کوئی نقصان نہیں

137

سیدہ عنبرین عالم

وہ چپکے چپکے راتوں کو تکیے میں ہوئیں اُن سے سرگوشیاں
اب کہاں نیند آئے گی مجھ کو چاہے سناتے ہی رہو لوریاں
رب نے کہا تُو میری ہے، آ لکھ دوں میں ساری کائنات تیرے نام
کائنات کس کو چاہیے تھی، بسانی تھیں بس میٹھی میٹھی بستیاں
ٹھیک ہے تُو میرا ہے میں تیری ہوں، کچھ اب مجھ سے راز بھی کہہ
راز کیا اب رہ گئے، اتار دیں مجھ میں اپنی ساری ہی روشنیاں
خالی دامن لوگ ہم کو سمجھتے ہیں، ہم پر ترس کھاتے ہیں
ہم کو رب ملا، لوگوں نے تو بھر لیں صرف خوشیوں سے جھولیاں

’’فرعون نے کہا ’’کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بے شک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، تو جلد ہی (اس کا انجام) تمہیں پتا چل جائے گا، میں تمہارے ہاتھ اور پائوں اطرافِ مخالف سے کٹوا دوں گا اور تمہیں سولی پر چڑھا دوںگا‘‘ (جادو گروں) نے کہا ’’کوئی نقصان نہیں، ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں، ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری غلطیوں کو معاف کر دے گا، اس لیے کہ ہم اوّلین ایمان لانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الشعراء، آیت 49۔50۔51)
٭
عمارہ اور اس کی امی ہکا بکا ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھیں ’’کیا ساری زندگی عمارہ کا ڈائیلیسز ہوگا؟‘‘ امی نے پوچھا۔
’’جی…’’ ڈاکٹر نے جواب دیا ’’یا یوں کہیے کہ جب تک عمارہ کا ڈائیلیسز ہوگا، یہ اُسی وقت تک زندہ رہے گی۔ اس کے گردے مکمل طور پر فیل ہو چکے ہیں، ڈائیلیسز کے سوا کوئی چیز اسے زندہ نہیں رکھ سکتی، اس کا ٹرانسپلانٹ بھی نہیں ہوسکتا کیوں کہ یہ شوگر کی مریض ہے، دوسرا گردہ لگایا تو وہ بھی خراب ہوجائے گا۔‘‘
عمارہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، وہ بے آواز سر جھکائے بیٹھی تھی۔ امی کے منہ سے بھی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ عمارہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی، واحد اولاد۔ ان کا شوہر بھی نہیں تھا، بھائی کے گھر کی چھت پر ایک کمرے میں اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں۔ عمارہ صحت مند تو کبھی نہیں تھی، اکثر اسپتال میں داخل رہتی، کبھی کچھ کبھی کچھ، مگر گردے ہی مکمل فیل ہونا ماں بیٹی کے لیے بہت بڑا جھٹکا تھا۔
ڈاکٹر صاحب ان دونوں کی کیفیت سمجھ رہے تھے، مگر اس طرح کے دھچکے مریضوں کو پہنچانا ان کا روزمرہ کا معمول تھا، یہ ان کی ڈیوٹی تھی۔ ’’عمارہ! آپ اب پانی بالکل نہیں پی سکتیں، روزانہ صرف تین گلاس پانی… اس میں سالن کا شوربہ، چائے اور ہرقسم کی مائع چیز شامل ہے۔ اگر آپ زیادہ پانی پئیں گی تو آپ کے پھیپھڑوں اور دل میں بھر جائے گا، کیوں کہ پیشاب تو آپ کو آتا نہیں، پانی کہاں جائے گا! جسم میں پانی بھرنے سے آپ کی جان جانے کا خطرہ ہے، پانی آپ کے لیے زہر ہے، جب کہ سیب کے سوا تمام پھل آپ کو منع ہیں، تمام ہری سبزیاں منع ہیں، دودھ اور دودھ سے بنی ہر چیز منع ہے۔ نمک کم سے کم کھایئے، اور تیل چکنائی کا استعمال بھی کم سے کم رکھیے۔ یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہے۔ اور میٹھا بھی کچھ نہیں کھانا، آپ کو شوگر جو ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔ عمارہ کے آنسو بہے جارہے تھے اور وہ حیرت سے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ رہی تھی۔ ’’باقی تو سب ٹھیک ہے، مگر پانی کے بغیر کیسے گزارا ہوگا؟ کراچی میں تو گرمی بھی بہت ہوتی ہے۔‘‘ وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔
’’پانی موت ہے آپ کے لیے عمارہ! بات کو سمجھو، جذباتی ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے عمارہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا اور فائل بند کردی، ساتھ ہی گھنٹی بجا کر دوسرے مریض کو بلا لیا۔
٭
عمارہ کی طبیعت خاصی خراب تھی، ہفتے کے 3 ڈائیلیسز شروع ہوچکے تھے، مگر طبیعت سنبھلنے میں وقت تو لگتا تھا، پھر گھر کی ذمے داری بھی عمارہ کے سرپر تھی۔ مئی کا مہینہ تھا، 42 درجہ حرارت تھا، عمارہ بازار سے سودا لے کر واپس آئی تھی، ذاتی سواری تو تھی نہیں، اس لیے عمارہ کا زیادہ تر سفر پیدل یا بس میں ہوتا تھا۔ عمارہ کو سخت پیاس لگ رہی تھی، وہ بار بار منہ ہاتھ دھوتی رہی، کلیاں کرتی رہی، لیکن جسم میں جیسے آگ سی لگ رہی تھی۔ وہ پنکھا چلا کر، گیلی چادر اوڑھ کر لیٹ گئی لیکن پیاس تھی کہ کسی طرح بجھنے کا نام نہیں لے رہے تھی۔ ’’لعنت ہے ایسی زندگی پر‘‘ اس نے سوچا اور ٹھنڈے پانی کی بوتل فریج سے نکال کر منہ سے لگا لی۔ اس نے آدھی بوتل پی ڈالی، بہت سکون ملا۔ عمارہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی، وہ بہت خوشی محسوس کررہی تھی… لیکن یہ کیا! ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ پھر پیاس لگنی شروع ہوگئی۔ وہ اٹھی اور کھانا پکانے کا انتظام کرنے لگی تاکہ دھیان بٹے اور پیاس کا خیال نہ آئے۔ مگر یہ تو اور مصیبت ہوگئی۔ چولہے کے پاس جب تک کام کرتی رہی پیاس کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ اسے لگنے لگا کہ اس نے پانی نہ پیا تو مر جائے گی۔ پیاس کی شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اپنی امی کے سامنے رونا بھی نہیں چاہتی تھی کہ وہ مزید دکھی ہوںگی۔ اب ایک کمرہ، دوسرا کمرہ بھی نہیں… امی باتھ روم جائیں تو وہ پانی پیے۔ امی تو پانی پینے نہیں دیتی تھیں… آخر اس نے ایک بار پھر آدھی بوتل ٹھنڈا ٹھار پانی پی لیا، ساتھ ہی اس کی سانس اکھڑنے لگی، وہ جتنا سانس لینے کی کوشش کرتی، سانس اتنی بند ہونے لگتی۔ امی باتھ روم سے آئیں تو عمارہ کی حالت دیکھ کر ان کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ وہ بھی بوڑھی خاتون تھیں، بھاگم بھاگ اسپتال کی ایمرجنسی میں گئے۔ عمارہ کی حالت سنبھلنے میں کئی گھنٹے لگ گئے اور ہزاروں روپے کا جھٹکا الگ لگا۔ قصور یہ کہ پانی پی لیا تھا، صرف پانچ گھنٹے کے وقفے سے وہ تقریباً چار گلاس پانی پی چکی تھی، ظاہر ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔
٭
جس اسپتال میں عمارہ ڈائیلیسز کے لیے جاتی تھی، وہاں ایک بزرگ بھی ڈائیلیسز کے لیے آتے تھے۔ ایک روز وہ عمارہ کے قریب ہی وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’کیا ہوا بیٹی! بہت اداس ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’چاچا! مجھے پیاس بہت لگتی ہے…‘‘ وہ صرف اتنا کہہ سکی اور اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔
’’بیٹی! تجھے شوگر ہوگی، شوگر والوں کو بہت پیاس لگتی ہے… بیٹی تُو نے فرعون کا واقعہ سنا ہے؟ جب اُس نے جادوگروں کا ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پائوں کٹوا دیا تھا۔‘‘ انہوں نے عمارہ سے پوچھا۔
’’ہاں پڑھا ہے، جادوگر کہتے ہیں کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔
’’بیٹی! وہ تو ایک لمحے پہلے مسلمان ہوئے تھے، پھر بھی اُن کا رب سے عشق دیکھو۔ اُن کے ہاتھ اور پائوں کٹ گئے لیکن انہوں نے میرے رب سے شکوہ نہیں کیا۔ انہیں امید تھی کہ وہ جب اپنے رب کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو اللہ انہیں اتنا نوازے گا کہ اُن کے ہر دکھ اور محرومی کا ازالہ ہوجائے گا۔‘‘ بزرگ نے عمارہ سے کہا۔
عمارہ بہت دیر سوچتی رہی ’’یعنی ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں، ہمارا تو اپنے رب سے بہت اونچے درجے کا عشق ہونا چاہیے، ایسا عشق کہ شیطان کی دی ہوئی کوئی تکلیف ہمیں اللہ رب العزت کی طرف سے بدگمان نہ کرسکے، ہمارا عشق اور ہمارا بھروسہ قائم رہے۔ چاچا! آپ یہی کہنا چاہ رہے تھے ناں؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔
’’ہاں میری بیٹی! تجھے جب پیاس لگے تو کہنا کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں… پھر دیکھنا تجھے احساس ہوگا کہ یہ تکلیف تو چند روزہ ہے، پھر ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے اور خوب عیش کریں گے، تم اگر ہر بار یہ کہو گی تو نہ صرف پیاس کی تکلیف نہیں ہوگی بلکہ ثواب بھی ملے گا۔‘‘ بزرگ نے جواب دیا۔
٭
عمارہ اور اس کی امی کی آمدنی کا ذریعہ امی کی پنشن تھی، اور سرکاری مسئلوں اور لوٹ مار کی وجہ سے پنشن کی فراہمی میں اکثر کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا، اور عمارہ کو KMC کے چکر لگانے پڑتے۔ اس بھاگ دوڑ میں پیاس اس کا برا حال کردیتی اور وہ پھر رونے بیٹھ جاتی اور اللہ سے ناراض ہوجاتی۔ ایک روز وہ ڈائیلیسز کے لیے پہنچی تو وہی بزرگ اپنی وہیل چیئر قریب لے آئے۔ وہ اُن سے باتیں کرتی رہی۔ اچانک اس کی نظر بزرگ کے پیروں پر پڑی تو ان کا پیر غائب تھا۔ اس نے اس بابت پوچھا تو بزرگ مسکرائے ’’کٹوا دیا، کم بخت کو شوگر کی وجہ سے انفیکشن ہوگیا تھا، بہت تنگ کرتا تھا، اب سکون ہوگیا، شکر ہے میرے رب کا اس موذی ٹانگ سے جان چھوٹی، کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایسے بتایا جیسے کچھ بات ہی نہ ہوئی ہو۔ عمارہ حیرت سے سنتی رہی۔
