قلی گر کا لڑکا

98

بچو! میں ایک اور کہانی بھی آپ کو سنانا چاہتا ہوں جو میں نے اپنی باجی سے اپنے بچپن میں سنی تھی۔ تقریبا ساٹھ سال گرز جانے کے باوجود بھی مجھے یہ کہانی حرف بحرف یاد ہے بلکہ جب بھی میں کسی بچے کو یہ کہانی سنانے لگتا ہوں تو میں خود اس ماحول میں پہنچ جاتا ہوں جہاں میرا بچپن ہوا کرتا تھا۔ ایک بڑا سارا پلنگ، اس پر میرے چھوٹے بڑے بھائی بہن اور درمیان میں ہم سب کی باجی ہم سب کو اپنے گرد بٹھا کر کہانی سنا رہی ہوتی تھیں۔ جب جب بھی یہ منظر آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔
کہانی طویل ضرور ہے لیکن ہے بہت ہی دلچسپ۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو میری سنائی کہانیوں کی طرح یہ کہانی بھی بہت پسند آئے گی۔
کسی ملک کا ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ بہت نیک اور بہت اچھا۔ اس بادشاہ کا ایک بہت نیک، خوبصورت اور نیک سیرت شہزادہ بھی تھا لیکن بد قسمتی سے جب اس شہزادے کی عمر دس بارہ برس کی ہوئی تو ملکہ کا انتقال ہو گیا۔ بادشاہ کو اپنی ملکہ سے بہت محبت تھی۔ سب درباری جانتے تھے کہ باد شاہ اپنے بیٹے سے تو محبت کیا ہی کرتا تھا لیکن ملکہ سے بھی اس کی محبت دیدنی تھی۔ اسی محبت کی وجہ سے شروع شروع میں باد شاہ نے دوسری شادی سے انکار کیا لیکن جب اسے اس بات کا احساس ہوا کہ ماں کے انتقال کے بعد شہزادے کی دیکھ بھال کیلئے کوئی مشفق ہستی نہیں رہی تو اس نے دوسری شادی کر لی۔ شہزادے کی سوتیلی ماں یعنی باد شاہ کی نئی ملکہ بھی بادشاہ کیلئے بہت اچھی ثابت ہوئی لیکن وہ شہزادے کیلئے اچھی ماں ثابت نہ ہو سکی۔ بادشاہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ دوسری بیوی کی بد سلوکی کا اس لئے علم نہ ہو سکا کہ ایک تو اس بیٹا (شہزادہ) بہت ہی نیک تھا اور وہ اپنے باپ کو کوئی دکھ بھی نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ محض اس کی وجہ سے اس کے والد دوسری شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اور دوسری شادی اگر کی بھی تو وہ بھی اسی کے آرام کی وجہ سے کی۔ بادشاہ کی موجودگی میں تو اس کی سوتیلی ماں اس پر وارے نیارے رہا کرتی تھی لیکن جب جب بھی بادشاہ سرکاری دوروں پر ہوتا یا امور مملکت میں مصروف ہوتا، اس کی سوتیلی ماں اس پر ہر ظلم توڑتی۔ مناسب کھانا نہیں دیتی، اس سے جلی کٹی باتیں کرتی، راتوں کو باربار جگا کر اسے ستاتی۔ ان ساری زیادتیوں کے باوجود شہزادہ اتنا شریف اور نیک تھا کہ اپنے باپ سے کبھی کوئی شکایت نہ کرتا اور نہ ہی اس کے سامنے ماں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتا جس سے باد شاہ کو اس کی کسی تکلیف کا احساس ہو سکے۔
زندگی کے دن اسی طرح گزرتے رہے۔ اس کی سوتیلی ماں (ملکہ) دراصل اس سوچ میں رہتی کہ بادشاہ کے بعد والی وارث اسی شہزادے کو ہونا ہے اور اگر اس کے گھر کوئی اولاد ہوئی تو تب بھی اس شہزادے کی موجود گی میں اس کا اپنا بیٹا تو باد شاہ نہ بن سکے گا۔ یہی حسد اور جلن اسے چین نہیں لینے دیتی تھی اسی لئے دن رات وہ شہزادے کو پریشان کرتی رہتی تھی اور خواہش رکھتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح یا تو شہزادہ مرجائے یا پھر پاگل ہو جائے۔
ایک دن شہزادہ سوتیلی ماں کی بد سلوکی کی وجہ سے اتنا غمزدہ ہوا کہ روتے روتے سو گیا۔ جب بھی اسے کوئی اذیت پہنچتی وہ اپنی مرحومہ ماں کو یاد کیا کرتا تھا۔ آج بھی وہ سونے سے پہلے اپنی ماں کو یاد کرکر کے روتا رہا تھا۔ ابھی اس کو سوئے ہوئے بہت دیر نہیں ہوئی تھی کہ اس کے خوابوں میں اس کی ماں آگئی۔ بادشاہ سے تو اس نے کبھی کوئی شکایت اپنی سوتیلی ماں کی نہیں کی لیکن ماں کو خواب میں پایا تو اپنا سارا سینہ اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ اس کی ماں ایک نیک سیرت عورت تھی۔ خواب میں بھی اسے صبر کی ہی تاکید کی اور دوسری ماں سے کسی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ لیتی رہی۔ شہزادے نے خواب ہی میں ماں سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی اپنی ماں (سوتیلی) کے ساتھ ایسی بات نہیں کریگا جو گستاخی میں شمار ہو۔
