سکون کی تلاش,آپ بیتی

40

رمشاجاوید
“یہ صفائی کا کپڑا لو اور اچھے سے ہر طرف جمی مٹی ، گرد جھاڑو۔ خدا کی پناہ!! اگر باہر سے کوئی مہمان آجائے تو کیا سوچیں گے کہ اس گھر میں کوئی “لڑکا” نہیں۔؟؟” اپنے چھوٹے بھائی کو مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے ہم نے مما کا جملہ ذرا سے ردوبدل کے ساتھ دہرایا۔
“مگر رمشا آپی مجھے تو ڈسٹنگ کرنی نہیں آتی۔؟” خضر رونی صورت بنا کربولا۔
“نہیں آتی تو سیکھ لو۔۔۔۔ آگے بہت کام آئے گی۔” یہ جملہ بھی مما اکثر ہمیں کہا کرتی تھیں۔ خضر سے فارغ ہوکر ہم زید کی طرف متوجہ ہوئے۔
“یہ زید کہاں ہے۔۔؟؟؟ اسے بولو کمرے میں جھاڑو لگائے۔ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔” ہم نے خضر کو حکم دیا اور اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیڈ پر بیٹھ گئے۔
“ویسے بھی لڑکوں کو کام آنے چاہیے۔” !!
٭…٭…٭
تیسری بار بیل بجی تو ہم جھنجھلا کر اٹھے۔
“حد ہے !! ایک تو کوئی سکون سے ‘ساتھی’ پڑھنے بھی نہیں دیتا۔”
دروازے پر پڑوس سے کوئی خاتون آئی تھیں ‘ ہاتھوں میں مٹھائی کا ڈبہ لیے۔۔۔ شاید ان کے گھر کسی کی شادی ہوئی تھی یا بات پکی۔۔ ہم نے تفصیل جاننا مناسب نہ سمجھا۔ اور شکریہ کہ کر مٹھائی کا وہ چھوٹا سا ڈبہ سنمبھالتے اندر آئے۔ ڈبے کو کمرے میں ٹیبل پر رکھ دیا اور دوبارہ سے ساتھی پڑھنے لگے۔
“کون آیا تھا باہر۔۔؟؟ ” پانچ منٹ بعد مما کچن سے فارغ ہوکر کمرے میں داخل ہوئیں۔
“پڑوس سے کوئی آنٹی آئی تھیں۔۔ مٹھائی دینے۔” ہم نے سرسری سا جواب دیا۔
“کس خوشی کی مٹھائی۔؟” مما نے دوسرا سوال پوچھا۔
“پتا نہیں۔۔!!” ہم جو ابن آس کے سنسی خیز ناول کی گہرائی میں ڈوبے تھے بار بار کے سوالوں سے الجھ رہے تھے۔
“کبھی کسی سے کچھ پوچھ کچھ بھی کرلیا کرو، اب مٹھائی کہاں رکھی ہے وہ بتاو۔؟” مما اب بستر پر بیٹھ چکی تھیں اور متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔
“سامنے ٹیبل پر۔” ہم نے سر اٹھا کر ٹیبل کی جانب اشارہ کرنا چاہا لیکن دھک سے رہ گئے۔ مٹھائی وہاں سے غائب تھی۔
“ہیں۔۔۔ کہاں گئی۔؟؟ یہیں تو رکھی تھی۔” ہم گڑبڑا کر چھلانگ مار کر بستر سے نیچے اترے اور مٹھائی کی تلاش شروع کی تو پتا چلا بیڈ کے نیچے بلیصاحبہ مٹھائی کا وہ چھوٹا سا ڈبہ پھاڑے اسے چکھنے میں مشغول ہیں۔ ایک تو ان بلیوں سے ہم بڑے عاجز تھے۔ دنیا جہاں کے رنگ و نسل کی بلیاں ہمارے گھر میں پائی جاتی تھیں۔ابھی کل ہی اس بلی نے میرے کیک رس بسکٹ کھا لیے تھے۔
