ادبی تنظیم دراک کی 104 ویں نشست

121

ڈاکٹر نثار احمد نثار
ادبی تنظیم دراک کی 104 ویں ماہانہ تنقیدی نشست میٹرو پولیس گرلز کالج فیڈرل بی ایریا کراچی میں منعقد ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے صدارت کی۔ صفدر صدیق رضی اور معراج جامی مہمانان خصوصی تھے‘ یہ پروگرام تین ادوار پر مشتمل تھا پہلے مرحلے میں سینئر افسانہ نگر نورالہدیٰ سید کا افسانہ ’’بلاعنوان‘‘ حسب روایت تخلیق کار کے نام کے اعلان کے بغیر سلمان صدیقی نے پڑھ کر سنایا۔ افسانے پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے احمد سعید فیض آبادی نے کہا کہ افسانے میں گولڈن پیس کا لفظ بار بار سامنے آرہا ہے یہ اس افسانے کا بنیادی نکتہ ہے افسانہ خوب صورت ہے۔ حامد علی سید نے کہا کہ گولڈن پیس افسانے کا عنوان ہو سکتا ہے یہ افسانہ عام آدمی کے شعور و فکر سے باہر ہے اگرچہ کہانی سیدھی سادی ہے لیکن لکھنے والے کی گرفت مضبوط ہے اس میں پتا ہی نہیں چل رہا کہ افسانہ نگار کیا کہنا چاہتا ہے اگر یہ علامتی افسانہ ہے تو اس کی آخری سطریں علامتی ہیں اور واضح نہیں ہیں۔ نورالدین نور نے کہا کہ یہ افسانہ اپنے قاری کو متاثر نہیں کر رہا تنقید کے لیے معیاری تخلیقات کا انتخاب کرنا چاہیے۔ طارق جمیل نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایک پیچیدہ افسانہ ہے اس افسانے کا ابلاغ نہیں ہورہا۔ زاہد حسین زاہد نے کہا کہ یہ اتنا سیدھا سادہ افسانہ نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جارہا ہے یہ استعارارتی افسانہ ہے یہ عورت کی جنسی نا آسودگی کی کہانی ہے۔ معراج جامی نے کہا کہ افسانہ سننے سے نہیں پڑھنے سے واضح ہوتا ہے گولڈن پیس کی اصطلاح بے محل ہے اس لیے کہ بڑے کے گوشت میں یہ اصطلاح استعمال ہی نہیں ہوتی یہ تو چکن کے گوشت کے لیے مستعمل ہے جب کہ افسانے میں ساری فضا اس کسائی گھرانے کی ہے جو بڑے کے گوشت کا کام کرتا ہے۔ صفدر صدیق رضی نے کہا کہ یہ افسانہ میری سمجھ سے باہر ہے اس افسانے کا اسلوبِ بیان کمزور ہے‘ اس کے ڈکشن نے بھی متاثر نہیں کیا افسانہ کھل نہیں سکا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ افسانے میں کسائی گھرانے کا Treatment نظر نہیں آتا‘ اس کا عنوان بھی مناسب نہیں افسانہ نگار کو چاہیے کہ وہ اس افسانے کو Re-write کرے۔ نشست کے دوسرے حصے میں محمد علی زیدی کی غزل ان کا نام لیے بغیر پیش کی گئی غزل پر سب سے پہلے احمد سعید فیض آبادی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ غزل طویل بحر میں ہیں لیکن ٹھیک ہے‘ سخاوت علی نادر نے کہا کہ غزل بہت شان دار ہے‘ قوافی بہت عمدہ ہیں اس کا نفسِ مضمون بھی اچھا ہے۔ حامد علی سید نے کہا کہ غزل سادہ ہے لطف نہں آیا مگر غزل میں کہیں فنی خرابی نہیں ہے۔ شائق شہاب نے کہا کہ شاعر نے ردیف اور قافیہ نبھایا ہے اور کوئی خاص بات نہیں کہی ہے۔ حجاب عباسی نے کہا کہ یہ ایک عام سی غزل ہی اس میں عروضی غلطی نہیں ہے ہر شاعر کی غزل بہت اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتی‘ سامنے کے حالات سے ہزاروں دیوان بھرے پڑے ہیں اس غزل کے مقطع کا دوسرا مصرع یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ فیصلے آسمان پر ہوئے ہیں جب کہ سارے فیصلے آسمان پر ہی ہوتے ہیں شاعر کو اس مضمون پر غور رنا چاہیے۔ عباس رضوی نے کہا کہ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کسی غزل میں ایک شعر بھی اچھا ہی تو وہ غزل کامیاب ہے لہٰذا میری نزدیک یہ غزل ٹھیک ہے اس میں ایک بہت اچھا شعر موجود ہے۔ عظیم حیدر سید نے کہا کہ اس غزل کے ردیف اور قافیے میں کافی گنجائش ہے شاعر کے یہاں شعری قوت نظر آرہی ہے۔ معراج الہدیٰ جامی نے کہا کہ اس غزل میں قافیہ پیمائی کی گئی ہے۔ صفدر صدیق رضی نے کہا اس غزل میں کوئی فنی خامی نہیں ہے تاہم کوئی خوبی بھی نہیں ہے غزل میں شعری محاسن نہیں ہیں اس غزل پر گفتگو کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ یہ غزل بیان کے پیمانے پر پوری اترتی ہے مجموعی طور پر علم القوافی کی رو سے ٹھیک ہے۔ اس دور کے بعد محفل مشاعرہ سجائی گئی جس میں صدر محفل مشاعرہ‘ مہمانان خصوصی اور ناظم مشاعرہ (سلمان صدیقی) کے علاوہ عباس رضوی‘ حجاب عباسی‘ حامد علی سید‘ عظیم حیدر سید‘ صاحب زادہ عتیق الرحمن‘ سخاوت علی نادر‘ حیدر عباس‘ شائق شہاب‘ خالد احمد سید اور محمد علی زیدی نے اپنا اپنا کلام نذر سامعین کیا۔ دراک کے روح رواں سلمان صدیقی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا اور تمام حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تمام لوگ وقت مقررہ پر تشریف لے آئیں تو ہم اپنا پروگرام وقت پر شروع کردیا کریں لیکن ہم نے وقت کی پابندی کرنا چھوڑ دی ہے جس کے باعث بہت سے مسائل ہمیں تنگ کر رہے ہیں۔

