سوشل میڈیا اور فرشتہ

140

سوشل میڈیا پر گو کہ ابھی وائرل موضوع نہیں بنا لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق :لاڑکانہ کی تحصیل رتو ڈیرو جو تقریباً دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔اُسکے تحصیل ہسپتال میں ان دنوں خواتین اور بچوں کا ہجوم رہتا ہے۔اپریل سے اب تک رتوڈیرو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کا پتا سب سے پہلے ڈاکٹر عمران عاربانی نے لگایا جو گزشتہ پندرہ سال سے رتو ڈیرو میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ ان کے پاس فروری میں تیز بخار کا شکار مریض بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور بھرپور علاج کے باوجود بچوں کی حالت بگڑنے پر ان کے خون کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی۔اعداد و شمار کے مطابق صرف لاڑکانہ میں 32 خواجہ سرا ایچ آئی وی پازیٹو ہیں۔ڈاکٹر عمران نے اپنے فیس بک پر اس بارے میں بات کی اور مقامی صحافیوں نے جب ان سے رابطہ کیا تو اس کے بارے میں باہر کی دنیا کو معلوم ہوا۔اس سے قبل لاڑکانہ ہی کے ایک سرکاری ڈاکٹر مظفر گھانگرو کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جس پر الزام تھا کہ اُس نے کوئی بدلہ لینے کی خاطر 42بچوں کو ایڈز وائرس سے متاثرہ سرنج لگا کر وائرس زدہ کیاہے۔جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد اُسے جان بوجھ کر بچوں کو متاثر کرنے کے الزام سے بری کر دیاالبتہ معیاری حفاظتی انتظام نہ کرنے کا جرم پر عائد کیا ہے۔
نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار لوگ ایچ آئی وی پازیٹو ہیں جن میں 75 ہزار پنجاب اور 60 ہزار صوبہ سندھ میں ہیں۔یہ جو بھی ہے انتہائی سنگین، خطرناک ، تو بہ و استغفار ، عذاب الہی جیسا معاملہ ہے ۔ حکومت وقت کیا کر رہی ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
اس ہفتہ ابو بچاؤ افطار پارٹی کا بھی بڑا چرچہ رہا، اپوزیشن رہنما بلاول بھٹو زرداری نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو افطار پارٹی کی دعوت دی۔ سب شریک بھی ہوئے ، جواباًبہت کچھ سننے کو بھی ملی۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی تصویر پر خوب تنقید ہوئی اور درست بھی رہی کیونکہ ایک صوفے پر ساتھ بیٹھ کر انہوں نے نہایت عجیب پیغام دیا ۔ سب اس وائرل تصویر پر دل کھول کر کیپشن دیتے رہے۔ساتھ ہی ساتھ جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام کو بھی محرم نا محرم والا ایشو برداشت کرنا پڑا۔اس میں پی ٹی آئی بھی شامل تھی جس نے عوام کو بھی زبان دے دی تھی۔
معاشی مسائل کا حل موجوہ حکومت جس طرح نکال رہی ہے یا نکالنا چاہ رہی ہے وہ ان کی نا اہلیت کو آئے دن سامنے لاتا ہے ۔ ڈالر کی تیز ترین اڑان اور روپے کی مستقل گرتی قدر نے سب تہہ و بالا کر دیا ہے۔ملکی اشیاء کے استعمال ، ملکی کرنسی کا استعمال ، ڈالر کو بیچ کر واپس پاکستانی کرنسی لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ کسی طرح یہ بوجھ کم کیا جا سکے۔اس مسئلہ کی حقیقت کو سینئر بزنس رپورٹر نے اپنی ایک یس بک پوسٹ کے ذریعہ بیان کیا کہ’بینکوں کے لاکر ز توڑو، وزیروں ، مشیروں کے گھروں پر چھاپے مارو۔ ڈالر کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔مگر یہ کرے گا کون ؟‘‘
