اللہ کا گھر

100

سیدہ عنبرین عالم
’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کردیا، کیا ان کے دائو بے کار نہیں کردیے اور ان پر اڑتے ہوئے پرندے بھیجے، جو ان پر نشان کی ہوئی پتھریاں پھینکتے، تو ان کو ایسا کردیا جیسے کچلا ہوا بھوسا۔‘‘ (سورۃ الفیل)
٭
23 مارچ 2019ء کا دن تھا، سیتا کیلیفورنیا میں رہتی تھی، اس کی ایک مسلمان دوست نے اسے واٹس ایپ پر سورۃ فیل بھیجی تھی، وہ کم از کم دس بار اس سورۃ کو پڑھ چکی تھی، وہ جاننا چاہتی تھی کہ اسے یہ سورۃ کیوں بھیجی گئی؟ اس نے کرسی پر ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلیں، وہ چشم تصور سے اپنے ملک انڈیا کو دیکھ رہی تھی۔ مہاوت جوق در جوق ہاتھیوں کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، چند ہاتھی دریا کنارے پانی سونڈ میں لے کر ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، بچے ہاتھیوں سے اس قدر مانوس ہیں کہ بلا جھجک ہاتھیوں سے اٹھکھیلیاں کررہے ہیں۔ دنیا میں اگر کہیں اتنی بڑی تعداد میں ہاتھی تھے تو افریقہ کے بعد انڈیا ہی وہ ملک تھا۔ یہ ہاتھی پورس کے زمانے میں بھی ایک بڑی جنگی قوت تسلیم کیے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ سکندراعظم سے مقابلے کے دوران یہ ہاتھی پورس پر ہی پلٹ کر چڑھ دوڑے اور فتح اچانک شکست میں تبدیل ہوگئی۔ سیتا نے آنکھیں کھولیں… اس نے اخبارات دیکھنے شروع کیے۔ انڈین پارلیمنٹ میں ہنگامے کی خبریںتھیں، اپوزیشن کھلے عام کہہ رہی تھی کہ پلوامہ کا حملہ بھارت نے خود کرایا تاکہ پاکستان سے جنگ کا بہانہ تراشا جا سکے۔ پاکستانی تنظیموں پر الزام لگانا، او آئی سی میں شرکت کا پروانہ حاصل کرنے کے ہتھکنڈے… کتنے دائو تھے جو ہاتھی والوں نے کھیلے۔
سیتا ٹہلتی ہوئی اپنے کمرے کی کھڑکی تک آگئی، وہ آسمان پر دیکھنے لگی، جہاں پرندے آگے پیچھے، اوپر نیچے اُڑ رہے تھے۔ سیتا کو یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ پرندے نہ ہوں بلکہ پاکستان ائرفورس کے جہاز ہوں… گنتی کے چند جہاز جنہوں نے انڈین حکمت عملی کا بھرکس نکال دیا ’’میرا دیش بھارت تم جگ میں رسوا کردیا گیا، اب کوئی ہمارے پاکستان پر لگائے گئے الزامات پر بھروسہ نہیں کرے گا، ہمیں او آئی سی میں بلا کر بے عزت کیا گیا۔ بھارت واسی ایک دوسرے سے آپس میں ہی لڑ پڑے، میڈیا ہمیشہ کے لیے جھوٹا ثابت ہوگیا‘‘۔ سیتا نے سوچا اور ایک بار پھر موبائل فون نکال کر سورۃ فیل پڑھنے لگی… ’’تو اُن کو ایسا کردیا جیسا کہ کچلا ہوا بھوسا‘‘… سیتا کی نگاہوں میں اُس پائلٹ کی لاش گھوم گئی جو ابھی نندن کے علاوہ دوسرے گرائے گئے جہاز کو اڑا رہا تھا۔ وہ لاش نہیں تھی، جل کر بجھا ہوا کوئلہ تھا۔
