میں کون ہوں؟۔

180

سیدہ عنبرین عالم
’’اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چنانچہ ان کے (ویران) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور شیطان نے ان کے اعمال اُن کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا، حالانکہ وہ دیکھنے والے لوگ تھے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت، آیت 38)
سامی اور گامی دو بھائی تھے، ان کا تعلق قومِ ثمود سے تھا، یہ عرب میں رہتے تھے۔ ان کی تمام قوم نے پہاڑوں کو اندر اور باہر سے تراش کر بہترین گھر بنائے ہوئے تھے۔ ان کے والد صاحب کا نام بامی تھا، وہ ایک ماہر سنگ تراش تھے اور قوم کے سرداروں سے خاص تعلقات کے حامل تھے۔ قوم کے 9 سردار تھے، جو اجتماعی معاملات میں فیصلہ کن کردار رکھتے تھے۔ قومِ ثمود معاشی طور پر بہت مضبوط تھی اور اردگرد کے علاقوں میں ان کا خاصا رعب و دبدبہ تھا، اور دیگر قومیں ان سے جنگ نہ کرنے میں ہی اپنی بہتری سمجھتی تھیں۔
بامی صاحب چاہتے تھے کہ ان کے دونوں بیٹے بھی پہاڑ تراشی کے فن کو سیکھ لیں، مگر سامی اور گامی اکثر ان محفلوں میں چلے جاتے جہاں حضرت صالح یا ان کے شاگرد قومِ ثمود کے طریقوں کے خلاف آواز بلند کیا کرتے۔ قوم کے کم عمر بچے یا معاشی طور پر کمزور طبقہ ان محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کیا کرتا۔ قوم کے 9 سردار ان محفلوں کے خلاف خوب سازشیں کرتے۔
بامی صاحب: بیٹا! پہاڑ تراشی ہمارا ایسا فن ہے کہ ساری دنیا اس فن میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہ فن ہماری شناخت ہے۔ شکر کرو کہ تم لوگ میری اولاد ہو، کسی موچی یا بھنگی کی نہیں۔ تمہارے پاس موقع ہے کہ تم لوگ یہ فن سیکھ سکو۔
سامی: جی ابا! درست فرمایا، لیکن ہمارے بچپن میں بھی ایک صاحب ہوتے تھے جو فرماتے تھے کہ ہم جو خود کو دنیا سے ایک اعلیٰ و ارفع قوم سمجھتے ہیں، یہ غلط ہے۔ ہم عام انسان ہیں، بس اللہ تعالیٰ نے ہم پر زیادہ کرم کردیا ہے۔ ہم پہاڑوں کو جو اتنی عزت دیتے ہیں اور انہی سے اپنی ہر خوشی اور دکھ منسوب کرتے ہیں یہ غلط ہے۔ اصل میں ہر طاقت اور اختیار صرف میرے رب کا ہے۔
بامی صاحب: ہاں پہلے بھی ہماری قومِ ثمود میں ایسے لوگ آتے رہے ہیں جو پہاڑوں سے زیادہ طاقتور اللہ کو سمجھتے تھے اور یہی تعلیم قوم کو دیتے تھے۔ آج کل یہ تعلیم صالح اور اس کے ساتھی پھیلا رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پہاڑ ہی ہمیں گھر کا سایہ مہیا کرتے ہیں، ان مضبوط پہاڑوں کی وجہ سے دشمن ہم پر حملہ کرنے سے ڈرتے ہیں، انہی پہاڑوں میں ہم اپنی خوراک ذخیرہ کرتے ہیں۔
گامی: صالح صاحب فرماتے ہیں کہ ان پہاڑوں کا بنانے والا اللہ رب العزت ہے، جو تمام قومِ ثمود سے بے حد محبت رکھتا ہے، اس لیے ہمیں آزمائش میں ڈالا ہے کہ مال و دولت کی اتنی فراوانی اور طاقت و حشمت کے بعد بھی ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں یا آسائشوں میں کھو کر زیادتیاں کرتے ہیں؟
بامی صاحب: (سر ہلاتے ہوئے) بات تو صحیح ہے، لیکن صالح کے ساتھ غربا، فقرا یا ناسمجھ بچے ہیں، اس کے علاوہ وہ ہمارے کاروباری معاملات میں بھی سچائی اور ایمان داری کا قائل ہے، وہ محکوم طبقے سے بھی نرمی کا مطالبہ کرتا ہے، یہ چیزیں ہمارے لیے بحیثیت قوم نقصان دہ ہیں۔
سامی: یعنی آپ مانتے ہیں کہ صالح پیغمبر درست فرماتے ہیں، مگر قوم کے معاشی نقصان اور نظام کی تبدیلی کے اثرات سے خوف زدہ ہیں، آپ مانتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہمارا رب ہے۔
