بے نشان

95

سیدہ عنبرین عالم
۔’’بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کی، تو نماز پڑھو اور قربانی دو، بے شک تمہارا دشمن ہی بے نشان رہ جائے گا۔‘‘ (سورۃ الکوثر)۔
٭
23 اپریل 2004ء… شہاب خان کابل کے نواحی علاقے میں اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کے ملبے پر بیٹھا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے امریکی جہاز بم باری کرکے گئے تھے۔ شہاب خان قصاب کا پیشہ کرتا تھا، برسوں کی محنت سے دو منزلہ مکان بنایا تھا جو اب مٹی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں تھا، لیکن جو اصل غم تھا وہ یہ کہ شہاب خان کی دو بہنیں، بیوی اور تین بیٹیاں جو گھر میں تھیں، وہ بھی ہلاک ہوگئیں۔ گھر کے مرد بچ گئے تھے کیوں کہ وہ نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے۔ شہاب خان کے والد، ایک بھائی اور چار بیٹے ملبے پر بیٹھے تھے۔ وہ رو بھی نہیں سکتے تھے، کہ پٹھانوں میں مردوں کا رونا بہت برا سمجھا جاتا تھا۔
شہاب خان طالبان کے ساتھ نہیں تھا۔ اس کے بیٹے بہت خوب صورت تھے، نیلی نیلی آنکھوں والے، لمبے چوڑے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے داڑھی رکھیں۔ وہ تو انہیں فلمی ہیرو بنانا چاہتا تھا، مگر طالبان کی حکومت میں سب کو داڑھی رکھنی پڑتی تھی۔ تین بیٹے تو چھوٹے تھے، مگر 17 سالہ مصطفی خان کو داڑھی رکھنی پڑی۔
’’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں طالبان میں شامل ہوکر امریکا کے خلاف جہاد کرنا چاہیے، میری غیرت کہتی ہے کہ جنہوں نے ہماری عورتوں کو مارا، ان سے بدلہ لینا ضروری ہے‘‘۔ آخرکار شہاب خان نے کہا۔
’’ہماری زمین پر غیروں کا قبضہ ہو، یہ پٹھان کی شان نہیں ہے، آزادی لینا ہے‘‘۔ شہاب خان کے داجی بولے۔
’’مومن کافر کی غلامی نہیں کرسکتا، اللہ کی حکومت افغانستان پر لازمی ہوگی‘‘۔ مصطفی خان نے رائے دی۔
چند ہی گھنٹوں میں طالبان میں 7 مجاہدین کا اضافہ ہوگیا تھا، تین چھوٹے بیٹوں کو تو تربیت کے لیے بچوں کے مدرسے بھیج دیا گیا، شہاب خان کے داجی کو بوڑھا قرار دے کر بچوں کو سنبھالنے، بچوں کے مدرسے بھیج دیا گیا۔ شہاب خان، اس کے بھائی متقی خان اور مصطفی خان کی ٹریننگ شروع ہوگئی۔ شہاب خان جو کماتا طالبان کمانڈر کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ طالبان کے تمام مجاہدین کا یہی طریقہ تھا۔ بیوی بچے سب کے مشترکہ گھروں یا مسجدوں میں رہتے تھے جہاں سب کی مشترکہ ضروریات کا خیال رکھا جاتا۔ جنگ سے پہلے یہ طریقہ نہیں تھا، مگر جنگ کے بعد زیادہ تر لوگوںکے گھر ٹوٹ گئے تو یہ طریقہ اپنایا گیا۔
٭