“اس بلی کو تو میں قتل کردوں گی۔” ہمارا پارہ ایک سو ایک ڈگری تک جا پہنچا تھا۔
“اسے بعد میں قتل کرنا ، پہلے اپنی عقل کو استعمال کرنا سیکھو۔ مٹھائی فریج میں رکھی جاتی ہے۔ اب صفائی کرو یہاں کی۔” مما خفگی سے کہتیں دوبارہ سے کچن کی جانب چلی گئیں۔ جبکہ ہم نے اپنی چھوٹی بہن فاطمہ کو آواز لگائی۔
“فاطمہ… یار یہ صاف کردو۔”
اور اطمینان سے دوبارہ لیپ ٹاپ پر “how to train your dragon” ‘کارٹون مووی’ دیکھنے لگے۔
٭…٭…٭
“یہ کونسے ملک سے متاثر ہوکر روٹی بنائی گئی ہے۔ ؟؟” معاز نے ہاٹ پاٹ کا ڈھکن اٹھایا تو دھک سے رہ گیا۔
“مجھے گول اور نرم روٹی چاہیے۔۔” اس نے فیصلہ سنایا۔
“جو بنی ہے کھالو۔ ویسے بھی گول روٹی کا فیشن نہیں ہے۔” ہم منہ بناکر بولے۔
“اللہ جی ! میری مما کو صحت یاب کردیں۔ ورنہ یہ کچی ، جلی روٹی کھا کھا کر میرا تو پیٹ ہی خراب ہوجائے گا۔” معاز دسترخوان پر ہی بیٹھا ہاتھ اٹھا کر گریہ و زاری سے دعا مانگنے لگا۔ ہم شان بے نیازی سے بھنویں اچکا کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔ “ویسے بھی سردی اور بے عزتی جتنی محسوس کرو اتنی ہی لگتی ہے۔” کھانے سے فارغ ہوکر جیسے ہی ہم نے وردہ کو برتن اٹھانے کا کہا ، دروزے پر بیل بجی۔ زید نے دروازہ کھولا تو باہر ہماری پسندیدہ شازیہ خالہ کھڑی تھیں۔ جنہیں ہم پیار سے ‘رانی باجی’ کہا کرتے تھے۔انہیں دیکھ کر ہم خوش ہوگئے اور اندر کمرے میں لے آئے۔ مما کے پاس انہیں بیٹھا کر ہم ان کی خاطر مدارت میں لگ چکے تھے۔
“واہ بھئی رمشا نے تو بہت اچھے سے گھر سنبھال لیا ہے۔” ہم چائے لیے کمرے میں داخل ہوئے تو رانی باجی نے تعریفی نظروں سے ہمیں دیکھا۔ جوابا ہم مسکرا دیے۔ مما نے تو ہماری تعریف میں زمین و آسمان ایک کردیے تھے۔
“تم تھک گئی ہوگی ، بیٹھ جاو۔ ” رانی باجی کا خلوص ہی تو ہمیں بار بار ان کی جانب کھینچتا تھا۔ ہم بیٹھ گئے۔
“میں بالکل بھی نہیں تھکی رانی باجی ! معاز ، زید ، خضر ، فاطمہ میرا بہت کام کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی گھر کا کام کرنا تو اچھی بات ہے ، فاطمہ رضی اللہ عنہ بھی تو اپنے گھر کا کام اپنے ہاتھوں سے کیا کرتی تھیں۔ جبکہ وہ نبی مہرباںؐ کی سب سے چہیتی بیٹی تھیں۔ بس اللہ تعالی مما کی طبیعت کو جلدی سے ٹھیک کردیں کیونکہ مما کے بغیر تو گھر اجڑا اجڑا سا لگ رہا ہے۔” ہم نے افسردگی سے کہا ۔
“بیشک ماں کے بغیر تو گھر ‘ گھر ہی نہیں لگتا۔ اللہ پاک سب کی والدہ کو صحت و تندرستی اور لمبی زندگی دے آمین۔”

حصہ