کرنے والے بنیں!۔

119

تنویر اللہ
زندگی نہ محض مستقبل کے خوابوں پر بسر ہوسکتی ہے اور نہ ہی ماضی کی یادوں پر۔
کرنے کے کام بہت سے ہیں اگر عمران خان سمجھیں ! حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے جب عمران خان صاحب حکمرانوں پرجس طرح تنقید کرتے تھے تو ہم جیسے عام لوگ جو باتوں کو عام طریقے سے سمجھتے اور نتائج اخذ کرتے ہیں خوش ہوتے تھے کہ عمران خان جن خرابیوں کی نشاندہی کررہے ہیں اگر انھیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو وہ ضرور ان کو ختم کردیں گے، اب ان کی حکومت بنے سال ہونے کو آرہا ہے لیکن جناب عمران خان اب بھی ماضی کے اسیر نظر آرہے ہیں وہ آج بھی اپوزشن لیڈر کی طرح ہر وقت چور چور کا واویلہ ہی کرتے نظر آتے ہیں، پکڑیں ضرور پکڑیں چوروں کو منی لانڈروں کو جعلی اکاونٹ والوں کو لیکن یہ کام انھیں کرنے دیں جو اس کے ذمہ دار ہیںآپ وزیر اعظم کے لیے توکرنے کے بہت سارے کام ہیں ان پر توجہ دیں آپ کا منصب چور چور کا شور مچانے سے بہت بالاتر ہے۔
آپ ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے کے تفتیشی افسرکی سطح سے اوپر نہیں اٹھ پارہے، بلاشبہ کرپشن ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے بلکہ ام المسائل ہے لیکن اور بھی غم ہیں ملک میں کرپشن کے سوا، راحتیں اور بھی نواز زرداری پر تبرے کے سوا۔
کرنے کے کام تو اور بہت سے ہیں اور اہم بھی ہیں عمران خان کہتے تھے کہ قومیں پل، سڑکوں، موٹروے سے نہیں بنتی تعلیم سے بنتی ہیں پھر اب کیا ہوگیا ہے کون انہیں تعلیم پر توجہ دینے سے روک رہا ہے نقل پہلے کی طرح سرعام ہر دروبام سے ہورہی ہے امتحانی مراکز کی کھڑکیوں پر نقل مافیا کے کارندے چھپکلیوں کی طرح چمٹے نظر آرہے ہیں تصاویر میڈیا پر مشتہر ہیں لیکن کوئی کاروائی نہیں ہورہی، کون روکتا ہے کاروائی کرنے سے کیا امریکا آڑے ہے یا اسرائیل کوئی سازش کررہا ہے یا بھارت کا خوف ہے ؟۔
اندرون سندھ کے تعلیمی ادارے تو پہلے ہی تعلیم کے بجائے نوکریاں دینے کا فرض انجام دے رہے تھے لیکن کراچی کے سرکاری تعلیمی ادارے تو آباد تھے اور یہاں تعلیم بھی دی جاتی تھی گزشتہ تیس برسوں کا آسیب انھیں ویران کرگیا جناب عمران خان ان کی بحالی کا کوئی منصوبہ کیوں نہیں بناتے؟ انھیں کون روکتا ہے کہ ماہرین تعلیم کو جمع کریں ان سے گزارش کریں کہ کراچی، سندھ اور پورے پاکستان میں تعلیمی معاملات پر ان کی رہنمائی کریں ملک میں تعلیمی اداروں اور تعلیم کو پھر سے شاد آباد کرنے میں ان کی مدد کریں۔
چھوٹی کلاسوں کے بچوں کا بستہ اُن کے قد اور وزن دونوں سے زیادہ ہوتا ہے بچے وزن کی وجہ سے اپنا بستہ دروازے پر ہی چھوڑ دیتے ہیں تاکہ صبح وہیں سے اُٹھا کر اسکول وین میں بیٹھ جائیں، اسکول وین کے پیچھے اسکول بیک ایسے لٹکے ہوتے ہیں جیسے قصائی کی دکان پر بکرے کی ران، ماہرین تعلیم کی مدد سے ان بچوں کے بستے کا وزن کم کرنے سے حکومت کو کون روکتا ہے؟ کیا زرداری صاحب کے جعلی اکاونٹ کا بھاری بھرکم وزن بچوں کے بستوں کا وزن کم کرنے میں آڑے آرہا ہے، یونیورسٹیز کے اساتذہ کہتے ہیں کہ جدید دنیا کی یونیورسٹیز میں جو پچاس سال پہلے پڑھایا جاتا تھا وہ آج ہماری یونیورسٹیز کا نصاب ہے، تعلیمی سلیبس نظرثانی کے لیے عشروںسے نظرکرم کا تقاضا کررہا ہے لیکن کسی کو فرصت ہی کہاں اب سے پہلوں کو لوٹنے سے فرصت نہیں تھی اور آج کے حکمرانوں کو پکڑنے کا بے نتجہ واویلہ کرنے سے فرصت نہیں ہے۔
