مانگنے کا فن

110

زاہد عباس
خالہ رضیہ اپنے گھرکمیٹی ڈالتی ہیں، اسی لیے پہلی بی سی خود رکھ لیتی ہیں، پھر ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے کمیٹی کھولی جاتی ہے، اس طرح جس ممبر کا بھی نام نکلے اُسے بی سی دے دی جاتی ہے۔ یہی ان کا ہمیشہ سے اصول رہا ہے۔ خیر، ہر مرتبہ کی طرح اِس بار خالہ رضیہ نے پہلی بی سی کیا رکھی کہ قرض مانگنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ پہلے جاوید چلا آیا کہ ’’خالہ میں انتہائی پریشان ہوں، مجھے پچاس ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے، مہربانی کریں آپ مجھے اپنی بی سی دے دیں۔‘‘
’’بیٹا ایسی کون سی ضرورت آن پڑی ہے جو تُو میرے گھر چلاآیا؟ جہاں تک پیسوں کا تعلق ہے تو جب بی سی جمع ہوگی تبھی میرے ہاتھ میں آئیں گے، اور ویسے بھی مجھے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہے، لہٰذا میں یہ پیسے تجھے کسی صورت نہیں دے سکتی۔‘‘
یوں خالہ رضیہ نے جاوید کو تو ٹال دیا لیکن ریحان کو وہ بھلا کس طرح ٹال سکتی تھیں! چونکہ ریحان نے خود بھی خالہ رضیہ کے پاس کمیٹی ڈال رکھی تھی اس بنیاد پر وہ بھی ادھار مانگنے پہنچ گیا۔
’’خالہ رضیہ بڑی خوش نظر آرہی ہو، لگتا ہے کوئی بڑی خوش خبری ہے جس کی وجہ سے خالہ کا چہرہ کھلا کھلا سا لگ رہا ہے۔‘‘
’’بیٹا ایسی تو کوئی بات نہیں، ابھی بچوں کو اسکول سے لائی ہوں، گرمی میں برا حال ہوگیا ہے، اور تُو کہتا ہے کہ میں فریش لگ رہی ہوں، اچھا چھوڑ، بتا کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’وہ کچھ نہیں بس ایسے ہی چلا آیا، اور خالہ سے ملنے کے لیے کون سا ویزا لینا پڑتا ہے! سوچا مل آؤں۔‘‘
’’ہائے میرا بچہ کتنی محبت کرتا ہے۔ اور کام وغیرہ کا سنا۔‘‘
’’سب کچھ اچھا ہے، بس تھوڑی پریشانی آئی ہوئی ہے۔‘‘
’’کیسی پریشانی؟ تیری خالہ کے ہوتے ہوئے تجھے کون پریشان کررہا ہے؟‘‘
’’نہیں نہیں کوئی خاص نہیں، بس کاروبار ٹھنڈا چل رہا ہے اس لیے ہاتھ ذرا تنگ ہے، اگر کچھ پیسے مل جائیں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’ہاں بیٹا کاروبار تو واقعی ٹھنڈے ہیں، ایک تو منہگائی، اوپر سے جیب خالی… ایسے میں کون بازاروں میں آتا ہے! اب تیرا مسئلہ بھی ایسا ہے جسے حل کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے، میرے پاس رقم ہوتی تو ضرور دے دیتی۔‘‘
’’خالہ، وہ بی سی؟‘‘
’’ارے نہیں بیٹا، وہ تو گڑیا کی شادی کے لیے رکھی ہے۔‘‘
’’شادی تو ابھی دور ہے، اتنے عرصے میں ہوسکتا ہے کہ میری بی سی بھی کھل جائے۔ یہ رقم مجھے دے دو، جب میری بی سی کھلے تو آپ رکھ لینا۔‘‘
’’بات ٹھیک ہے، شادی میں تو ابھی چند ماہ باقی ہیں، چل تُو اپنا کام نکال لے، جب تیری بی سی کھلے گی تو میں رکھ لوں گی۔‘‘
یوں ریحان خالہ رضیہ سے بی سی کے پچاس ہزار روپے لینے کے بعد بازار میں لگائے جانے والے اپنے اسٹال کو بند کرکے ایسا گیا کہ پھر نہ لوٹا۔ اُس دن سے خالہ نہ صرف اپنی، بلکہ ریحان کی بھی بی سی بھرنے پر مجبور ہیں۔ اب وہ جب بھی ملے تب کی تب دیکھی جائے گی۔ اس ساری بات میں یہ تو طے ہے کہ کسی سے قرض لینا آسان کام نہیں، اس کے لیے خاصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، اگر آپ میں وہ گُر نہیں ہیں تو رقم دینے والا شخص آپ کو بآسانی ٹال دے گا۔
یہی کچھ ہمارے ملک کے سابقہ وزیرخزانہ جناب اسد عمر کے ساتھ بھی ہوا، جن کی قابلیت کی تعریفیں کرتے وزیراعظم عمران خان نہیں تھکتے تھے، اُن کی ساری قابلیت اُس وقت کھل کر سامنے آگئی جب انہیں قرض لینے کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے پڑے، جس پر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور وزارت چھوڑ کر انہیں گھر جانا پڑا۔ جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ اس کام کے لیے مہارت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینا اُن کے بس کی بات نہیں تھی۔ ایسے پیکیجز لینے کے لیے کسی پرانے کھلاڑی ہی کی ضرورت ہے، ایسے کھلاڑی کی جس کا کام ہی ڈالروں سے کھیلنا ہو، جس کا سکہ پرانے پاکستان میں تو کیا نئے پاکستان میں بھی چلتا ہو۔ میرا اشارہ خان صاحب کے نئے پاکستان کے پرانے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی جانب ہے جنہوں نے نیا پاکستان بنانے والوں کے کاروان میں شمولیت اختیار کرتے ہی وہ جوہر دکھائے جس کے گرویدہ خان صاحب بھی ہوگئے۔ اپنے ہنر کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف سے جو کامیاب مذاکرات کیے اُن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کا پروگرام فائنل ہوگیا ہے، جس کے مطابق آئی ایم ایف 3 سال کے دوران پاکستان کو 6 ارب ڈالر قرض دے گا، جبکہ بیل آؤٹ پیکیج ملنے کے بعد ورلڈ بینک سمیت دیگر مالیاتی ادارے مزید 3 ارب ڈالر کا قرضہ دیں گے۔