آرٹس کونسل کراچی میں عرفان مرتضیٰ کے ساتھ شام

گزشتہ دنوں آرٹس کونسل کراچی کی ادبی کمیٹی (شعر و سخن) کی جانب سے امریکا میں مقیم پاکستان کے معروف شاعر‘ ادیب اور ادبی تقریبات کے بہترین منتظم‘ اردو رائٹر سوسائٹی امریکا کے روحِ رواں عرفان مرتضیٰ کے اعزاز میں ایک شام کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ملک کے ممتاز شاعر‘ محقق اور قائداعظم اکیڈمی کے ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر نے کی۔ نظامت کے فرائض سلمان صدیقی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ عرفان مرتضیٰ کے مجموعہ غزلیات ’’سلگتی ریت پر سجدہ‘‘ پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے سلمان صدیقی نے کہا کہ عرفان مرتضیٰ کی غزل اپنا وسیع پس منظر رکھتی ہے‘ ان کا یہ مجموعہ محبت کی کتاب ہے‘ ان کی شاعری میں محبت کا ایک الگ ذائقہ ہے وہ اپنی تخلیقات میں بہت مختلف نظر آتے ہیں۔ ادبی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ عرفان مرتضیٰ شاعر بھی بہت اچھے ہیں اور بہت اچھے انسان بھی ہیں۔ موصوف مہمان نوازی میں بھی اپنا جواب نہیں رکھتے جس کا مشاہدہ ہم نے امریکا میں اپنے قیام کے دوران کیا تھا۔ عرفان مرتضیٰ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں یہ ان کی پہچان بن گئی ہے لیکن ’’سلگتی ریت پر سجدہ‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ غزل پر بھی پوری توجہ دے رہے ہیں۔ عرفان مرتضیٰ کے استادگرینڈ ماسٹر اشرف طائی نے کہا کہ عرفان مرتضیٰ میرا ہونہار شاگرد ہیں جس پر مجھے فخر ہے یہ امریکا میں اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں۔ اردو نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے میری دعا ہے کہ مزید ترقی کریں۔ خالد معین نے کہا کہ عرفان مرتضیٰ کی شخصیت کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ ایک نیا ذائقہ رکھتا ہے ان کی شخصیت میں دل نوازی اور کشش ہے وہ دوستوں کے دوست ہیں وہ شاعری کے علاوہ مصوری میں بھی دسترس رکھتے ہیں ان کی نثری تحریریں زندگی سے مربوط ہیں انہوں نے اپنے تجربات کی تفہیم شاعری میں بھی کی ہے ان کی نظموں نے اجتماعی جذبوں کو ہم آہنگ کیا ہے ان کی مصوری میں بھی نزاکت اور نفاست نمایاں نظر آتی ہے یہ ایک مستقل مزاج انسان ہیں پاکستان اور اہالیان پاکستان سے انہیں عشق ہے‘ مجھے امید ہے کہ بہت آگے جائیں گے۔ امریکا میں مقیم معروف شاعرہ مونا شہاب نے کہا کہ عرفان مرتضیٰ سے میری پہلی ملاقات غالباً 1985ء میں ہوئی تھی گویا ہماری دوستی کو 34 سال برس ہوگئے میں نے اس دوران انہیں نہایت نفیس انسان پایا مجھے ان سے دوستی پر فخر ہے یہ دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں‘ یہ جھوٹ نہیں بولتے‘ یہ کھرے آدمی ہیں‘ یہ کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتے‘ یہ ایک سماجی راہ نما کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں‘ یہ دکھی انسانیت کے خدمت گزار ہیں‘ سماجی کاموں میں لگے رہتے ہیں اور نہایت خاموشی سے لوگوں کے دکھ درد بانٹتے ہیں۔ انہوں نے بڑی محنت و لگن سے ادبی منظر نامے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ عرفان مرتضیٰ نے کہا کہ وہ آرٹس کونسل کراچی کے صدر سید محمد احمد شاہ اور اراکین ادبی کمیٹی کے علاوہ چیئرپرسن عنبرین حسیب عنبر کے بے حد ممنون و شکر گزار ہیں کہ انہوں نے میرے اعزاز میں آج کی محفل سجائی‘ وہ آج کی تقریب کے صدر اور مقررین کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں مجھے بے پناہ محبتوں سے نوازا جاتا ہے پاکستان میری جان ہے اور کراچی میرا دل ہے میں ساکنانِ شہر قائد کے محمود احمد خان اور فرحان الرحمن‘ ادارہ فکر نو کے اختر سعیدی‘ محمد علی گوہر اور رشید خان رشید‘ تہذیب انٹرنیشنل کے کشور عدیل اور سحر تاب رومانی اور اپنے عزیز دوست ڈاکٹر سلیم مغل کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے اعزاز میں تقاریب کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر عرفان مرتضیٰ نے اپنی نظمیں اور غزلیں سنا کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ خواجہ رضی حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں عرفان مرتضیٰ کی شاعری اور شخصیت پر بھرپور مضمون لکھ کر لائوں لیکن اپنی عدیم الفرصتی کے باعث اپنی خواہش پوری نہ کرسکا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عرفان مرتضیٰ ایک باکمال شاعر ہیں‘ ان کی شاعری سے ان کے محاسن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘ ان کی شاعری میں تخلیقی شعور پایا جاتا ہے ان کی نظمیں ہمارے معاشرے کی عکاس ہیں انہوں نے زندگی کے مسائل پر قلم اٹھایا ہے ان کے اشعار ہمیں دعوتِ فکر دیتے ہیں۔