اسلام آباد کی رہائشی دس سالہ معصوم بچی ’فرشتہ‘ کی مسخ شدہ لاش ،اس رمضان المبارک بھی عوام کو جھنجھوڑنے ،احساس دلانے اور آنے والے طوفان کی خبر دینے کا سبب بنی۔کہنے کو تو پاک فوج کی جانب سے بھی مذمت اور ہر ممکن مدد و تعاون کی ٹوئیٹ پڑھنے کی حد تک اچھی ہے لیکن اس کی گہرائی میں جائیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ کہہ کر وہ بھی مقامی پولیس و دیگر اداروں کی کار کردگی و صلاحیت کی کمی کااعلان کر رہے ہیں۔کوئی بھی معاشرے میں بڑھتی بے راہ روی گندگی، فحاشی و عریانی کے آگے بند باندھنے کو تیار نہیں ۔
مزید ستم یہ ہوا کہ اے آر وائی نیوز چینل کی جانب سے اس موقع پراپنے پی ٹی ایم مخالف ’نمبر بڑھانے ‘کے چکر میں انتہائی گھٹیا درجہ کے ٹکرز نے جلتی پر تیل چھڑکنے والا کام کیا۔سوال یہ ہے کہ کیوں پی ٹی ایم کو اس ایشو میں گھسنے کی جگہ دی گئی۔ کیوں حکومت ، پولیس ،مقامی رہنماؤں دیگر سیاسی جماعتوں نے خاموشی اور چپ کا روزہ رکھا۔ 15مئی کو اغواء ہونے والی بچی کے لیے پولیس والدین کی شکایت پر حرکت میں آجاتی تو شاید20مئی کو اُس کی تشدد زدہ لاش نہ ملتی۔قصور کی سات سالہ زینب سے لے کر فرشتہ تک یہ صرف دو بچیوں کا قصہ نہیں ہے ۔ جیسا میں نے پہلے کہاکہ یہ سب ایک خطرناک ’طوفان ‘کے انتہائی نقصانات سے خبردار کرنے والا معاملہ ہے ۔لگتا یہی ہے کہ لوگ ’اینٹی بائیوٹکس‘ کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ کسی بھی مرض یا تکلیف کا جامع علاج نہیں بس دبانا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ موضوع تین دن تک ٹرینڈ لسٹ پر کھڑا رہا اور ہونے والے مباحث میں صرف قاتل کو پکڑنے کی جانب ہی متوجہ کیا جاتا رہا ۔#JusticeForFarishta بالکل ہونا چاہیے ۔ مگر یاد کریں زینب کے کیس میں تو انصاف ہوا نا، قاتل پکڑا گیا، سزا بھی ہوئی ۔مگر محرکات اپنی جگہ موجود تھے اس لیے اس دوران مزید کئی واقعات ہوئے ۔ ’فرشتہ‘ ایشو کے پیچھے پی ٹی ایم آگئی ، پولیس کی ہٹ دھرمی ،سستی ، پوسٹ مارٹم نہ کرنے پر احتجاج نے سوشل میڈیا پر جگہ بنا ڈالی ۔دوسری طرف باقی کئی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کی لرزہ خیز واقعات کو تو سوشل میڈیا یا الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا پر مناسب جگہ بھی نہیں ملی۔ اسی رمضان کی 16مئی کی شب دارالحکومت سے جڑے شہر راولپنڈی میں محافظ فورس کے تین پولیس کانسٹیبلز اور ایک عام شہری نے رات ۲بجے ایک طالبہ کو اغواء کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا اور ہاسٹل کے باہر پھینک کر فرار ہوگئے ( بعد ازاں گرفتاری بھی ہوئی )۔یہی نہیں کئی اور واقعات اس دوران ہوئے ہیں ،کس کس کو روئیں ؟روزنامہ ڈان میں ساحل نامی این جی او کی رپورٹ کے مطابق 2018میں بچوں سے زیادتی کے 3832کیسز رپورٹ ہوئے، جوکہ 2017کی تعداد سے 33فیصد زیادہ ہیں ۔ساحل نے اس رپورٹ کے ذریعے جو حل پیش کیا ہے نہ ہی وہ قابل بیان ہے اور نہ ہی کسی طور اُس سے افاقہ ممکن ہے۔ایسا کیسے ممکن ہے کہ آپ دوائی بھی لیںاور پرہیز بھی نہ کریں ۔ علاج بھی چاہیں اور اُسی وائرس کو جسم میں بار بار داخل بھی کریں تو کبھی بھی افاقہ نہیں ہوگا۔آج کا پورا مغرب بشمول امریکہ ، یورپ ، بھارت سمیت اس ’ناقابل فہم علاج ‘کی ناکامی کا عملی ثبوت بناہواہے۔