ماں نے اپنے بیٹے کی پیشانی چومتے ہوا کہا کہ دیکھو کل تمہارے والد کے دربار میں ایک گھوڑے بیچنے والا آئے گا۔ اس کے پاس بڑے اعلیٰ نسل کے گھوڑے ہونگے۔ اس کے پاس ایک سفید براق گھوڑے کا بچہ بھی ہوگا۔ تم اسے خرید نے کی ضد کرنا۔ ہوسکتا ہے تمہارے والد کوئی اور اعلیٰ ترین نسل کا گھوڑا خریدنے کا اصرار کریں لیکن تم اْسی گھوڑے کے بچے کیلئے ہی ضد کرنا۔ تمہارے والد تمہاری بات کو نہ ٹال سکیں گے۔ اتنا کہنا تھا کہ ماں رخصت ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ شہزادے کی آنکھ بھی کھل گئی۔
دوسرے دن وہ نہادھوکر تیار ہوا اور بادشاہ کے دربار جاپہنچا۔ شہزادہ اسکول جایا کرتا تھا لیکن جب جب بھی چھٹیاں ہوتی تھیں وہ دربار چلا جایا کرتا تھا۔ باد شاہ نے شہزادے کو آتے دیکھا تو حسب سابق بہت خوش ہوا اور اسے اپنے تخت کے برابر بٹھا لیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ سنتری نے اطلاع دی کہ باہر کوئی گھوڑے بیچنے والا آیا ہے اور وہ صرف بادشاہ سے ہی ملنا چاہتا ہے۔ بادشاہ اور شہزادہ دونوں گھوڑے دیکھنے باہر آئے۔ گھوڑے بیچنے والے کے پاس بہت ہی اعلیٰ نسل کے گھوڑے تھے۔ اسی میں ایک بہت خوبصورت گھوڑے کا بچہ بھی تھا۔ بادشاہ نے اپنے لئے چند گھوڑے منتخب کئے۔ شہزادے نے کہا کہ میں بھی ایک گھوڑا لونگا۔ بادشاہ نے کہا جو پسند ہو اشارہ کرو۔ شہزادے نے گھوڑے کے بچے کی جانب اشارہ کیا۔ بادشاہ نے چاہا کہ وہ کوئی اور اعلیٰ نسل کا گھوڑا منتخب کرلے لیکن شہزادے کی ضد اس کو ماننا پڑی۔ شہزادہ کیلئے ایک اصطبل الگ سے فوری طور پر بنایا گیا اور اس میں گھوڑے کے بچے کو باندھ دیا گیا۔
شہزادے کا زیادہ دن اب اسی گھوڑے کے بچے کے ساتھ گزرا کرتا تھا، وہ اس کی خدمت کرتا، اس کی ہر چیز کا خیال رکھتا۔ اسکول جانے سے پہلے اور اسکول سے واپسی پر پہلے وہ اسی بچے کے پاس آتا تھا پھر کہیں جاکر اپنے کمرے میں جایا کرتا تھا۔ اسکی سوتیلی ماں اس کی دلچسپی سے بھی سخت نالاں تھی اس لئے کہ اسے شہزادے کی کوئی بھی خوشی گوارہ نہیں تھی۔ شہزادے کو اس طرح خوش ہوتے دیکھنا بھی اسے اچھا نہیں لگا لیکن فی الحال اس کے پاس گھوڑے کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کا جواز بھی نہیں تھا۔
اس کے پاس ایک باندی تھی جو اسی کی طرح شیطانی سوچ رکھتی تھی۔ ایک دن اس نے باندی کو اعتماد میں لیکر شہزادے ہی کو راستے سے ہٹانے کا پروگرام بنا لیا۔ باند ی سے اس نے کہا کہ کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈو کہ شہزادہ ہی راستے سے صاف ہو جائے۔ یہ سن کر باندی کے لبوں پرایک شیطانی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اس نے ملکہ کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ شہزادے کو زہر دیدیا جائے۔ آج کل گرمیوں کا زمانہ ہے۔ جب شہزادہ اسکول سے آتا ہے تو کھانا کھانے کے بعد ایک خاص شربت ضرور مانگا کرتا ہے۔ جب آپ اسے شربت دیتی ہیں تو وہ بہت شوق سے پیتا ہے۔ میرے پاس ایک ایسا زہر ہے جس کو پی کر پینے والا فوری نہیں مرا کرتا بلکہ کئی مہینوں بیمار رہ کر مراکرتا ہے۔ اس طرح کسی کو زہر کا شبہ بھی نہیں ہوگا اور شہزادہ بھی چند مہینوں بعد مرجائے گا۔ یہ کہنے کے بعد اس نے آنکھیں چمکائیں اور اس بات کو راز رکھنے کا بھاری معاوضہ طلب کیا۔ ملکہ کو معاوضہ دینا برا تو لگا لیکن وہ شہزادے کو اپنی راہ سے ہٹانے کیلئے ایسا کرنے پر مجبور بھی تھی۔ (جاری ہے)

حصہ