سیتا اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکا آئی ہوئی تھی۔ بظاہر یونیورسٹی آف سائودرن کیلیفورنیا کی طالبہ تھی، مگر وہ 17 سال کی عمر سے انڈین را کی ممبر تھی اور اب وہ 24 سال کی عمر تک کئی رازوں کی محافظ تھی۔ وہ یونیورسٹی میں مسلم، عیسائی، ہندو، سکھ سب سے دوستی کا دَم بھرتی تھی، مگر درحقیقت وہ سی آئی اے سے ٹریننگ حاصل کرنے آئی تھی اور یہودی عبادات اور رسومات میں باقاعدگی سے شریک ہوتی تھی۔ وہ Zionist بن چکی تھی، مگر اب اس کے دل میں ایک کسک تھی، وہ مطمئن نہیں تھی۔ ’’ہمیں خوشی ہے کہ آج کی میٹنگ میں تمام دنیا سے وہ لوگ شریک ہیں جو Zionism کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں، آج آپ لوگوں کو بہت اہم معلومات فراہم کی جائیں گی، توجہ درکار ہے‘‘۔ ربی ڈیوڈ نے کلاس کا آغاز کیا۔
سیتا کے ساتھ 4 انڈین اور تھے، اس کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، اسرائیل اور افغانستان کے لوگ بھی موجود تھے۔ ربی ڈیوڈ کے پیچھے دیوار پر ایک آنکھ اور تکون کا نشان بنا ہوا تھا۔
’’میرے بچو! اسرائیل کی سرزمین بنجر صحرا تھی، یہاں پانی تھا، نہ بجلی، نہ گھر بنے ہوئے تھے، نہ بازار۔ کیا آپ کسی ایسی جگہ جاکر رہنا پسند کریں گے؟‘‘ مسکرا کر ربی نے اپنے 72 شاگردوں سے پوچھا۔
’’نہیں! مگر ہم یہودیوں نے وہاں جاکر رہنا شروع کیا، ہم جو نیویارک شہر میں بینکوں کے مالک تھے، دنیا میں کوئی حکومت ہماری مرضی کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی، جنگ اور امن ہماری مٹھی میں ہیں، ہم نے اپنے اربوں ڈالر کے وسیع و عریض بنگلے اور آسائشیں چھوڑ کر وہاں اسرائیل میں چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنا شروع کیا، اپنے اثاثے اس نوزائیدہ ریاست کی پرورش میں لگائے، جانتے ہو کیوں؟ کیوں کہ ہمارا مسیح آنے والا ہے، مسیح کے آنے کی نشانی ہے، یہودیوں کی ذاتی ریاست، مذہبی ریاست اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کا کوئی آئین نہیں، ہمارے قائد ڈیوڈ بن گوریان نے کہہ دیا تھا کہ اسرائیل کا آئین توریت ہے، اور کوئی کتاب اس سے زیادہ محترم نہیں ہوسکتی‘‘۔ ربی نے جوشیلے لہجے میں کہا اور حاضرین کے چہروں کے تاثرات پر غور کرنے لگا۔
’’آخری حکمرانی تمام دنیا پر ہمارے مسیح دجال کی ہی ہونی ہے، جو ہمارے ساتھ شامل ہوجائے گا، وہی کامیاب ہے۔ ہم شیطان کے پیروکار ہیں جس کا منشور ہے نیو ورلڈ آرڈر، یعنی دنیا میں کم سے کم انسان باقی رہ جائیں، سب کچھ مشینوں اور روبوٹس کی ذریعے ہوگا، صرف صہیونی حاکم ہوں گے، باقی سب انسان Goyems ہیں یعنی جانور، ان کے ساتھ کچھ بھی سلوک کرو کوئی پوچھ نہیں۔ اگر آبادی کو کم کرنا ہے تو جنگیں کرانی ہوں گی۔ اسرائیل اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا برآمد کنندہ ہے، ہر ایک کے ہاتھ میں ہتھیار ہے، اور لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، آپ نے دیکھا کسان خودکشیاں کررہے ہیں، انڈیا سے لے کر افغانستان تک کسان احتجاج کررہے ہیں۔ کسان کو بے کار کرنا اور زمینوں کو بنجر کرنا بھی آبادی کم کرنے کا طریقہ ہے‘‘۔ ربی نے بتایا۔
