میری وال (سڈنی ) سے۔۔۔

124

افشاں نوید
رات کے تین بجے جہاز کے اندر اور باہر ایک جیسا اندھیرا تھا۔اس کی ٹرے میں چار جوس کے گلاس تھے۔اس نے دیکھا میں جاگ رہی ہوں تو ٹرے ایک دلنواز مسکراہٹ کے ساتھ میرے سامنے کردی۔
زندگی میں پہلی بار نصف شب کے بعد کسی کایہ خدمت گارانہ رویہ دیکھ کر دل مسرور ہوگیا۔ورنہ اگر کبھی بچوں کورات کے اس پہر بحالت مجبوری پکارا تو باڈی لینگویج کی بے بسی دیکھ کر دوبارہ پکارنے کہ ہمت نہ ہوئی۔
جی چاہا کہوں,سنو!تم بھی سوجاؤ۔ابھی تو رات باقی ہے۔مگر وہ کیسے سو سکتی ہے وہ تو ڈیوٹی پر ہے۔چودہ گھنٹے سے وہ پانچ چھ دھان پان سی لڑکیاں جیسے دھنکی ہوئی روئی،نرم ونازک، کیسے نخرے اٹھا رہی ہیں سب کے۔
کمال کی بات یہ کہ نہ میک اپ ماند پڑا۔نہ ہیئراسٹائل،نہ شکن لباس پر نہ ماتھے پر۔۔۔
یہاں سے وہاں اتنی لمبی تو تھی جہاز کی راہداری جتنی ہمارے پرانے محلہ کی گلی۔وہ ہیل کے جوتے پہنے کتنی مہارت سے اس راہداری کو ناپ رہی تھیں۔۔ایک طویل سفر میں کھانا پینا بھی ٹائم پاسنگ کا اچھا بہانہ ہوتا ہے۔
بھرے جہاز کے ہر مسافر کو چھ سے آٹھ بار کچھ پیش کیا انھوں نے۔پانی،ٹافیاں،اخبار،مہکتے ٹشوز،ناشتہ،لنچ،ڈنر،چپس،آئسکریم،کولڈ ڈرنکس،عند الطلب الگ حاضر ہو رہی تھیں۔کسی کو مزید تکیہ درکار ہے۔کسی کو کافی یا چائے۔کسی بزرگ کی طبیعت ناساز ہورہی ہے تو کسی میم کا بچہ چین نہیں لینے دے رہا۔وہ ہر کال پر ایک سی مسکراہٹ سجائے حاضر۔۔
سفر سولہویں گھنٹے میں داخل ہوگیا اطراف میں سب کمبلوں میں سمٹے پڑے تھے۔کچھ خوابیدہ،کچھ نیم خوابیدہ،کچھ کے خراٹے دوسروں کے لئے وبال جان کہ بس چلے تو جہاز کی کھڑکی سے نیچے پھینک دیں۔
جی چاہا کہ اس سے پوچھوں تمہیں سردی نہیں لگتی؟اس کی اسکرٹ جو ٹخنوں سے اوپر تھی۔کئی بار میں نے اپنی دانست میں دیکھنے کی کوشش کی کہ ایسا کون سا جیل یا لوشن لگایا ہے کہ پنڈلیوں پر شدید سردی کا اثر نہ ہو۔کیسے ظالم ہیں سردیوں کا لحاظ کرکے ہی ڈریس کوڈ میں کچھ ترمیم کردیتے۔
ائیرپورٹ پر بھی جہاں لوگ مفلر،جیکٹ،جرسیوں میں ملبوس تھے یہ دکھیاریاں اسی حلئے میں نظر آئیں۔۔
گھروں میں تو چار چھ افراد کی خدمت ہمیں کتنی کھلتی ہے۔کوئی بیٹی اپنے گھر میں خدمت کی یہ مثال پیش نہیں کرسکتی۔
کیسا سراب ہے یہ۔یہاں سڑکوں پر کہتی ہیں۔ہم روٹی کیوں پکائیں،ہم موزا کیوں ڈھونڈیں،ہم خدمت کیوں کریں،ہم کس صلاحیت میں کم ہیں۔
