قلعی گر کا لڑکا

55

(قسط نمبر 3)
پرستان کا پری زاد گھوڑا شہزادے کو اڑا تا اڑا تا اس کے اپنے ملک کی حدود سے نکال کر ایک اور باد شاہت کی حدود میں لے آیا اور اس کے دارالسلطنت کے قریب ایک جنگل میں اترا۔ وہ اتنا برق رفتار تھا کہ سیکڑوں میل کا یہ فاصلہ اس نے چند منٹوں میں ہی طے کر لیا۔ شہزادے کو اتر نے کا کہا اور اس کی مرحومہ کا پیغام سنایا کہ وہ ایک خاص مدت تک یہاں رہے گا۔ اسے اپنی روزی روٹی کا خود ہی انتظام کرنا ہے۔ خوب محنت کرنی ہے۔ ہمت نہیں ہارنی ہے۔ مایوس بھی نہیں ہونا ہے۔ چند سال بعد حالات اچھے ہو جائیں گے اور وہ اپنے ہی ملک کا بادشاہ بھی بنا دیا جائے گا لیکن ایسا کب اور کیسے ہوگا، یہ تم سے آخری وقت تک پوشیدہ رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پری زاد گھوڑے نے اس سے اجازت چاہی البتہ چلتے چلتے اس نے اپنی دم کا بال توڑ کر شہزادے کو دیا اور کہا کہ وہ جب بھی اسے رگڑے گا وہ اس کی مدد کو ضرور حاضر ہوگا لیکن اس بات کا خیال رہے کہ جس کام کیلئے اسے بلایا جائے وہ ایسا کام ہو جو وہ خود کسی بھی صورت نہ کر سکتا ہو۔ یہ کہہ کر پری زاد گھوڑا شہزادے کو چھوڑ کر غائب ہو گیا۔
شہزادہ جانتا تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے اور کم عمر بھی ہے اس لئے وہ جب بھی شہر میں داخل ہوگا تو لوگ خوامخواہ اس کی جانب متوجہ ہونگے اس لئے اس نے اپنے کپڑوں پر خوب دھول مٹی ڈالی اور ہاتھ منھ بھی خوب دھولم دھول کر لئے۔ شہر یہاں سے بہت دور نہیں تھا۔ وقت بھی دوپہر سے پہلے کا تھا اس لئے اسے امید تھی کہ کوئی نہ کوئی کام دھندہ بھی مل جائے گا اور ممکن ہے کوئی رہنے کا ٹھکانہ بھی بن جائے۔ جب وہ شہر میں داخل ہوا تو اس نے بازار میں ایک بہت ہی بڑی سی دکان دیکھی جس پرشاہی قلعی گر لکھا تھا۔ وہ اپنے زمانے کے قلعی گروں کے ٹھاٹ باٹ سے خوب واقف تھا۔ وہ کیونکہ خود بادشاہ کا بیٹا تھا۔ اس کے مطبخ خانے کے ہزاروں برتن ہر ہفتے قلعی کیلئے جایا کرتے تھے۔ اس کے زمانے میں سارے برتن تانبے کے ہوا کرتے تھے اور ان کو چمکا کر رکھنے کیلئے قلعی کرنا بہت ہی ضروری ہوتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ شہر میں قلعی گروں کی بڑی آمدنی ہوتی ہے۔ عام آدمی تو عام آدمی، بادشاہ تک ان کے بڑے قدردان ہواکرتے ہیں۔ یہ شاہی قلعی گر اس ملک کے بادشاہ کا قلعی گر تھا۔ یہ بھی اتفاق تھا کہ قلعی گر کو ایک کم عمر نو جوان کی ضرورت تھی اس لئے کہ بڑی عمر کے مردوں کو محل کے اندر تک جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شہزادیاں تک باحجاب ہوا کرتی تھیں۔ ان کو بھی اس بات کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی کہ وہ غیروں اور بڑی عمر کے مردوں کے سامنے آئیں۔ جب شہزادہ اس قلعی گر کی دکان میں داخل ہوا اور مزدوری کرنے کی خواہش ظاہر کی تو قلعی گر بہت خوش ہوا۔ اس نے مزدوری دینے کا وعدہ تو کیا لیکن شرائط بڑی کڑی رکھیں۔ ایک شرط تو یہ تھی کہ وہ دو سال تک اسے صرف تین وقت کے کھانے پینے اور پہنے اوڑھنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ دے گا کیونکہ وہ جس بچے کو بھی ملازم رکھتا تھا وہ چند پیسے بناکر بھاگ جایا کرتا تھا۔ دوسری شرط یہ ہے تم میرے ساتھ ہی رہو گے۔ شہزادے نے سوچا کہ وہ تو ٹھکانہ ڈھونڈنے نکلا تھا اور اللہ نے جیسے میرے لئے پہلے سے ہی جگہ بنا کر رکھی ہوئی تھی۔ وہ دل میں تو بہت خوش ہوا لیکن قلعی گر کے سامنے اس نے کسی خاص خوشی کا اظہار نہیں کیا اور اس کی شرائط پر ایسا تاثر دیا جیسے وہ اس کی باتیں مرے دل کے ساتھ قبول کر رہا ہو۔
