لبنیٰ کے روزے

38

مریم شہزاد
“ایمن اور لبنیٰ آپس میں کزن تھیں دونوں ایک ہی کلاس میں تھیں اور بہت اچھی سہیلیاں بھی تھی کچھ دنوں سے لبنی کی عادت ہوگئی تھی کہ ہروقت کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی ایک دن وہ حسب معمول چپس کھا رہی تھی کہ ایمن بولی ” اف، لبنیٰ، تم کتنا کھاتی ہو، جب دیکھو تمہارے ہاتھ میں چپس کا پیکٹ ہوتا ہے، تمہارا منہ نہیں تھکتا ” ایمن نے کہا۔
” نظر تو نہ لگاؤ ” لبنیٰ چپس کھاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
” سچ میں لبنیٰ بے چارے دانت تو پریشان ہوتے ہی ہونگے، معدہ بھی توبہ توبہ کرتا ہوگا، اس کو تو آرام کرنے دیا کرو کبھی “۔
مگر لبنیٰ پر تو کوئی بات اثر ہی نہیں کر رہی تھی دیکھنے میں تو وہ دبلی پتلی تھی اور ہر وقت کھانے کے باوجود موٹی بھی نہیں ہوتی تھی سب اس کو کہتے تھے کہ کھائے بکری کی طرح، سوکھے لکڑی کی طرح۔
مگر آج ایمن اس کے پیچھے ہی پڑ گئی۔
” اچھا یہ تو سوچو اگلے ماہ رمضان المبارک شروع ہو جائے گا تو تب کیا کرو گی”۔
” روزے رکھوں گی اور کیا کروں گی ” اس نے مزے سے کہا ۔
” اور جو یہ ہر وقت کھاتی رہتی ہو، اس کا کیا ہوگا، “۔
” کیا ہوگا کیا مطلب، روزے میں کون کھاتا ہے “۔
” وہی تو میں بھی کہہ رہی ہوں کہ جب ہر وقت کھاتے رہنے کی، منہ چلاتے رہنے کی عادت ہوگی تو روزے میں صبر کیسے ہوگا” ایمن نے کہا۔
” اللہ ،ڈراؤ تو نہیں خود ہی صبر آجاتا ہے رمضان میں ” لبنیٰ اس کی بات سن کر گھبرا گئی مگر ظاہر نہ ہونے دیا
” اچھا بھئی تم جیتی میں ہاری، رمضان میں ہی حال چال پوچھوں گی تمہارا ” ایمن نے لمبا سانس لے کر کہا ۔
اور پھر رمضان المبارک شروع ہوگیا سب ہی مصروف ہوگئے سحری افطاری، قرآن پڑھنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی لگن، پھر دادی اماں کے تحفے کا لالچ، کہ جو اچھا رمضان گزارے گا اس کو عید پر گفٹ ملے گا تو سب ہی اپنی اپنی کوشش میں لگے ہوئے تھے مگر لبنیٰ،وہ تو واقعی بہت پریشان تھی ، اس کو جو ہر وقت کھانے کی عادت ہوگئی تھی اس کی وجہ سے کتنی ہی دفعہ اس کا روزہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا، اور وہ اسی وجہ سے زیادہ قرآن پاک بھی نہیں پڑھ سکی، اس کو اپنے آپ کو بار بار روکنا مشکل ہو جاتا تو اس نے زیادہ ٹائم سونے میں گزارا، کچن سے عصر کے بعد پکوڑوں کی خوشبو آتی تو وہ بے چین ہوجاتی کہ ایک تو منہ میں ڈال لوں مغرب کے بعد اس کی جان میں جان آتی مگر چپس تو اس وقت کوئی لاکر نہیں دیتا کہ طاقت ور چیز کھاؤ، تاکہ صحت مند رہو آخر رمضان المبارک ختم ہوگئے عید پر دادی نے بچوں کے لیے مختلف تحفے رکھے تھے لیکن سب سے چھوٹا تحفہ لبنیٰ کو ملا جس پر اس کو بہت شرمندگی ہوئی اور اس نے پھر دل میں توبہ کی کہ اب ہر وقت کھانے کی عادت چھوڑ دے گی تاکہ آئندہ سال وہ نہ صرف یہ کہ اچھی عبادت کرسکے بلکہ دادی اماں کا بڑاوالا تحفہ بھی جیت سکے جو اس سال ایمن کو مل گیا تھا۔

حصہ