چارہ گروں کے درمیاں

158

ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مریض نے اپنے ڈاکٹر سے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! میری گردن میں درد ہے۔ آپ دیکھیے، درد کے لیے یہ کتنی بری جگہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے طنزیہ لہجے میں اس سے پوچھا ’’تو آپ کے خیال میں درد کے لیے آپ کی گردن سے بہتر اور کون سی جگہ ہوسکتی ہے؟‘‘ مریض نے جواب دیا ’’آپ کی گردن‘‘۔
گزشتہ دو ماہ سے ہماری گردن میں بھی شدید درد ہے۔ ہم یہ شکایت لے کر ایک آرتھوپیڈک سرجن سے ملے، لیکن یہ بات اُن سے نہیں کہی، اس لیے کہ ہم تو مجموعۂ امراض ہیں۔ اگر ایک درد اُدھر منتقل ہو بھی جاتا تو بقیہ دردوں کا علاج کون کرتا؟
ڈاکٹر صاحب نے گردن کا معائنہ کرکے فرمایا ’’مبارک ہو، اب آپ صراطِ مستقیم پہ گامزن ہوگئے ہیں‘‘۔ ہم نے گردن سہلاتے ہوئے سوال کیا ’’کیا مطلب؟‘‘ بولے ’’آپ کی گردن کے مہرے سرک گئے ہیں، اب آپ کو کالر پہننا ہوگا جو گردن کو بالکل سیدھی اور اونچی حالت میں رکھے گا۔ بس ذرا چلنے پھرنے میں احتیاط برتیں۔ کہیں کوئی کھلا ہوا مین ہول آپ کو علاج سے بے نیاز نہ کردے۔‘‘ انہوں نے دوائیں بھی تجویز کیں جو اسی دن سے شروع کردی گئیں۔
دوسری ملاقات میں انہوں نے حال پوچھا تو ہم نے عرض کیا ’’صراطِ مستقیم پر چلنے کی اذیت ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے‘‘۔ کہنے لگے ’’آپ کو فزیو تھراپی کی ضرورت ہے‘‘۔ پھر ہم ایک فزیو تھراپسٹ کے ’’ٹوٹل کنٹرول‘‘ میں چلے گئے۔ وہ بڑے پیار سے ہماری گردن کو دائیں بائیں، اوپر نیچے گھماتے۔ بعد ازاں اسے ایک مشین میں کس کر کھینچتے، لیکن مشین سے باہر نکلتے ہی گردن پھر ڈھے جاتی۔
ہم نے سرجن صاحب سے اس پریشانی کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ’’اب آپ میری رینج سے نکل گئے ہیں۔ میں آپ کو نیورو سرجن کے پاس بھیج رہا ہوں‘‘۔ ہمیں اس بات پر وہ سرجن یاد آگئے جنہوں نے ایک مریض کے آپریشن کے بعد آپریشن تھیٹر چھوڑتے ہوئے کہا تھا ’’بال بال بچا‘‘۔ نرس نے گھبرا کر پوچھا ’’سر! خیریت تو رہی؟‘‘ بولے ’’اگر میرا نشتر آدھا انچ بھی اِدھر اُدھر ہوجاتا تو آج میں اپنی اسپیشلسٹی سے باہر تھا۔‘‘
واقعی یہ اسپیشلائزیشن کا دور ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ تھوڑے عرصے بعد دائیں اور بائیں نتھنے کے ماہر الگ الگ دستیاب ہوں۔ آرتھوپیڈک سرجن نے ہمیں نیورو سرجن کے سپرد کردیا۔ انہوں نے معائنہ کرکے کہا ’’میرے بھائی! یہ ہڈی کا مسئلہ ہی نہیں، آپ کی گردن کی نس دب گئی ہے۔ کیا آپ دماغی کام بہت کرتے ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا ’’جو اور کچھ نہ کرسکے وہ کیا کرے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ہمارے جواب کی بلاغت کو نظرانداز کرتے ہوئے دوائیں تجویز کردیں اور فزیو تھراپی بند کرادی۔ اب ہم تھے، دوائیں تھیں، درد تھا، گھر تھا اور گھر والی۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ، لیکن ہمیں اندازہ نہ تھا کہ ہمیں ایک زیادہ کڑی آزمائش سے گزرنا ہوگا جسے عرفِ عام میں عیادت کہتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد سے دوستوں نے عنایات کی بوچھاڑ شروع کردی۔ ہم نے حسبِ استطاعت عیادت کا جواب ’’ضیافت‘‘ سے دے کر مشرقی روایات کی پاسداری کی، لیکن ان ہی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ہمارے بہی خواہ ہمدردی میں حدِّ اعتدال سے گزر گئے۔
