۔”حیا بوسا” اس جہاز نے پہلی مرتبہ ایک سیّارچہ پر بم مارا

61

قاضی مظہر الدین طارق
جاپان کے حیابوسا (دوّم) نے کس کو بم مارا؟
جوسیّارچے ، زمین پر ہر وقت ٹنوں کے حساب سے بمباری کر رہے ہیں، انسان نے کم از کم ایک سے تو بدلہ لے ہی لیا!
یہ سیّارچہ تین ہزار فٹ لمبا چوڑا ہے،اس کی سطح بڑتے بڑے چٹانوں (بولڈرز)،پتھروں اور مٹّی سے اَٹی ہوئی ہے۔
جاپان کے بھیجے ہوئے اِس خلائی جہاز ’حیابوسا دوئم ‘ ایک سیّارچے ’ رائے گو ‘ پر بم مارا ، اس سے جو گرد اور دھواں اُٹھا اس جہاز نے اس کا تجزیہ کیا اور انسان کو اس کے نتائج سے آگاہ کیا،اس بمباری کی وجہ سے اس سیّارچے پر ایک بڑا گڑھا (کریٹر) بھی بن گیا ہو گا،مگر جب دھول اور مٹّی بیٹھے گی تب ہی وہ نظر آ سکے گا۔
یہ سیّارچے مُسلسل دو ارب سال سے زمین پر بمباری کر رہے تھے اور یہ بمباری اب بھی رُکی نہیں ، تھمی نہیں،کبھی کبھی تو یہ سیّارچے اتنے بڑے تھے کہ ان کی زمین پر ضرب لگانے سے اتنی گرد اور دھوواں پھیلا کہ سالوں تک ، سورج کی کرنیں زمین پر نہ پہنچ سکیںزمین کی نوّے فیصد حیات ختم ہو گئی ان میںدیؤ قامت ڈائینوصار بھی معدوم ہو گئے …یعنی ان کی ساری نسلیں ہی ختم ہو گئیں،زمین پر صرف دس فیصد حیات زندہ بچی۔
اب ہماری باری تھی … سو ہم نے اس سیّارچے پر بم مار کر کسی حد تک بدلہ لے لیا۔
اس بمباری سے ایک تواس سیّارچے پر ایک گڑھا (کریٹر) بن گیا، دوسر ا ہم کو اس کے اندر کا ’ میٹیریئل ‘ مل گیا ، تاکہ ہم اس کے اندرونی مادّوں کی بھی چھان پھٹک کر پرکھ سکیں ۔
جاپان کے اس جہاز’حیا بوسا ۲؎‘سے دو ننھے ننھے پُھد کنے والے روبوٹس بھی اُتار دیئے ہیں، تاکہ اس کے ذریعہ قریب سے تحقیق و تجزیہ کیا جا سکے،یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ زمین سے اتنی دور خلا میں، اور اتنے بڑے سیّارچے پراِتنے چھوٹے روبوٹس اُتارے گئے ہوں۔
جاپان کا خلائی جہاز’حیابوسادوّم ‘تین ہزار فٹ چوڑے سیّارچے ’رائیگو‘کے مدار میں ،پچھلے جون سے چکّر لگا رہا تھا،اس نے ۲۱؍ستمبر۲۰۱۸ء؁ کو اِن ننھے روبوٹس کو ’رائیگو‘ کی سطح پر اُتارا،جن کے نام’مائینروا‘ اوّل اور’مائینروا‘ دوّم ہیں۔
حیابوسا۲؎ نے۲۱؍فروری ۲۰۱۹ء؁ کو رائیگو کے سب نمونے کامیابی سے حاصل کئے،اوراس ساتھ ہی حیابوسا۲؎ نے اَیسٹرائیڈ’رائیگو‘ سے اس کے سارے نمونے (سَیمپلز) لے کر ایک کیپسول میں احتیاط سے بند کیا اور کے زمین کی طرف روانہ کر دیا ہے … یہ کیپسول ، سارے نمونے ؛ ۲۰۲۰ء؁ ؁کے آخرتک زمین پر پہنچادے گا۔
خیال ہے کہ’ سیارچہ رائیگو‘ زیادہ تر … کاربن اور اس کے مرکّبات (کمپائوڈز) پر مشتمل ہے ، اور قوی اِمکان ہے کہ اس میں ، بڑی مقدارمیں ایسے سالمے ( مالیکیولز ) موجود ہوںگے ، جو زندی کی نشونما کے لئے نہایت ضروری ہیں۔
اس کی تحقیق سے ہم کو زمین پر آمدِ حیات سے متعلق قیمتی معلومات حاصل ہوںگی۔
ایک وقت ان شاء اللہ ایسا ضرور آئے گا کہ میں(بشرتِ زندگی)ان مہمات کے نتائج کی معلومات آپ لوگوں تک پہنچاؤں گا۔
اس افسوس کے ساتھ یہ مضمون ختم کرتاکہ دسویں صدی عیسوی کے مسلمانوں نے جو علمی تحقیق طرح ڈالی تھی ،اس کو بعد کے مسلمان جاری رکھتے،دنیا پانچ ارب میل دُور کائیپر بَیلٹ میںایک چھوٹے سیّارے سے بھی آگے بڑھ گئی ہے ۔
اور سوچیئے تو کہ ہم ………کہاں کھڑے ہیں!!!

حصہ