سیتا سخت بے چین تھی، ’’اگر آپ اتنے ہی کامیاب اور طاقتور ہیں تو پاکستان پر اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ حملہ ناکام کیوں ہوا؟ امریکا کو بھی افغانستان سے اسی وقت پاکستان پر حملہ کرنا تھا، مگر طالبان نے امریکی بیس پر حملہ کرکے امریکا کا وہ حشر کیا کہ امریکا پاکستان پر حملہ نہ کرسکا۔ طالبان کے پاس نہ ٹیکنالوجی ہے نہ دولت، وہ کیسے امریکا سے جیت گئے؟‘‘ اس نے بلند آواز سے پوچھا۔
تمام طالب علم جواب طلب نظروں سے ربی کو دیکھنے لگے۔ ’’سیتا، جیسے ہمارا عقیدہ ہے کہ مسیح دجال آئے گا تو ہماری حکومت تمام دنیا پر قائم ہوجائے گی، اسی طرح مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی موعودؑ کے آنے سے تمام دنیا پر ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، یہ مہدی ایک غزوۂ ہند لڑیں گے، وہ پاکستان سے ہوں گے اور ہندوستان کو فتح کریں گے اور رفتہ رفتہ تمام دنیا پر اسلام قائم کریںگے، پھر عیسیٰؑ کا نزول ہوگا، جو تمام یہودیوں کو مار ڈالیں گے۔ اس تمام جنگ کو Armegadon کہا جاتا ہے، ہم یہودی کہتے ہیں کہ یہ جنگ ہمارا مسیح دجال جیتے گا اور یہودی تمام مسلمانوں کو مار ڈالیں گے اور گریٹر اسرائیل بنے گا جو عرب کے تمام علاقوں پر مشتمل ہوگا‘‘۔ ربی نے جواب دیا۔
’’اس تمام قصے میں مجھے اپنے سوال کا جواب نہیں ملا‘‘۔ سیتا نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا۔
ربی نے ٹھنڈی سانس لی ’’ڈیئر سیتا! پاکستان کا مطلب ہے مدینہ طیبہ، طیب معنی پاک، اور استان کے معنی ’’رہنے کا شہر‘‘، یہاں ویسے ہی اللہ کے نام پر ہجرت ہوئی، جیسے مسلمانوں کے رسولؐ نے مکہ سے مدینہ کی طرف کی۔ یہ ملک اللہ کا قلعہ ہے، بڑی جنگ Armegadon میں اللہ کے سپاہی پاکستان سے ہی لڑیں گے، 1947ء میں پاکستان کے بن جانے کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے جنگ کی ابتدا کے لیے اپنا قلعہ تیار کرلیا، ہمارے بڑوں نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں ہی مہدی اتریں گے اور غزوۂ ہند کی ابتدا ہوگی، اس لیے ہمیں فوراً اسرائیل بنانا پڑا، 14 مئی 1948ء کو اسرائیل یعنی شیطانی قوتوں کا قلعہ تیار ہوگیا۔ اب دو ہی ملک ہیں دنیا میں، جو مذہبی نظریاتی بنیادوں پر قائم ہوئے: پاکستان اور اسرائیل۔ اصل جنگ ان دونوں ملکوں کے درمیان ہے۔ اس لیے کبھی دو نمبر قیادت کے ذریعے، کبھی دہشت گردی کے ذریعے، کبھی برباد معیشت کے ذریعے ہم پاکستان کو تباہ کرنے کی سعی کرتے ہیں‘‘۔ اس نے بتایا۔
’’یہ سب آپ کو کون بتاتا ہے؟ اس کی سچائی کس قدر معتبر ہے؟‘‘ سیتا نے پھر سوال کیا۔
