برصغیر میں اسلام کے احیا اور آزادی کی تحریکیں

159

قسط نمبر 188
(سولہواں حصہ)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا اہم کام یہ بھی ہے کہ آپ نے بروقت اندرون و بیرون سے آنے والے فتنوں کی نہ صرف نشاندہی اور تنقید کی، بلکہ ساتھ ہی ساتھ دنیا کے سامنے اسلام کو قابلِ عمل نظام کے طور پر پیش کیا۔
محمد انس فلاحی سنبھلی (ہندوستان) ’’مولانا مودودیؒ کے علمی وفکری کام اور ان پر ہونے والے اعتراضات کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ مولانا مودودیؒ کی عظمت اور قبولیت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان کی اکثر کتابوں کے 40 اور بعض کے 75 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔ بالخصوص ’’رسالہ دینیات‘‘، ’’خطبات‘‘، ’’پردہ‘‘، ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے، جہاں ان کی تحریر و تحریک کے اثرات مرتب نہ ہوئے ہوں۔
کفر و الحاد اور مغرب زدہ طبقہ آپ کی کتابوں کے ذریعے ہی اسلام پر نہ صرف گامزن ہوا بلکہ اسلام کا علَم بردار بن گیا۔ خدا نے ان کی تحریر میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ پڑھنے والا اسلام کو سمجھنے اور ماننے پر ہی اکتفا نہ کرے، بلکہ اپنے لیے مسلمان ہونا باعثِ ’’شرف‘‘سمجھے اور اس کا داعی بن جائے۔
اسلامیات پر مولانا مودودیؒ کے لٹریچر نے قابلِ قدر اضافہ کیا ہے۔ کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جس پر مولانا مودودیؒ کی تحریریں موجود نہ ہوں۔ وہ چاہے تفسیر، حدیث، فقہ، سماجیات، معاشیات اور سیاسیات ہی کیوں نہ ہو۔
مولانا مودودیؒ کی’’تفہیمات‘‘ (5جلدیں )، ’’تنقیحات‘‘، ’’استفسارات‘‘ (3 جلدیں)، ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ اور ’’اسلامی ریاست‘‘… یہ سب اسلام اور اسلامی نظام کی تشریح و توضیح اور مغربی تہذیب، جس کے مسلمان دلدادہ ہورہے تھے، کی بے لاگ و بے باک تنقید کا نتیجہ ہیں۔‘‘
1948ء میں جب مولاناؒ نے ملک میں اسلامی دستور بنانے کا مطالبہ کیا تو ملک دشمنی کا الزام لگاکر آپ کو گرفتار کرلیا گیا۔ قید و بند کی یہ صعوبتیں بیس ماہ کے بعد اُس وقت ختم ہوئیں جب ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ سیفٹی ایکٹ کے تحت چھ چھ ماہ کی نظربندی میں تیسری مرتبہ توسیع نہیں ہوسکتی۔
اس بیس ماہ کی قید و بند میں بھی آپ نے علمی کام جاری رکھا اور ’’مسئلہ ملکیت زمین‘‘ مرتب کی، تفہیم القرآن کا مقدمہ لکھا، ’’سنن ابوداؤد‘‘ کا انڈیکس تیار کیا، ’’سود اور اسلام‘‘ اور ’’جدید معاشی نظریات‘‘ بھی وہیں مکمل کیں۔ مولانا اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ شکر ہے میرا ایک دن بھی ضائع نہیں ہوا۔ مولانا مودودیؒ کی یہ گرفتاری رنگ لائی اور مارچ 1949ء میں قراردادِ مقاصد پاس ہوگئی۔ اس طرح یہ بات تسلیم کرلی گئی کہ پاکستان میں اسلامی قوانین ہی کا نفاذ ہوگا۔ برصغیر میں انگریز کی آمد اور امتِ مسلمہ میں ایسے ہی دو بہت بڑے فتنے قادیانیت اور پرویزیت کی صورت میں داخل کیے گئے ۔ 1953ء میں پہلی قادیانی سازش ہوئی اور اُس وقت مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ لیکن حکومت میں شامل مخصوص عناصر اور قادیانیوں نے اس مطالبے کو ناکام کرنے کے لیے ملک میں مارشل لا نافذ کروا دیا۔
مولاناؒ نے اس حوالے سے ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ لکھا، جس پر آپ کو پہلے گرفتار کیا گیا اور پھر فوجی عدالت کے ذریعے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ (اس سزا کے خلاف پوری اسلامی دنیا میں شدید ردعمل ہوا، جس کی تفصیل ہم پچھلی اقساط میں پیش کرچکے ہیں۔)
فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت کے بعد اس سرزمین میں سب سے بڑا فتنہ انکارِ حدیث کا پیدا کیا گیا۔ اسے عام طور سے ’’فتنۂ پرویزیت‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز میں فتنوں کے علاوہ اگر کچھ قدر مشترک ہے تو وہ ہے ان کی آبائی جگہ، ضلع گورداس پور۔ 9 جولائی 1903ء کو بٹالا ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے اور 24 فروری 1985ء کو انتقال ہوا، 1927ء میں انڈین حکومت میں وزارتِ داخلہ میں کام کرتے رہے۔ 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد سینٹرل گورنمنٹ میں رہے۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے مشیر تھے اور 1955ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کی شادی ہوئی مگر اولاد نہیں ہوئی۔
غلام احمد پرویز کے اس فتنے نے اسلام کے بنیادی اصول کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ عقائد، عبادات، اخلاق، اعمال، شعائر، اسلامی معاشرت، اسلامی اقتصادی نظام وغیرہ… کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑا۔ اسلامی اقدار و تعلیمات سب کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
تفصیل یہ ہے کہ غلام احمد پرویز نے نیا شوشا چھوڑا کہ ’’احادیث‘ قرآن کے خلاف عجمی سازش ہیں، اور یہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سو سال بعد مرتب ہوئی ہیں، لہٰذا یہ ناقابلِِ اعتبار ہیں۔‘‘ ابتدا میں وہ خود کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا شیدائی اور ان کے طریق پر کاربند ظاہر کرتے ہوئے اپنے گرد معتقدین کا حلقہ قائم کرچکا تھا، اس لیے اس فتنے کو فوری طور پر پہچاننا مشکل ہوا، مگر جب غلام احمد پرویز نے اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہنا شروع کیا اور کھل کر اپنے عقائد کا پرچار کیا، تو معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف منکرِ حدیث ہے بلکہ منکرِ قرآن بھی ہے، کیوں کہ اس نے قرآنی آیات کے معانی و مفاہیم کو اصل سے ہٹاکر اپنی مرضی کا مفہوم پہنایا۔
فتنہ انکارِ حدیث کی بنیاد اور ڈانڈے ’’فرقہ معتزلہ‘‘ سے ملتے ہیں۔ اس فرقے نے عقل کو شریعت کے تابع کرنے کے بجائے شریعت اور امورِِ شرعیہ کو عقل کے تابع کردیا۔ اس فرقے کے ظہور سے قبل پہلی صدی تک امت احادیثِ صحیحہ کو قابلِ حجت سمجھتی تھی، فتنہ انکارِ حدیث پہلی صدی کے بعد کی پیداوار ہے۔
یہ فتنہ ایک بار پھر شدت کے ساتھ تیرہویں صدی ہجری میں اٹھایا گیا، مگر اِس بار سلوگن اور انداز جدا تھا۔ یہ فتنہ اِس بار دین کو عقل کے تابع کرنے کی اساس پر ظہور پذیر ہوا۔ اس طرح تیرہویں صدی میں’’نیچری‘‘ تحریک کا آغاز دراصل معتزلہ کی نشاۃ ثانیہ تھی۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہ فتنہ برصغیر ہند و پاک میں سر اٹھا چکا تھا۔ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کے مطابق ’’بیسویں صدی کے آغاز میں جب مسلمانوں پر مغربی اقوام کا سیاسی و نظریاتی تسلط بڑھا تو کم علم مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو مغربی افکار سے بے حد مرعوب تھا اور سمجھتا تھا کہ مغرب کی تقلید کے بغیر دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن اسلام کے بہت سے احکام اُس کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اس لیے اُس نے اسلام میں تحریف کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اسے مغربی افکار کے مطابق بنایا جاسکے، اسی لیے اس طبقے کو ’’اہلِ تجدد‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سرسید احمد خان، مصر میں طہٰ حسین، ترکی میں ضیا گوک اس طبقے کے بانی تھے۔ اس طبقے کے مقاصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے تھے جب تک کہ حدیث کو راستے سے نہ ہٹایا جائے۔