جب سے ڈائیلیسز شروع ہوا تھا، عمارہ کو پانی کی کمی اور قسم قسم کی ادویہ کے باعث شدید گرمی لگنے لگی تھی، وہ ہر وقت گیلے کپڑے پہنتی تاکہ ہوا لگے تو ٹھنڈک محسوس ہو، منہ دھوتی رہتی اور برف منہ پرلگاتی۔ اللہ اللہ کرکے ذرا ٹھنڈا موسم آیا تو نئی مشکل… کوئی اسے پنکھا کھولنے نہ دیتا۔ اپنے کمرے میں تو امی سے لڑ جھگڑ کر فل پنکھا چلا لیتی، لیکن کہیں اور جاتی تو مسئلہ ہوتا، اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کا جسم جل رہا ہے اور باقی لوگوں کو ٹھنڈ لگتی۔ قرآن کے درس میں جانے کا اسے بے پناہ شوق تھا مگر وہاں بھی پنکھا بند کردیا جاتا۔ وہ حیران ہوتی کہ یہ لوگ ایک گھنٹے کے لیے بھی اپنے مزاج کے خلاف موسم برداشت نہیں کرسکتے، خدانخواستہ انہیں میری جیسی کوئی بیماری ہو اور ہر وقت جہنم سی تپش جسم کو جھیلنی پڑے تو یہ کیاکریں گے! یعنی اس نے پھر سے ایک خلش دل میں پال لی۔ یہ ذکر ڈائیلیسز والے بزرگ سے کیا۔ انہوں نے فرمایا ’’اللہ نے جن لوگوں کو اچھی زندگیاں دی ہیں وہ چھوٹی سی تکلیف برداشت کرنے کا بھی حوصلہ نہیں کرسکتے، کیوں کہ اللہ نے انہیں سخت امتحان کے لیے چنا ہی نہیں۔ اللہ نے چنا ہے تمہیں اور مجھے، ہم برداشت کریں گے، ہم سخت امتحان دیں تو ہمیں اونچے درجے ملیںگے۔ ہمیں عشق کا روگ ہے تو امتحان بھی ہمیں دینے ہیں۔ کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔‘‘
٭
عمارہ اور اس کی امی، عمارہ کے ماموں کے گھر اُن کی چھت پر رہتے تھے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ماموںکا انتقال ہوگیا۔ اب ماموں کے بیٹے نے طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کردیا کہ یہ لوگ کسی طرح گھر چھوڑ کر چلے جائیں۔ عمارہ کی ماموں کے بیٹے سے خوب جھڑپیں ہوتیں، حتیٰ کہ ماموںکے بیٹے نے یہاں تک کہہ دیا کہ تم لوگوں نے شرافت سے گھر نہ چھوڑا تو میں پولیس کو بلائوںگا اور کہوں گا کہ تم لوگوں نے ہمارے گھر پر قبضہ کیا ہوا ہے، پولیس تم لوگوںکو نکال باہر کرے گی۔ عمارہ خود بھی اس ڈربے میں اس ذلت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی، مگر اتنی آمدنی نہیں تھی کہ کرائے کا گھر لیتے، اور نہ اتنا دم خم تھا کہ ہر سال سامان ڈھوئے ڈھوئے کرائے کے گھر بدلتے۔
عمارہ نے اپنی مشکل کا ذکر ڈائیلیسز والے بزرگ سے کیا۔ وہ ہنسنے لگے۔ ’’کمال کرتے ہیں، آپ ہنس رہے ہیں! میں کس قدر مشکل میں ہوں آپ کو اندازہ نہیں، آپ پر کبھی ایسا وقت آئے کہ بے گھر ہونا پڑے تو آپ کو پتا چلے، پھر دیکھتی ہوں آپ کتنا ہنستے ہیں۔‘‘ وہ غصے سے بولی۔