’’ہم فرعون کے پیروکار ہیں، موسیٰ کے نہیں۔ اہرام مصر ہمارا کعبہ ہے۔ غور تو کرو، تمہیں پتا لگے گا کہ اہرام مصر بنی اسرائیل نے بنائے تھے، فرعون نے تو انجینئرنگ کے نقطہ نظر سے صرف ہدایات دی تھیں، مگر اہرام کی ایک ایک اینٹ یہودیوں نے رکھی۔ فرعون وہ شخص تھا کہ کسی سے اللہ نے اتنی نفرت نہیں کی جیسی فرعون سے کی، اس کی تمام تعلیمات اہرام میں پوشیدہ ہیں اور نسل در نسل یہودیوں میں چلتی گئیں۔ شیطان کی حکمرانی فرعون کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہیں‘‘۔ ربی نے تفصیل سے جواب دیا۔
’’مگر بنی اسرائیل تو مصر سے نکل کر نیل کے پار اتر کر شام اور ملحقہ علاقوں میں چلے گئے تھے‘‘۔ سیتا نے پوچھا۔
’’قرآن کی دو آیتیں بتاتا ہوں، ایک سورۃ بنی اسرائیل آیت 104-103 جس میں اللہ کہتا ہے بنی اسرائیل سے کہ فرعون ڈوب گیا، اب تم اس ملک میں بسو۔ دوسرا سورۃ الشعراء آیت 59,58,57 جس میں اللہ کہتا ہے کہ فرعون سے محل، باغات اور چشمے چھین لیے گئے اور بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا مالک بنادیا۔ یعنی بنی اسرائیل واپس گئے تھے۔ شاید بہت تھوڑے لوگ گئے ہوں، مگر انہوں نے فرعونی علوم، کالا جادو وغیرہ سیکھے۔ آج ہم اسی وجہ سے حاکم ہیں پوری دنیا پہ۔ ہمیں ہر چیز پہلے سے معلوم ہوتی ہے، سب کچھ ہماری منصوبہ بندی سے ہوتا ہے‘‘۔ ربی نے سیتا کو سمجھایا۔
’’اچھا، مطلب یہ کہ شیطان سے رابطہ جیسے فرعون کا تھا، وہ تمام طریقے اہرام کے ذریعے آپ نے سیکھے اور شیطان آپ کا مددگار ہے، تو یونہی اللہ اپنے عاشقوں کی مدد کررہا ہے۔ یہی طالبان اور پاکستان کی کامیابی کا راز ہے۔ اللہ خالق، شیطان مخلوق… شیطان نہیں جیت سکتا، آنے دو دجال کو، ہونے دو Armegadon، ہم بھی دیکھ رہے ہیں، تم بھی دیکھ رہے ہو‘‘۔ سیتا نے کہا اور باہر نکل گئی۔
٭
سیتا کو اپنی مسلمان دوست کی طرف سے ایک اور واٹس ایپ موصول ہوا: ’’وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی، اس قابل ہے کہ اس میں قیام کرو، اس میں ایسے لوگ ہیں کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ توبہ، آیت 108)
سیتا کا دل لرز رہا تھا، ’’مسجد؟ یعنی وہ گھر جو اللہ کے لیے تعمیر کیا گیا ہو، یا وہ ملک جو اللہ کے لیے بنایا گیا ہو، یعنی پاکستان… پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ پاکستان، اللہ کا گھر، اس کی حفاظت اللہ نے ایسے ہی کی جیسے کعبہ کی حفاظت پرندے بھیج کر کی تھی، پاکستان کو قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنایا گیا، اپنے گھر کی حفاظت اللہ خود کرے گا‘‘۔ وہ مسکرا دی۔ ’’اللہ سے لڑنا چاہتے ہیں امریکا، اسرائیل اور انڈیا… وہ نہیں جانتے کہ پوری دنیا ایک شہر ہے، اور جیسے ہر شہر میں ایک مسجد ہوتی ہے، دنیا میں مسجد کا مقام پاکستان کو حاصل ہے۔ لاکھوں شہیدوں کی دعا… اس کو ہرانا بہت مشکل ہے‘‘۔ اس نے سوچا۔