’’میرے بچو! ہم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ موسیٰ کلیم اللہ تھے، اللہ سے باتیں کرتے تھے، مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ موسیٰؑ سے پہلے ان کی ماں نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں‘‘۔ طالبان کمانڈر آدم حسین عشاء کے بعد درس دے رہے تھے۔ ’’اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی ماں کی طرف وحی کی کہ موسیٰؑ کو دریا میں ڈال دو۔ حضرت موسیٰؑ کی ماں جانتی تھیں کہ ان کا رب ان سے ہم کلام ہے، لہٰذا بغیر جھجک حکم پر عمل کر ڈالا۔ حضرت موسیٰؑ کی دوسری ماں تھیں فرعون کی بیوی آسیہ، وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہم کلام ہوتی تھیں، اسی سے دعا کرتی تھیں کہ فرعون کے اعمال سے اُن کو نجات دے۔ جب دو ایسی مائیں تربیت کریں گی تو بیٹا تو کلیم اللہ ہی ہوگا، یہ ہے عورت کا مقام اور یہ ہے عورت کا کام۔ اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کرنا اور دین کی مشعلِ راہ بنانا ہمارا ذمہ ہے، اگر حضرت مریمؑ اللہ کی چہیتی نہ ہوتیں تو عیسیٰؑ رسول نہ بن پاتے۔ پہلے حضرت مریمؑ نے اللہ کو راضی کیا تو ان کے قدموں میں عیسیٰؑ کو تحفتاً پیش کیا گیا۔ آپ اپنی بیٹیوں کو مریمؑ بنایئے، ہمارا ہر بیٹا خود؎بخود معجزے دکھائے گا، عورت کی عزت کیجیے، پیار کیجیے، ہمارے نبیؐ پر سب سے پہلے ایمان عورت ہی لائی تھی، یعنی اماں خدیجہؓ۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بول رہے تھے۔
مصطفی خان حیرت سے سن رہا تھا۔ ’’استاذ! ہم نے تو سنا تھا کہ طالبان عورتوں پر بہت ظلم کرتے ہیں، انہیں کم عقل اور بے کار سمجھتے ہیں، مگر آپ تو عورت کو بہت بلند مقام پر رکھتے ہیں‘‘۔ اس نے پوچھا۔
آدم حسین مسکرا دیے ’’اگر عورت کم عقل ہوتی تو انسانی نسل کو اللہ کا نائب بنانے کی ذمے داری اسے نہ سونپی جاتی، نپولین کہتا تھا کہ ’’تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘۔ ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت کی طرف سے کوتاہی برتتے ہیں۔ بیٹی کی تربیت یہ نہیں کہ اسے کھانا پکانا، سلائی اور دوسروں سے دب کر رہنا سکھا دو، بلکہ بیٹی کی تربیت یہ ہے کہ قرآن کا ہر مقصد اس کی روح میں اتار دو۔ اگر اسے کھانا پکانا نہیں آتا تو ہوٹل سے آجائے گا، لیکن اگر اس کی روح پاکیزہ نہیں تو ہمارے ہاں صلاح الدین ایوبیؒ نہیں بلکہ حامد کرزئی اور پرویزمشرف پیدا ہوں گے۔ ماں پر وحی اترے گی تو بیٹا کلیم اللہ ہوگا، یہ اصول ہے‘‘۔ انہوں نے کہا۔
مصطفی خان نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’اگر ماں میں بیٹے کو دریا میں اتارنے کا حوصلہ نہ ہوتا تو بیٹے میں کبھی وقت کی سپر پاور فرعون سے ٹکرانے کا حوصلہ نہ ہوتا، ایسی ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے‘‘۔ اس نے کہا۔
٭
