اعتدال سے رشتوں میں خوب صورتی

130

افروز عنایت
سلمان بہت دھیمی طبیعت کا مالک تھا۔ ہر ایک سے کچھ زیادہ ہی ملائمت اور نرمی کا رویہ روا رکھتا۔ شادی ہوئی تو بیوی سے بھی حد سے زیادہ انکسار و عاجزی برتتا، اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا۔ پانی کا گلاس تک بیوی سے نہ مانگتا۔ شادی سے پہلے جس طرح اس کے معمولات تھے، بعد میں بھی وہی برقرار رہے۔ چند ماہ کے بعد جو صورتِ حال سامنے آئی وہ تو یقینی تھی، یعنی بیوی اُس کے سر پر چڑھ کر بیٹھی ہر بات میں من مانی کرنے لگی، سمجھیں کہ حکم ہی بیوی کا چلنے لگا، جس کی وجہ سے سلمان خود بھی چڑچڑے ہوگیا۔ ایک دوست سے بات کی، اپنا مسئلہ بتایا تو وہ ہنس کر کہنے لگا: تم کو پہلے ہی دن سے بیوی کو نکیل ڈالنی تھی، سختی کرتے تو وہ اس طرح سر پر نہ چڑھ جاتی۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی، ذرا سختی کرو تو اُس (بیوی) کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے، تمہارے آگے پیچھے گھومے گی، اسے اتنا ڈرائو کہ وہ کبھی تمہارے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہ کرے۔ سلمان گرچہ بہت پڑھا لکھا تھا لیکن یہاں اس کی عقل بے بس ہوگئی، فوراً ہی دوست کی بات پر عمل پیرا ہوگیا۔ نتیجتاً لڑائی جھگڑے، گھر میں بے سکونی، بدسلیقہ پن نمایاں ہونے لگا۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو کچا چبانے کے لیے تیار۔ یعنی سلمان کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ چھٹیوں پر جب یہ میاں بیوی اپنے شہر گئے تو دو تین دن تو سنبھل کر رہے، لیکن پھر اپنی ڈگر پر آگئے۔ ہر وقت کی جھک جھک، لڑائی جھگڑے پہلے تو کمرے تک محدود رہے، پھر کمرے سے باہر بھی آوازیں آنے لگیں۔ سلمان کی ماں بڑی سمجھدار اور بُردبار خاتون تھیں، انہوں نے شروع میں تو دخل اندازی کرنا صحیح نہیں سمجھا، لیکن وہ اس سنگین صورتِ حال سے اپنے آپ کو بالکل الگ بھی نہیں رکھ سکتی تھیں، لہٰذا اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرنے لگیں۔
آج تو حد ہی ہوگئی… روتی چلاّتی نورین کمرے سے باہر آئی، جبکہ سلمان کمرے سے نکلا اور گھر سے باہر چلا گیا۔ دونوں کا موڈ سخت بگڑا ہوا تھا… ایک سیر تو دوسرا سوا سیر۔
اماں: نورین بیٹا کوئی مسئلہ ہوگیا ہے؟
نورین: (روتے ہوئے) اماں مسئلہ ہے آپ کا بیٹا، ہر وقت غصے میں رہتا ہے اور سیدھے منہ اسے بات کرنا گوارا نہیں، ہر سیدھی بات کا الٹا مطلب لیتا ہے اور لڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہر وقت غصہ، ہر وقت جھگڑا… اب مجھے کہہ کر گیا ہے کہ نکل جائو گھر سے، اگر تم نہیں سدھریں تو وہیں پڑی رہنا۔
اماں نے تحمل سے بہو کی ساری گفتگو سنی، پھر گویا ہوئیں: دیکھو بیٹا تم دونوں کو تحمل اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔ اگر شوہر غصے میں ہو تو بیوی کو خاموشی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اگر شوہر کی طرف سے زیادتی یا غلطی ہو تو بعد میں کسی وقت اس کی غلطی کی نشاندہی کرنا سمجھداری کی علامت ہے۔ بیٹا تم اپنی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائو، ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اپنے غصے کا اس شدت سے اظہار کرنا تمہارے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
………
