ذکر کچھ مسافرت کا

159

افشاں نوید
سچ تو یہ ہے کہ آج کے دور کے انسان کو اتنی فرصت کہاں ہے کہ تاریخ کی پیشانی سے گرد جھاڑے اور اس پر بوسہ دے۔ اس بے نیازی کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ اگر تاریخ زخموں سے چور ہے، ماضی کون سا پُرسکون ہے۔ ہم مستقبل کو ہی سنوار لیں تو کافی ہے…!!!
لیکن تاریخ کی دُھائی یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے پر آمادہ نظر نہیں آتا اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو ماضی سے ناطہ جوڑتے ہیں، وہی حال کی طنابیں تھام کرمستقبل کے سفر کو روشن بناسکتے ہیں۔ اقبالؔ یونہی تو غرناطہ اور قرطبہ کی یادوں میں نہیں کھوئے رہتے تھے۔
دنیا میں دو ہی گروہ ہیں ازل سے ’’ابولہبی اور مصطفویؐ‘‘۔ ان کی کشمکش ابد تک جاری رہے گی۔ فرعون و نمرود کردار وہی ہیں مگر نام الگ الگ ہیں۔ جمال عبدالناصر کے دور حکومت میں اخوان المسلمون پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کی داستان جب اور جہاں پڑھیں، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حق کی آواز دبانے کے لیے اہل حق پر جو مظالم کیے گئے وہ مصر کی تاریخ کا سیاہ اور اخوان المسلمون کی تاریخ استقامت کا تابندہ باب ہیں۔
مبارک ہیں وہ جسم جنہوں نے حق کے راستے میں صعوبتیں برداشت کیں مگر ایمان کا سودا نہ کیا اور قابل مبارک باد ہیں وہ قلم جنہوں نے تاریخ کو رقم کیا۔ حکومتیں ختم ہوجاتی ہیں، سیاستدان فنا ہوجاتے ہیں مگر تاریخ زندہ رہتی ہے اور اسے زندہ رہنا چاہیے۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں ایک صاحبِ، ایمان و استقلال ڈاکٹر نجیب الگیلانی نے دس برس جمال عبدالناصر کی جیل میں سخت ترین اذیتیں برداشت کیں اور پھر اپنے قلم سے ان کو محفوظ کرلیا کہ دُنیا میں راہِ حق کے مسافروں پر جب جب کٹھن گھڑیاں آئیں تو اخوان کا یہ روشن ماضی ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ آنے دے۔
دردِ دل رکھنے والی ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے عربی میں لکھی گئی اس کتاب کا ترجمہ ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ کے نام سے کر کے اپنے ایمان کا ثبوت پیش کیا ہے۔ میمونہ تمام تر خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ جس طرح تواتر کے ساتھ اس ترجمہ نگاری کا حق ادا کررہی ہیں، اس پر ان کی مستقل مزاجی کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ یہ ان کی شبانہ روز کاوش ہے کہ ہم اردو دان طبقے کو ان تراجم کے ذریعے اخوان کی تحریک کے روشن باب دیکھنے کی سعادت ملی۔
’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ناول کے سب ہی کردار جان دار ہیں، سچے ہیں، زور رکھتے ہیں اور اپنا آپ منواتے ہیں۔ یہ فرضی نہیں ہیں، خیالی نہیں ہیں، مصر کی سرزمین اور عرش الٰہی دونوں پر یہ کردار ثبت ہوچکے ہیں۔
دُنیا بھر کی اسلامی تحریکیں کسی نہ کسی طور ’’السجن الحربی‘‘ کا سامنا کررہی ہیں۔ ایک طرف ناول کا اہم کردار عطوہ اپنی تمام تر شقاوت و خباثت کے ساتھ دُنیا کی رنگینیوں کو کشید کرنے میں مگن ہے تو دوسری طرف نبیلہ کا کردار اپنی تمام تر سادگی اور سچائی کے ساتھ۔ جو معاشرتی علوم کی استاد ہونے کے ناتے تاریخ سے بھی آگہی رکھتی ہے اور سماج کی نبض پر بھی اس کا ہاتھ ہے۔ نبیلہ ڈرامائی طور پر اسکول سے اس وقت گرفتار کی جاتی ہے جب وہ اپنے شاگردوں کو تاتاریوں کی تاریخ پڑھا رہی ہوتی ہے۔ اسے دفتر لایا جاتا ہے باز پرس کے لیے، جہاں جمال عبدالناصر کی بڑی سی تصویر کے نیچے درج ہوتا ہے ’’مملکت کی بنیاد عدل پر استوار ہے‘‘ اور وہ اپنی ساری زندگی اس جھوٹ اور منافقت کا پردہ چاک کرنے میں لگا دیتی ہے۔ جس وقت وہ سینما گھر میں عطوہ کے ساتھ فلم دیکھتے ہوئے ان کرداروں میں سماج کے حقیقی کرداروں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے ہیرو مرجاتا ہے۔ نبیلہ کی زبان پر بے اختیار آتا ہے ’’ہیرو ابھی باقی ہے‘‘۔ عطوہ نخوت سے کہتا ہے کہ ’’دفن ہونے کے لیے باقی ہے‘‘ اس پر وہ پورے ایقان سے جواب دیتی ہے ہیرو جسمانی طور پر ضرور مرا ہے لیکن اس کے افکار زندہ ہیں اور زندہ افکار جو چھوڑ کر جاتے ہیں وہ کبھی فنا کے گھاٹ نہیں اتر سکتے اور چیلنج چھوڑ کر جاتے ہیں ’’تم کیسے اتارو گے میرے خواب لحد میں۔‘‘