وہ محل میں جانے سے پہلے اپنی خوبصورتی چھپانے کیلئے اپنے منھ پر خوب کالک مل لیا کرتا تھا۔ جب وہ پہلی بار محل میں داخل ہوا تو اس نے محل کے خوبصورت باغ میں چار شہزادیوں کو بھی گھومتے دیکھا۔ شہزادیوں نے بھی ایک کم سن نوجوان کو پہلی مرتبہ محل میں داخل ہوتے اور تانبے کے برتن لے جاتے دیکھ کر بہت حیرت ظاہر کی اس لئے کہ انھیں معلوم تھا کہ قلعی گر کے پاس کوئی کم عمر نوجوان تھا ہی نہیں۔ تانبے کے برتن محل کے ملازمین ہی قلعی گر کے حوالے کیا کرتے تھے۔ پھر کم عمر نوجوان بھی ایسا جو اپنے منھ پر کالک مل کر آیا ہوا تھا۔ غور سے دیکھنے پر انھیں احساس ہوا کہ بچہ تو بے حد خوبصورت اور گورا ہے۔ منھ پر کالک مل کر آنے میں کیا راز ہو سکتا ہے۔ بات تو یقیناً سوچنے کی تھی۔ ان شہزادیوں میں جو سب سے کم عمر تھی وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔ اسے نہ جانے کیوں اس میں کوئی ایسی خاص بات اور کشش محسوس ہوئی جو کسی اورکم عمرنوجوان میں اس نے کھبی محسوس نہیں کی تھی۔ اب شہزادہ جب بھی تانبے کے برتن قلعی کیلئے لینے یا قلعی کرنے کے بعد پہنچانے آتا، شہزادی اس کو بہت غور سے دیکھتی اور سوچتی کہ مجھے اس میں کوئی چھپا ہوا شہزادہ کیوں دکھائی دیتا ہے۔ ایک دن اس سے صبر نہ ہو سکا اور اس نے کسی کی پرواہ کئے بغیر شہزادے کو روک ہی لیا۔
تم کون ہو؟۔ اس نے پوچھا۔
میں، شہزادے نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ میں قلعی گر کا لونڈا ہوں۔ اس کا ملازم ہوں جس کے عوض وہ مجھے دو وقت کی روٹی اور رہنے کیلئے جگہ دیتا ہے۔
شہزادی نے کہا تم لگتے تو بہت خوبصورت ہو لیکن یہ اپنے منھ پر اتنی کالک مل کر کیوں آتے ہو۔
شہزادے نے کہا، ایک تو یہ کہ نہ معلوم میں تمہیں خوبصورت کیوں لگتا ہوں۔ میری تعریف تو کبھی میری ماں (سوتیلی) نے بھی نہیں کی۔ رہی کالک ملنے والی بات تو معلوم نہیں مجھے یہ سب کچھ کیوں اچھا لگتا ہے۔
شہزادی نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو متوجہ نہ پاکر اپنی مٹھی میں دبی دو سونے کی اشرفیاں نکال کر اسے دیں اور کہا کہ یہ میں اس لئے تمہیں دے رہی ہوں کہ اب تم جب بھی آؤ تو اچھے اچھے کپڑے پہن کر اور صاف ستھرے ہو کر آنا کیونکہ میں تمہیں شہزادوں کے جیسا دیکھنا چاہتی ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے زبردستی دو اشرفیاں شہزادے کے حوالے کیں اور محل کی جانب دوڑ گئی۔
شہزادے کو اس کی باتیں بہت ہی عجیب سی لگیں۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ سونے کی دو اشرفیاں اس کی قسمت بدل سکتی ہیں لیکن وہ ان کا کر بھی کیا سکتا تھا۔ وہ اپنے ملک جانہیں سکتا تھا جب تک ماں کا حکم نہیں آجاتا اور اپنا حلیہ بدل نہیں سکتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں قلعی گر اشرفیوں کو دیکھ کر اسے چور نہ سمجھنے لگے، اس نے وہ اشرفیاں قلعی گر کے گھر میں ایک خفیہ جگہ چھپادیں تا کہ کسی مناسب وقت میں وہ ان کو کام میں لا سکے۔