اماں: سلمان بیٹا یہاں بیٹھو، ایک بات کرنی ہے تم سے۔
سلمان: جی امی بولیں کوئی کام ہے؟
اماں: بیٹا اس طرح ہر وقت بیوی پر غصہ کرنا یا لڑنا جھگڑنا درست نہیں ہے۔
سلمان: اُس نے آپ سے شکایت کی ہے؟
اماں: نہیں، وہ شکایت کیا کرے گی! ہم سب بہرے تو نہیں۔
سلمان: تو آپ نے دیکھا نہیں وہ کتنی خودسر، ضدی اور من مانی کرنے والی ہے، میری کسی بات کو اہمیت ہی نہیں دیتی۔ مجبوراً مجھے غصہ آجاتا ہے۔ ویسے بھی اماں! لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ یہ میری سختی ہے ورنہ تو وہ…
اماں: سلمان بیٹا، کسی کو راہِ راست پر لانے یا سدھارنے کے لیے صرف سختی ہی واحد راستہ نہیں ہے، جس کا تم نے انتخاب کیا ہے۔ ذرا اپنے غصے کو قابو میں رکھو، میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں، اگر ان میں توازن برقرار نہ رہے تو گاڑی چلنا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر قدم اعتدال کے ساتھ اٹھانا تم دونوں کے لیے لازمی امر ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کام سختی سے ممکن ہو۔ امتِ مسلمہ کو امتِ وسط کہا گیا ہے۔ ہر کام، ہر رشتہ نبھانے کے لیے، یہاں تک کہ عبادت میں بھی اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اعتدال کی وجہ سے ہر کام میں نہ صرف کامیابی بلکہ آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر رشتے سے خوبصورت تعلقات استوار کرنے کے لیے بھی اعتدال کا رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ جس طرح اولاد بے جا سختی سے بظاہر تو ماں باپ کی بات ماننے پر مجبور ہوجاتی ہے لیکن اکثر اندر سے ان کے دل باغی ہوجاتے ہیں، اسی طرح حد سے زیادہ نرمی اور پیار بھی رشتوں میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اکثر حد سے زیادہ لاڈلے بچے من مانی پر اتر آتے ہیں۔ ضد اور من مانی ان کی شخصیت کو توڑ پھوڑ دیتی ہے۔ تم اب خود اولاد والے ہونے والے ہو ان شاء اللہ… اس لیے اپنے طریقوں میں، عمل میں اور رویوں میں اعتدال کا عنصر پیدا کروں۔ آج تم میرے سامنے بیٹھے عزت و احترام سے میری بات سن رہے ہو، اور مجھے یقین ہے کہ عمل بھی کرو گے، یہ سب اعتدال میں رہ کر ہماری جانب سے آپ کی تربیت کی وجہ سے ہے۔ نورین اچھی پڑھی لکھی لڑکی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے مناسب رویّے سے اُس میں بھی بہتری آئے گی۔ عورت تو ویسے بھی ٹیڑھی پسلی کی پیداوار ہے، مناسب و معتدل رویّے سے ہی اس کو سدھارا جاسکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہم سب کے سامنے ہے، آپؐ نے ہر رشتے کو اعتدال سے استوار کیا، چاہے آپؐ کے ازواجِ مطہرات کے ساتھ گھریلو معاملات ہوں، اولاد کی تربیت کے معاملات ہوں، چاہے دوست احباب کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہوں، آپؐ نے ہمیشہ اعتدال کا راستہ اپنایا۔ یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عادت تھی۔ کہیں ہمیں نظر نہیں آتا کہ ان مبارک ہستیوں نے بیویوں کے ساتھ حد سے زیادہ سخت رویہ برتا ہو، یا اولاد کے معاملے میں جلاد بن گئے ہوں۔ دین کے معاملے میں بھی سختی ہے لیکن بے جا سختی نہیں کہ جس سے اولاد آپ سے دور ہوجائے۔ عورت کے ساتھ آپ کا پیار و محبت کا رویہ ضرور ہو لیکن مرد کا اللہ نے جو درجہ رکھا ہے اس کو پامال نہ کیا جائے، اور عورت کا جو مقام دینِ اسلام نے رکھا ہے اس کی دھجیاں نہ اڑائی جائیں۔ صرف مخصوص صورت حال کی بنا پر ازواج سے سخت رویّے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن وہ بھی اعتدال اور حد میں رہتے ہوئے… اور بار بار عورت کو یہ کہنا کہ میں تمہیں گھر سے نکال دوں گا، یا اب میرے گھر میں واپس نہ آنا… انتہائی نامناسب الفاظ ہیں۔ غصے میں آکر انسان حدیں پار کردیتا ہے، پھر پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا اپنے رویّے کا محاسبہ کرو، جہاں تبدیلی کی گنجائش ہو وہاں اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو… ایسی تبدیلی جو مثبت ہو، جو تمہاری آئندہ زندگی کو خوشگوار بنائے، نہ کہ تمہاری زندگی میں زہر گھول دے۔ تم دونوں کے لڑائی جھگڑے نہ صرف ماحول میں بگاڑ و کشیدگی پیدا کریں گے بلکہ آنے والے وقت میں تمہاری اولاد پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب کریں گے۔ خوشگوار اور حسین ماحول کے لیے گھر کے افراد کے درمیان اعتدال و توازن والا رویہ ہونا لازمی ہے۔ عورت گھر کے کام کاج کی زیادتی کی وجہ سے بعض اوقات چڑچڑی ہوجاتی ہے، اگر شوہر کے غصے کے آگے بول دیتی ہے تو شوہر کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ ایک دوسرے کا احترام اور عزت رشتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری چیزیں ہیں۔ عزت و احترام کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دینا تعلیم یافتہ لوگوں کی صفت نہیں ہے۔ اس لیے آئندہ احتیاط کرنا بیٹا۔ ہم چاہتے ہیں اور ہماری دُعا بھی ہے کہ تم دونوں کے درمیان ایک خوبصورت، حسین اور خوشگوار تعلق ہو (ان شاء اللہ)، اتنے حسین تعلق کو دیکھ کر ہم سب کو دلی سکون حاصل ہوگا۔ جس طرح میں تمہاری ماں ہوں، اسی طرح تمہارے توسط سے اس گھر میں آنے والی کی بھی ماں ہوں۔ تو دونوں کی بھلائی ہی ہم سب کی منشا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تم میری نصیحت پر آج سے ہی عمل کرو گے۔
سلمان نے بڑی فرماں برداری سے ماں کے دونوں ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے اور کہا ’’اماں آپ کو آئندہ شکایت نہیں ہوگی۔‘‘
اماں: یہ ضروری ہے۔ تم دونوں کی اَن بن سے میں بے سکون ہوگئی ہوں۔
سلمان: سوری اماں… مجھے افسوس ہے کہ آپ کو ہماری وجہ سے تکلیف ہوئی۔
اماں: جیتے رہو بیٹا۔ ماں باپ اولاد کو خوش دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔
…………
اعتدال سے مراد ہے انصاف کا راستہ اپنانا۔ بے شک رشتوں کی خوبصورتی اعتدال کا راستہ اختیار کرنے سے آتی ہے، بلکہ ہر معاملے میں اعتدال یعنی انصاف کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ہر کام میں درستی پیدا ہوسکے۔ اعتدال کے بارے میں آپؐ کی حدیثِ مبارکہ ہے ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا‘‘۔ صحابہ نے فرمایا ’’آپؐ کو بھی نہیں یارسول اللہ؟‘‘ فرمایا ’’اور مجھے بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ پس تم کو چاہیے کہ درستی کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔ صبح و شام، اسی طرح رات کو ذرا سا چل لیا کرو اور اعتدال کے ساتھ چلا کرو، منزلِ مقصود کو پہنچ جائو گے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اللہ ہم سب کو اعتدال کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

حصہ