اسکندر مرزا کے دورِ حکومت میں 1958ء میں انٹرنیشنل تعلیمی سیمینار لاہور میں منعقد ہوا تھا جس میں تمام اسلامی ملکوں کے اربابِِ علم موجود تھے۔ اس سیمینار میں غلام احمد پرویز کے مقالات سامنے آئے تو مصری، شامی اور مغرب کے تمام اہلِ علم نے ان کے خلاف متفقہ آواز اٹھائی کہ یہ صریح کفر ہے اور اسلام کے نام پر یہ صریح کفر قابلِ برداشت نہیں۔ اس موقع پر غلام احمد پرویز کی جو رسوائی ہوئی وہ بھی اپنی نظیر آپ تھی، جس کی وجہ سے اسکندر مرزا کا سارا کھیل ناکام رہا اور اس طرح پاکستان کے لاکھوں روپے غارت ہوگئے۔ اس ناکامی کے بعد امریکن فاؤنڈیشن کمیٹی نے فوراً دوسرا تعلیمی سیمینار کراچی میں منعقد کرایا، لیکن اسے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یعنی انگریز سازشیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ پرویزی خیالات کو پاکستان میں قبولِ عام مل سکے، مگر الحمدللہ ایسا نہ ہوسکا۔ منکرینِ حدیث کے فتنے کے سلسلے میں جہاں دیگر علمائے کرام کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، وہیں مولانا مودودیؒ کی کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اس فتنے کی بیخ کنی میں مولانا مودودیؒ کی کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ اور ’’رسائل و مسائل‘‘ (5جلدیں) میں مولانا مودودیؒ نے منکرینِ حدیث کے اعتراضات کے علمی و عقلی جواب دیے ہیں۔ حدیث وسنت کی قانونی اور شرعی حیثیت کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں:
’’مولانا مودودیؒ نے منکرینِ حدیث کے دلائل کے جواب میں ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ نامی کتاب لکھی جس میں نظامِ دین میں حدیث اور سنت کی حیثیت اور مقام، اور منکرینِ حدیث کے دلائل کا بھرپور جواب دیا ہے۔ اسی طرح ترجمان القرآن کے ’’منصب رسالتؐ نمبر‘‘ کی اشاعت کروائی گئی۔‘‘ (سید مودودی کا علمی ذخیرہ۔ تحقیق: ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی)
چوں کہ احادیث میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ایسی مفصل ہدایات موجود ہیں جو مغربی افکار سے صریحاً متصادم ہیں، اس لیے اس طبقے کے بعض افراد نے حدیث کو حجت ماننے سے انکار کیا۔ یہ آواز ہندوستان میں سب سے پہلے سرسید احمد خان اور اُن کے رفیق مولوی چراغ علی نے بلند کی، لیکن انہوں نے انکارِ حدیث کے نظریے کو علی الاعلان اور وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف نظر آئی اُس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو، اور ساتھ ہی کہیں کہیں اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ حدیث موجودہ دور میں حجت نہیں ہونی چاہیے، اور اس کے ساتھ بعض مقامات پر مفید مطلب احادیث سے استدلال بھی کیا جاتا رہا۔ اس ذریعے سے تجارتی سود کو حلال کیا گیا، معجزات کا انکار کیا گیا اور بہت سے مغربی نظریات کو سندِ جواز دی گئی۔
مولوی عبدالچکڑالوی، اسلم جیراج پوری، نیاز فتح پوری اور بالآخر غلام احمد پرویز نے بھی اس فتنے کو مستقل تحریک اور مکتبِ فکر کی شکل دے دی۔ انہوں نے اپنے کئی خیالات کی اشاعت کے لیے پاکستان میں اپنے سرکاری اثر رسوخ کا خوب استعمال کیا۔ جدید تعلیم یافتہ لوگ کسی درجے میں ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ پرویز نے اپنے اس مؤقف پر ادبی انداز میں خاصا لٹریچر مہیا کیا۔ پہلے اس خیال کے لوگوں کو چکڑالوی کہا جاتا تھا، اب انھیں پرویزی کہتے ہیں۔ (حوالہ مضمون: ’’ایک خطرناک فتنہ‘‘۔ مضمون نگار سید احمد، ہندوستان)
(جاری ہے )

حصہ