رمضان کی برکتیں

49

روبینہ اعجاز

اللہ کی ہوں گی رحمتیں
رمضان کی ہوں گی برکتیں
آ رہی ہیں وہ ساعتیں
کریں گے خوب عبادتیں
روزے رکھیں گے ہم
تلاوتیں کریں گے ہم
وقت سحر و افطار کے
مانگیں گے اپنی حاجتیں
بازیاں لے جائیں گے
نیکیاں پھیلائیں گے
تقویٰ کے حصول میں
صدقہ و خیرات میں
راتوں کو جاگ جاگ کر
مانگیں گے اپنی مغفرتیں

مسکرائیے

٭ایک دیہاتی کی گائے چوری ہوگئی۔وہ انگریز آفیسر کے پاس گیا اور کہا:جناب میری گائے چوری ہوگی ہے: آفیسر نے کہا…او آئی سی…
دیہاتی: اگر آئی تھی تو پکڑی کیوں نہیں۔
٭٭٭
٭ایک کپڑے کی دکان کے باہربورڈ لگا ہوا تھا: جس پر لکھا تھا۔
اصلی ریشمی کپڑا خریدنے کے لیے کسی اور کے پاس جاکر دھوکا نہ کھائیں بلکہ سیدھا ہمارے پاس تشریف لائیں۔
٭٭٭
٭ گاہک: میرے سوٹ پر کتنا کپڑا لگے گا؟
درزی: چھ میٹر ۔
گاہگ :مگر ساتھ والے درزی نے تو ساڑھے پانچ میٹر بتایا ہے۔
درزی :اس لڑکا ایک سال کا ہے اور میرا تین سال کا۔
٭٭٭
٭استاد: آپ کے بیٹے نے اسکول کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
والد:نالائق کہیں کا۔۔۔گھر میں برتن توڑتا ہے یہاں ریکارڈ۔
٭٭٭
٭استاد:دو شاگردوں سے: ارے آپس میں کیوں سر ٹکرا رہے ہو…
ایک شاگرد:جناب آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ریاضی میں پاس ہونے کے لیے دماغ لڑانا ضروری ہے۔
٭٭٭
٭ایک دوست دوسرے سے…ڈاکٹر نے مجھے کرکٹ کھیلنے سے منع کردیا ہے۔
دوسرا دوست: اس نے تمہیں کرکٹ کھیلتے دیکھ لیا ہوگا۔
٭٭٭
٭جیلر قیدی سے: معاف کرنا میں نے تمہیںچار دن زیادہ قید میں رکھا۔
قیدی کوئی بات نہیں آئندہ آوں تو چار دن پہلے رہا کر دینا۔
٭٭٭
٭شاگردوں کو بجلی کے بارے میں بتاتے ہوئے پرائمری اسکول کے ٹیچر نے مناسب سمجھا کر روز مرہ زندگی سے مثالیں دی جائیں چنانچہ انہوں نے ایک شاگرد کو کھڑے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’فرض کرو میں پنکھے کا بٹن دباتا ہوں لیکن پنکھا نہیں چلتا تو اس کا کیا مطلب ہے‘‘۔ شاگرد نے جواب دیا:’’یہی کے آپ نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا ہے‘‘۔

حصہ