شہاب خان، متقی خان اور مصطفی خان کے دل میں طالبان کے لیے جو بھی ابہام تھے، وہ دور ہوچکے تھے اور وہ سچے اخلاص سے طالبان کی جدوجہد میں شریک ہوچکے تھے۔ مصطفی خان کو ایک افغان رہنما کے جلسے میں رپورٹنگ کے لیے بھیجا گیا۔ ’’پاکستان ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، امریکا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا اگر پاکستان امریکا کا ساتھ نہ دیتا۔ ہم اگر پاکستان میں ایک دھماکا کردیں تو کہتے ہیں مسلمانوں کو مارنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا، اور پاکستان نے جب امریکا کے ساتھ مل کر لاکھوں افغانی مسلمانوں کو مارا، ہمارا پورا افغانستان کھنڈر کردیا توکیا وہ مسلمان ہیں؟‘‘ افغان رہنما نے کہا۔
مصطفی خان کھڑا ہوگا ’’مگر روس کے خلاف جنگ لڑنے میں پاکستان نے ہمارا بہت ساتھ دیا، روس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے، ابھی بھی پاکستان کو امریکا نے بہت دھمکیاں دیں، اس لیے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مسلمانوں کو مارنے میں امریکا کا ساتھ دے رہا ہے‘‘۔ اس نے کہا۔
’’غلط… بالکل غلط…‘‘ افغان رہنما غصے سے بولا ’’پاکستان نے پیسہ لیا ہے ہمیں مارنے کا، افغان سفیر جو پاکستان میں تعینات تھے ملاّ ضعیف، اُن تک کو بیچ ڈالا، پاکستانی تو ایسی قوم ہے کہ اپنی بیٹی عافیہ تک کو بیچ ڈالا، انتہائی لالچی اور خائن قوم… یہ تو خود اپنے پاکستان سے وفادار نہیں، وہ ہم سے کیا وفاداری نبھائیں گے! کوئی مسلم بھائی نہیں، صرف لالچ اور ہوس‘‘۔ اس نے جواب دیا۔
’’لیکن پاکستان سے نفرت کرکے ہندوستان سے اتنی زیادہ دوستی کرنا ٹھیک نہیں ہے، ہندوستان ہمیں استعمال کررہا ہے، ہندوستان کسی کا دوست نہیں، وہ عین وقت پر ہم کو ڈس لے گا‘‘۔ مصطفی خان بولا۔
’’امریکا اور ہندوستان ہی ہمیں طالبان کے فتنے سے بچا سکتے ہیں، طالبان پاکستان کے چمچے ہیں، اگر طالبان کی حکومت قائم ہوگئی تو پاکستان ہمارے سر پر چڑھ کر ناچے گا‘‘۔ افغان رہنما نے پاکستان مخالف نعرے لگانا شروع کردیے۔ سارے افغانی عوام بھی پاکستان سے بھرپور نفرت کا اظہار کررہے تھے۔
٭
آدم حسین عشا کی نماز کے بعد درس دے رہے تھے ’’کیا عجیب وقت آگیا ہے، جن کے سیکڑوں خدا ہیں وہ ہندو ایک ہوگئے ہیں مسلمانوں کے خلاف، بلکہ عیسائی اور یہودی بھی اُن کے ساتھ مل گئے ہیں، اور وہ مسلمان جن کا ایک ہی خدا ہے، ایک رسول ہے، وہ آپس میں بٹ گئے… کئی اختلافات، فرقوں کی بنیاد پر، قومیتوں کی بنیاد پر، لسانی بنیاد پر۔ اگر ہمیں اللہ سے محبت ہوتی تو ہم سب ایک ہوتے، مگر کسی کو غوث سے محبت ہے، کسی کو اماموں سے، اور کسی کو اپنے وطن سے‘‘۔ انہوں نے فرمایا۔
مصطفی خان غور سے سن رہا تھا ’’استاذ! پاکستان ہم سے مسلسل دشمنی کرتا رہا، کافروں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کو مروایا، مگر ہم کیوں ان سے محبت کرتے ہیں؟ پاکستان کے حکمران تو مغرب نواز اور خائن ہیں، وہ تو کبھی کسی بھی وجہ سے ہمیں دھوکا دے سکتے ہیں، طالبان کو اپنی پالیسی بدلنی چاہیے‘‘۔ وہ بولا۔