کسی میں دم نہیں کہ وہ معاشرے میں بڑھتی جنسیت ، قابو سے باہر جنسی ہیجان خیزی کی وجوہات پر بات کرے۔یہی میڈیا اس کا اصل ذمہ دار ہے ۔ انٹرنیٹ نے آج ہر انسان کی ہتھیلی پر 5انچ نصب اسکرین کو ’پورنوگرافی ‘کا گڑھ بنا لیا ہے۔ اس زہرنے اس کے اندر سے رشتوں کی قدر ختم کرکے صرف جنسی حیوان بنا دیا ہے ۔اس زہر کو ختم کرنے کے لیے کوئی بات تک نہیں کر رہا۔ کسی کو مرد کی حاکمیت مسئلہ لگ رہی ہے ۔ کسی کو قانون کی سستی۔کسی کوعورتوں کے حقوق ۔ کسی کو بچوں کی حفاظت کے لیے جنسی تعلیم یاد آ رہی ہے۔لیکن اغواء ہونے اور قتل ہونے میں جنسی تعلیم کا کیا عمل دخل ہے یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں ۔
اسلام آباد سے اس واقعہ پر سینئر صحافی احسان کوہاٹی درد بھری تحریر لکھتے ہیں کہ :’’مجھے نہیں معلوم کہ پولیس کی وردی پہنتے ہی انسان اپنی کھال سے باہر کیوں نکل جاتا ہے اپنی اوقات کیوں بھول جاتا ہے ۔اس وقت ترامڑی چوک پر جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی معصوم فرشتہ کا بے جان لاشہ کفن میں لپٹا پڑا ہے ۔فرشتہ مہمند کے گھر والے اور اس سے پیار کرنے والے احتجاج کر رہے ہیں ۔بے چاروں کا مطالبہ ہے کہ شہزاد ٹاؤن تھانے کا عملہ معطل کیا جائے اور یہ لیں ڈی آئی جی آپریشنز نے فوراً ہی تھانیدار معطل کر دیا ۔اب وہ مزے سے گھر بیٹھے روزے رکھے گا بچوں کے جھرمٹ میں روح افزاء سے افطار کرے گا اور تراویح پڑھ کر خیر و عافیت کی دعائیں مانگے گا۔اسے تنخواہ پابندی سے ملے گی بس جو حرام مال شکم میں ڈالتا تھا اسکا نقصان ہوا ہے وہ بھی کچھ عرصے کے لئے،اسے پھر کوئی نہ کوئی کہیں تھانیدار لگوا دے گا جہاں خدا نہ کرے کسی فرشتہ مہمند کا باپ روتا پیٹتا بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے جائے اور جواب میں کہا جائے کہ جاؤ جاؤ لڑکی خود ہی بھاگ گئی ہو گی۔ DIGآپریشنز صاحب !آپ بھی صاحب اولاد ہوں گے۔ آپکے گھر میں بھی کوئی فرشتہ تو ہوگی ۔پولیس کی وردی اتارنے کے بعد ایک باپ کی کھال میں اسکی پیشانی کو بوسہ تو دیجیئے۔ اگرنیشنل پولیس اکیڈمی کی تربیت اور وردی نے انسانیت کی کوئی رمق چھوڑی ہو گی تو روح کانپ جائیگی۔آپ کے تھانوں میں مظلوم فریاد لے کر جاتے ہیں اور آپ کے پولیس اہلکار 10برس کی معصوم بچی کو گھر سے فرار کروا دیتے ہیں۔آخ تھو! تف ہے ۔اس بے غیرتی پر اور لعنت ہے اس بے غیرتی کو برداشت اور سپورٹ کرنے والوں پر۔آپ کہتے ہو فرشتہ کے والد افغانی ہیں میں کہتا ہوں افغانی نہیں اسرائیلی کہیں پھر بھی ہم فرشتہ کے لاشے کیساتھ ہیں۔‘‘
معروف مصنف ابو یحییٰ اپنی پوسٹ میں سوال اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ کیا یہ آخری فرشتہ ہے؟جس معاشرے میں تربیت کے ادارے تباہ ہو چکے ہوں۔فحش فلمیں ہر شخص کی باآسانی پہنچ میں ہوں ۔قانون صرف طاقتور یا صاحب اقتدار کے لیے یا ان کی مداخلت پرحرکت میں آتا ہو۔وہاں کوئی زینب یا فرشتہ آخری نہیں ہو سکتی۔‘‘
ملک جہانگیر اقبال کی تحریر کردہ پوسٹ کوئی 200 شیئرز کے ساتھ تیزی سے وائرل ہوتی یہ تحریر بھی اس تناظر میں اہمیت کی حامل تھی کہ اس پر خاصی بحث چلی ۔
