومن

تُو محرم کے مہینے کو رجب بولتا ہے
تو نہیں بولتا یہ تیرا نسب بولتا ہے
یہ جو خاموش نظر آتا ہے محفل میں تری
کبھی خلوت میں اسے دیکھ غضب بولتا ہے
بولتا تھا وہ خاموش کرا دیتے ہیں
اب جو خاموش ہوا کہتے ہیں کب بولتا ہے
دل کو معلوم ہے لذتِ شب ہجراں کی سو دل
ہجر کے غم کو بھی خوش ہو کے طرب بولتا ہے
ہجر کا غم ہے ترے خون میں شامل مومنؔ
تیری اردو نہاں سوزِ عرب بولتا ہے

حصہ