جواب میں سماج نے یہ رول ان کے حوالے کیا ہے۔صبح چھ بجے دوہا ائیرپورٹ تھا۔اگلے دن چھ بجے سڈنی ائیرپورٹ۔خواتین اور مرد ایک جیسے یونیفارم میں جابجا کاؤنٹرز اور راہداریوں میں موجود۔
کتنی گراں ہے یہ نائٹ ڈیوٹی۔
جہاں مجبور ہوں وہاں حالت اضطرار میں جائز۔
مساوات کی طلب میں جو گھر چھوڑا تو سماج نے بھی کمر توڑ دی اس صنف نازک کی۔وہ سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ہم اس سراب کو چشمہ حیات سمجھ کر لپک رہے ہیں۔۔
دودن قبل آسٹریلیا کے فیڈرل الیکشن کا رزلٹ آیا ہے۔انتخابی منشور کے تین اولین نکات تھے۔ماحولیات،معیشت،ڈپریشن سے نجات۔جس کے لئے لبرل پارٹی نے اربوں ڈالر مختص کرنے کاوعدہ کیاہے جس سے بالخصوص نوجوان نسل کے نفسیاتی عوارض اور ڈپریشن کا علاج ہوگا۔
گھر کا سکون کھو کہ پایا تو کیا پایا۔۔۔
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے۔۔۔
٭…٭…٭
رات کا دوسرا پہر تھا،ننھے میاں کی سیٹ بیلٹ میں مسئلہ ہوگیا، لگ کے نہیں دے رہی تھی۔میرے پاکستانی مزاج نے سر اٹھایا۔۔کیا ہوا معصوم بچہ ہے۔ویسے بھی آدھی رات کو کون دیکھ رہا ہے کہ کس نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی بس گاڑی اسٹارٹ کر لیں۔میری تو قلفی بن رھی ہے ٹھنڈ سے۔(بھلا ہم اہلیان کراچی کیا جانیں آٹھ اور دس درجہ حرارت۔) جواب آیا۔۔قانون قانون ہے۔ٹریفک قوانین کی بہت سختی ہے یہاں۔۔
ٹریفک قوانین ہی کی نہیں یہاں آپ کو قانون کی عملداری ہر قدم پر نظر آتی ہے۔لگتاہے یہاں ہر فرد ریاست کی نظر میں بہت قیمتی ہے۔ ریاست ماں کی طرح سب کے حقوق کی محافظ ہے۔پتا پتا بوٹا بوٹا ریاست کے ہونے کا گواہ ہے۔ریاست سینے میں دل کی طرح دھڑکتی ہے یہاں۔ریاست نے بنیادی حقوق صاف پانی،مفت تعلیم،مفت علاج معالجہ،بہترین اجتماعی نظم ونسق سب کچھ دیا اور جواب میں رعایا نے اپنی وفاداری۔۔
ریاست کی حدود کہیں جاکر ختم ہوجاتی ہیں۔مثلا ریاست پابند ہے ہر بچہ کی مفت تعلیم کی۔لیکن ریاست بچے کے باپ کے بارے میں سوال نہیں کرسکتی۔بلکہ برتھ سرٹیفکیٹ میں سنگل پیرنٹ کا خانہ ہے گویا ریاست نے تسلیم کیا ہے تنہا والدین میں سے کسی ایک کی ملکیت کو۔
بچہ مفت علاج معالجہ کا حق دار ہے۔اسکو ایک بہترین انسان بنانے کے لئے ریاست سارے وسائل جھونک رہی ہے لیکن جائز ناجائز ولادت کا سوال ریاست نہیں پوچھ سکتی۔دوعورتیں یا دومرد ساتھ فلیٹ میں رھیں نکاح سے انکار کرکے کھلم کھلا غیر فطری قوم عمل لوط میں مبتلا ہوں۔ریاست کے پر جلتے ہیں کہ غیر فطری زندگی سے لوگوں کو روکے۔حتی کی وہ انکے حقوق کی قانونی ضامن بن جاتی ہے۔