پاکستان میں کوئی ایک ایسا ہسپتال نہیں جہاں لندن میں علاج کرانے کی استطاعت رکھنے والا علاج کی غرض سے رخ کرے خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں تو وہی لوگ جاتے ہیں جو موت کے دن کا انتظار بے نتیجہ علاج میں مصروف رہ کر کرنا چاہتے ہیں۔
دل کا مرض اکثر فوری علاج کا تقاضا کرتا ہے لیکن آپ اس مرض کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں چلے جائیں مریضوں کا لمبی لائن لگی ہوتی ہے جن کا فوری آپریشن ہونا چاہیے وہ بیڈ کے بجائے کرسی پر بیٹھ کر ڈاکٹر یا ملک الموت کا انتظار کرتے نظر آئیں گے۔
صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے جناب وزیر آعظم اقدامات کیوں نہیں کرتے، اس شعبے سے متعلق ماہرین کو جمع کیجئے ان کی منت سماجت کریں انھیں عزت دے کے اُن سے اس شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات تجویز کروائیے کوئی عمل درآمد ٹیم بناکر اس مسئلے کو جلد حل کرنے کی جانب بڑہیے، مرتے آدمی اور اس کے خاندان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون کتنا پیسہ لے کر بھاگ گیا ہے اور کس کے کتنے جعلی اکاونٹ ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی قوم کا مزاج دیکھنا ہو تو اُس ملک کا ٹریفک دیکھ لیں، بھاگتی دوڑتی گاڑیوں کی شکل میں صبر، برداشت، حق تلفی اور حق دینے کے مناظر آپ کو جابجا نظر آئیں گے، گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیوکے پاس لائسنس کا یقینی ہونا، میڈیا پر ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی مہم چلانے سے حکومت کوکون روکتا ہے؟ کیا زرداری صاحب کو اُن کی ہمشیرہ سمیت جیل جانے کی شرط اس کام میں آڑے آتی ہے ؟
عوام کو ٹریفک کے بھولے بسرے اصول و ضابطے یاد دلائیں، والدین کو تنبہہ کریںکہ کو اپنے بچوں کو لائسنس کے بغیر گاڑی نہ دیں ورنہ بچے کے بجائے اُن کو سزا ملے گی، اور جو چاہیں کریں دعوے آپ نے کیے تھے لہٰذا لائحہ بھی آپ کے پاس ہونا ہی چاہیے تھا۔ آپ کو چور چور کا شور مچانے سے فرصت ملے گی تو کچھ اور سوچیں گے۔
اشیاء خورونوش
صفائی اوروں کے لیے تو صحت کا مسئلہ ہوگا لیکن ہمارے تو یہ ایمان کا حصہ ہے اور ہم ہیں کہ اس سے مکمل غافل ہیں، ہم سرراہ پیشاب کرنے بیٹھ جاتے ہیں، ساحل سمندر پر جانوروں کی طرح اپنی نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں، موٹر وے پر چلتی گاڑی سے چھلکے، جوس کے خالے ڈبے باہر اچھال دیتے ہیں، لیٹرین استعمال کرنے کا طریقہ نہیں جانتے، سرکاری دفاتر جاکر دیکھ لیں ظاہری اور چھپی ہوئی گندگی کے بولتے اور خاموش ڈھیر آپ کو جابجا نظرآئیں گے ان کی صفائی سے حکومت کو کون روکتا ہے، مدارس کا قصہ چھیڑنے سے پہلے اس جانب توجہ کرلیں ضروری ہے کہ جو کرنا نسبتاً ممکن ہے وہ نہ کیا جائے اور سیدھا بھڑ کے چھتے میں گھس جایا جائے۔ اس مسئلے پر عوام کی تربیت کا اہتمام کریں۔ لانچوں کے ذریعے باہر بھیجا جانے والا پیسہ ناجانے واپس آئے گا یا نہیں آئے گا، اگر آپ عوام کو صٖفائی کا عادی بنادیں گے تو یہ ایک بڑا کام ہوگا۔
