نظر بندی

116

سیدہ عنبرین عالم
میرے نبیؐ کا نظام، تمام عرب میں مسلم حکومت قائم ہونے کے بعد بھی سونے اور چاندی کے سکے رائج رہے۔ تمام کاروبار انہی سکوں میں ہوتا تھا، اور معمولی چیزوں کے لیے اکثر جگہوں پر بارٹر سسٹم (Barter System) بھی رائج تھا۔ یعنی ایک مناسب مقدار جَو کے دانوں کی دے کر اُس کے بدلے مساوی قیمت کے انگور لیے جا سکتے تھے۔ جَو اور کھجور کثرت سے بارٹر ٹریڈ کے لیے استعمال ہوتے تھے، اور تقریباً ایک کرنسی کی شکل میں معاشرے میں لین دین کے لیے رائج تھے۔
27 جولائی 1694ء کو بینک آف انگلینڈ کا لندن میں قیام عمل میں آیا۔ اس تاریخ سے پہلے تمام دنیا میں سونا، چاندی ہی کرنسی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ اگر آپ ایک ملک سے نکل کر دوسرے ملک چلے جائیں تو بھی آپ کے ملک کی ہی کرنسی وہاں بھی چلے گی، کیوں کہ ہم وزن سونے کے سکے تمام دنیا میں رائج تھے، صرف ہر ملک کے سکے پر اُس کے بادشاہ کی تصویر ہوتی تھی، یعنی صرف دیکھنے میں یہ سکے مختلف تھے پہچان کے لیے، ورنہ تجارتی قیمت ان کی مساوی تھی۔ تانبے، پیتل، سلور کے سکے بھی کم قیمتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ظاہر ہے جب سفر ہو یا بازار جانا ہو تو مختلف قدروں کے کئی سکے ہمراہ رکھنے پڑتے تھے جو خاصا بھاری وزن ثابت ہوتے تھے۔ اِدھر یہودیوں میں ایک عقیدہ رائج تھا کہ جب حضرت عیسیٰؑ ابن مریمؑ کو دنیا سے اٹھے ہوئے 2000 سال ہوجائیں گے تو پھر کسی بھی وقت ان کا دجال نزول کرسکتا ہے، جسے یہ لوگ Antichrist کہتے ہیں، یعنی عیسیٰؑ کا مخالف۔ خطرہ یہ تھا کہ اگر دجال کی آمد پر یہودیوں کے پاس اتنی دولت نہ ہوئی کہ آرمیگیڈون (Armageddon) کا پانسہ پلٹ سکے تو دجال ہار جائے گا اور دنیا پر یہودیوں کی مکمل حکومت قائم ہونے سے رہ جائے گی۔ لہٰذا یہودیوں کے شیطانی دماغ میں دنیا بھر کے انسانوں کا سونا لوٹنے کی ترکیب آگئی، کیوں کہ اوّل وآخر سونا ہی اصل کرنسی ہے جو آج کے احمق انسان تو بھول سکتے ہیں لیکن حضرت مہدیؑ یا دجال کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہی کرنسی چلے گی، یوں بینک آف انگلینڈ کو قائم کیا گیا۔
ابتدائی شکل یہ تھی کہ اتنا وزن سکّوں کا کیوں اٹھاتے ہو؟ سونا ہمارے پاس رکھوا کر اس کی رسیدیں لے جائو اور یہ ہلکے کاغذ کے نوٹ خرید وفروخت میں استعمال کرو۔ یہ طریقہ خاصا مقبول ہوا۔ پھر انہوں نے اپنے پاس پڑے ہوئے سونے کی مساوی رسیدیں یعنی رقم یا کاغذی نوٹ کاروباری قرض کے طور پر بھی دینا شروع کردیے۔ غریبوں کو قرض ملنے لگا، نئے نئے کاروبار شروع ہونے لگے۔ سائنس دان بھی قرض لیتے اور تجربے کرتے۔ کئی ملکوں کی فوجیں ان سے قرض لے کر جنگیں لڑتیں، حتیٰ کہ کئی ملکوں کی حکومتیں بھی قرض لے کر ریاستی معاملات چلانے لگیں۔ یہودیوں نے قرضوں پر بھاری سود لینا شروع کردیے تھے۔ اب جن کو قرضوں کی چاٹ پڑ گئی تھی، وہ سود دے کر بھی قرض اٹھانے لگے۔ مختصراً یہ کہ بینک پر بینک کھلتے گئے، کئی نسلیں گزر گئیں اور چوتھی پانچویں نسل سونے کی ان رسیدوں کو ہی اصل دولت سمجھنا شروع ہوگئی اور اُس سونے کو بھول گئی جو اُن کے آباء نے بینکوں میں رکھوایا تھا۔ یہ منوں ٹنوں سونا یہودیوں کی تحویل میں چلا گیا، جو آج بھی سوئٹزرلینڈ کے بینکوں کے بڑے بڑے کمروں میں چھتوں تک بھر کر سلوں کی صورت رکھا ہوا ہے۔
پھر ایک قانون آیا کہ ہر ملک کی کرنسی کو اس قدر طاقتور مانا جائے گا جس قدر سونا اس ملک کی کرنسی کے پیچھے ہوگا۔ رفتہ رفتہ یہ قانون بھی ختم ہوگیا۔ اب سب کچھ امریکی ڈالروںکا چکر ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ جانے کیسے ترکی کی کرنسی بے وقعت کردی! یہی حال پاکستان کا ہے۔ یہ کرنسی، اسٹاک ایکس چینج، قرض، سود در سود، یہ سب ایسے کھیل ہیں کہ مجھے ریاضی کی اچھی خاصی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود سمجھ میں نہیں آتے۔ اب بالفرض IMF نے ہمیں قرض دیا تو یہ قرض کے پیسے کب آئے؟ ہوائی جہازوں سے بوریاں اتریں ڈالروں کی، یا پانی کے جہازوں سے کنٹینر بھر بھر کر نوٹ اتارے گئے؟ کیسے قرض کی رقم آتی ہے، کہاں جاتی ہے؟ پہلے کم از کم کاغذ کے نوٹ تو نظر آتے تھے، اب تو کمپیوٹروں پر اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے اور میری قوم کی گردن پر اربوں ڈالر کا قرض آجاتا ہے، ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، روپے کی قدر گر جاتی ہے، جانے کیسے؟ یہ اسٹاک ایکس چینج کیسے گر جاتا ہے؟ کروڑوں کا نقصان؟ بھئی اگر میرا کاروبار آپ کے ساتھ ہے تو میرا نقصان ہوگا اور آپ کا فائدہ، اگر آپ کا نقصان ہے تو میرا فائدہ۔ پوری اسٹاک مارکیٹ کریش ہوتی ہے تو نقصان کا جو پیسہ Generate ہوتا ہے وہ کس کی جیب میں جاتا ہے؟ یقینا بڑے بڑے فنکار ہیں اس سارے شیطانی نظام کے پیچھے۔ معیشت کو اتنا پیچیدہ بنادو کہ عوام کو نہ سمجھ آئے، نہ وہ کچھ پوچھیں… یہ سب یہودیوں کے بنائے ہوئے نظام ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ جوا ہے۔
اب FATF کا مطالبہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری کے پاس کتنا کتنا سونا ہے، اس کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ بھئی آپ کا کیا تعلق ہمارے سونے سے؟ ایک لڑکی بیاہ کر دوسرے گھر گئی، چاچا نے سونے کی ایک چین دے دی، خالہ نے ایک لاکٹ چڑھا دیا، اماں نے ایک سیٹ دے کر رخصت کیا، ساس نے ایک سیٹ منہ دکھائی میں دیا۔ اب یہ سونا وہ لڑکی ساری عمر سینے سے لگا کر رکھتی ہے، اس کے لیے جھگڑتی ہے، اسے بچاتی ہے، چھپاتی ہے۔ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگا کہ کوئی FATF ہے جو اس کے سونے پر دانت لگائے بیٹھا ہے۔ جب تمام پاکستانیوں کا ڈیٹا اکٹھا ہوجائے گا تو کسی شاندار لالچ بھری اسکیم سے ہمارا سونا بھی چھین لیا جائے گا جیسے بینک آف انگلینڈ نے نئے نئے جالوں میں عوام کو پھنسایا۔