وہ جانتی تھی کہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے، بہترین فوج کی حامل یہ ریاست اللہ کی طرف سے عطا کیے ہوئے شاندار خزانوں کی مالک ہے، اور دو، چار غداروں کے ذریعے اسے تباہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان تمام مسلمانوں کا محافظ ہے، کعبہ اور مدینہ کا محاظ۔ امتِ مسلمہ کو تباہ کرنے کے لیے اسلام کے اس قلعے کو تباہ کرنا بہت ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا کی شیطانی قوتیں مختلف دائو کھیل رہی ہیں، وہ حضرت مہدیؑ کی آمد سے پہلے آرمیگیڈون جنگ سے پہلے پاکستان کو ختم کردینا چاہتی ہیں۔ سیتا کو ربی کی بات سمجھ میں آگئی تھی۔ ’’پھر اللہ کی اس قدر عنایت کے باوجود پاکستان آج تک مستحکم اور طاقتور کیوں نہ ہوسکا؟‘‘ سیتا نے سوچا۔
سیتا کی مسلمان دوست نے پھر واٹس ایپ پر پیغام بھیجا ’’یاد کرو اُس وقت کو جب تم تعداد میں کم اور کمزور تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا کر نہ رکھ دیں، تو اس (رب) نے تمہیں جگہ بخشی اور اپنی مدد سے تمہیں آسرا دیا اور پاک رزق عطا کیا تاکہ تم شکر کرو۔ اے ایمان والو! نہ تو اللہ اور رسول کی امانتوں میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، اور تم یہ بات جانتے تو ہو۔‘‘ (سورۃ انفال، آیت 27,26)
سیتا بڑی دیر تک سوچتی رہی کہ اس آیت کا کیا مطلب ہوگا، پھراُس کی سمجھ میں آیا کہ یہ برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو مشترکہ ہندوستان میں تعداد میں کم تھے اور ان کی حکومت نہیں بن سکتی تھی، اس لیے وہاں وہ ہمیشہ کمزور ہی رہتے، پھر اللہ نے انہیں پاکستان عطا کیا اور ہر ملک سے بڑھ کر پاکستان کو نعمتیں عطا کیں، مگر اللہ نے خیانت سے منع فرمایا تھا اور پاکستانیوں نے خیانتوں کی انتہا کردی، اس لیے پاکستان اس مقام پر نہ پہنچ پایا جو رتبہ اللہ نے پاکستان کے لیے منتخب کیا تھا۔
٭
’’ارے واہ! مجھے تو قرآن کی سب آیتیں سمجھ میں آنے لگی ہیں، کہیں میں مسلمان تو نہیں ہوگئی؟ اللہ کے گھر کو تو کوئی تباہ نہیں کرسکتا، پھر میں کیوں اپنی زندگی ایک ناممکن کام کے لیے بے کار کررہی ہوں! کیوں ناں میں بھی اللہ کی فوج کی سپاہی بن جائوں۔ فتح تو پھر اللہ کے لیے ہی ہے۔ اس چھوٹی سی زندگی میں کتنا کما لوں گی؟ کیوں ناں آخرت ہی کما لوں‘‘۔ سیتا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ ایک نئے ارادے سے اپنی مسلمان دوست کے گھر کی طرف چل پڑی۔

رہنما کر صرف اُسی کو جو تیرے رب کے حکم کے تابع ہو
جو روح کے نور سے مزین ہو، تیرے رب کی سیدھی راہ پہ ہو
حکمت ہو، شعور ہو، مستقبل بینی کا ہنر بھی ہو اس میں
جو اللہ سے ڈرتا ہو، سچا ہو اور علم بھی اس کا جامع ہو

حصہ