آدم حسین مسکرانے لگے ’’میرے بیٹے! جہاں عشق ہوتا ہے، وہاں فائدہ نقصان نہیں دیکھا جاتا۔ مدینے کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اللہ کے نام پر بنایا گیا، کروڑوں مسلمانوں کا خون ہے اس کی بنیادوں میں، جو اللہ کی رضا کے لیے بہایا گیا۔ میں مانتا ہوں آج پاکستان کے حکمران مخلص نہیں ہیں، نہ اللہ سے نہ دین سے، مگر پاکستان تو اسلام کا قلعہ ہے، ہمارا عشق اللہ سے ہے اور پاکستان میرے رب کے دین کا قلعہ ہے۔ جیسے مدینہ نے پورے عرب پر اسلام نافذ کیا تھا، پاکستان پوری دنیا میں قیامت سے پہلے اسلام نافذ کرے گا۔ اس لیے پاکستان کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے، اسی لیے ملّا عمر کا حکم ہے کہ پاکستان کے ایک پتھر کو بھی نقصان نہ پہنچنے دینا‘‘۔ انہوں نے سمجھایا۔
’’آپ درست فرما رہے ہیں،کیسے ایک ماں کی آغوش کی طرح پاکستان نے لاکھوں افغانیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا، آج افغان پناہ گزینوں کے کراچی اور پشاور میں بڑے بڑے کاروبار ہیں، انہیں غیر نہیں سمجھا جاتا، آج بھی پاکستان کوشش کرتا ہے کہ افغانستان کا جنگ کے دوران کم سے کم نقصان ہو، خاص طور پر پاکستان آرمی افغانستان کی دل سے خیر خواہ ہے‘‘۔ مصطفی خان نے تائید کی۔
آدم حسین نے مصطفی خان کے سر پر ہاتھ رکھا ’’بیٹا! مسلمان، مسلمان بھائی ہوتے ہیں، کوئی کافر ہم سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے، ہمارا ہمدرد نہیں ہوسکتا۔ کسی منافق کے بہکاوے میں مت آنا‘‘۔ انہوں نے سمجھایا۔
٭
مارچ 2012ء… شہاب خان، متقی خان اور مصطفی خان ایک مسجد میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ ’’کیا خیال ہے طالبان کبھی کامیاب ہوسکیں گے؟ یہ تو ایک بے مقصد جنگ لگتی ہے، بھلا ہم بھوکے پیٹ، گھسے پٹے ہتھیاروں سے امریکا سے کب تک لڑ سکتے ہیں! ہمارے پاس صرف ایمان ہے، پیسہ تو کچھ نہیں‘‘۔ شہاب نے کہا۔
’’پاکستان بھی امریکا کا ساتھ دے رہا ہے، اور ایران ساتھ تو شمالی اتحاد کا دے رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب قوتیں مل کر صرف طالبان کو زیر نگیں لانا چاہتی ہیں، جو بھی طالبان کے خلاف ہے وہ اصل میں امریکا کے ساتھ ہے۔ ایران ویسے تو امریکا کے خلاف بہت بولتا ہے، اب جب ہم امریکا کے خلاف لڑ رہے ہیں تو ہمارا ساتھ دینے کے بجائے ہمارے خلاف کارروائیاں کررہا ہے، یہ منافقت ہے‘‘۔ متقی خان نے کہا۔
مصطفی خان باپ اور چچا کے درمیان بولنا بے ادبی سمجھتا تھا، اس لیے دھیمی آواز میں اظہارِ خیال کرنے لگا ’’طالبان نے افیون کی کاشت کو صفر فیصد کردیا تھا، افیون کی کمائی سے ہی CIA اور دیگر امریکی خفیہ اداروں کے خرچے چلتے تھے، اس لیے افیون کی کاشت دوبارہ شروع کرنے کے لیے طالبان کی چھ سالہ حکومت کو ہٹانا بہت ضروری تھا، اور دوسری بات یہ کہ طالبان نے حقیقی اسلام کا نفاذ کردیا تھا، جس کے ثمرات بھی نظر آنا شروع ہوگئے تھے، خدشہ تھا کہ دنیا یہ نمونہ دیکھ کر اسلام کی برکات کی طرف نہ راغب ہوجائے، اس لیے طالبان کو جڑ سے مٹانے کا فیصلہ ہوا، لیکن چونکہ طالبان حق پر ہیں، تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارا ساتھ ضرور دے گا، جیسے غزوۂ بدر میں 313 صحابہؓ کا دیا تھا، اگر ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں اور دنیاوی جاہ و حشمت ہمارا مطمح نظر نہیں تو ہم فاتح ہوں گے‘‘۔ اس نے کہا۔