’’افطار کے بعد دوستوں کیساتھ بیٹھے گپ شپ جاری ہی تھی کہ حالیہ جنسی درندگی کے واقعات پہ بات چل نکلی ۔ دوستوں کا ماننا تھا کہ یہ تمام واقعات Sadist (اذیت پسند) اور pedophiles (بچہ باز) نامی ذہنی امراض کے شکار مریضوں کی کارستانیاں ہیں جبکہ ایک دوست کا کہنا تھا کہ نکاح آسان کردیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ ایک کے مطابق اگر کوٹھے عام کردئے جائیں تو شاید یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔
میرا موقف کچھ یوں تھا کہ ’’ دیکھیں جناب Pedophilia (بچہ بازی) ہمارے معاشرے کی اک کڑوی سچائی ہے ۔ خیبرپختون خواہ۔ پنجاب۔ سندھ۔ بلوچستان کے دیہی علاقے اس برائی کا گڑھ ہیں ۔
پورے پاکستان میں اسے بطور Taboo (وہ عمل جو معاشرے میں موجود ہو پر کبوتر کی طرح آنکھ بند کئے اس سے انکاری رہا جائے) لیا جاتا ہے ۔ لوگ دعوی ٰکرتے ہیں کہ معاشرے میں Sadistic (اذیت پسند) افراد بڑھ رہے ہیں ۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادتی کے بعد قتل Sadisim کی وجہ سے بالکل نہیں ہورہا۔ اسکی اصل محرکات واضح طور پر یہی ہیں کہ بچوں سے زیادتی میں انہی کے قریبی رشتہ دار / دوست / پڑوسی ملوث ہیں جنہیں ڈر ہوتا ہے کہ بچہ/ بچی ان کا نام لے لیں گے لہذا جنسی خواہش پوری کرنے کے بعد بچوں کو مار دیتے ہیں ۔اب بھلے لبرل طبقہ کہتا پھرے کہ چکلے عام کردو یا مذہبی طبقہ کہے کہ نکاح آسان کردو ۔ درحقیقت یہ دونوں باتیں ہی مسئلے کا حل نہیں ہیں ۔ اب یہ خطرناک سیلاب گلی محلوں تعلیمی اداروں سے مستقل شہ پا کر اپنے خونی رشتوں تک آن پہنچاہے ۔ کچھ سالوں میں بچوں سے زیادتی و قتل کے جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں 80% قریبی عزیز و اقارب/ محلے دار ملوث نکلے جن پہ والدین کو اعتماد تھا ۔کہیں ماں باپ اولاد کو غیر کے آسرے چھوڑ کر شادی میں شرکت کیلئے گئے ہوئے تھے۔ کہیں بچوں کو چھوڑ کر حج و عمرہ اور کہیں بچی سارا دن باہر کھیلتی رہی ۔ رات تک گھر نہ پہنچی تو گھر والوں کو خیال آیا کہ یہ تو غضب ہوگیا ۔بچہ بازی نامی گند ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے اسے تسلیم کیجئے۔ ماموں ،چچا ہو یا کزن ان پر نظر رکھیئے یا بھرپور وقت دے کر تربیت کریں ۔پہلے یہ بچے والدین کی لاپرواہی کیوجہ سے جنسی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں اور پھر بڑے ہوکر دوسرے بچوں کیساتھ وہی عمل کرتے ہیں جو آج تک انکے ساتھ ہوتا آیا ہے ۔آپ ایک نہیں10 ملزمان کو سرعام سولی چڑھا دیں یہ مرض تب بھی نہیں رکنا کیوں کہ مستقل فحاشی، عریانیت، جنسیات کے فروغ ، نت نئے فیشن کے نام پر برہنگی سے اسے ہم خود معاشرے کی رگوں میں سرائیت کررہے ہیں ۔والدین موبائلوں، ٹی وی ڈراموں میں گھسے رہنے کیلئے بچوں کو محلے والوں کے حوالے نہ کریں ۔ مائیں اپنی بہنوں بھابیوں کیساتھ مل کر غیبتوں میں مصروف رہنے کیلئے بچوں کو بڑے کزنز کے متھے نہ ماریں ۔ جنت میں ٹکٹ پکا کرنے کے چکر میں اپنی بیٹیوں کو پیر صاحب کے گھر کی باندی نہ بنائیں ۔ بچہ اسکول جائے یا مدرسہ اسکی اوقات کار اور کلاس کے معاملات پہ نظر رکھیں ۔ یہ انسان کا بچہ ہے ،کسی کتے ،بلی کا نہیں جو پیدا ہونے کے بعد رلتے رلتے اپنی قبیل جیسا بن جائے گا ۔اپنی اولاد پہ نظر رکھئے کم سے کم اس وقت تو رکھیں جب تک یہ شعوری طور پر صحیح غلط کا فرق کرنے والے انسان نہ بن جائیں ۔‘‘

حصہ