بامی صاحب: (مسکراتے ہوئے) تم لوگ بچے ہو، ابھی سود و زیاں کے معاملات نہیں سمجھ سکتے۔ ہم کو قوم کے تمام مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ صالح بڑا قابل لڑکا تھا، ہم کو امید تھی کہ وہ قوم کا نام بڑا روشن کرے گا، مگر وہ تو قوم کو تقسیم کررہا ہے، پھوٹ ڈال رہا ہے۔ ایک گروہ صرف اللہ کی عبادت پر متحد ہوگیا ہے اور ایک گروہ قوم کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔ ہم کیسے اپنے بزرگوں کی روایات کو ایک لڑکے کے کہنے پر چھوڑ دیں! یہ ناممکن ہے۔
گامی: ابا! جن میں بات کی سچائی تک پہنچنے کی استطاعت نہیں، اُن کو تو اللہ شاید معاف کردے، مگر آپ جیسے لوگ جو صالح پیغمبر کو حق پر سمجھتے ہوئے جھٹلاتے ہیں، وہ بھلا اللہ کے عذاب سے کیسے بچیں گے! ہمارے 9 کے 9 سردار بھی صالح پیغمبر کی سچائی کو جانتے ہیں، پھر بھی اختلاف کرتے ہیں۔
سامی: بالکل! آپ لوگ اللہ کی طرف سے نظر رکھتے ہیں، روح کی روشنی عطا کی گئی، حق اور باطل کی پہچان آپ لوگوں کو عطا کی گئی، پھر بھی حق کو جھٹلائو گے تو کوئی معافی نہیں۔
بامی صاحب: صالح ہرگز پیغمبر نہیں ہے، بس عام لوگوں سے کچھ زیادہ عقل رکھتا ہے، مگر یہ عقل قوم کے فائدے کے بجائے نقصان میں استعمال کررہا ہے، ضد پر اَڑ گیا ہے۔
گامی: اپنی زیادہ عقل سے ہی تو انہوں نے سیدھی راہ کو پہچان لیا ہے، اور اب اپنی قوم کو بھی سیدھے راستے پر چلانا چاہتے ہیں، ورنہ ہمارا حشر بھی قومِ عاد جیسا ہوگا۔ کیا آپ کو یاد نہیں عاد بھی اپنے وقت کی سپر پاور تھے، انہوں نے اپنے پیغمبر کو اللہ کا رسول پہچانتے ہوئے بھی نافرمانی کی اور عذاب سے برباد ہوئے، جب کہ حضرت ہود اور ان کے ساتھی بچا لیے گئے۔
بامی صاحب: بکواس بند کرو، صالح کا تو کچھ کرنا پڑے گا، ہمارے بچوں کو بگاڑ رہا ہے۔
…٭…
ثمود قوم کے سردار اور بااثر لوگ ایک خفیہ میٹنگ میں شریک تھے، بامی صاحب بھی موجود تھے۔
پہلا سردار: میں تو حیران ہی رہ گیا، اتنی بڑی اونٹنی… اور وہ پہاڑ سے نکلی کیسے؟ یہ پہاڑ تو ہمارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں۔ میں نے بعد میں جائزہ لیا، کوئی سوراخ اس پہاڑ میں نہیں تھا، وہ اونٹنی آخر آئی کہاں سے؟
بامی صاحب: یہ صالح تو لگتا ہے کہ جادو سیکھ گیا ہے، اونٹنی اتنا زیادہ دودھ دیتی ہے کہ صبح شام گھومتی رہتی ہے، جس کا دل کرتا ہے اس کا دودھ نکال لیتا ہے، مگر دودھ ختم ہونے میں نہیں آتا، بہت سے غریب لوگ تو اس کا دودھ آس پاس کے علاقوں میں بیچ کر گزارہ کررہے ہیں، خیر کھاتی بھی بہت زیادہ ہے، اور جتنا پانی پورے علاقے کے جانور ایک دن میں پیتے ہیں، یہ ایک دن میں اکیلے ہی اتنا پانی پی جاتی ہے، بس اب بہت برداشت کرلیا۔
دوسرا سردار: کئی نوجوان اور غریب لوگ اس اونٹنی سے بہت متاثر ہیں اور صالح پر ایمان لانے لگے ہیں، اپنے ہی باپ دادا کی روایات سے سرکشی کررہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ پہاڑ، باغات، نہریں، بیٹوں کی کثرت وغیرہ اللہ کی عطا نہیں ہے بلکہ امتحان ہے۔
بامی صاحب: ہاں میرے دو بیٹے بھی صالح پر کھلم کھلا ایمان لے آئے ہیں، مجھ سے منہ در منہ بحث کرتے ہیں۔ ہم سرداروں نے ہی صالح سے یہ معجزہ مانگا تھا کہ پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرکے دکھائے، معجزہ پورا ہوگیا، اب ہم کس دلیل سے اسے غلط ثابت کریں!