آپ کبھی 1000 کا نوٹ پورا پڑھیے، اس پر لکھا ہے کہ بینک دولت پاکستان، ہزار روپیہ حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا… ابھی نکالیے، ابھی پڑھیے، یعنی 1000 کا جو نوٹ آپ کے ہاتھ میں ہے یہ اصل 1000 روپے کی رسید ہے، یہ رسید حکومتِ پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوئی، اور جب یہ رسید آپ بینک دولت پاکستان کو دکھائیں اُسے اصل دولت یعنی سونا آپ کو دینا ہوگا۔ آپ کے مطالبے پر ادا کرنے کا دعویٰ اس نے نوٹ پر چھاپ کر کیا ہے۔ چلیں آپ اور میں چل کر مطالبہ کردیتے ہیں، آپ یقین مانیں وہ ہمارے مطالبے پر رقم کی اصل دولت دینے کے بجائے ہمیں پاگل قرار دے کر بھگا دیں گے، جتنے لوگ اس واقعے کو دیکھیں گے وہ مذاق اڑائیں گے۔ یہ ہے جادو یہودیوں کی شیطانی منصوبہ بندی کا۔
صرف کاغذ ہے جس پر آپ اور میں غرور کررہے ہیں۔ اسی کاغذ کے چیتھڑے پر رنگ چھاپ کر 100 کا بناتے ہیں، اسی چیتھڑے پر دوسرے رنگ کا چھاپا لگا کر 5000 کا بنا دیتے ہیں۔ آپ خوش ہیں کہ آپ کے پاس 5000 روپے ہیں۔ پیچھے سے کرنسی کی قدر گرتی ہے اور اب 5000 کے نوٹ سے اتنی چیزیں آئیں گی جتنی 3000 روپے سے آتی ہیں۔ یعنی ہاتھ میں پکڑے پکڑے آپ کا 5000 روپے کا نوٹ 3000 روپے کا رہ گیا۔ اب کرلو جتنی دولت جمع کرنی ہے۔ اگر آپ کے پاس 5000 روپے کے کاغذ کے نوٹ کے بجائے 5000 کا سونا ہوتا تو پوری دنیا میں جو مرضی ہوجائے، آپ کی دولت جیسی کی ویسی آپ پاس ہوتی… آپ کی دادی آپ کو بتاتی ہیں کہ ہم 10 روپے میں ایک تولہ سونا لے لیتے تھے۔ اب اگر اُس وقت انہوں نے ایک تولہ کے دس روپے دیے ہوں گے تو آج وہ ایک تولہ سونا کتنے کا ہوگا؟ اب آپ بتائیں کہ سونے میں ہے کوئی نقصان؟ جتنی مرضی دنیا کے نظام بدلیں، سونا محفوظ ہے۔ یہ ہے وجہ FATF کی سونے میں دل چسپی کی۔ یعنی دشمن تو سونے کی اہمیت سے آگاہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کاغذ کے ٹکڑوں کے لیے ایک دوسرے کا قتل کررہے ہیں، ایمان بیچ رہے ہیں۔ اپنے نبیؐ کا نظام لائو تو شیطان کی ہر چالاکی سے بچ جائو گے، نہ کوئی تمہاری کرنسی کی قدر گرا سکتا ہے، نہ سود کی لگامیں ڈال کر تمہاری گردن پر چڑھ سکتا ہے۔