ایک صاحب نے حال سن کر فرمایا ’’خدا خیر کرے، یہ فالج کی علامات ہیں، مکمل علاج ضروری ہے‘‘۔ ہمیں یہ تنبیہ سن کر جھرجھری آگئی۔ اب ہم نے فیصلہ کرلیا کہ کسی کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ نہیں کریں گے۔ سیاست دانوں کی طرح ’سب ٹھیک ہے‘ کا ورد کریں گے اور چہرے سے تروتازگی (مصنوعی) کے تاثرات ظاہر کریں گے۔اب جو احباب عیادت کے لیے آتے وہ ہمیں بھلا چنگا دیکھ کر مایوس ہوتے۔ ایک صاحب نے تو صاف کہہ دیا ’’بڑی دور سے آیا ہوں، خیال تھا کہ آپ بستر پر ہوں گے، مگر یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نکلا‘‘۔ پھر باتوں باتوں میں کہنے لگے ’’مجھے واپس چھڑوانے کا بندوبست ہوسکتا ہے؟‘‘ عرض کیا ’’ہم خود گاڑی ڈرائیو نہیں کرسکتے اور ڈرائیور چلا گیا ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ برا سا منہ بنا کرچلے گئے۔
ایک رفیقِ کار نے مشورہ دیا کہ حکیم کو دکھا دو۔ ہم نے کہا ’’اس وقت بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں‘‘۔ ارشاد ہوا ’’ان ہاتھوں کو حکیم صاحب کی معجون سے مضبوط تر کیجیے‘‘۔ موصوف دوبارہ آئے تو اپنے ساتھ ایک ڈبیا میں معجون بھی لیتے آئے جس کا نام کچھ اس قسم کا تھا جیسے پرانے زمانے کی طوائفوں کے نام ہوا کرتے تھے… ہاں یاد آیا ’’سورنجان‘‘۔ ساتھ میں مالش کے تیل کی شیشی بھی تھی۔ فالج سے ڈرانے والے دوست کی مکمل علاج کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ہم نے ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ حکیم کی دوا بھی شروع کردی۔
ہمارے ایک بزرگ عیادت کے لیے آئے تو ڈانٹ کر کہنے لگے ’’میاں اس کا سب سے مؤثر علاج ہے گنڈا‘‘۔ ایک لمحے کے لیے ہم سمجھے کہ انہوں نے ’’ڈنڈا‘‘ کہا ہے۔ ہم نے سسکی بھری تو بولے ’’کل فجر کے بعد آپ کو اپنے پیرومرشد کے پاس لے جائوں گا‘‘۔ ہم نے سوچا محض دل بہلانے کے لیے یہ بات کہی گئی ہے، لیکن وہ دوسرے دن علی الصبح آدھمکے۔ کڑاکے کی سردی میں لحاف میں سے نکلنا اور چند منٹ میں تیار ہونا درد سے زیادہ دردناک تھا، لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ ان کا دل رکھنے کے لیے یہ مشقت بھی برداشت کرلی۔
گردن میں کالر فٹ کرکے دبکے دبکائے ہم صوفی صاحب کے آستانے پر پہنچے تو وہاں پہلے ہی بہت سے فریادی موجود تھے۔ ایک عورت کہہ رہی تھی ’’صوفی صاحب! میرے بچے کے جلاب بند نہیں ہوتے‘‘۔ فرمانے لگے ’’یہ تعویذ گھول کر پلائو، ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔ دوسری نے بپتا سنائی ’’صوفی جی! میرا شوہر دوسری شادی کی دھمکی دیتا ہے‘‘۔ اسے بھی وہی تعویذ دیتے ہوئے بولے ’’اس کا پانی گھول کر پلائو، دوبارہ دھمکی نہیں دے گا‘‘۔ ہم ابھی اس کثیر الجہت تعویذ کی برکات پر غور کررہے تھے کہ صوفی جی ہماری طرف متوجہ ہوئے۔
ہم نے چاہا کہ حال بتائیں لیکن ہمیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے ’’آپ کچھ نہ بولیے، آپ کی پیشانی بتارہی ہے کہ گردن میں تکلیف ہے‘‘۔ ہم نے آنکھ کے اشارے سے اُن کی تشخیص کی تصدیق کی، جس پر وہاں بیٹھے ہوئے ان کے عقیدت مندوں نے سبحان اﷲ کا ورد شروع کردیا، حالانکہ گردن میں کسا ہوا کالر دیکھ کر یہ بات ایک بچہ بھی بتا سکتا تھا۔ صوفی جی نے ہمیں وہی کراماتی تعویذ گلے میں ڈالنے کے لیے دیا۔ ہم نے ان کی ’’خدمت‘‘ کرنی چاہی لیکن وہ ناراض ہوکر بولے ’’میرے لیے حرام ہے کسی سے ایک پیسہ بھی وصول کرنا‘‘۔ پھر جس گدی پر بیٹھے ہوئے تھے اس کا کونہ اٹھاتے ہوئے فرمایا ’’جسے کچھ دینا ہوتا ہے وہ خود گدی کے نیچے رکھ دیتا ہے، مجھے روپے پیسے کا لالچ نہیں، یہ سب رقم سالانہ نیاز کے کام آتی ہے۔‘‘
ہم نے عہد کرلیا کہ اس قسم کا اظہارِ محبت کرنے والوں سے صاف کہہ دیں گے ؎