پیپلز پارٹی دور کے بعد پھر سے نئے کپڑے پہن کر آنے والے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام معاشی بحران کے شکار ممالک کی مالی مدد کرنا ہے۔ اِس وقت پاکستان کی معاشی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ اب تک پاکستان 25 ہزار ارب روپے کا قرضہ لے چکا تھا۔ تاہم اب آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کے بعد معیشت میں بہتری آئے گی۔ پاکستان میں ہر دور میں برآمدات نہیں بڑھ سکیں، جبکہ بہت سے معاملات پاکستان میں درست طریقے سے نمٹائے ہی نہیں گئے۔ ہمیں امیر طبقے کے لیے سبسڈی ختم کرنا ہوگی اور کچھ شعبوں میں قیمتیں بڑھانی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کو کچھ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھانا ہوں گی۔ بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری ہوں گے۔ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہورہی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے آئی ایم ایف سے لیے گئے قرض کی مخالفت کرنے والے خان صاحب انہی کی حکومت کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو اپنی کابینہ میں شامل کرکے آئی ایم ایف کی جانب سے دیئے جانے والے بیل آؤٹ پیکیج پر کیوں خوشیاں منارہے ہیں؟ عوام پوچھتے ہیں اگر آپ کو بھی اسی ٹیم کو ساتھ ملا کر روایتی حکمرانی کرنی تھی تو عوام کو نئے پاکستان کا خواب دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟
آج ایک عام شہری جس نے آپ کو نیا پاکستان بنانے کے لیے ووٹ دیا، پوچھتا ہے کہ آپ نے350 ڈیم بنانے کا وعدہ کیا تھا، وہ کہاں بنائے گئے ہیں؟
کے پی کے میں 70 یونیورسٹیاں بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اس کے بارے میں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت بتادے کہ اس کے پانچ سالہ دور میں اب تک کتنی یونیورسٹیاں بنائی گئیں؟ کے پی کے میں کتنے کالج بنائے گئے؟
نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم اسپتال کی تشہیر کرنے والے کے پی کے میں قائم کسی ایک ایسے اسپتال کا نام اور جگہ تو بتائیں جو خان صاحب کی جانب سے وہاں کے غریب عوام کے لیے ایک مثالی تحفہ ہو؟ یا اتنا ہی بتادیں کہ کے پی کے میں گزشتہ 5 برسوں کے دوران 16 گرلز کالج کس بنیاد پر بند کیے گئے؟ خزانے پر بوجھ قرار دے کر 355 پرائمری اور مڈل اسکولوں کو کس نے بند کیا؟
اب تو خود پی ٹی آئی کے لوگ بھی کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ہوائی باتیں کرکے اور سہانے خواب دکھا کر صرف عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ ٹرانسپورٹ کے نظام کو ہی دیکھیں تو پشاور میٹرو بس سروس کو فقط 8 ارب میں بننا تھا، پھر یہ 97 ارب تک پہنچ گئی۔ خان صاحب اور ان کی باصلاحیت ٹیم کو اس بات کا اندازہ 6 اسٹیشن مکمل ہونے کے بعد ہی ہوا کہ بس اسٹیشن کے اندر جاہی نہیں سکتی۔
جبکہ پنجاب میں بنائی جانے والی میٹرو بس سروس پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے، کہا گیا کہ کرپشن کی وجہ سے ملتان میٹرو 64 ارب میں بنی۔ اب خود کی حکومت نے ہی اس کی شفافیت کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملتان میٹرو میں کرپشن نہیں ہوئی، یہ 27 ارب کی بنی تھی۔ اب کس بات کو مانا جائے! جبکہ دوسری طرف نذر گوندل پر سرکاری خزانے سے 82 ارب کی کرپشن کا الزام، نندی پور پاور پروجیکٹ میں 284 ارب کی کرپشن پر بابر اعوان آزاد، علیمہ باجی کے پاس 140 ارب روپے، مالم جبہ کیس میں وزیراعلیٰ کے پی کے پر 34 ارب کی کرپشن کا الزام، اور ان کے بھائی کی کرپشن کی لمبی داستان ِغم سکہ رائج الوقت 46 ارب، اسپیکر اسد قیصر پر اسلام آباد میں 35 کروڑ کے بنگلے کا کیس…
اور تو اور سابقہ حکومتوں میں قرضہ بھیک، مگر اب پیکیج… یہ اور ان جیسے درجنوں سوالات ذہنوں میں لیے عوام کا اعتماد ہر آنے والے دن کے ساتھ موجودہ حکومت سے اٹھتا جارہا ہے۔

حصہ