اب آیئے زکوٰۃ پر بات کرتے ہیں۔ ساڑھے سات تولہ سونے پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ کا طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے، یعنی ساڑھے سات تولے پر مشتمل سونے کے سکّوں کی زکوٰۃ، اور ان سونے کے سکّوں کا ڈھائی فیصد، یعنی آپ کی زکوٰۃ میں بھی ڈھائی فیصد سونے کے سکے، جو جاری کرنسی کے ہوں دینے پڑیں گے۔ سونا اصل دولت ہے، اس کی زکوٰۃ آپ رسیدوں کے ذریعے کیسے دے سکتے ہیں؟ دولت کی زکوٰۃ تو دولت ہوگی، یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک سال سے بے کار رکھا ہوا سونا یعنی ’’اصل دولت‘‘ گردش میں آئے گی۔ زکوٰۃ صرف اُس ساڑھے سات تولے پر ہے جو ایک سال تک بے مصرف رکھا رہے۔ اگر آپ سونا زکوٰۃ میں نہیں دے سکتے تو بھی رسیدوں سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، کوئی ٹھوس جنس ہی دینی پڑے گی، چاہے آٹا، چاول، کپڑا، لوہے یا لکڑی کی کوئی چیز یا کھجور وغیرہ۔
اب سہولت کے نام پر جیسے ہم اور کئی دھوکے کھا رہے ہیں، ویسی ہی سہولت ہم نے زکوٰۃ میں اپنا رکھی ہے کہ پیسے دے دو، غریب خود اپنی ضرورت کی چیز خرید لے گا۔ اب اس میں دو سوالات ہیں، ایک یہ کہ سونے کے زیورات جو خواتین کے پاس ہوتے ہیں، ان کا کیا حساب کتاب ہوگا؟ دوسرا یہ کہ کاغذ کی رسیدیں جو جاری کرنسی کی صورت میں رائج ہیں، ان کی زکوٰۃ کیسے ہوگی؟ اب آپ دیکھیں کہ 1000 کے نوٹ پر لکھا ہے کہ بینک دولت پاکستان ایک ہزار روپیہ حامل ہٰذا کو مطالبے پر ادا کرے گا، یہ نہیں لکھا کہ 1000 کا سونا حامل ہٰذا کو مطالبے پر ادا کرے گا، یعنی ایک ہزار روپے جو ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ ایک رقم ہے جو سونے کے سکوںکی شکل میں رائج کرنسی کے ذریعے ادا کی جائے گی، کیوں کہ سونے کے دام تو اترتے چڑھتے رہتے ہیں لیکن سونے کے سکے جو کرنسی کی صورت میں رائج کردیے گئے، ان کی قدر وقیمت تمام ادوار میں یکساں رہے گی، اسے ڈالر کی بیک (Back) نہیں چاہیے اور ملک کے معاشی حالات بھی اس کی قدر و قیمت پر اثر نہیں ڈال سکتے، یہ فکس انویسٹمنٹ ہے۔ چوں کہ یہ طریقہ متروک ہوگیا اور سونے کے سکے ہیں ہی نہیں، جن کے وعدے پر ہمیں رسیدیں دے کر اُلّو بنایا گیا ہے، لہٰذا اب یہی طریقہ ہے کہ آپ کے پاس جتنے کاغذ کے نوٹ، ارے نہیں، میں نے بھی کیا جاہلوں والی بات کردی۔ نوٹ بھی کس کے پاس ہیں آج کل؟ بس کمپیوٹر میں ایک اکائونٹ ہوتا ہے جو اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہوتا ہے۔ بہرحال جتنی رقم ہے، اس میں دیکھیے کہ کتنے تولے سونا آسکتا ہے۔ اس حساب سے زکوٰۃ دیں۔ اسلامی طریقہ تو یہ ہے کہ اسلامی حکومت زکوٰۃ وصول کرے اور ناداروں کے لیے منظم اور باقاعدہ ادارے قائم کرے جو بھکاری بنانے سے زیادہ غریب کو پائوں پر کھڑا کریں۔ لیکن ہماری تو حکومتیں ایسی ہیں کہ زکوٰۃ بھی کھا جائیں گی۔ اس لیے عام طور پر پاکستانی اپنی زکوٰۃ حکومتوں کے ہاتھ نہیں لگنے دیتے، اور اپنی ذاتی کوششوں سے کئی رفاہی ادارے چلا رہے ہیں۔ عام طور پر پاکستانی اللہ تعالیٰ کو دینے میں حساب کتاب کے قائل نہیں بلکہ کھلے دل سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اور سال بھر کئی فلاحی ادارے مسکینوں کی مدد کرتے ہیں۔ جب کہ وہ لوگ بھی موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کئی غیر اسلامی ٹیکس دیتے ہیں، صابن کی ایک ٹکیہ بھی بغیر ٹیکس دیے نہیں خرید سکتے تو ہم زکوٰۃ کیوں دیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ سونا چلتا رہے، رکے نہیں۔ بیس سال کی ایک لڑکی شادی پر جو سونا حاصل کرتی ہے، وہ 80 سال کی عمر تک سنبھال کر رکھتی ہے، یعنی اتنے سال سونا صرف رکا ہوا ہے، لیکن چونکہ آج کل سونا کرنسی نہیں ہے اور اس کے رکنے سے فرق نہیں پڑتا لہٰذا جو کرنسی رائج ہے اس کے حساب سے قیمت کے توازن سے زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے تاکہ معیشت میں غربا کے لیے بھی گنجائش رہے۔ اب یہ ہے کہ بعض خواتین جیسے تیسے رو پیٹ کر بچیوں کے لیے زیور تو بنا لیتی ہیں کہ برصغیر میں رائج ہندوانہ نظام کے مطابق جہیز دے سکیں، لیکن زکوٰۃ ادا کرنے کی رقم نہیں جوڑ پاتیں، تو اس کے لیے عرض ہے کہ پورا اسلامی نظام آئے گا تو یہ مسئلے حل ہوں گے۔ ابھی تو شیطانی نظام ہے، آپ نہیں چاہیں گے تو بھی آپ سے گناہ ہوگا۔ اسلام میں کہیں جہیز میں زیور دینا ضروری نہیں، قسمت میں ہوگا تو بیٹی کا شوہر زیور بھی بنوا دے گا اور زیور کی زکوٰۃ بھی دے گا۔
آپ نے قرآن میں پڑھا ہوگا کہ فرعون جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا جادو کا مقابلہ کراتا ہے تو جادوگر حاضرین کی نظربندی کردیتے ہیں جس سے رسیاں اور لاٹھیاں سانپ کی صورت نظر آنے لگتی ہیں۔ بس وہی حال ہے

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

آپ دیکھیے کہ ہم کتنے احمق ہیں، جو لوگ ہماری مائوں بہنوں کو سڑکوں پر نچا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہم مدینہ کی ریاست بنائیں گے، ہم اس کو سچ مان لیتے ہیں۔ کیا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا مدینے کی ریاست بنانے کا؟ آپ اپنے گاہک کو دھوکا دے کر دس روپے زیادہ کما لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ سے بڑا عقلمند کوئی نہیں ہے، وہ پیچھے ڈالر کا ریٹ بڑھا دیتے ہیں، آپ کا دس روپیہ پانچ روپے بن جاتا ہے، کیا یہ چوری نہیں ہے؟ آنکھیں کھولو، دیکھو، سمجھو کیا کھیل کھیلا جارہا ہے؟ اے اللہ کوئی موسیٰؑ بھیج دے جو لاٹھی پھینک کر ایسا اژدھا بنائے کہ وہ سارے جھوٹے سانپوں کو نگل جائے، ساری نظربندی ختم ہوجائے، اب تُو ہی ہماری آس ہے اور تجھ سے ہی مدد مطلوب ہے، ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ہمیں کفر کا شیطانی نظام جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ہمت دے، ہمارے دلوں کو اپنا نور عطا کر، ہمیں فہم و فراست عطا کر، آمین یارب العالمین۔

حصہ