ڈرگز کے بے تحاشا استعمال نے قومی زندگی کو سولی پر چڑھایا ہوا ہے۔لیکن نشہ آور اشیاء کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
ایسی دسیوں مثالیں آپ دیکھ جائیں کہ فرد کی شخصی آزادی میں ریاست مزاحم نہیں ہوسکتی۔یعنی ریفرنڈم میں ہم جنس پرستوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا۔
یہ واحد مذہب کی قوت ہے جو انسان کو غلط سے روک سکتی ہے۔جوشروفساد سے باز رکھتی ہے۔جو فرد کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی نہیں ہوتی فرد کو اپنے پیچھے چلاتی ہے۔
مذہب بچے کے دنیا میں آنے سے پہلے اس کے باپ کا سوال اٹھائے گا۔لڑکی اور لڑکے کی زندگی پارٹنرشپ کے ساتھ نہیں گزر سکتی۔نکاح لازم کرنا ہوگا۔دوعورتیں یا مرد ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتے یہ مذھب کی نظر میں سنگین جرم ہے۔نشہ حرام ہے۔بس کہہ دیا گیا۔اب ایمان والا چھپ کر شراب نہیں پئے گا۔سؤر حرام ہے۔کوئی منطق یا دلیل تسلیم نہیں کی جائیگی اس کے گوشت کے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے طور پر۔۔دنیابھر کے مسلمان سؤر،شراب،زنا،ہم جنس پرستی کو حرام سمجھتے ہیں۔
اگر ریاست کا مذھب نہیں ہوتا یا آئین میں درج ہونے کی حد تک ہوتا ہے تو زندگی کتنی فساد پرور ہو جاتی ہے۔دنیا کی جن اقوام کی ترقی سے ہم متاثر ہیں ان کی بے خدا زندگیاں کتنی ڈپریشن کا شکار ہیں انکے ساتھ ٹہلتے کتوں کو دیکھ کر اس کا اندازہ ہوجاتاہے۔
٭…٭…٭
سورج کے ساتھ ساتھ۔۔۔
مغرب سے کچھ قبل نکلے تھے گھر سے۔کئی گھنٹے سڑکوں پر رہے۔آنکھوں پر یقین نہ آیا۔۔۔ساری دکانیں بند۔صرف فیولنگ پمپ یا کیمسٹ اسی نوعیت کی اکادکا کوء دکان کھلی نظر آئی۔۔پتا چلا شہر سورج کے ساتھ سفر کرتے ہیں یہاں۔۔۔سورج جب نکلے کاروبار شروع۔علی الصبح ٹرینوں کے باہر رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔یہاں ٹرین کا سفر اگرچہ مہنگا ہے مگر لوگوں کا پسندیدہ۔ایک تو پارکنگ کے چارجز یہاں بہت ہوتے ہیں دوسرے پارکنگ کی جگہ کا مسئلہ۔اس لئے زندگی کو بہت آسان کردیا ہے ٹرین نے۔جی چاھتاہے پاکستان میں بھی وہ دن آئیں کہ ٹریفک جام کے مسئلہ کو ٹرین کے نظام کو منضبط کرکے حل کیا جائے۔۔۔
شہر صبح جاگ جاتا ہے۔سورج کے ڈھلتے سمے جب پرندے پر سمیٹتے ہیں تو شہر بھی خامشی
کی ردا اوڑھ لیتا ہے۔یہاں راتیں نہیں جاگتیں۔۔۔صبحیں بیدار ہوتی ہیں۔۔۔