ناول عزم و یقین کا استعارہ ہے چاہے نبیلہ کا کردار ہو یا اس کے والدین کا کردار اور ان کی راہِ حق کے لیے قربانیاں‘ جب سچائی آشکار ہو گئی تو اس صداقت کی گواہی کے لیے اپنی جان‘ مال‘ عزت‘ کاروبار‘ گھر بار سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ نبیلہ نے جب قید خانے میں دوسرے قیدی سلویٰ سے اخوان المسلمون پر ہونے والے مظالم کی داستان سنی جو محض اس بنا پر جیل میں تھی کہ اس کے بھائی کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا۔ اس داستان نے نبیلہ کے اندر صداقت کی شمع روشن کر دی اور اس نے عطوہ سے‘ اس ظالم سماج سے فرار حاصل کرنے میں عافیت سمجھی تاکہ وہ ساری دنیا کو جمال عبدالناصر کا مکروہ چہرہ دکھا سکے۔ اس دنیا کو بتایا کہ زرد صحافت کسے کہتے ہیں۔ دنیا بھر کی استعماری قوتیں سرمایہ کار ہیں جنہوں نے دھن سے میڈیا کو بھی خرید رکھا ہے اور صحافیوں کو بھی جو کبھی مسلمان کے خیر خواہ نہیں رہے۔
ناول کا ایک پاکیزہ کردار محمود سقر کا ہے۔ عزم و استقلال کا پہاڑ جو نہ دبنا جانتا ہے نہ جھکنا۔اس کے ایمانی وجود کی شعاعیں ناول کو منور رکھتی ہیں۔ جیل کے انتہائی سفاکانہ مظالم برداشت کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ’’اصل چیز عقیدہ ہے اور عقیدے سے دوری تباہی اور انحراف کا راستہ ہے۔‘‘ ستر برس کی عمر کے ایک قیدی اپنے ایمان کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’یہ شیطان کا زمانہ‘ ہم آخری زمانے میں بس رہے ہیں۔‘‘
جب مظالم شدت اختیار کرچکے ہیں تو محمود سقر سیاہ رات میں تاروں بھرے آسمان کو دیکھ کر پکار اٹھتا ہے ’’تو کہاں ہے؟‘‘ جیسے بھرے میلے میںایک ننھا بچہ ماں سے بچھڑ جائے اور ماں‘ ماں کہتے ہوئے ہر عورت کے قدموں سے لپٹ جائے۔ وہ ننھے بچے کی طرح تڑپ کر سوال کرتے ہیں اور پکارتے ہیں اپنے رب کو۔ تو ان کا وجدان یہ جواب پاتا ہے جو تپتی ہوئی ریت پر پھوار بن کربرستا ہے کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہی ہوں۔‘‘ محمود کی بے تابی بڑھ جاتی ہے‘ اضطرار کے ساتھ دکھی اور زخم زخم وجود کے ساتھ اپنی خواہش رکھ دیتا ہے کہ ’’مولا مجھے تھام لے‘ مجھے اٹھا لے۔‘‘
عبدالناصرکی جیل میں مظالم برداشت کرتے ہوئے کبھی گرم پانی میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے‘ کبھی کتوں سے بوٹیاں نچواتے ہوئے‘ کبھی ہنٹر سے کھال ادھڑواتے ہوئے‘ کبھی ماں بہن کی مغلظات سنتے ہوئے ہر صاحبِ ایمان ان سختیوں کو رب کی ملاقات کی آس پر ہی برداشت کرتا ہوگا۔ عطوہ اور اس جیسے انہیں موت سے ڈراتے تھے اور وہ موت کے آئینے میں ’’رخِ دوست‘‘ کچھ یوں دیکھ لیتے تھے کہ زندگی ان کے لیے سچ مچ دشوار ہوجاتی تھی۔
ایک ناول جو پڑھا جانا چاہیے‘ اس لیے کہ انگلیوںکو قلم کرکے جذبوں کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ قاری کا سانس رک جاتا ہے جگہ جگہ کبھی‘ دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو جاتی ہیں اور کبھی نبض ڈوبنے لگتی ہیں۔
اسلام کی تاریخ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابؓ رسولؐ کی قربانیاں ہوں یا آج تک کے شہدا جنہوں نے ہر دور میں حق کے پرچم یوں اٹھائے کہ سر تو کٹا دیا مگر پرچم کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔
شام میں حلب‘ ادلب اور غوطہ میں یہی تاریخ لکھی جارہی ہے۔ اس ناول کے کردار آپ کو مقبوضہ کشمیر میں متحرک نظر آئیں گے۔ عطوہ اور محمود سقر کو آپ غزہ کی پٹی پر تلاش کر سکتے ہیں‘ ایمان گواہی چاہتا ہے۔ ناول پڑھ کر ایک سوال جس نے بے چین رکھا‘ یہی تھا کہ ’’تمہارے پاس کیا ہے اپنے ایمان کی گواہی میں پیش کرنے کے لیے۔ ایسے میں روح کی بصارت ہی سلب پائی اور دل کے شیشے پر بھی بال تھے۔ ناول کی پیشانی پر مگر سنہرے حروف میں درج تھا:

یہ جان تو اک دن جانی ہے پھر جان کے کیسے لالے ہیں
گر ساتھی منزل پانی ہے تو منزل آخر منزل ہے

میمونہ اللہ آپ کے ایمان کی اس گواہی کو جو آپ نے اس ناول کے ترجمے کی شکل میں دی ہے‘ قبول کرلے‘ اس کا حرف حرف آپ کے حق میں گواہی بنے اور پڑھنے والوں کے ایمان کی جِلا کا سبب بنے۔ (آمین)

حصہ