تہذیب انٹرنیشنل کا مشاعرہ

کراچی کی ایک معروف ادبی تنظیم تہذیب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام محسن رضا دعا کی کی رہائش گاہ پر گزشتہ روز پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی کی صدارت میں امریکا سے تشریف لائے شاعر عرفان مرتضیٰ کے اعزاز میں محفل مشاعرہ سجائی گئی جس میں رونق حیات مہمان خصوصی تھے‘ اویس ضمیر عباسی مہمان توقیری اور سلمان صدیق ناظم مشاعرہ تھے۔ مشاعرے میں صاحبِ صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان توقیری‘ مہمان اعزازی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں آصف عابدی‘ سید آصف رضا رضوی‘ اختر سعیدی‘ اجمل سراج‘ فیاض علی فیاض‘ راقم الحروف نثار احمد نثار‘ سحر تاب رومانی‘ شاعر حسین شاعر‘ حامد علی سید‘ شہلا عمران‘ کامران نفیس‘ احمد سعید خان‘ سیمان نوید‘ اسد قریشی‘ کشور عدیل جعفری اور محسن رضا دعا شامل تھے۔ صدر مشاعرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ دبستان کراچی کے شعری اور نثری ادب پر متعدد لوگوں کو پی ایچ ڈی کرا چکے ہیں کراچی دبستان شعری دبستانوں میں ایک بھرپور اور توانا آواز ہے انہوںنے مزید کہا کہ قاری اس وقت ادب سے جڑے گا جب آپ کی شاعری میں دورِ حاضر کے مسائل ہوں گے کیوں کہ زندگی اور ادب میں چولی دامن کا ساتھ ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پاکستانی بیانیے کو بھی سامنے رکھنا ہوگا ہم کب تک دوسروں کے غلام بنے رہیںگے۔ ہمیں اپنا تشخص بحال کرنا ہوگا۔ رونق حیات نے کہا کہ جو شعرا دیارِ غیر سے کراچی آتے ہیں اہل کراچی ان کا خیر مقدم کرتے ہیں‘ ان کے اعزاز میں مشاعرے ترتیب دیتے ہیں جیسا کہ آج کی محفل عرفان مرتضیٰ کے لیے سجائی گئی ہے جو کہ امریکا میں مقیم ہیںاور وہاں اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کے اشعار سن کر اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ قادرالکلام شعر ہیں‘ ان کی نظموں میں زندگی رواں دواں ہے۔ اویس ضمیر عباسی نے کہا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کی ذمے داریوں کے سبب بہت مصروف رہتے ہیں لیکن جب بھی موقع ملتا ہے وہ شعری نشستوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہذیب انٹرنیشنل کے کریڈٹ پر کُل پاکستان مشاعرہ ہے جو کہ انہوں نے اسکائوٹنگ آڈیٹوریم میں منعقد کیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ آج کی نشست میں بہت اچھی شاعری سننے کو ملی ہے۔ کشور عدیل جعفری نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ ان کی تنظیم اردو ادب کے فروغ میں مصروف ہے جس کے لیے ہم مذاکرے‘ مشاعرے اور تنقیدی نشستوں کا اہتمام کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم انتہائی کم قیمت پر شعری مجموعے شائع کر رہے ہیں جو شعرائے کرام ہمارے ادارے سے اپنی کتابیں چھپوائیں گے ہم ان کے ساتھ خصوصی رعایت کریںگے ہماری ادارے کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ کسی بھی طریقے سے اردو زبان و ادب کی ترقی کا سفرجاری رہے۔ محسن رضا دعا نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔ مشاعرے کے نظامت کار سلمان صدیقی نے بڑے سلیقے سے نظامت کے فرائض انجام دیے لیکن ایک شاعر نے کہا کہ وہ بہت سینئر ہیں یہ ان کا مقام نہیں ہے جہاں انہیں پڑھوایا جارہا ہے‘ ان کے اس ریمارکس سے ماحول خراب ہوا‘ انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا کیوں کہ آج کل ہر شاعر یہ کہتا ہے کہ وہ بہت سینئر ہے لیکن اس کا تعین کون کرے گا کہ کون کس سے سینئر ہے۔ میرے نزدیک یہ کام اب سپریم کورٹ کے ذمے لگایا جائے کہ وہ شعرا کی سنیارٹی فکس کرے۔ دوسری بات راقم الحروف یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم لوگوں نے وقت کی پابندی چھوڑ دی ہے جس کے سبب تقریب اپنے مقررہ وقت پر شروع نہیں ہو پاتی۔ آج کا یہ مشاعرہ بھی اپنے وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا ہے۔

حصہ