ہمارا سمر کیمپ

104

عشرت زاہد
جیسے ہی ہمارے سالانہ امتحانات ختم ہوئے امی جان نے دو عدد اعلانات کر ڈالے۔ پہلا یہ کہ اپنی کتابیں الگ کرکے ان پر نئے کور چڑھا دو اور ایک اچھے سے شاپر میں ڈال کر رکھ دو، تاکہ وہ “پڑھو اور پڑھاو کیمپ” میں بھیجے جا سکیں۔ وہاں پر کسی اور طالب علم کے کام آ جائیں گے۔ پھر اپنے کپڑوں کی الماری صاف کردو۔ اور دوسرا اعلان بہت خوش کن وہ یہ کہ ہمیں آٹھ دس دنوں کے لیے نانی کے گھر جانے کی اجازت مل رہی تھی۔ جو ہمارے لیے ایک نعمت تھی ویسے بھی ہم امتحان کی تیاری اور پھر امتحان دے کر تھک چکے تھے۔ نانی کے گھر تو ہمارے خوب مزے ہونے تھے۔ نانی اور ماموں لوگ خوب لاڈ اٹھاتے۔ نت نئے مزے مزے کے کھانے، تو کبھی گھومنے جانے کا پروگرام بناتے۔ کبھی پارک تو کبھی سمندر پر پکنک کے لیے جا رہے ہوتے۔ اور یہ وقت یوں پلک جھپکتے گزر جاتا۔
اس مرتبہ جب ہم نانی کے گھر پہنچے تو ماحول کچھ سنجیدہ سا لگا۔ غور کیا تو پتہ چلا کہ چندا ماموں کچھ مصروف ہیں۔ اور انہوں نے محلے کے بچوں کے لیے کچھ کرنے کا سوچا ہے۔ ارے ہاں، ہم آپ سے چندا ماموں کا تعارف کروانا تو بھول ہی گئے یہ چندا ماموں آسمان والے چاند نہیں ہیں۔ بلکہ ہمارے چھوٹے ماموں سعد ہیں۔ چھوٹے اور لاڈلے ہونے کی وجہ سے پیار سے چندا کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ یہ انجینئرنگ کے دوسرے سال کے ہونہار طالب علم ہیں۔ ان کے دل و جگر میں سارے جہاں کا درد سمایا رہتا ہے۔ اس لیے محلے کے بچوں کا ایک گروپ بنایا ہوا ہے۔ معاف کیجیے گا بچے نہیں بلکہ صرف لڑکوں کا گروپ۔ ان کا ہر مسئلہ ماموں کی ذمہ داری بن گئی ہے ماموں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر فری ٹیوشن بھی دیتے ہیں۔ اور کسی کے ایڈمیشن کا مسئلہ ہو یا پھر فیس کا سب کچھ ان کے فنڈ سے پورا کیا جاتا ہے۔ یہ فنڈ کچھ ان کے ذاتی پاکٹ منی اور کچھ محلے کے مخیر حضرات سے جمع کیا جاتا ہے۔ لڑکوں کے والدین بھی ماموں کے اس از خود ذمہ دار بننے پر بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ کیونکہ ماموں محلے میں بہت تمیزدار اور سعادت مند لڑکے مشہور ہیں۔ ساتھ ہی ان کا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے اور سب سے اچھی بات یہ کہ نماز کے پابند ہیں۔
خیر تو چندا ماموں نے اس مرتبہ لڑکوں کے لیے ایک سمر کیمپ ترتیب دیا تھا۔ یہ سن کر مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ آج ہی اس کا پہلا دن تھا۔ عصر کی نماز کے لیے سارے لڑکے محلے کی مسجد میں جمع ہوگئے۔ نماز کے بعد مسجد کے سامنے والے میدان میں کرکٹ، فٹبال اور والی بال کھیلا گیا۔ اس میں عمر کے لحاظ سے ٹیمیں بنائی گئی تھیں۔ ہم ایک ڈیڑھ گھنٹہ کھیل کود کر تھک گئے۔ تب سب وہیں گھاس پر جمع ہوگئے۔ وہاں پر ماموں نے کچھ حقیقی واقعات سنا کر اور ہلکی پھلکی گفتگو کے ذریعے سبق آموز باتیں کیں گویا شوگرکوٹڈ نصیحت کی۔ اسی دوران ایک لڑکا جا کر ماموں کے گھر سے کولر اور گلاس لے آیا۔ جس میں ٹھنڈا ٹھنڈا شربت تھا سب لڑکے خوش ہوگئے شربت پی کر فریش ہوگئے۔ تب تک مغرب کی اذان ہوگئی تھی۔ پھر باجماعت نماز ادا کر کے سب اپنے اپنے گھر روانہ ہوگئے۔ ہمیں بھی اس گروپ میں شامل ہو کر بہت اچھا لگا تھا۔