تیسرا سردار: وہ غلط ہوتا تو اسے غلط ثابت کرتے۔ وہ اللہ کا سچا رسول ہے، یہ بات ہم سب جانتے ہیں، پہاڑ سے اونٹنی اللہ کے سوا کوئی اور پیدا نہیں کرسکتا۔ بات صرف یہ ہے کہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہمیں معاشی نقصان ہوگا، گناہوں کی جو آزادی ہمیں حاصل ہے وہ چھن جائے گی، اپنی مرضی کے بجائے اللہ کی مرضی پر چلنا ہوگا۔
بامی صاحب: تو یوں کرتے ہیں کہ کہہ دیتے ہیں ہم اللہ پر ایمان بھی لے آئے اور مسلم بھی ہوگئے، اس کے ساتھ اللہ کی عبادت بھی کرلیں گے، لیکن اپنے کاروباری، حکومتی اور معاشرتی معاملات اپنی مرضی سے چلاتے رہیں گے، وہ مطمئن ہوکر چپ ہوجائے گا۔
چوتھا سردار: وہ بے وقوف نہیں ہے، وہ اللہ کا رسول ہے۔ اللہ تو دلوں کے بھید جانتا ہی ہے، صالح بھی اللہ کا نور رکھتا ہے، وہ فوراً اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گا اور ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے تو وہ ہمارا جھوٹ پکڑ لے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا، ہمیں کچھ اور ہی ترکیب کرنی پڑے گی۔
بامی صاحب: صالح کو دیکھنا چاہیے کہ ہم بحیثیت قوم کتنے نیک کام کرتے ہیں، ہم نے دنیا کو تجارت اور تعمیر کے نئے نئے انداز سکھائے، ہم نے اتنی ترقی کی کہ لوگ ہمارے پاس آکر روزگار حاصل کرتے ہیں، ہم سے تمدن سیکھتے ہیں، کیا کوئی ہے جو ہماری برابری کرسکے! صالح بس خود کو نیک سمجھتا ہے۔
پانچواں سردار: ہم جب تک اس اونٹنی کا قلع قمع نہیں کریں گے، صالح کا سحر نہیں توڑ سکتے۔
چھٹا سردار: لیکن ہم لوگوں میں مانیں یا نہ مانیں، ہم دل سے تو یہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے، اس کو مار ڈالنا مناسب نہیں۔ صالح جس عذاب کا وعدہ کرتا ہے وہ عذاب آسکتا ہے۔ یوں کرتے ہیں کہ اونٹنی کے صرف پیر کاٹ دیتے ہیں تاکہ عذاب نہ آئے اور صالح کی بات بھی جھوٹی پڑ جائے۔
…٭…
سامی اور گامی اپنا سامان باندھنے لگے۔ ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ بامی صاحب نے پوچھا۔
’’ہم اپنے پیغمبر صالح کے ساتھ علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں، یہاں عذاب آنے والا ہے‘‘۔ بچوں نے جواب دیا۔
’’ارے وہ تمہارا صالح کیا کرلے گا! وہ تو اونٹنی کو نہیں بچا سکا، اگر وہ اللہ کی اونٹنی ہوتی تو بھلا کوئی اس کے پیر کاٹ سکتا تھا؟ بس ثابت ہوگیا کہ وہ اللہ کی اونٹنی نہیں تھی‘‘۔ بامی صاحب بولے۔
گامی نے افسوس سے اپنے والد کی طرف دیکھا ’’ابا جو ناسمجھ ہو، جو حق کو پہچان نہ سکے، اُس پر کبھی عذاب نہیں آتا۔ عذاب اُس پر آتا ہے جو جانتے مانتے اللہ کے پیغام کو جھٹلائے، اپنے دنیاوی فوائد کے لیے اللہ سے ٹکر لے، اللہ کی بادشاہت قائم ہونے کے راستے میں روڑے اٹکائے۔‘‘
’’ساری دنیا ہماری سمجھ داری اور قابلیت کی مثالیں دیتی ہے، بس صالح کو ہی ہم برے لگتے ہیں، وہ چاہتا ہے کہ اس کی حکمرانی قائم ہوجائے، سارے سردار اس کے غلام ہو جائیں‘‘۔ بامی صاحب نے کہا۔
