لالچ اور اس کے مضمرات

145

قدسیہ ملک
میرے آج کے مضمون کے حوالے سے زندہ مثال لاہور کے اس واقعے کی ہے۔جہاں لاہور کے علاقے کاہنہ میں جائیداد کی ہوس نے اولاد کا خون سفید کر دیا۔ بیٹی نے مکان ہتھیانے کے لیے خاوند اور قبضہ مافیا سے مل کر بیوہ ماں پر تشدد کر کے بازو توڑ ڈالا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج نے بھانڈا پھوڑا تو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی۔ تفصیلات کے مطابق جائیداد کے لالچ نے رشتوں کا تقدس پامال کر دیا۔ لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں مکان ہتھیانے کے لیے بیٹی ہی ماں کی دشمن بن گئی۔ قبضہ مافیا کے ساتھ بیوہ والدہ کے گھر میں داخل ہوئی۔ بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے خاتون کا بازو ٹوٹ گیا۔ متاثرہ خاتون فوزیہ کا کہنا ہے کہ مرحوم خاوند کے پانچ کنال، بارہ مرلے پر مشتمل گھر کی ملکیت کے حوالے سے کیس زیر التوا ہے۔ بیٹی حنا اور داماد عامر گجر نے قبضہ مافیا سے مل کر زبردستی گھر ہتھیانے کے لیے بدتمیزی اور تشدد کیا۔ ذرائع کے مطابق عامر گجر خود کو لیگی ایم پی اے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا پر چلنے کے بعد حنا اور عامر سمیت 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بخل دراصل انسان کی دولت کے مناسب آؤٹ فلو (Outflow) کی راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ لالچ اس کے غیر مناسب ان فلو (Inflow) کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ انسان کسی چیز بالخصوص دولت کے حصول کے لیے اتنا حریص ہو جاتا ہے کہ وہ کے حصول کے لیے جائز اور ناجائز طریقوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ہر طرح سے اپنی تجوریوں کو بھرنے کی فکر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بالعموم کرپشن کا جو ناسور پھیلتا جارہا ہے اس کی وجہ یہی رویہ ہے۔ہمارے دین میں دولت کی خواہش کو تو برا قرار نہیں دیا گیا بلکہ زندگی میں ایک اہم محرک کے طور پر اسے تسلیم کیا گیا ہے لیکن اس معاملے میں انتہا پسندی کے تمام رویوں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ حرص و طمع سے بچ کر انسان دولت کے حصول کی جائز طریقوں سے کوشش کر سکتا ہے بشرطیکہ اس میں دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔ اسی رویے کا نام قناعت ہے۔ہمارے ہاں بعض لوگ قناعت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ انسان اپنی غربت ہی کو اختیار کئے رکھے اور دولت کے حصول کے جائز طریقوں سے بھی گریز کرے۔ اس نقطۂ نظر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ رہبانیت کا پیدا کردہ رویہ ہے۔ اسلام میں قناعت کا یہ مفہوم ہے کہ انسان دولت کے حصول کے ناجائز طریقوں سے بچے اور جائز طریقوں سے جو دولت حاصل ہو جائے اس پر خدا کا شکر ادا کرے۔ ناجائز طریقوں سے دولت کے حصول سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز طریقوں سے مناسب مال کمانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ یہ چیز ان نوجوانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے جو اپنے لیے کیریئر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اپنے لیے ہمیشہ ایسے ہی کیریئر کا انتخاب کیجیے جہاں آپ کے لیے رزق حلا ل کمانے کے بہتر مواقع اور حرام سے بچنے کی بہتر سہولتیں میسر ہوں۔ ہمارے ماحول میں بہت سی ایسی نوکریاں بھی ہیں جہاں حلال تو مشکل سے ہی ملتا ہے اور بہت کم ملتا ہے البتہ حرام کمانے کے مواقع بے شمار ہوتے ہیں۔ آج کل کی سرکاری نوکریاں اس کی بدترین مثال ہیں۔ ان آیات میں پہلے ملامت بھرے لہجہ میں فرماتا ہے : ’’ تفاخر اور ایک دوسرے پر کثرت رکھنے کے خیال نے تمہیں خدا اور قیامت سے غافل کرکے اپنی طرف مشغول کردیا ہے ‘‘تکاثر لفظ اس ہوس اور لالچ کی تشریح کے لیے بہترین لفظ ہے۔اس سورت کے مطالعے میں سب دنیاوی لالچ انتہائی مدلل انداز مین بیان کئے گئے ہیں۔
ام بخاری اور ابن جریر نے حضرت ابی بن کعب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کو کہ “اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا، قرآن میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ “الھٰکم التکاثر نازل ہوئی”۔ اس میں لوگوں کو اْس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت اور دنیوی فائدے اور لذتیں اور جاہ و اقتدار حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس ایک فکر نے ان کو اس قدم منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے جواب دہی کرنی ہوگی۔