اس معمول کی وجہ سے چھٹی کے دنوں میں عموما “ہونے والے ہنگامے کچھ کم ہوگئے تھے۔ دن کے وقت دھوپ کی وجہ سے گھر ہی میں انڈور گیمز کھیلتے اور شام میںسمر کیمپ۔ پتا ہی نہیں چلا، کب آٹھ دن پر لگا کر اڑ گئے۔ اور آج سمر کیمپ کا آخری دن بھی آ چکا تھا۔ کل ماموں اپنے دوستوں کے ساتھ اردو بازار گئے تھے۔ وہاں سے کافی ساری کتابیں، اسکول بیگ، جومیٹری باکس اور دیگر اسٹیشنری لے کر آئے تھے۔ آج صبح سے ہی وہ سب مل کر ان چیزوں کو خوبصورت اور چمکدار ریپرز میں پیک کرنے میں مصروف تھے۔ یہ تحائف ان لوگوں کے لیے تھے جن کی حاضری پوری تھی۔ اور جنہوں نے ہر نماز باجماعت ادا کی تھی۔ اور جن کے ہوم ورک والے پروجیکٹ بہت اچھے بنے تھے۔ پھر آج کچھ ناشتے کا انتظام بھی تھا۔ نانی اور خالہ کچن میں یہ کام کر رہی تھیں۔ بالکل چاند رات والی گہما گہمی محسوس ہو رہی تھی۔ اس چھوٹی سی تقریب کے لیے ہر کسی کا جوش دیدنی تھا۔
عصر کی نماز کے بعد سب میدان میں جمع ہو چکے تھے۔ آج یہاں بیٹھنے کے لیے دریاں بھی تھیں۔ اور دو تین قریبی گھروں سے پلاسٹک کی کچھ کرسیاں بھی منگوا کر کنارے پر لگا دی گئی تھیں۔ یہ محلے کے معززین کے لیے اہتمام تھا جن کو ماموں نے مدعو کیا تھا۔جن میں کچھ لڑکوں کے والد حضرات بھی تھے۔ ایک بچے نے میزبانی کے فرائض سنبھالے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے ایک لڑکا آیا اور خوبصورت آواز میں تلاوت کی۔ اس کے بعد طلحہ نے نعت سنائی۔ جس کے بعد ماحول کچھ سنجیدہ ہوگیا تھا۔ ماموں نے کھنکار کر اپنی بات شروع کی۔
“جیسا کہ آپ کو پتا ہے، آج ہمارے سمر کیمپ کا آخری دن ہے اس مرتبہ یہ کام ہم نے کچھ جلدی کر لیا کیونکہ گرمی کی چھٹیاں تو بچوں کے لیے ہیں۔ مگر ہمارے لیے وہ امتحانوں کے دن ہوں گے۔سمر کیمپ میں سب بچوں نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ تقریبا” تمام بچوں نے نمازیں بھی باجماعت ادا کی ہیں۔ ( ماموں اور ان کے دوستوں نے یہ پکا کام کیا ہوا تھا کہ ہر نماز کے وقت لڑکوں کی حاضری لگائی جاتی) “نہیں سعد بھائی، ریحان نے دو نمازیں جماعت سے نہیں پڑھیں تھیں۔” ماموں زیر لب مسکرا کر بولے” جی مجھے ان کے ابو نے فون پر بتایا تھا کہ ریحان کی طبیعت خراب ہے۔
اس بار سب کے پروجیکٹ بھی بہت اچھے بنے ہیں۔ خاص طور پر مسجد اقصیٰ اور قائد اعظم کے مزار کا ماڈل تو بہت شاندار بنا ہے۔ خیر، ان سب بچوں کے لیے ہم نے کچھ انعامات بھی رکھے ہیں وہ آخر میں تقسیم ہوں گے۔
لیکن یہ سب تیاری ہم نے کس لیے کی ہے پتا ہے؟اس لیے کہ کچھ ہی دنوں بعد رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہونے والا ہے۔ روزے ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے اور چاہے سردی ہو یا گرمی چھوڑے نہیں جا سکتے۔ جو لڑکے بارہ سال سے زائد عمر کے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ ٹھیک ہے، ماشاء￿ اللہ کافی لوگ ہیں۔آپ سب نے اب پورے روزے رکھنے کی نیت کرنی ہے، پکا ارادہ۔ ٹھیک ہے نا؟ گرمی کے دن ہیں۔ دن بڑے ہیں تو روزے کا دورانیہ بھی بڑا ہوگا۔ آپ سب کو پتا ہے نا کہ رمضان میں نفل کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر ستر گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کے پاس اس کے علاوہ بھی بہت سے انعامات ملیں گے۔
ہم نے بھی آپ کے لیے عید ملن میں ڈھیر سارے انعامات کا انتظام کیا ہوا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہماری ٹیم چیک کرے گی کہ کون پوری نماز جماعت کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ اور تراویح بھی پڑھ رہا ہے۔ آپ کے گھر والوں سے بھی گواہی لی جائے گی کہ گھر میں آپ کا رویہ بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ کیسا رہا؟ اور گھر کے کاموں میں اپنے کتنا حصہ لیا وغیرہ۔۔۔ چلیں، یہ سب باتیں تو ہو گیں۔ اب کچھ بات ماہ رمضان کے متعلق۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کرکے ایک خطبہ دیا کرتے تھے۔ جس میں اس ماہ کی اہمیت، ہزار مہینوں کے برابر شب قدر کی فضیلت، نزول قرآن کی عظیم نعمت اور اس ماہ کی عبادات سے تقوی کس طرح حاصل کرنا ہے یہ سب بتاتے تھے۔ یہ تمام باتیں تو ہم جانتے ہی ہیں۔ بس ہم مختصرا” یہ جائزہ لیں گے کہ اس عظیم برکتوں والے مہینے میں ہم کیا کریں؟ تاکہ زیادہ سے زیادہ برکتیں سمیٹ سکیں۔