’’حکمرانی تو اللہ کی ہے اور وہ قائم ہوکر رہے گی، اور اللہ جسے چاہے گا اُس کے ہاتھ سے حکمرانی قائم کروائے گا، آپ کی ضد سے اللہ کے کام نہیں رکتے، جلد ہی اللہ کا عذاب فیصلہ کردے گا‘‘۔ سامی نے جواب دیا۔
…٭…
ایک بار پھر ایک بڑے سے پہاڑ کے اندر بنے ہوئے ہوادار کمرے میں میٹنگ ہورہی تھی، کھانے پینے کا بہت سا سامان موجود تھا اور قہقہے لگ رہے تھے۔
ساتواں سردار: دیکھا، ہم نے کس کامیابی سے اونٹنی کا کام تمام کیا، وہ واپس غائب ہوگئی ہے، اس کا بچہ بھی پہاڑ میں جا کر غائب ہوگیا، چلو بھئی یہ فتنہ تو ختم ہوا۔
بامی صاحب: لیکن فائدہ تو کچھ نہیں، اب بھی ہمارے بچے صالح کے گرویدہ ہیں اور اس کے ساتھ علاقہ چھوڑنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، صالح اب بھی اپنے عذاب کے وعدے پر قائم ہے، حالانکہ جب ہم نے اس کی اونٹنی کو مار بھگایا تو وہ کیا چیز ہے! اسے بھی جان سے مار دینا چاہیے۔
آٹھواں سردار: ہاں، اب ہمیں ہمت پکڑنی ہوگی، بہت برداشت کرلیا صالح کو۔ وہ ایک ہے اور ہم ساری کی ساری قوم ہیں، کوئی عذاب نہیں آتا، اونٹنی کی ٹانگیں کانٹنے پر بھی نہیں آیا۔
بامی صاحب: ٹھیک ہے، پھر کل رات کا وقت مناسب ہے، ہم سب جائیں گے حملہ کرنے، زیادہ دیر کرنا مناسب نہیں ہے، کہیں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ نہ جائے۔
نواں سردار: پھر ساری مصیبتیں ختم ہوجائیں گی، ہمیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوگا۔ (قہقہہ)
بامی صاحب: یہ زمین کی حرکت کیوں ہورہی ہے؟ ارے یہ تو بہت زور زور سے ہل رہی ہے۔
ایک زبردست چیخ کی آواز بلند ہوئی، انتہائی تیز ہوائیں چلنے لگیں، ہر طرف گرد و غبار اور چیخنے چلّانے کی آوازیں تھیں۔ ’’سامی، گامی! میں اللہ پر ایمان لے آیا، بے شک صالح اللہ رب العزت کا سچا رسول ہے، میں اس کی ہر بات مانوں گا‘‘۔ بامی صاحب چیختے رہے، یہاں تک کہ تیز ہوا انہیں اوپر اٹھا کر لے گئی اور سر کے بل زمین پر پٹخ دیا۔ ’’سامی، گامی مجھے بچا لو، میں ایمان لے آیا، مجھے اپنے ساتھ لے چلو‘‘۔ بامی صاحب کے یہ آخری الفاظ تھے۔
…٭…
میری آنکھ کھلی تو میں صحن میں اپنی کرسی پر بیٹھی تھی، میرے سامنے قرآن کھلا ہوا تھا اور قومِِ ثمود کا واقعہ تھا۔ شاید اسے ہی پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی تھی اور خواب میں سامی، گامی کے پورے حالات اللہ رب العزت نے مجھے سمجھا دیے۔

ہم تمہیں نہایت سچے قصے سناتے ہیں اور مثالیں بیان کرتے ہیں
تاکہ تم سمجھ جائو، تاکہ تم سدھر جائو، تمہیں جہنم سے بچاتے ہیں
کیا ثمود گزر گئے؟ نہیں… آج بھی لوگ ویسی ہی سرکشی رکھتے ہیں
جو مال و طاقت کے بجائے اپنے رب سے عشق کرے اُسے سودائی سمجھتے ہیں
جو نافرمان ہے وہ سردار ہے، رب کے عاشق سولی چڑھتے ہیں
کیا تم بے خوف ہوکہ تمہاری بے خبری میں تم پر عذاب آجائے
موت تو بس ایک لمحے کا کھیل ہے، اوپر سے یا نیچے سے کب آجائے
تم میں سے ہر ایک قرآن میں موجود ایک کردار ہے، جان لو
کوئی فرعون ہے، کوئی موسیٰؑ ہے، کوئی محمدؐ سا دل رکھتے ہیں
پھر باقی تو صرف اللہ ہے، سب مٹ جائیں گے جو آج طاقت رکھتے ہیں
یہ آخری پیغام ہے، سمجھ لیجیے، اگر آپ بھی کچھ سمجھ رکھتے ہیں

حصہ