جناب عمران خان کے پی کے کی پویس کی اصلاح کو بہت فخر سے بیان کرتے رہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں لیکن کے پی سے اصلاح کا یہ سفر پنجاب تک پہنچتے پہنچتے وردی کی تبدیلی پر ختم کیوں ہوگیا، آئی جی پنجاب اچھا کہا ہے کہ پولیس کو فیشن شو میں نہیں جانا کہ روز روز وردی تبدیل کرتے رہے، پہلوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے دوستوں کا ڈمپ کپڑا بکوانے کے لیے یہ کام کیا لیکن آپ نے یہ غیر ضروری تماشا کیوں کیا ہے کیا آپ کے پی کے میں کیے جانے والے اقدامات بھول گئے یا وہاں بھولے سے آپ سے یہ سب کچھ ہوگیا تھا ؟
آپ سے پویس کو سدھارنے کا کہا جائے تو آپ جواب دیتے ہیں کہ ملک کے ہر شہر میں لندن کی طرز پر ایک شیرف ہوگا جس کا انتخاب عوام کریں گے، جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوگا، جناب وزیر آعظم زندگی محض مستقبل کے سہانے خواب یا ماضی کے افسانوں پر بسر نہیں ہوتی زندگی آج کے لمحے جانچتی ہے کہ وہ کیسے بسر ہورہا ہے! جو منتخب ہوچکے ہیں پہلے انھیں عوام کے سامنے جواب دہ بنادیں پھر پولیس شیرف بھی منتخب کرلیجئے گا اور اُسے عوام کے سامنے جواب دہ بھی بنالیجئے گا۔
سنا ہے کہ پی آئی اے بہت سدھر گیا ہے اچھی بات ہے لیکن اسے عوام کے بس میں تو لائیں، کیا ضرورت ہے کہ کراچی سے لاہور یا اسلام آباد کے پونے دو گھنٹے کے سفر میں ایرہوسٹیس، فلائٹ اسٹیورڈ کی صورت خدام کی ایک فوج ساتھ چلے جس کا کام صرف چائے کا ایک کپ پیش کرنا ہو، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف ہنگامی ضرورت کے لیے پائلٹ کے علاوہ بہت ضرورت کے لیے ایک دو کا اسٹاف رکھا جائے، کیا ضروری ہے کہ ایک عورت دروازے پر کھڑے ہوکر جھوٹی مسکراہٹ سجائے مسافروں کو الودع کہے یہ پیٹ بھروں کے شوق ہیں اُنھیں اپنا شوق پورا کرنے دیں غیر ضروری فضائی عملے اور بلاضرورت چائے بسکٹ کے خاتمے سے پیسے بچا کر ٹکٹ کے پیسے کم کردیں۔ ہر وقت واویلہ اور دعوے کرنے کے بجائے ہر وقت کچھ کرنے کا سوچیں، آپ کی زبان خاموش ہوگی تو آپ کا ذہن کچھ سوچنے کی طرف مائل ہوگا۔
دنیا بھر کو آپ سیاحت کی دعوت دے رہے ہیں شاہراہ قراقرم جو اہم سیاحتی مقامات کا گیٹ وے ہے اس شاہراہ پر ایبٹ آباد سے مانسہرہ کا سفر کرلیں طبعیت بیزار ہوجائے گی اس کی بہتری سے کون آپ کو کون روکتا ہے؟
کرنے کے کام بہت سارے ہیں جو فوری توجہ کا تقاضا بھی کرتے ہیں اور خزانہ خالی ہوتے ہوئے بھی کیے جاسکتے ہیں آپ کرنے والے تو بنیں۔
کچھ اور نہ تو ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ان معامالات کو ٹی وی پرٹاک شو کا موضوع ہی بنادیں۔

حصہ