عزیز اتنا ہی رکھو کہ دِل سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

لیکن اگلے روز جو صاحب عیادت کے لیے آئے انہوں نے بیٹھے بیٹھے ہمارے ہی فون سے ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا وقت لے لیا۔ ہم نے لاکھ سمجھایا کہ کہیں معدے میں دوائوں کی عالمی جنگ نہ شروع ہوجائے، لیکن اُن کا استدلال تھا کہ ہومیوپیتھک علاج بے ضرر ہے، کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اب کوئی غور کرے جو دوا (غلط استعمال پر بھی) نقصان نہیں پہنچا سکتی وہ بھلا فائدہ کیا پہنچائے گی؟ تاہم دوستی کا بھرم رکھنے کی خاطر ہم نے ہومیو پیتھ کی خدمت میں بھی حاضری لگادی اور وہاں سے جھولیاں بھر کے دوائیں لے آئے۔
ایسا نہیں تھا کہ تمام ہی ’’عیات گزار‘‘ دوائیں لا اور بتارہے تھے، کچھ مہربان پھول اور صحت یابی کے کارڈ بھی لائے، اور ان میں خاصی خوش ذوقی کا ثبوت دیا۔ مثلاً ایک دوست کے کارڈ پر یہ خواہش تحریر تھی “Get well soon”۔ ان کے جانے کے بعد ہمارے باس تشریف لائے، ان کے کارڈ پر یہ حکم درج تھا “Get well immediately”۔ لغت میں soon اور immediately کے معنی ایک ہی ملیں گے لیکن دونوں کا فرق صاف ظاہر ہے۔
اپنے ایک دیرینہ کرم فرما کے اصرار پر ہم ایک اور آرتھو پیڈک سرجن کے پاس پہنچے۔ انہوں نے بہت محبت سے معائنہ کرکے آپریشن کا مشورہ دیا اور کہا کہ یہ نیورو سرجن کا کیس ہی نہیں، آپ کا علاج صرف آپریشن ہے۔ آپ چاہیں تو آپ کی گردن کٹوانے کا بندوبست لندن میں ہوسکتا ہے، وہاں میرا گھر بھی ہے، آپ جب تک چاہیں اس میں رہیں۔ اب ہم ڈاکٹر صاحب کو کیا بتاتے کہ لندن میں رہنے کے لیے ایک گھر کے علاوہ بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے فزیوتھراپی دوبارہ جاری کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
کرم فرمائوں کی عنایت سے آج کل ہم ڈاکٹر کی دوائیں بھی کھارہے ہیں اور حکیم کی بھی۔ فزیو تھراپی بھی کروارہے ہیں اور ہومیو پیتھک دوا کا استعمال بھی جاری ہے۔ صوفی جی کا تعویذ گلے میں برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہماری بیگم نے اٹھا رکھی ہے، اور اس سے بچنا ناممکن ہے۔ تمام معالجین کی آراء کا تجزیہ کریں تو صورت حال اس طرح بنتی ہے……
٭ نیوروسرجن کا کہنا ہے کہ یہ ہڈیوں کا کیس نہیں۔
٭ آرتھوپیڈک سرجن کا استدلال ہے کہ اس میں نیورو سرجن کا کوئی دخل نہیں۔
٭ حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ متاثرہ حصوں پر تیل کی مالش ضروری ہے۔
٭ ڈاکٹروں نے تنبیہ کر رکھی ہے کہ مالش سے کیس بگڑ جائے گا۔
٭ فزیو تھراپسٹ کا خیال ہے کہ ہلکی ورزش اور گردن کھینچے بغیر فزیو تھراپی بے کار ہے۔
٭ آرتھو پیڈک سرجن کو اس سے اتفاق ہے لیکن نیورو سرجن اس کے مخالف ہیں۔
٭ ہومیو پیتھک ڈاکٹر صاحب کا فرمان ہے کہ سب کچھ بند کردو، صرف میری دوائیں کھاتے رہو، فلاح پائو گے۔
ہماری حالت سب کے آگے ایسی ہے کہ…… مردہ بدست زندہ۔ شاید ایسی ہی کسی صورت حال کے لیے ہمارے دوست رضی اختر شوقؔ (مرحوم) نے کہا تھا ؎

ایک طرف میں جاں بلب تار نفس شکستنی
بحث چھڑی ہوئی اُدھر چارہ گروں کے درمیاں

حصہ