مال و دولت کی حرص انسانوں میں ایسی تقسیم پیدا کر دیتی ہے کہ بھائی بھائی کا جانی دشمن بن جاتا ہے ، اگر کسی کو اللہ کچھ عطا کر دے تو سب اس کھوج میں لگ پڑتے ہیں کہ یہ مال اس کے پاس آیا کہاں سے اور اسے برباد کرنے کے لیے تمام حدیں پار کر لی جاتی ہیں یہاں تک کہ جو رشتے اسے انتہائی محبوب ہوتے ہیں ان کو اپنے جال میں بھانس کر تباہی و بربادی کا سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔رشتے ناطوں میں ایسے ایسے تماشے لگائے جاتے ہیں کہ زندہ شخص سب رشتے داروں کے سامنے دو وقت کی روٹی سے عاجز ہوتا ہے مگر اس کے مرنے کے بعد دولتمند رشتے دار اپنا شملہ اونچا دکھانے کے لیئے اس کے نام پر انواع کے کھانے تقسیم کرتے ہیں اور اس کے نام پر لوگوں کو حج اور عمرہ کروانے میں سکون محسوس کرتے ہیں،حالانکہ مرنے والے کی بیوی اور بچے ان کے سامنے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپوٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شہری ذ ہنی تناؤ کی بیماری کا شکار ہے۔اس بیماری کا شکار10 سال کے بچے سے لیکر 70 سال کے بزرگ افراد ہیں۔بظاہر اس کا شکار افراد تندرست و توانا دکھائی دیتے ہیں مگر آہستہ آہستہ یہ بیماری کینسر کی ماند انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ دس سال کا بچہ جب اپنے ارگرد کسی چیز کو دوسرے بچے کے پاس دیکھتا ہے تو اسے حاصل کرنے کے لیئے اپنی خواہش کو ضد اور پھر نہ ملنے پر مایوسی میں تبدیل کر لیتا ہے،یہ مایوسی اس کی عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔
اس کا حل افراط زر بڑھانے ،میٹرو ٹرینیں وبسیں چلانے میں،ملکی معیشت مستحکم بنانے،گوادر پورٹ بنانے،ٹیکسوں کا،ریلوے اسٹیشنوں کا جال بچھانے،انڈر پائی پاس بنانے،ناردرن بائی پاسز بنانے،زیادہ سے زیادہ کپڑوں ،چمڑوں ،سمینٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کی انڈسٹریز لگانے اور زرمبادلہ بڑھانے سے نہیں بلکہ اس کا حل اس نظام میں پوشیدہ ہے جو نظام پیغمبر اسلام ؐنے چودہ سو سال پہلے قائم کیا۔جہاں خاندانوں، برادری ذات پات اور قبائل میں بٹے معاشرے نے انصار اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنا دیا۔جہاں خون کے پیاسوں کو باہم شیروشکر کردیاتھا۔ایسا معاشرہ ریاست مدینہ کہلائے جانے کے قابل ہے جہاں ،جو اپنے لیے پسند کرو وہ دوسرے بھائی کے لیے بھی پسند کرو ، کا پیغام افراد کا نصب العین بن گیا۔اخلاقیات اور خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ اپنے حصے کا کھانا دوسرے کو کھلانے والے کی اپنی بھوک ایسے مٹ جاتی جیسے اس نے معمول سے زیادہ کھا لیا ہو۔ایسی ریاست سے حکیم6 ماہ کے بعد یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ یہاں کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا، مگر افسوس کہ ریاست مدینہ کی طرز پر قائم ہونے والی مملکت خدادادکا ہر تیسرا فرد ایسی ذہنی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ خاندانی جھگڑے اور مسائل ہیں۔خونی رشتوں میں باہم محبتیں ختم ہوگئی ہیں۔اور جب محبتیں کم ہوجائیں تو نفرتیں خود بخود ان کی جگہ لینے کو آن موجود ہوتی ہیں۔
اکثر برے اور ناگفتہ بہ حالات پر حکومتوں کو قصور وار ٹہرایا جاتا ہے مگر ان حالات کا تعلق براہ راست افراد کے اپنے رویوں اور سوچ سے ہے ، حکومتیں جتنی مرضی تبدیل ہو جائیں جب تک معاشرے میں بسنے والے افراد کی سوچ تبدیل نہیں ہو گی اس وقت تک یہ بیمار معاشرہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ہم سب جانتے ہیں کہ فرد معاشرے کی اکائی ہے۔ایک ماں اپنے مضبوط قلعے کے سپاہیوں پر کڑی نظر بھی رکھتی ہے اور انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے۔اسی لیے تو نپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔جب ایک ماں ہی مایوسی کی تصویر بنے ہر وقت شکوے شکایتیں اور رونا دھونا کرئے گی۔وہی چیز اولاد سیکھے گی۔ماں اگر مضبوط ہوگی وہ مشکل سے مشکل حالات میں شوہر اور بچوں کی بہترین رازدار ہوگی وہی چیز اولاد بھی سیکھے گی اور وہ معاشرے میں مشکل سے مشکل حالات میں بہترین شہری ثابت ہوگی۔ماں کے بعد بچہ اپنے خاندان سے اچھی باتیں اور اخلاق سیکھتا ہے پھر معاشرے کا نمبر آتا ہے۔ہماری اپنی ایک سئینر پروفیسر سے بات ہورہی تھی وہ فرمانے لگی آج کل کی مائیں اپنی اولاد کو اپنے سسرال سے اتنا بدزن کردیتی ہیں کہ وہ بڑے ہوکر اپنے ددھیال والوں سے ملنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ہمارے کسی فعل سے ہمارے بچے کچھ غلط تربیت ناپاجائیں۔ورنہ وہ سب غلطیاں ہمارے لیے عذاب جاریہ ہوجائیں گی۔اللہ ہم سب کو اخلاقی طور پر مستحکم بنائے اور لالچ و ہوس سے بچاکر رکھے۔آمین

حصہ