’’ان شاء اللہ … ان شاء اللہ…‘‘ متقی خان اور شہاب خان نے زور سے کہا۔ پھر تینوں مل کر نعرۂ تکبیر لگانے لگا۔ مسجد کے اور لوگ بھی ان کا ساتھ دینے لگے۔
٭
اپریل 2019ء… طالبان نے امریکی اور ناٹو افواج کو انتہائی کم وسائل کے ساتھ ہی ناکوں چنے چبوا دیے، امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد بھاگ بھاگ کر بار بار افغانستان اور پاکستان کے دورے کررہے تھے کہ کسی طرح طالبان کو ممکنہ حل کی طرف لے آئیں اور افغانستان سے واپسی کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے۔ طالبان کے ایسے رہنما جو گوانتانامو جیل کے مہمان رہ چکے تھے، امن مذاکرات میں امریکی عہدیداران کے سامنے بیٹھ کر اپنی شرائط پیش کررہے تھے۔ ان طاقتور امریکی جنرلوں کے ناموں سے تو کوئی واقف نہیں تھا جو مختلف ادوار میں امریکا کی جانب سے ظلم کا بازار گرم کرنے کے لیے افغانستان میں تعینات رہے، البتہ ملّا عمر کی حیرت انگیز شخصیت پر کتابیں لکھی جارہی تھیں، جن کی شان دار حکمت عملی امریکا کی تمام ٹیکنالوجی اور امارت پر بھاری پڑی۔ اپنے تمام سیٹلائٹ اور انٹیلی جنس کے باوجود وہ اتنے برسوں میں ملّا عمر کی ایک تصویر کے سوا کوئی سراغ نہ پاسکے، لیکن آج ملّا عمر کا نام تمام دنیا کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا معما بن چکا ہے، تاریخ یہ نام کبھی نہ بھلا پائے گی۔ ان شانئک ھوالابتر۔
آغازِ دنیا سے یہ دستور ہے کہ اللہ کی جماعت کمزور اور مختصر ہوتی ہے، لیکن بڑی بڑی طاقتوں کو اللہ کی نصرت سے پچھاڑ دیتی ہے۔ میرا رب قرآن میں فرماتا ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ بغیر آزمائش ہی جنت میں داخل کردیے جائو گے؟ حق کا ساتھ دینے والوں پر، اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں پر آزمائش تو آتی ہے۔ یہ آزمائش عموماً طویل اور اعصاب شکن ہوتی ہے، امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، ایمان ڈول جاتے ہیں، لیکن ان لمحات میں ثابت قدم رہنے والے اوّل و آخر فتح یاب رہتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ آج بھی ایمان والوں کے لیے حالات بڑے حوصلہ شکن ہیں، اس میں امت ِمسلمہ کی بے راہ روی، خیانت اور آرام پسندی کا بڑا دخل ہے، لیکن جب تک سانس جاری ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اگر ہم انفرادی سطح پر بھی قرآن کریم کے احکامات اپنا لیں تو آہستہ آہستہ ہم ایک توانا اور کارگر جماعت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ توکل الی اللہ ہمارا شعار ہو اور رجوع الی القرآن ہو، ان شاء اللہ منزل دور نہیں۔

حصہ