نیا تعلیمی سیشن اور پرائیویٹ اسکولز

107

حماد حسین
ڈائریکٹوریٹ آف رجسٹریشن اینڈ انسپیکشن آف پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز اسکول کا ادارہ مکمل طور پر غیر فعال ہوگیا۔ وزیر تعلیم اور ڈائریکٹر پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز کے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے گئے۔ ڈی جی منسوب صدیقی وزارت تعلیم کی رٹ قائم کروانے میں ناکام ہیں۔ شہر کے چھوٹے بڑے سینکڑوں نجی اسکولوں میں اپریل میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز کرنے کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کی فیسیں بھی ایڈوانس وصول کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر قائد میں قائم ہزاروں نجی تعلیمی اداروںکے تعلیمی معیار کو جانچنے، ماہانہ فیسوں اور دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ ان اداروںکو سرکاری دائرے میں لانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف رجسٹریشن اینڈ انسپیکشن آف پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز اسکول کا ادارہ قائم کیا گیا تھا تاہم اس ادارے نے آغاز سے ہی اپنے کام کے سوا وہ تمام کام کیے جن سے وزراء اور بیورکریسی خوش رہے۔
ڈائریکٹریٹ پرائیویٹ اسکولز کی نا اہلی یا عدم دل چسپی ہی کی وجہ سے شہر کے چھوٹے بڑے نجی اسکولوں نے یکم اپریل سے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز کردیا تھا ۔ وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی سندھ بھرمیں جاری میٹرک کے امتحانات میں مصروفیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں نے اپریل کے آغاز میں ہی نئے تعلیمی سیشن کا آغاز کردیا تھا جس پر وزیر تعلیم کے سخت مؤقف کے بعد ڈائریکٹر پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز منسوب صدیقی کی جانب سے بھی ایک مکتوب جاری کیا گیا تھا جس میںجولائی کے بجائے اپریل میں نئے سیشن کا آغاز کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ بعدازاں کچھ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف رسمی کارروائی کی گئی اور پھر خاموشی اختیار کرلی گئی۔
نجی تعلیمی اداروں نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے سیشن کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے کم و بیش 60 فیصد سے زائد تعلیمی ادراروں نے نئے سیشن کا آغاز کردیا ہے، تیس فیصد اسکول میٹرک کے امتحانات میں بنائے گئے سینٹرز کی وجہ سے تعلیمی سیشن کا آغاز22 اپریل سے کریں گے جب کہ بیس فیصد اسکول اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ محکمہ تعلیم کی اسیٹئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق سندھ بھر میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز جولائی سے کیا جانا تھا تاہم کراچی کے سینکڑوں اسکولوں نے نئے سیشن کا آغا ز پرانے تعلیمی کلینڈر کے مطابق اپریل کے پہلے ہفتے سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے والدین کو کلاسز کے آغاز کا مکتوب بھی ارسال کردیا ہے ساتھ ہی ماہانہ فیس میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے اس سے قبل بھی کئی بار محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹریٹ پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز کے احکامات کو اہمیت نہ دیتے ہوئے نظر انداز کر چکے ہیں۔ والدین کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف فیسوں میں اضافہ، میٹرک کے طلبہ سے اپریل تک کی ماہانہ فیس کی وصولی سمیت متعدد شکایتوں کی تحریری درخواستیں ارسال کی گئیں تاہم اس پر ڈائریکٹر پرائیوٹ انسٹی ٹیویشنز منسوب احمد صدیقی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جاتا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس بار بھی والدین نے نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے اپریل میں نئے سیشن کے آغاز اور ماہانہ فیس میں اضافے کی شکایت کی گئی جس پر ڈائریکٹریٹ نے بڑے اور نامور نجی تعلیمی اداروں کے بجائے گلی محلوں کے چند چھوٹے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی اور اس کے بعد خاموش بیٹھ گئی۔
دوسری جانب شہر کے کئی تعلیمی اداروںکی انتظامیہ کی جانب سے اپنے طلبہ وطالبات کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اسکول یونیفارم، کورس کی کتابیں، کاپیاں اور دیگر اسٹیشنری کا سامان بھی متعلقہ اسکول سے خریدیں یا پھر متعلقہ اسکول کے نامزد کردہ دکان سے خریدیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان تمام کتابوں اور دیگر سامان کی قیمتیںعام دکانوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں جس کے باعث غریب والدین پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس حوالے سے نجی اسکولوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ وزارت تعلیم کی پالیسی کو ماننے کے پابند نہیں ہیں اگر اسکول نہیں کھولے جائیں گے تو مئی اور جون کے ساتھ ساتھ اپریل کی فیس بھی نہیں لی جاسکتی جس کے باعث اساتذہ 3 مہینے کی تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم رہیں گے۔ وزیر تعلیم سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے مسائل تو حل کر رہی ہے لیکن نجی اسکولوں کے اساتذہ کے مسائل کون حل کرے گا؟ اس معاملے میں ڈائریکٹوریٹ پرایئویٹ اسکولز نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ وزیر تعلیم نے ’’سخت کارروائی‘‘ کا عندیہ دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی منسوب صدیقی بہ ذات خود وزارت تعلیم کے متعدد فیصلوں کے خلاف تھے جب ہی ان کے محکمے کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ وزارت تعلیمی کی نئی پالیسی کے مطابق تعلیمی سال کا آغاز یکم جولائی سے ہونا تھا جس کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن بھی ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے جاری کیا گیا تاہم محکمہ اپنی رٹ قائم کروانے میں بری طرح ناکام رہا۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کراچی بھر کے نجی تعلیمی ادارے پر بھی لاگو ہوتے ہیں تاہم وزیر تعلیم تو دور کی بات عدالت عظمیٰ کے بھی فیصلوں پر عمل درآمد سے گریز کرتے ہیں۔ ہمیں ڈائریکٹریٹ پرائیوٹ انسٹی ٹیوشنز کا سمجھ نہیں آتا کہ وہ ان نجی اسکولوںکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتا جو ان کے احکامات نہیں مانتے۔ کئی اسکولوں نے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسوں کا چالان ایڈوانس میں دے دیا گیا ہے بھرے ہوئے چالان کی کاپی جمع کروانے پر بچوں کو اگلی کلاسوں میں بٹھایاجا ئے گا۔ اس پر ہم کیا کریں۔ واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیر تعلیم سید سردار شاہ کرتا ہے جب کہ اس کے ممبران میں سیکرٹری اسکولز قاضی شاہد پرویز، سیکرٹری کالجز پرویز سیہڑ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن ناہید شاہ، ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایولیوشن، ڈی جی (کالجز) سندھ، ڈی جی پی آئی ٹی ای شہید بے نظیرآباد، تمام ڈائریکٹر اسکولز ایجوکیشن، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز، آر ایس یو کے چیف پروگرام منیجر اور دیگر متعلقہ افسران ہوتے ہیں۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں نئے تعلیمی سال کی شروعات، داخلوں کا شیڈول، امتحانات کے مسائل اور شیڈول، 2019 میں اسکولز کی چھٹیاں، اسکول اور کالجز کے اوقات، تمام اسکولز میں ایک ہفتے کے اسپورٹس اور دیگر کو‘کریکیولر سرگرمیوں اور امتحانات کو شفاف بنانے اور بچوں کی تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کے ٹیسٹ کرنے سمیت دیگر ایجنڈہ ایٹمز پر غور وخوض کیا جاتا ہے۔

حصہ