دل کی آرزو

39

صبیحہ اقبال
’’اب دن ہی کتنے رہتے ہیں زیتون، جو تم روز کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی ہو؟‘‘ آج سامعہ صفائی کرنے والی ماسی پر خاصی برہم تھی۔
’’وہ باجی کیا کروں، میرے چھوٹے بچے کی طبیعت ہی اتنی خراب ہے کہ میں اس بچے کو پورے دن کے لیے شوہر پر نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘ زیتون کی آواز میں غم گھلا ہوا تھا۔ ’’باجی میرے پیچھے شنو بڑی مشکل سے اسے سنبھالتی ہے لیکن وہ…‘‘
’’بس بس زیتون، میں نے تم سے داستان گوئی کے لیے نہیں کہا، یہ بتائو تم کو دیواریں دھونی ہیں یا نہیں؟ چاند ہونے میں صرف نو، دس دن باقی رہتے ہیں اور تمہاری آئیں بائیں ختم نہیں ہوتی۔‘‘ سامعہ آج واقعی غصے میں تھی۔
زیتون نے بے یقینی کے عالم میں سامعہ کی جانب دیکھا، لیکن وہاں چہرے پر موجود بے زاری اور کرختگی دیکھ کر اس کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ’’انسان کو اپنی تکلیف سے زیادہ دوسروں کا رویہ رلاتا ہے۔‘‘ سو سامعہ کے رویّے پر زیتون نے ہتھیلی سے آنسو پونچھے ’’جی بیگم صاحبہ! کل کردوںگی۔‘‘ اس کی مُردہ سی آواز سامعہ کی سماعت سے ٹکرائی اور وہ گردن جھٹکتے ہوئے باہر کی طرف چل دی کہ اسے ابھی خاصی شاپنگ کرنی تھی۔
بیٹھک کے پردے اس نے قصداً ہلکے رنگوں میں لیے تھے۔ اِس مرتبہ رمضان آ بھی تو مئی، جون میں رہا ہے، اتنی شدید گرمی میں ہلکے رنگ آنکھوں کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں تو روزہ اتنا محسوس نہیں ہوتا۔ دل تو چاہ رہا تھا پورے گھر کا رنگ ہی تبدیل کرا دے، ہلکے رنگ کا پینٹ کروائے، لیکن انوار صاحب بھی عجیب کنجوس آدمی ہیں، رمضان کی تیاری کے لیے بھی ان کا دل نہیں کھلتا۔ صرف بیٹھک کے پردوں اور قالین کی تبدیلی پر ہی آکر انہوں نے اپنی جیب بند کرلی۔ سامعہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
’’ماما ابھی اور بھی تو اخراجات ہیں، ہر جمعہ کا نیا جوڑا بھی بنوانا پڑتا ہے۔‘‘ زوار نے ماں کو یاد دلایا ’’پھر رمضان میں کہنے کو تو بھوکا رہا جاتا ہے، لیکن باورچی خانے کا بجٹ اکثر اپنی حد سے اوپر چلا جاتا ہے۔‘‘ جب سے زوار نے باپ کے ساتھ دکان پر ہاتھ بٹانا شروع کیا تھا، اکثر ماں کو اخراجات کا احساس دلاتا تھا۔
’’ہاں اسی لیے تو اس مرتبہ صرف کامن کی سیٹنگ پر اکتفا کرلیا ہے۔‘‘ سامعہ نے بھی جیسے احسان جتایا۔ لیکن اب صفائی بھی تو مشکل نظر آرہی تھی، اس لیے سامعہ بدمزا اور چڑچڑی ہورہی تھی۔
…٭…
امی یہ آپ میرے لیے کیسے امائوں والے پرنٹ اٹھا لائی ہیں؟‘‘ آئمہ نے شاپرز کھول کر جلدی جلدی ساری خریداری دیکھ ڈالی تھی۔
’’یہ نہیں کہ پہلے ماما کو پانی پلا دوں، تبصرے کرنے لگی۔‘‘ سامعہ تھوڑا خفا سی ہوئی۔
’’سوری ماما‘‘ کہتی ہوئی آئمہ فوراً شربت لے آئی۔ اتنی سخت گرمی اور بے تحاشا رش… سچ پوچھو تو میرے اوسان ہی نہیں رہے تھے۔ پہلے تو شاپنگ مالز میں سناٹا پڑا رہتا تھا، لیکن اب لگتا ہے ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہیں شاپنگ کے لیے چلا آرہا ہے۔ اتنا گھوم پھر کر مجھے یہی پرنٹس اچھے لگے۔‘‘ سامعہ نے بیٹی کو جواب دینے کے ساتھ ہی شربت کا بھرا گلاس لمحوں میں خالی کردیا تھا۔
’’ہاں ان بے تکے لوگوں کی وجہ سے اب بڑے بڑے شاپنگ مالز کا بھی پہلے جیسا پُرسکون اور معیاری ماحول نہیں رہا۔‘‘ وہ غریب لوگوں کو ہمیشہ بے تکا ہی کہا کرتی تھی۔ ’’لیکن ماما عید کی شاپنگ کے لیے میں آپ کے ساتھ خود ہی چلوں گی۔‘‘
’’ہاں ہاں تم خود ہی پسند کرنا۔‘‘ سامعہ نے آئمہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔
’’ہماری شادی کے بعد پہلی عید ہے، ماما ہمارے جوڑے ایسے ہونے چاہئیں کہ لگے لڑکی کے والدین واقعی بڑے دل والے ہیں، اور ماما ہمارا سر بھی فخر سے تھوڑا اور اونچا ہوجائے۔‘‘ آئمہ نے اپنے مخصوص انداز میں گردن کو تھوڑا اونچا کرکے ماں کو مخاطب کیا اور اپنی فرمائش نوٹ کرا دی۔
’’ہاں ہاں بیٹا! کیوں نہیں، ہمارے اکلوتے داماد کی پہلی عید ہے، شاپنگ تو خوب سوچ سمجھ کر ہی کی جائے گی۔‘‘ سامعہ بھی اپنی عادت کے مطابق پیسہ خرچ کرکے مطمئن ہونے والوں میں سے تھی۔ ورنہ ابھی تو بیٹی کی شادی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے اور وارڈروب میں پہلے ہی جگہ کم پڑچکی تھی۔
انوار صاحب، زوار اور بختیار کے لیے ہر جمعہ کا نیا سوٹ درزی کے ہاں سے آچکا تھا اور عید کے لیے سوٹ سلوانے کو دیے جاچکے تھے۔ کامن کے نئے پردوں کے ساتھ قالین بھی بدلا جا چکا تھا، اور زیتون نے اپنے بیمار بچے کو نظرانداز کرکے باجی کے گھر کے در و دیوار بھی چمکا دیے تھے، اس لیے سامعہ خاصی مطمئن ہوچکی تھی۔ ضرورت کے مسالے، چٹنیاں، کسٹرڈ، انواع و اقسام کے نئے نئے میٹھے باورچی خانے کی الماریوں میں بھر دیے گئے تھے، اب بس ایک فکر باقی تھی: آئمہ اور اُس کے شوہر کی عیدی کے لیے نئے ڈیزائن کے ملبوسات اور عید کے ناشتے کے لیے کوئی بالکل یونیک سی ڈیکوریشن والے بیکری آئٹم… اور آج سارا دن ماں بیٹی اسی فکر میں سرگرداں رہ کر شام کو تھک ہار کر ناکام لوٹی تھیں۔ کپڑوں کا معاملہ تو ایک حد تک حل ہوگیا تھا، لیکن ناشتے کی فکر ہنوز باقی تھی۔ کل کس طرف جانا ہے اسی سوچ بچار میں غرق تھیں۔
…٭…
اقدار کی تبدیلی نے ہماری سوچ کے زاویے تبدیل کردیے ہیں۔ ہمارے بزرگ رمضان کی تیاری تقویٰ کے حصول، مغفرت کی تمنا، غرباء کی مالی امداد کے ذریعے اللہ کی رضا کے متمنی ہوکر کیا کرتے تھے، اور آج ہماری رمضان کی تیاری محض مادیت کے گرد گھومتی ہے۔ نہ دل بیدار ہوتے ہیں، نہ جنت کے حصول کے لیے روحیں تڑپتی ہیں، نہ اپنی مغفرت کے لیے کوئی فکر پائی جاتی ہے۔ نتیجتاً رمضان المبارک آتا ہے اور ہماری روحانی و ایمانی کیفیت میں کسی اضافے کے بغیر ہمارے رویوں اور بے توجہی پر حسرت کرتا رخصت ہوجاتا ہے۔
سامعہ کے ذہن میں رمضان کے حوالے سے وہ ساری تیاری گھوم گئی جو اس نے کی تھی۔ اتنی تھکان اور اخراجات کے باوجود نہ وہاں کہیںجنت کی طلب تھی، نہ مغفرت کی چاہ کا گزر ہوا تھا۔ وہ یہ کیسی تیاری کررہی تھی استقبالِ رمضان کے لیے؟ وہ خود سے شرمسار تھی۔ ذہن پر پڑی گرد کو اس کے قلب پر گرنے والے آنسو دھو رہے تھے۔ سچ ہے، انسان کی اصلاح کا کوئی لمحہ لکھا ہوتا ہے جس سے وہ خود بھی بے خبر ہوتا ہے۔ آگہی کے اس لمحے کو اگر انسان ضائع کردے تو پھر اس کے ہاتھ خالی ہی رہ جاتے ہیں۔
سامعہ گو کہ اپنی پڑوسن کے بے حد اصرار پر آج استقبالِ رمضان کے پروگرام میں مروتاً شریک ہوئی تھی، لیکن اپنی اصلاح کا وہ قیمتی لمحہ اُس نے پا لیا تھا جو اُس کی زندگی کا حاصل تھا۔ وہ اپنے خالی دامن میں تقویٰ کے نایاب موتی رول رہی تھی۔ مدرّسہ کہہ رہی تھیں کہ ہمیںکبھی خیال نہیں آتا کہ یہ گزرتا رمضان کہیں میری ہلاکت پر مہر تو ثبت نہیں کررہا، کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیلؑ کی بددعا ’’جس نے رمضان پایا اور اپنے رب سے اپنی مغفرت نہ کرالی وہ ہلاک ہوا‘‘ پر آمین کہا تھا، اور اپنی اس بے خبری میں ہلاکت کے باوجود ہم عید کی خوشیوں کے نام پر بڑے مطمئن، مگن اور مصروف رہتے ہیں۔ ’’ہاں بے شک‘‘۔ اس کے ہونٹ بے اختیار ہلے تھے۔ سامعہ کا دل چاہا کہ مدرسہ ہماری مزید کمزوریوں کو آشکار نہ کریں، شرمندگی کے لیے یہی بہت ہے۔ ہم اپنی اصلاح کے لیے مقصدِ صوم کو جان لیں، اس کے دل نے آرزو کی تھی۔ اسی آرزو کے ساتھ وہ گھر روانہ ہوئی تو ضبطِ گریہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔

حصہ