اب شہزادہ جب بھی محل جاتا تو وہ شہزادی کو کسی نہ کسی بہانے اپنا منتظر پاتا۔ وہ ہمیشہ اس کو سونے کی دو اشرفیاں ضرور دیتی اور حلیہ اچھا کرنے کو کہتی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ شکایت بھی کرتی کہ جب وہ اسے اشرفیاں دیتی ہے تو وہ اپنا حلیہ انسانوں کا سا بنا کر کیوں نہیں آتا۔ ایسے موقع پر وہ کوئی نہ کوئی معقول بہانا بنا دیا کرتا تھا۔ سچ پوچھو تو اب شہزادی بھی اس کو اچھی لگنے لگی تھی لیکن وہ کسی صورت بھی اپنی اصلیت نہیں بتا سکتا تھا۔
ماہ و سال گزرتے رہے۔ شہزادہ بھی اب کافی بڑا ہو چکا تھا۔ قلعی گر بھی اس سے بہت محبت کرنے لگا تھا کیونکہ شہزادے کو ملازم رکھنے کے بعد اس کا کام اور بھی ترقی پا گیا تھا۔ محل سے تو اس کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہی ہوا تھا، بڑے بڑے وزیروں کے گھروں سے بھی بہت برتن آنے لگے تھے اس لئے کہ وہ شہزادے کی محنت اور ایمانداری سے بہت متاثر تھے۔
اِدھر ساری شہزادیاں بھی اب اس عمر کو پہنچ چکی تھیں کہ ان کو ان کے اپنے اپنے گھروں کو روانہ کر دیا جائے۔ جس ملک میں یہ شہزادہ موجود تھا وہاں کا بھی ایک عجیب رواج تھا جو صدیوں سے رائج تھا۔ جب بھی کسی شہزادی کی شادی مقصود ہوتی پورے شہر میں اعلان ہوتا کہ سارے خواہش مند حضرات حاضر ہوجائیں۔ شہزادی ایک بڑی سی کرسی پر اپنے پورے حجاب میں بیٹھ جاتی تھی۔ خواہش مند امیر غریب سارے ایک ایک کرکے شہزادی کے قریب سے گزرتے اور شہزادی ان میں سے جس کو پسند کر لیتی، اس کے ساتھ اس کی شادی کردی جاتی تھی۔
سب سے بڑی نے اپنے لئے ایک بہت بڑے رئیس زادے کے لڑکے کو چنا۔ کچھ ہی عرصے بعد اس کی شادی بہت دھوم دھام کے ساتھ رئیس زادے کے بیٹے کے ساتھ ہو گئی۔ اسی طرح باقی دو بڑیوں کی شادیاں وزیروں اور سفیروں کے بیٹوں کے ساتھ انجام پائیں۔ اس سارے عرصے میں دو سال اور گزر گئے۔ اب سب سے چھوٹی کی باری تھی۔ اس کے امید واروں میں خود قلعی گر بھی تھا۔ یہ قلعی گر بے شک کافی عمر کا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی خوبصورت شکل دی تھی کہ وہ جوان ہی لگتا تھا۔ بادشاہ کا قلعی گر تھا اس لئے خوب دولت والا تھا۔ حسین بھی بہت تھا اور کئی مرتبہ وہ چھوٹی شہزادی کو دیکھ بھی چکا تھا۔ اس کے دل میں بھی اسی کو پانے کی آرزو تھی اسی لئے اس نے بڑی شہزادیوں کیلئے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا تھا۔ ادھر شہزادہ کے دل میں بھی شہزادی جگہ بنا بیٹھی تھی اس لئے اس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی مقدر آزمائے۔ اس نے وہی حلیہ بنایا جس میں وہ محل میں جایا کرتا تھا بلکہ آج تو کچھ زیادہ ہی منھ پر کالک ملی تھی۔ قلعی گر اس سے کافی آگے تھا اور یہ قطار میں کافی پیچھے۔ قطار چلتی رہی۔ قلعی گر بھی شہزادی کے قریب سے گزرا۔ شہزادی نے پہچان لینے کا اظہار تو ضرور کیا لیکن اور کسی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ آہستہ آہستہ کرکے سب امیر، وزیر اور سفیرزادے گزرتے رہے لیکن شہزادی کی نگاہیں نہ جانے کس کو تلاش کر رہی تھیں۔ اتنے میں اس کی نظریں قطار میں دور کھڑے قلعی گر کے لونڈے پر پڑیں، اس کا حلیہ دیکھ کر اسے برا تو بہت لگا لیکن جونہی وہ اس کے قریب سے گزرا، اس نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ شہزادی کی اس حرکت پر بادشاہ پریشان اور مجمع حیران ہوگیا۔ بادشاہ نے بے ساختہ اعلان کیا کہ شاید اس کی بیٹی سے کوئی غلطی ہو گئی ہے لہٰذا کل سارے لوگ دوبارہ حاضر ہوں۔ شہزادی نہیں نہیں کرتی رہ گئی لیکن بادشاہ کا حکم کیسے ٹالا جاسکتا تھا۔