’’میری بیٹی! مجھ پر یہ وقت گیارہ سال پہلے آگیا تھا۔ جب میں نے اپنا گھر اپنے بیٹے کے نام کیا تو وہ مجھے اولڈ ہائوس چھوڑ آیا۔ یہ بہت اچھا ہوا، گھر پر تو کوئی میرا خیال نہیں رکھتا تھا، یہاں تربیت یافتہ نرسیں ہیں، ایک ڈاکٹر بھی ہر وقت اولڈ ہائوس میں موجود رہتا ہے، ایِمبولینسیں کھڑی رہتی ہیں، میری طبیعت کے حساب سے سادہ کھانا مجھے دیا جاتا ہے، میرے بہت سے دوست بن گئے ہیں، بہت مزا آتا ہے۔ اور گھر میں تو میرے پوتے پوتیاں بہت شور مچاتے تھے، یہاں سکون ہے۔ بس میرا بیٹا ہر مہینے موٹی تازی رقم اولڈ ہائوس والوں کو دے دیتا ہے، میرے عیش ہی عیش، کوئی نقصان نہیں۔ بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔‘‘ بزرگ نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’آپ تو بہت امیر ہیں، مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟‘‘ عمارہ نے وہی بے زاری قائم رکھی۔
’’بیٹا! تُو ماموں کے بیٹے کو جواب دینا چھوڑ دے، وہ جتنا بھی لڑے، چیخے، گالیاں دے، تُو بس یہی پڑھتی رہ کہ کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں… دیکھنا اللہ مدد کرے گا۔‘‘ انہوں نے سمجھایا۔
عمارہ نے یہی نسخہ استعمال کیا۔ وہ پاگلوں کی طرح بکواس کرتا رہتا اور عمارہ بیٹھی اخبار پڑھتی رہتی۔ امی نے تو کبھی اپنے بھتیجے کے خلاف کچھ بولا ہی نہ تھا، وہ تو عمارہ کے بجائے اپنے بھتیجے سے ہی زیادہ محبت کرتی تھیں۔ خاندان کا واحد لڑکا تھا، یوں اُس کی ہر بکواس کے آگے سناٹا ہی رہتا۔ پھر عمارہ نے اس کے بچوں کو قیمتی تحفے لاکر دینے شروع کردیے، آہستہ آہستہ ماموں کے بیٹے نے تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ فطرت سے مجبور تھا، کوئی نہ کوئی خباثت دکھا ہی جاتا، مگر گھر سے بے گھر ہونے کا خطرہ اللہ رب العزت نے عمارہ کے سر سے ٹال دیا تھا۔
٭
ایک دن عمارہ ڈائیلیسز کروانے کے لیے پہنچی تو انتظار گاہ خالی پڑی تھی۔ وہ ٹوکن لینے کے لیے کائونٹر پر گئی تو وجہ پوچھی، کائونٹر والے نے کہا ’’عبدالصمد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، سب لوگ تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں سب واپس آجائیں گے۔‘‘
’’کون عبدالصمد صاحب؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔
’’آپ کے دوست، جن سے آپ باتیں کرتی تھیں۔ کیا آپ کو ایک سال میں اُن کا نام بھی معلوم نہیں ہوا؟‘‘ کائونٹر والے نے حیرت سے پوچھا۔
عمارہ کے ہاتھ سے اس کا ٹوکن اُڑ گیا ’’وہ میرے بزرگ؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ’’ہاں وہی…‘‘ جواب ملا۔ عمارہ کی آنکھوں میں کوئی دکھ نہ تھا، وہ مسکرا دی ’’ٹھیک ہے، بے نیاز رب کے بے نیاز بندے عبدالصمد! آپ اپنے رب کی طرف لوٹ ہی گئے۔ بے شک کوئی نقصان نہیں، اب تو فائدے ہی فائدے ہیں۔ ان شاء اللہ جلد ہی میں بھی آپ کے فائدوں میں شریک ہوجائوں گی، کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔‘‘ اس نے سوچا۔

حصہ