آپ تصور کریں ایک بزنس مین دن بھر کاروباری مشقت اٹھاکر نصف شب کے بعد گھر پہنچتا ہے۔ایک دوسرا کاروباری آدمی عشاء سے قبل۔ان دونوں کی خانگی زندگیوں،گھر کے معمولات،صحت کے احوال،اہل خانہ سے مراسم۔سب ہی کچھ کتنا مختلف ہوگا۔۔۔
شریعت نے کہہ دیا تھا کہ صبح میں برکت ہے۔وہ برکت سمیٹ رہے ہیں۔ہم ظہر کی اذانوں پر لاالہ الااللہ پڑھ کر بستر سے برآمد ہوتے ہیں۔دکان پر آیت الکرسی کو بھی تعویذ کی طرح لٹکایا ہوا ہے۔اور دکان کی پیشانی پر۔۔ھذا من فضل ربی۔۔۔۔بھی کندہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔مگر فضل کوئی اور سمیٹ رہا ہے ہماری شریعت اور ضابطوں پر عمل کرکے۔۔۔
٭…٭…٭
ائیرپورٹ پر اندر چھوٹی گاڑیاں چل رہی تھیں مسافروں کے لئے۔لیکن خواتین ان کی خدمات لینا پسند نہیں کررہی تھیں۔سب پیدل چلنے کو فوقیت دے رہے تھے۔ہم پاکستانی خواتین کے لئے حیرت کی بات ہے۔ہم تو گھر کے اندر سے گاڑی سے نکلتے ہیں اور واپس دروازے کے باہر ہی اترتے ہیں۔یہاں سب بے حساب پیدل چلتے نظر آتے ہیں۔گھروں کے باھر کاروں کے ساتھ سائکلیں بھی کھڑی نظر آتی ہیں۔لگتا ہے ہر ایک کو پیدل چلنے کا گویا جنون ہے۔دن کے جس حصہ میں آپ گھر سے باھر نکلیں دائیں بائیں آپ کو ڈگ بھرتے خواتین وحضرات نظر آئیں گے۔درمیانی اور اس سے اوپر عمر کے لوگ بالخصوص بہت چہل قدمی میں ملیں گے۔انتہاء ٹھنڈا موسم بھی ان کے اس معمول کا بال بیکا نہیں کرتا۔پچاس برس کی عورتیں یہاں سیدھی چلتی ہیں۔خوب چلتی ہیں۔ائیرپورٹ کی لمبی راہداریوں کے بعد جب ہم ہانپنے لگے اپنی انتظار گاہ میں۔یہ وہاں بھی ہیڈفون لگائے نظر موبائل اسکرین سے ہٹانے پر تیار نہیں۔بڑے بڑے سرخ سیب کھاتی ٹہلتی ہی رہیں۔یہ تھکتی کیوں نہیں ہیں۔عجیب سا غصہ آرہاتھا اپنی کم مائیگی پر۔ستر پچھتر برس کی عورتوں کے پاس اب تک میں نے اسٹک نہیں دیکھی۔اگرچہ وہ رفتار میں دھیمے چلتی ہیں۔یہاں پچاس پچپن میں کوئی بوڑھا نہیں لگتا انتہائی فٹ۔۔۔اس کی وجہ انکی اور ہماری صبحوں کا فرق بھی ہے۔۔شائد ہم ذیادہ آرام کے طالب ہیں۔وہ خود کو تھکاتی ھیں گھنٹوں چہل قدمی کرکے اس لئے انکے گھٹنے نہیں تھکتے۔ہمارے سماج میں اب چالیس برس کی عمر میں بھی زمین پر سجدے سے محرومی دیکھنے میں آتی ہے۔زندگی تو انھیں بھی ایک بار ہی ملی ہے اور ہمیں بھی۔۔۔
٭…٭…٭
افطار میں پانچ منٹ تھے۔ہم ایک مشروب خانے میں داخل ہوئے۔طرح طرح کے جوس اور شیک میزوں پر موجود تھے۔عمدہ کھجوریں درمیان میں رکھی تھیں۔سب افطار کے منتظر تھے۔