سب سے پہلے تو ہم یہ عہد کرلیں کہ تمام روزے مکمل ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھیں گے۔ یعنی پوری شعوری کوشش کے ساتھ ہر کام اللہ کے لیے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کرنا ہے اچھی طرح کیسے ہونگے؟
* تمام نمازیں وقت پر، با جماعت اور ساتھ میں تراویح بھی پڑھیں۔
* قرآن مجید روزانہ پڑھنا۔ جو چھوٹے بچے ہیں وہ ناظرہ پڑھیں گے اور جو بڑے لڑکے ہیں وہ ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے اور کوشش کرنی ہے کہ قرآن مکمل ہوجائے۔
* زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے کی کوشش کرنا کس طرح؟ تو سنیے، ایک نیکی کا اجر ستر گنا سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔
اپنے ساتھیوں کی پڑھائی میں مدد کرنا۔ امی کی سحر اور افطار میں، کبھی پھل کاٹ کر، شربت بنا کر اور کبھی برتن اٹھا کر مدد کرنا۔
* بھائی یا ابو کے کپڑے استری کر دیں
*اپنے چھوٹے بہن بھائی سے پیار سے پیش آئیں۔
* پڑوسیوں کی ضروریات کا خیال رکھیں۔
* اپنی چیزوں سے غریبوں کا حصہ نکالنا اپنے کپڑے جوتے کتابیں کھلونے جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو وہ کسی ضرورت مند کو دے دیں۔*اپنے ساتھیوں کی خبر گیری کرنا۔ اگر سستی کی وجہ سے نماز چھوڑے تو اسکو سمجھانا اور ساتھ لے کر مسجد جانا۔ اگر بیمار ہے تو تیمارداری کرنا اور ہر طرح سے تعاون کرنا۔
آخری بات یہ ہے کہ ساری اچھی باتیں اپنے دوستوں تک پہنچانا۔ ان کو ہمارے پروگراموں میں شامل ہونے کی دعوت دینا۔
ایک ضروری اعلان یہ بھی ہے کہ ماہ رمضان میں ہم ایک نعتیہ اور ایک قرات کا مقابلہ منعقد کرنے والے ہیں۔ جس کی تیاری آپ لوگ ابھی سے شروع کردیں۔ آپ سب کو اللہ بہترین جزا عطا کرے اور معزز مہمانوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ وقت نکال کر آپ حضرات ہماری چھوٹی سی تقریب میں شریک ہوئے۔ اب دعا کے لیے میں حارث صاحب کو دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے کچھ تعریفی کلمات کہے اور پھر دعا کروائی۔ اسکے بعد ناشتے کے باکس تقسیم کئے گئے۔ اور یہ پیاری سی تقریب اختتام پذیر ہوگئی۔ آج مجھے اپنے ماموں پر بہت فخر محسوس ہورہا تھا۔ کہ اپنی پڑھائی کی مصروفیت کے باوجود محلے کے لڑکوں کی تربیت بھی کرتے ہیں۔ آج کے پروگرام سے مجھے بہت ساری نئی باتیں سیکھنے کو ملی تھی جس کی وجہ سے اس مرتبہ میرا ماہ رمضان بہت اچھا گزرنے والا تھا۔
اچانک ہی میرے سر پر چپت پڑی۔ کیا سوچا جا رہا ہے بھانجے میاں؟”
“جی، آج کے پروگرام کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ بہت اچھی طرح سمجھایا ماموں آپ نے۔ تو پھر اس مرتبہ پورے روزے رکھنا ہے نا”
“جی جی، اب تو میں پورے 12 سال کا ہو گیا ہوں اور ساتویں جماعت میں جانے والا ہوں”
“اگر پاس ہوئے تو نا”
“کیا مطلب؟”
“ھاھاھا، ارے بھانجے، مذاق کر رہا ہوں۔ تو پھر اگر پورے روزے رکھنے کا پکا ارادہ ہے تو چلو تو پھر تمہارا تحفہ بھی پکا ”
“اچھا ماموں کیا ملے گا مجھے”
” ایک عدد چمچماتی ہوئی سائیکل۔”
“سچ ماموں؟؟ ماموں زندہ باد۔”

حصہ