اعلان ہوتے ہی شہزادہ (قلعی گر کا لونڈا) تیزی کے ساتھ گھر روانہ ہوا اور قلعی گر سے پہلے ہی گھر میں داخل ہو گیا۔ قلعی گر آیا تو شہزادے پر خوب سختی کی اور اگلے دن کمرے اور گھر کے سارے دروازوں میں تالے لگا کر امید واروں کی قطار میں کھڑا ہو گیا۔
شہزادے نے جب اپنے آپ کو اس طرح قید پایا تو بہت پریشان ہوا۔ اچانک اسے پری زاد گھوڑے کے بچے کی دم کے بال کا خیال آیا جس کو وہ ہمیشہ اپنے پاؤں کے ساتھ باندھ کر رکھا کرتا تھا۔ اس نے فوراً وہ بال پاؤں سے کھولا اور دیوار سے رگڑا تو وہ پلک جھپکتے میں حاضر ہو گیا۔
کیا حکم ہے؟۔ اس نے سوال کیا۔
تم سارے تالے کھول دو اور جب میں واپس آؤں تو تالے اسی طرح بند کر دینا۔ تالے کھول دیئے گئے۔ شہزادے نے ایک مرتبہ پھر وہی حلیہ بدلا اور امید واروں کی قطار میں سب سے پیچھے جا کھڑا ہوا۔ جو بھی اس کو دیکھتا پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتا۔ قطار آگے بڑھتی گئی یہاں تک کہ سارے امید وار شہزادی کے قریب سے گزرگئے لیکن شہزادی کو تو آج بھی قلعی گر کے لونڈے کی تلاش تھی جس کو وہ کافی دیر پہلے دیکھ چکی تھی۔ ادھر بادشاہ اور ملکہ بھی حیران تھے کہ آخر شہزادی کو کوئی بھی اب تک کیوں پسند نہیں آیا۔ جب قلعی گر کا لونڈا قریب سے گزرا تو شہزادی نے پھر اسی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بادشاہ اور ملکہ کے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین ہی نکل گئی۔ ایسا تو کبھی صدیوں کی تاریخ میں بھی نہیں ہوا تھا۔ بات بناکر کسی نہ کسی طرح شہزادی کے آج کے اس فیصلے کو بھی نادانی کا نام دے کر اگلے دن پر ٹال دیا گیا۔
قلعی گر بھی حیران تھا کہ آخر یہ لونڈا یہاں آیا کیسے۔ وہ تو اسے تالوں میں بند کرکے آیاتھا۔ دروازے اور لگائے گئے تالے، دونوں غیر معمولی تھے جن کو ایک تنہا انسان تو کیا، کئی آدمی مل کر بھی نہیں توڑ سکتے تھے۔ اگر اس نے دونوں چیزیں توڑی دی ہونگی تو یہ خود ایک بہت بڑا نقصان ہوگا لہٰذا اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اس نقصان کی قیمت شہزادے سے ہر صورت میں وصول کریگا اور ساتھ ہی ساتھ اسے سزا بھی دیگا۔ جب قلعی گر اپنے محل نما گھر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھر کے سارے دروازے نہ صرف سلامت تھے بلکہ تالے بھی اسی طرح لگے ہوئے تھے۔ اس نے گھبراکر اپنی جیبوں کی تلاشی لی تو تالوں کی چابیاں بھی اس کی اپنی جیب میں موجود تھیں۔ تالے گھول کر جب وہ گھر کے اس کمرے میں داخل ہوا جس میں شہزادے کو بند کرکے گیا تھا تو وہ یہ دیکھ کر شدید حیران ہوا کہ شہزادہ تو اسی طرح کمرے میں موجود تھا۔ وہ یہ سب دیکھ کر یہ بات بھی بھول گیا کہ اس نے شہزادے کو سزا دینے کا سوچا ہوا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ یاتو جس کو شہزادی باربار پکڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ شادی کو تیار ہے، وہ کوئی اور ہے یاپھر شہزادہ ہی کوئی جادو گر ہے اس لئے مناسب یہی ہوگا کہ شہزادے کو کچھ نہ کہا جائے۔ وہ خوف زدہ ہوکر شہزادے کو کچھ کہے بغیر ہی کمرے سے لوٹ گیا۔
(جاری ہے)

حصہ