تمام خواتین وبچیاں اسکارف میں ملبوس تھیں۔لباس کے انداز مختلف تھے لیکن سر کو سب نے سلیقے سے کور کیا ہوا تھا۔ایک مسلمان عورت کے تعارف کیلئے اس کا سراپہ ہی کافی ہوتا ہے۔
شائد پاکستان میں یہ کوئی قابل بیان منظر نہ ہو کہ کسی ریسٹورنٹ میں آپ گئے اور پاکستانی خواتین حسب معمول ساتر لباس میں آپ کو نظر آئیں۔
یہاں یہ بہت بہت خاص تھا۔جن راستوں سے آپ گزر کر آئے تھے وہاں بہت آلودگی تھی۔ذھن میں ایک جنگ جاری تھی کہ عورتیں اتنا مختصر لباس کیوں پہنتی ہیں۔حیاتو اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے۔اپنی فطرت کو کس درجہ مسخ کرنا پڑتاہوگا اتنی مختصر لباسی کے لئے۔اس وقت ہم گھروں میں بھی سوئٹزر اور اونی جرابیں لے رہے ہیں۔ایسے میں ٹی شرٹ کے ساتھ دو بالشت کے شارٹس میں کوء خاتون نظر آئے تو دل”بے چاری”کہ کر خاموش ہو جاتاہے۔سوال تو ایک غیر جانب دار شخص کے دل میں بھی پیدا ہوتا ہے۔
کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ فرد کا انفرادی معاملہ ہے ہمیں ان بحثوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔یہ انفرادی معاملہ نہیں ہے۔یہ تہذیب ہے، یہی ثقافت ہے۔یہاں غض بصر کس طرح ممکن ہے؟؟اسلام کی حقانیت آپ کو سمجھ آتی ہے۔عورتوں کو پردے کے احکامات کے ساتھ مردوں کو غض بصر کا حکم دیاکہ تم مردوں کا جینا دوبھر نہ کرتی پھرو۔صرف لباس ہی ساتر نہیں۔خوشبو بھی تیز استعمال نہ کرو،صرف خوشبو ہی نہیں لب ولہجہ بھی شیریں نہ رکھو کہ دل کی خرابی کا مبتلا تم سے توقع نہ وابستہ کرلے۔راستہ میں بھی کنارے ہو کر چلو،اختلاط سے بچو نامحرم سے جسم چھونا سؤر سے چھونے کے مترادف ٹھرایا گیا۔صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ روحانی پاکیزگی۔فحش گفتگو نہ کرو نہ سنو،خواہ مخواہ تجسس نہ کرو،دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو،دوسروں کے بارے میں گمان نہ کرتے رہو۔اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔
ایک پاکیزہ ترین سوسائٹی ہے اسلام کی قائم کردہ سوسائٹی۔
اپنے لباس کا اختیار ایک خاتون کا ذاتی معاملہ نہیں ہے۔وہ سماج میں آلودگی پھیلاتی ہے۔کتنے نفوس کو امتحان میں ڈالتی ہے۔ہمارا لباس ایک خاموش تبلیغ ہوتا ہے۔
بعد ازاں ہم فوڈ سٹریٹ گئے۔جہاں بالخصوص مسلمان روزہ افطار کرنے آتے ہیں رمضان میں۔پوری اسٹریٹ تعارف کرارہی تھی کہ یہاں مسلمان عورتیں ہیں۔ساتر لباسوں میں۔
اس سماج میں مسلمان عورتیں جہاں سے گزرتی ہیں ایک پیغام ضرور دیتی ہیں کہ ایک عورت کے لباس کو کسی حدود کا پابند ہونا چاہیے!!!!۔

حصہ